اک سیلِ رواں تھا اشکوں کا ، باضبط نگاہوں کی جانب – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 2003ء میں شامل اشاعت مکرم محمد سلیم اختر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

اک سیلِ رواں تھا اشکوں کا ، باضبط نگاہوں کی جانب
نمناک سی آنکھوں کے پیچھے ، اندوہ و الم کا طوفاں تھا
گزریں جو اماوس کی گھڑیاں اِک چاند افق میں دَر آیا
اس چاند سے دل مسرور ہوئے ، ہر فرد کا چہرہ شاداں تھا

50% LikesVS
50% Dislikes
+1

اپنا تبصرہ بھیجیں