آنحضور ﷺ کا دشمنوں سے حسن سلوک

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جہاں حقوق اللہ کی بجاآوری کا حق ادا کردیا وہاں حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کمال کی آخری حدوں کو چھولیا۔ حقوق العباد کی معراج دشمن کے ساتھ حسن سلوک ہوا کرتا ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جون 2004ء میں مکرم ڈاکٹر محمد عامر خان صاحب کا اس حوالہ سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ کے دشمنوں کی فہرست بہت طویل ہے، لیکن آپؐ کی رحمت بھی محدود نہیں۔
آپؐ کا اعلان نبوت کرنا تھا کہ زمانہ نبوت سے پہلے آپؐ کو صادق اور امین کہنے والے آپؐ کی جان کے دشمن بن گئے۔ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی کا دَور سخت مصیبتوں ، دکھوں اور تکلیفوں کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں، خصوصاً غلاموں کو بری طرح مارا پیٹا جاتا۔ بعض کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دئیے جاتے۔ مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی جاتی، بہت سے مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ غرض کفار کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ اسی لئے آپؐ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی لیکن بدبخت کفار نے مدینہ میں بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اور بدترین دشمنی کی وہ داستان رقم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔
مدینہ آکر آنحضرتﷺ نے مدینہ کے تینوں یہودی قبائل یعنی بنو قینقاع، بنونضیر اور بنوقریظہ سے امن اور صلح کا تحریری معاہدہ کیا۔ لیکن یہود نے آنحضرتؐ کے عمدہ سلوک کے باوجود معاہدہ کی پرواہ کئے بغیر قدم قدم پر شرارت ، بغاوت اور شقاوت کے نمونے دکھائے۔
آنحضرتﷺ کے دشمنوں کا تیسرا گروہ سب سے زیادہ خطرناک یعنی منافقین کا تھا جو درپردہ اسلام کی جڑیں کاٹنے اور آنحضرتؐ کی جان کے درپے تھے۔ ان کا سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔
ان خطرناک دشمنوں کے درمیان معصوم مسلمانوں کی حالت کا اندازہ کرنا ہی محال امر ہے۔ پھر ایسے مواقع بھی آئے جن میں یہ تینوں مل کر مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہوئے۔
طائف کا سفر
شوال 10 نبوی میں آنحضرتﷺتبلیغ کیلئے طائف تشریف لے گئے اور وہاں دس روزہ قیام کے دوران بہت سے رؤسا سے ملاقات کی۔ مگر سب نے تمسخر کیا بلکہ رئیس اعظم عبد یالیل نے شہر کے آوارہ لڑکے آپؐ کے پیچھے لگا دئیے جو شور کرتے ہوئے آپؐ پر پتھر برساتے۔ آپ کا بدن خون میں تربتر ہو گیا۔ تین میل تک یہ بدبخت گالیاں دیتے اور پتھر برساتے ہوئے چلے آئے۔ ایسے ظلم عظیم پر خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور خدا تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپؐ کے پاس بھیجا جس نے عرض کیا کہ اگر ارشاد ہوتو پہلو کے دونوں پہاڑ ان لوگوں پر گرا کے ان کا خاتمہ کر دوں؟۔ لیکن آپ نے جواب میں فرمایا: نہیں نہیں، مجھے امیدہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں سے وہ لوگ پیدا کر دے گا جو خدائے واحد کی پرستش کریں گے۔
اس واقعہ سے جہاں آپؐ کی شجاعت ، بلند عزم وہمت اور بے نظیر صبرو استقلال پرروشنی پڑتی ہے وہاں آپؐ کی غیرمعمولی محبت الٰہی اور عفوودرگزر جیسے اعلیٰ خلق کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
بنوقینقاع سے حسن سلوک (2ھ)
بنو قینقاع جو مدینہ کے تینوں یہودی قبائل میں زیادہ طاقتور سمجھے جاتے تھے، درپردہ مسلمانوں سے سخت تعصب رکھتے تھے ، جنگ بدر کی فتح کے بعد وہ حسد ، بغض اور شرارت پر اتر آئے ۔ آنحضرتؐ نے جب ان کو تنبیہہ کی تو انہوں نے اظہار ندامت کی بجائے شوخی کے ساتھ یہ دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پر غرور نہ کرو، جب ہم سے مقابلہ ہوگا تو پتہ لگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ گویا امن اور صلح کے معاہدہ کے باوجود اعلان جنگ کردیا۔ ناچار آنحضرتؐ صحابہ کی جمعیت لے کر اُن کے قلعوں کی طرف روانہ ہوئے۔ یہود اپنے قلعوں میں محفوظ ہوکر بیٹھ گئے۔ آنحضرتؐ نے پندرہ دن محاصرہ جاری رکھا جس نے یہود کا سارا غرور توڑ دیا اور انہوں نے اس شرط پر قلعہ کے دروازے کھول دئیے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہوجائیں گے۔ مگر ان کی جانوں اور ان کے اہل وعیال پرمسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
اگرچہ یہ شرط یہود کی پیش کردہ تھی۔ حالانکہ فیصلہ اب آنحضرتﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ نیز موسوی شریعت کی رُو سے بھی یہ سب واجب القتل تھے۔ لیکن پھر بھی آنحضرتﷺ نے اس شرط کو منظور فرما کر اپنے رحیم وکریم ہونے کا ثبوت دیا اور انہیں امن وامان کے ساتھ مدینہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔
بنونضیر
بنوقینقاع کی جلاوطنی کے بعد یہود کے باقی دو قبائل عداوت میں ترقی کرتے گئے حتیٰ کہ آنحضرتؐ کے قتل کا منصوبہ بھی باندھا جس کی اطلاع بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دی۔ جب ان شرانگیزیوں کی وجہ سے آنحضرتؐ نے انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم فرمایا تو بنونضیر بھی قلعہ بند ہوگئے۔ مسلمانوں نے پندرہ دن تک محاصرہ جاری رکھا۔
آخر بنو نضیر نے اس شرط پر اپنے دروازے کھول دئے کہ انہیں اپنے سازوسامان کے ساتھ جانے دیا جائے۔ آنحضرتؐ کی اس شرط کو یہود پہلے ہی نہایت شوخی کے ساتھ ردّ کرچکے تھے۔ اگرچہ اب مسلمان فاتح تھے لیکن آنحضرتؐ نے اس شرط کو بھی مان لیا اور بنونضیر بڑی شان وشوکت سے مدینہ سے نکلے۔
یہود کے تیسرے قبیلہ بنوقریظہ نے اس موقع پر آنحضرتﷺ سے غداری کرتے ہوئے بنو نضیر کی اعانت کی تھی مگر آنحضرتؐ نے بطور احسان انہیں کلیتہً معاف فرمادیا۔ لیکن یہ بھی احسان فراموش ثابت ہوئے۔
بنوقریظہ کی غداری اور انجام
غزوہ خندق مسلمانوں کے لئے ایک نہایت خطرناک زلزلہ کی طرح تھا جس میں کمزور مسلمانوں نے تو سمجھ لیا تھا کہ بس اب خاتمہ ہے۔ اس مصیبت میں جہاں قریش نے مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا وہاں بنوقریظہ کی غداری نے اس مصیبت کو دگنا کردیا۔
جب آنحضرتؐ غزوہ خندق سے فارغ ہوکر واپس تشریف لائے اور ابھی بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپؐ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کشفی رنگ میں بتایا گیا کہ جب تک بنوقریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا آپ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئے تھے۔ اس پر آپؐ صحابہؓ کے ہمراہ بنوقریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر آپؐ نے حضرت علیؓ کوصحابہ کے ایک دستہ کے ساتھ آگے روانہ کردیا۔
جب حضرت علیؓ وہاں پہنچے تو یہود نے شرمندہ ہونے کی بجائے برملا آنحضرتﷺ کو گالیاںدیں اور کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ازواج مطہرات کے متعلق بھی بدزبانی کی۔ آخر مسلمانوں نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ شروع شروع میں تو وہ سخت غرور ظاہر کرتے رہے حتیٰ کہ ایک یہودی عورت نے قلعہ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو شہید بھی کردیا۔
جب محاصرہ لمبا ہوا تو یہود نے تنگ آکر حضرت سعد بن معاذ ؓ کو اپنا حَکَم مان کر قلعوں سے نکلنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ان کی بدبختی تھی کہ انہوں نے رحمۃ للعالمینؐ کو اپنا حَکَم نہیں مانا۔ غرض حضرت معاذ ؓ نے یہ فیصلہ دیا کہ یہود کے جنگجو لوگ قتل کر دئیے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے قید کرکے ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ آنحضرتؐ اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے پر مجبور تھے لیکن یہاں بھی آنحضرتؐ نے دشمنوں سے حسن سلوک کی بہترین مثال قائم فرمائی۔ آپؐ کے حکم کے ماتحت صحابہ نے بنوقریظہ کے کھانے کے لئے ڈھیروں ڈھیر پھل مہیا کیا اور وہ رات بھر پھل نوشی میں مصروف رہے۔
آنحضرتؐ نے بتقاضائے رحم یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ مجرموں کو ایک دوسرے کے سامنے قتل نہ کیا جائے۔ بلکہ آنحضرتؐ وہاں قریب ہی موجود رہے تا کہ اگر کسی کی طرف سے رحم کی اپیل ہو تو فوری فیصلہ صادر فرماسکیں۔ چنانچہ اس وقت جس شخص کی بھی سفارش آپؐ کے پاس گئی آپ نے اسے فوراً معاف کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ سعدؓ بن معاذ کے فیصلے کی وجہ سے مجبور تھے ورنہ آپؐ کا طبعی میلان ان کے قتل کئے جانے کی طرف نہیں تھا۔ جو بدبخت سزا یاب ہوئے انہیں آنحضورؐ نے اپنے انتظام میں دفن کروادیا۔
ثمامہ بن اثال (محرم 6ھ)
ثمامہ بن اثال یمامہ کا رہنے والا تھا اور قبیلہ بنوحنیفہ کا ایک بااثر رئیس تھا۔ وہ اسلام کی عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ہمیشہ بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے درپے رہتا تھا۔ آخر مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوا تو آنحضورﷺ نے حسب عادت اُس کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا بلکہ اپنے گھر سے کھانا اُسے دیتے رہے۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ثمامہ کو مسجد نبوی کے صحن میں ہی کسی ستون کے ساتھ باندھ دو۔ غرض یہ تھی کہ تا نمازوں کے روحانی نظاروں سے متأثر ہو کر وہ اسلام کی طرف مائل ہوجائے۔ آنحضرتﷺ ہر روز صبح ثمامہ کے قریب تشریف لے جاکر دریافت فرماتے کہ ’’ثمامہ ! اب کیا ارادہ ہے؟‘‘۔ وہ جواب دیتا: ’’اے محمدؐ ! اگر آپ مجھے قتل کردیں تو آپؐ کو اس کا حق ہے کیونکہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپ احسان کریں تو آپؐ مجھے شکرگذار پائیں گے۔ اور اگر آپ فدیہ لینا چاہیں تو میں اس کے لئے تیار ہوں‘‘۔ تین دن یہ سوال وجواب ہوتا رہا۔ اور پھر آپؐ نے اُسے آزاد کرنے کا ارشاد فرمایا۔ وہ مسجد سے نکل کر ایک باغ میں گیا اور نہا دھو کر واپس آکر آنحضرتؐ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپؐ کی ذات سے اور آپ کے دین اور آپ کے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپؐ کی ذات اور آپ کا دین اور آپ کا شہر سب سے زیادہ محبوب ہے۔
قریش مکہ سے حسن سلوک
غزوہ احد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا اور اہل مکہ خصوصاً غرباء سخت تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔ آنحضرتﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپؐ نے ازراہ ہمدردی مکہ کے غرباء کے لئے اپنی طرف سے کچھ چاندی بھجوائی اور اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ آپؐ کا دل اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی حقیقی ہمدردی رکھتا ہے۔
ایک اور احسان عظیم
جب ثمامہ بن اثال رئیس یمامہ مسلمان ہوا تو قریش کے مظالم کے خلاف طبعی جوش میں اس نے قریش مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے قسم کھائی کہ آئندہ یمامہ کے علاقہ سے تمہیں غلہ کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک رسول اللہؐ اس کی اجازت نہ دیں گے۔ اپنے وطن پہنچ کر واقعی اس نے مکہ کی طرف قافلوں کی آمد روک دی جس پر قریش مکہ سخت مصیبت میں مبتلا ہوگئے اور پھر آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر رحم کے طالب ہوئے۔ اس پر آنحضرتؐ نے ثمامہ کو ہدایت بھجوائی تو اہل مکہ کو اس مصیبت سے نجات ملی۔ یہ وہی اہالیان مکہ تھے جنہوں نے آپؐ کو اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا تھا اور ہر ظلم توڑا تھا۔
یہودی کی دلداری
مدینہ کے یہود سے معاہدہ کے بعد آنحضرتؐ یہود کی دلداری کاخاص خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی نے حضرت موسیٰ کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔ ایک صحابی کو اس پر غصہ آیا اور اس نے اس یہودی کے ساتھ کچھ سختی کی اور آنحضرتؐ کوافضل الرسل بیان کیا۔ جب آنحضرتؐ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ صحابی سے ناراض ہوئے اور حضر ت موسیٰ کی ایک جزوی فضیلت بیان کرکے اس یہودی کی دلداری فرمائی۔
عبد اللّہ بن ابی بن سلول
رئیس المنافقین عبد اللہ ابی سلول کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ وہ ہر موقع پر اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا۔ ایک موقع پر اس نے برملا آنحضرتؐ کی شان میں سخت گستاخی کی۔ تو حضرت عمرؓ نیخدمت رسالت میں حاضر ہوکر اجازت چاہی کہ اُس کی گردن اڑادیں۔ لیکن آپؐ نے فرمایا: عمر جانے دو۔ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہوکہ لوگوں میں یہ چرچا ہوکہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتاپھرتا ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع جب عبد اللہ بن ابی کے (مخلص مسلمان) بیٹے عبد اللہ کو ملی تو وہ آنحضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اگر آپؐ چاہیں تو مَیں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپؐ کے قدموں میں لاڈالوں۔ آپؐ نے اسے فرمایا کہ ہمارا ہرگز یہ ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ ہم بہرحال تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔
فتح مکہ اور بے نظیر معافی
مکہ فتح ہوا اور تمام مخالف آپؐ کے قابو میں آگئے تو آپ نے ’’لاتثریب علیکم الیوم‘‘فرما کر اپنے جانی دشمنوں کو معاف کردیا۔یہ لوگ اپنے گھناؤنے جرائم کی وجہ سے واجب القتل تھے اور اپنی موت کا اظہار کر رہے تھے۔ کوئی ان کی سفارش کرنے والا نہیں تھا۔ اس بے نظیر اور عظیم الشان معافی کی مثال تاریخ عالم اور تاریخ انبیاء میں بھی نہیں ملتی۔ یہ واقعہ آنحضورﷺ کے دنیا کے تمام انسانوں سے زیادہ رحیم وکریم ہونے اور محسن انسانیت ہونے کی قیامت تک گواہی دیتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں