براعظم جنوبی امریکہ

روزنامہ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍مئی 2007ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم حافظ سمیع اللہ خان صاحب حیدرانی نے برّاعظم جنوبی امریکہ (لاطینی امریکہ) کا تعارف انسائیکلوپیڈیا کی مدد سے پیش کیا ہے۔
براعظم جنوبی امریکہ دنیا کا چوتھا بڑا براعظم ہے جس کا رقبہ زمین کی خشکی کا تیرہ فیصد ہے۔ اس کا سلسلہ کوہ Andes دنیا کا لمبا ترین پہاڑی سلسلہ ہے اور ہمالیہ کے بعد دنیا کا بلند ترین سلسلہ بھی۔ کہ 7 ہزار ایک سو کلو میٹر کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے اور پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان برف سے ڈھکے آتش فشاں بھی ہیں۔ زلزلوں کا آنا معمول کی بات ہے۔ اِس سلسلہ کوہ اور بحرالکاہل کے ساحل کے درمیان واقع صحرائی خطہ 1600کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے اور صحرائے Atacama کہلاتا ہے۔ یہ دنیا کا خشک ترین صحرا ہے۔ اس صحرا میں بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں کبھی بارش نہیںہوتی۔
براعظم جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا ملک برازیل ہے۔ براعظم کی نصف آبادی اِسی ملک میں مقیم ہے۔ برازیل سب سے زیادہ coffee پیدا کرتا ہے اور سب سے زیادہ چینی، کوکو ،Tin اور پھل برآمد کرتا ہے۔ دیگر ممالک میں ارجنٹینا، یوروگوئے، چلّی (دنیا کا سب سے زیادہ تانبا پیدا کرنے والا ملک) اور پیرو شامل ہیں۔ پیرو تانبا، سیسہ اور زنک برآمدکرتا ہے۔
اس براعظم کی موجودہ آبادی یورپی اور امریکی لوگوں کی نسلیں ہیں یا پھر مقامی لوگ (یہاں کے اصلی باشندے) ہیں۔ برازیل میں پرتگالی اور دیگر ممالک کی اکثریت ہسپانوی زبان بولتی ہے۔ تاہم بہت سی مقامی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ پچھلے سو سال میں بہت سے غیرملکی اس خطے میں آباد ہوئے ہیں۔ مثلاً اطالوی باشندے ارجنٹینا میں اور جاپانی لوگ مغربی ساحل پر۔ شہر اکثر ساحل سمندر پر ہیں۔ مذہب رومن کیتھولک ہے۔
یورپی لوگوں کی آمد سے قبل جنوبی امریکہ کے مقامی باشندوں کی وسیع سلطنتیں قائم تھیں۔ یہاںتہذیبوں کے کئی ادوار آئے۔ ان لوگوںکی معیشت کی بنیاد زراعت پر تھی۔ ان کا اپنا ایک طرز حکومت تھا اور بین الممالک سرحدیں قائم تھیں۔ ان کے مذہب میں نیچر (Nature) کے احترام کی تعلیمات تھیں۔جب کولمبس نے 1492ء میں نئے خطے دریافت کئے تو مختلف اقوام کے مابین ان علاقوں پر قبضہ کے لئے دوڑ لگ گئی۔ سپین اور پرتگال نے سمندر پار کرکے اپنے اپنے من پسند خطے پر قبضہ کیا اور وہاں آباد کاری کی۔
1493ء میں پوپ الیگزینڈر ششم نے دنیا کے نقشے پر ایک فرضی خط کھینچا جس کو آج Line of Demarcation کہتے ہیں۔ اس لائن کے مغربی حصے پر سپین اور مشرقی حصے پر پرتگال کا قبضہ مانا گیا۔ ایک سال بعد Tordesillas کے معاہدہ کی رو سے پرتگال کا حق برازیل پر تسلیم کیا گیا۔ 1498ء میں کرسٹوفر کولمبس اپنی تیسری سمندری مہم پر جنوبی امریکہ آیا تھا۔ اس مہم کا خرچ سپین نے ادا کیا تھا۔ جبکہ 1500ء میں ایک پرتگالی مہم یہاں اتری۔ تب سے ہسپانوی اور پرتگالی یہاں کی دو بڑی زبانیں بن گئیں اور تب سے تین صدیوں تک جنوبی امریکہ پر یورپ نے حکومت کی۔
دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے جب جنوبی امریکہ کی نوآبادیات میں بغاوت پھوٹی تو 1809ء میں آزادی کی جنگیں لڑی جانے لگیں۔ گو اوائل میں ناکامی ہوئی مگر 1816ء سے اس تحریک کو کامیابی حاصل ہونے لگی۔ اس سلسلے میں دو آدمیوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ یعنی Jose de san martin جس نے ارجنٹینا، چلی، اور پیرو کو آزاد کروایا۔ اور Simon Bolivar جس نے شمالی ممالک (بولیویا، کولمبیا، ایکواڈور اور وینینرویلا) کو آزاد کروایا۔ بعد میں سائمن نے پیرو میں سپین کے خلاف سان مارٹن کی مدد کی اور پیرو کو آزاد کروایا۔
پرتگال کی نو آبادی، برازیل، میں کوئی بغاوت یا جنگ نہ ہوئی اور 1825ء میں پرتگال نے برازیل کو آزاد کر دیا۔ 1889ء میں بادشاہ نے برازیل کو ترک کر دیا اور یورپ چلا گیا۔ بعد میں برازیلیوں نے اپنی ری پبلک قائم کرلی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9hMuR]

اپنا تبصرہ بھیجیں