آواز کی خصوصیات

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس و انجینئرز کے ٹیکنیکل میگزین 1999ء میں ایک مختصر مضمون ’’آواز‘‘ کے بارہ میں مکرم مخدوم کاشف حسیب صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آواز کی لہروں کے قوانین کے بارہ میں انسان کا علم اُس وقت سے شروع ہے جب اُس نے میوزک پیدا کرنے کی خاطر کوئی چیز بنائی تھی۔لیکن آجکل آواز کا استعمال کئی اہم مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سے فاصلوں کی پیمائش کی جاتی ہے اور حالت جنگ میں دشمن کے جہازوں اور سامان حرب کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ نیز سمندروں کی گہرائی کی پیمائش ، کسی خاص مقام پر زلزلہ آنے کا امکان اور زیرزمین معدنیات کی تلاش میں بھی آواز سے مدد لی جاتی ہے۔
آواز کی لہروں کی رفتار روشنی کی رفتار سے بہت کم ہے اور آواز کی لہریں ہوا کی نسبت پانی اور لوہے میں زیادہ تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ ان خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے جہاز بنائے گئے ہیں جو آواز سے زیادہ تیز رفتار ہیں اور وہ اُن جہازوں کی نسبت بآسانی دشمن کو دھوکہ دے سکتے ہیں جو آواز اور مادہ کے مذکورہ باہمی تعلق کے اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیار نہیں کئے گئے۔
آواز کی ایک اور خصوصیت گونج کا پیدا ہونا ہے۔ اگر ریڈیو اور ٹیلی ویژن سٹوڈیوز خاص طرزپر نہ بنائے جائیں تو اُن میں معیاری ریکارڈنگ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تمام سٹوڈیوز اور بڑے بڑے ہال ایسے خاص میٹیریل سے آراستہ کئے جاتے ہیں جو آواز کو جذب کرسکے۔ اس طرح آواز گونج پیدا کئے بغیر ہر جگہ بآسانی پہنچ جاتی ہے۔
انسانی کان صرف ایسی آوازیں ہی سُن سکتا ہے جو آواز کے پیمانہ میں بیس سے بیس ہزار سائیکلز فی سیکنڈ کے درمیان ہوں۔ اس سے کم یا زیادہ رفتار کی آوازیں الٹراسانک کہلاتی ہیں جنہیں فاصلوں کی درست پیمائش کے علاوہ اندرونی جسمانی بیماریوں کی تشخیص کے لئے شعبہ طب میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیز کپڑوںکی ڈرائی کلیننگ، ہوا سے نمی اور بعض دیگر عناصر کو پاک کرنے اور شیشے کی پلیٹ میں باریک سوراخ کرنے کیلئے بھی الٹرا ساؤنڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح یہ آوازیں بعض اقسام کے بیکٹیریا کا مکمل طور پر خاتمہ کرسکتی ہیں جبکہ بعض دیگر اقسام کے بیکٹیریا میں مزید پیدائش کا عمل روک سکتی ہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/WZNfY]

اپنا تبصرہ بھیجیں