ایک بااصول اور بامراد راہنما – محمد علی جناح

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنے روشن ضمیر، شفاف کردار اور دیانت داری کی وجہ سے ایک بااصول سیاسی راہنما کے طور پر برصغیر کے افق پر چمکے۔ آپ کے بارے میں مکرم ناصر احمد صاحب طاہر کا ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ گولڈن جوبلی نمبر میں شامل اشاعت ہے۔
٭ ایک دفعہ ایک مؤکل قانونی مشورے کیلئے آپ کے پاس آیا اور اپنے مقدمے کی ضخیم مسل پیش کی اور فی گھنٹہ فیس مقرر کرتے ہوئے دس ہزار روپیہ دیا۔ جب مؤکل دوبارہ آیا تو آپ نے صرف کئے گئے وقت کے مطابق ساڑھے تین ہزار روپے رکھ لئے اور باقی رقم واپس کردی۔
٭ بیگم صاحبہ (والیہ ریاست آف بھوپال) کے کاغذات و دستاویزات دیکھنے کیلئے مسٹر جناح نے پانچ سو روپے فی گھنٹہ فیس طے کی۔ یہ کاغذات چار پانچ صندوقوں میں بند تھے اور مؤکل کا خیال تھا کہ کاغذات دیکھنے پر کئی دن صرف ہوں گے لیکن جناح نے بیس منٹ میں ہی مقدمے کی حقیقت سمجھ کر قانونی مشورہ دے دیا اور صرف بیس منٹ کے حساب سے رقم وصول کی۔
٭ ایک موکل نے جناح کی کارکردگی سے متاثرہوکر آپ کو مقررہ فیس سے زائد رقم پیش کی لیکن آپ نے زائد رقم واپس کرکے کہا کہ صرف طے شدہ فیس لوں گا۔
٭ پنجاب کی ایک ریاست کے حکمران نے اپنے مقدمے کے کاغذات کے ساتھ ایک لاکھ روپیہ فیس پیش کی لیکن جناح نے کیس کے مطالعے کے بعد کاغذات اور فیس واپس بھجوادی کیونکہ مقدمہ جھوٹا تھا۔
٭ مسٹر جناح پوری زندگی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ 1903ء میں ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ میں کمرہ عدالت کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ جناح اندر آئے تو کوئی کرسی خالی نہیں تھی۔ انہوں نے وکلاء کی نشستوں پر بیٹھے ہوئے بمبئی کارپوریشن کے صدر جیمز میکڈانلڈ سے کرسی خالی کرنے کیلئے کہا۔ مسٹر جیمز سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی انہیں کرسی خالی کرنے کیلئے کہہ سکتا ہے۔ انہوں نے اٹھنے سے انکار کیا تو جناح نے عدالت کے منشی سے کرسی خالی کروانے کو کہا۔ منشی ہچکچایا تو مسٹر جناح نے دھمکی دی کہ وہ جج سے شکایت کریں گے چنانچہ منشی نے مجبوراً مسٹر جیمز سے کرسی خالی کرنے کی درخواست کی اور جناح وہاں بیٹھ گئے۔… کچھ روز بعد مسٹر جیمز نے مسٹر جناح کو ایک ہزار روپے ماہانہ پر کارپوریشن کا وکیل مقرر کردیا۔
٭ اپریل 1934ء میں مرکزی اسمبلی میں معاہدہ اٹاوہ کے مشہور کیس پر بحث ہورہی تھی۔ رائے شماری کے دن مسٹر جناح کو اصرار کے ساتھ ایک لاکھ روپیہ پیش کیا گیا کہ وہ بمبئی کی عدالت میں حاضر ہوکر ایک مقدمے کی پیروی کریں۔ لیکن آپ نے اس گرانقدر فیس کو وطن کی خدمت پر قربان کردیا اور مقدمے کی پیروی سے معذرت کردی۔
٭ دیوان سنگھ مفتون کے اخبار ’ریاست‘ نے ایک ریاست کے خلاف مضمون لکھا۔ ریاست نے ایڈیٹر اخبار کے خلاف دعویٰ دائر کردیا اور پیروی کیلئے مسٹر جناح سے درخواست کی۔ آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’میرے نزدیک ہندوستان کے پریس کی آواز کو دباناجرم ہے‘۔
٭ پیرزادہ محمد ذکاء اللہ مرحوم کا بیان ہے کہ میں نے ایک مسلمان کانگرسی خوش بیان مقرر کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائے۔ اس نے گزارہ کیلئے سو روپیہ طلب کیا۔ میں خوشی خوشی جناح صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ تمہید باندھ کر کہ ہمارے پاس آدمی بہت تھوڑے ہیں وغیرہ، مدعا بیان کیا۔ مسٹر جناح نے فرمایا ’یہ کام مسلمانوں کا ہے اور اسے کرنے کیلئے مسلمان کو رشوت دینا میرے نزدیک قطعاً ناجائز ہے‘۔
٭ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد سٹیٹ بنک کا افتتاح ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح مہمان خصوصی تھے۔ آپ ٹھیک وقت پر تشریف لائے اور کاروائی شروع کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام خالی کرسیاں اٹھالی جائیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ تقریب کے دوران آنے والے وزراء اور جناب لیاقت علی خان سارا وقت کھڑے رہے اورکسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ انہیں کرسی پیش کرے۔ بعد میں ان وزراء نے نہایت شرمندگی سے دیر سے آنے پر معذرت چاہی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Afxul]

اپنا تبصرہ بھیجیں