بلوچ قوم میں احمدیت کا نفوذ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اپریل 2012ء میں مکرم راشد احمد بلوچ صاحب کے قلم سے ایک تحقیقی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں بلوچ قوم میں احمدیت کے نفوذ سے متعلق بعض تاریخی امور بیان کئے گئے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے کچھ عرصہ بعد جنوبی پنجاب کے شہر لیّہ کے رہنے والے حضرت فتح محمد بزدارصاحبؓ ابن محترم محمد خان صاحب بزدار نے بیعت کرلی اور 313کبار صحابہ میں شامل ہونے کی سعادت پائی۔ اگرچہ آپؓ کے سن بیعت کا علم نہیں لیکن آپؓ کا نام حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب ’’آریہ دھرم‘‘ میں درج 700احباب کی فہرست میں شامل فرمایا ہے اور یہ کتاب 1895ء کی ہے۔ آپ کی ایک بہن حضرت غلام فاطمہ بیگم صا حبہ بھی ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں اور الہام اور رؤیا و کشوف کے مرتبہ سے مشرّف تھیں۔ انہوںنے 13مئی 1897ء کو ایک اشتہار طبع کراکے اپنے الہامات و مکاشفات کی بِنا پر حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت بڑے زور کے ساتھ بیان کی اور یہ اشتہار حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت اقدس میں بھی بھیجا ۔
یہ اشتہار یوں تھا:
’’میری شہادت حقہ کو غور سے سُنو اور پڑھو
مَیں ایک عورت اُمّی عربی اور فارسی سے محض بے خبر ہوں، یہ خدا تعالیٰ کی صریح کرامت ہے کہ عربی میں مجھے الہام ہوتے ہیں اور الہام اور کشف کے رُو سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کی مجھے خبر ہو چکی ہے ……۔ اور کشف میں مجھے مرزا غلام احمد صاحب دکھلایا گیا ہے اور ایک آواز دینے والے نے مکرّر سہ کرّر پُکار کر کہا کہ مرزا صاحب کی فتح ہوئی ہے …… اب اگر کوئی میری گواہی مانے یا نہ مانے لیکن میرے الہام کی سچائی کے لئے اِس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوگی کہ جس زبان میں مجھے الہام ہوتا ہے یعنی عربی میں، اُس سے مَیں بے خبر ہوں۔ لہٰذا یہ اشتہار بطور شہادت و صداقت بذریعہ اپنے بھائی حقیقی فتح محمد بزدار کے شائع کرتی ہوں تاکہ امانت خدا تعالیٰ کی لوگوں میں پہنچا دوں۔ ……عاجزہ غلام فاطمہ بنت محمد خان بزدار سکنہ خاص شہر لیّہ ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان بذریعہ برادر حقیقی خود فتح محمد بزدار مورخہ دہم ذی الحجہ۱۳۱۴ہجری مطابق 13 مئی 1897ء۔‘‘
(عسل مصفّٰے جلد دوم صفحہ 468-470از مرزا خدا بخش صاحب قادیانی)
حضورؑ نے اپنی کتاب ’’ضرورۃ الامام‘‘ میں آپؓ کے ان الہامات و کشوف کا ذکر کرکے ایک شخص کو (جس نے بو جہ اپنے الہامات کے یہ کہا تھا کہ مجھے آپ کی بیعت کی ضرورت نہیں) مخاطب کرکے فرمایا:
’’مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میری جماعت میں اس قسم کے مُلہم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے ۔…… اور بعض عورتیں میری مصدّق ہیں جنہوں نے ایک حرف عربی کا نہیں پڑھا اور عربی میں الہام ہوتا ہے، میں نہایت تعجب میں ہوں کہ آپ کی نسبت اس کے الہامات میں غلطی کم ہوتی ہے، 28ستمبر1898ء کو ان کے چند الہامات مجھ کو بذریعہ خط اُن کے برادر حقیقی فتح محمد بزدار کے ملے۔‘‘ (ضرورۃالامام )
حضرت منشی فتح محمدبزدار رضی اللہ عنہ
حضرت منشی فتح محمد صاحبؓ لیّہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے رہنے والے تھے اور گورنمنٹ انگریزی کے محکمہ ڈاک میں بطور اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر ملاز م تھے۔ حضرت اقدس علیہ السلام کی کتاب ’’سراج منیر‘‘ کے آخر میںتیاری برائے مہمان خانہ و چاہ وغیرہ کے تحت شامل اسماء میں آپ کا چندہ پانچ روپے اور ’’تحفہ قیصریہ‘‘ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی 1897 ء کے تحت آپ کے ایک روپیہ چندہ کا ذکر ہے۔ حضور علیہ السلام کی کتب ’’آریہ دھرم‘‘ اور ’’کتاب البریہ‘‘ میں بھی آپؓ کا نام درج ہے ۔
حضرت فتح محمد صاحب بزدارؓ کی وفات اپریل 1905ء کے آخری ہفتے میں ہوئی۔ آپؓ کے بھائی مکرم محمد حسین صاحب بلوچ نے آپؓ کی وفات کی اطلاع دیتے ہوئے تحریر کیا
’’افسوس کہ نیازمند کا بزرگ بھائی فتح محمد خان بلوچ بزدار اس دنیائے دُوں سے عالم بالا کو چل بسے ہیں۔ ….. بھائی صاحب متقی ، پرہیزگار اور ہمارے سر کے سرتاج تھے۔ ان کی وفات کی عجیب کہانی ہے۔ سنگھڑ علاقہ ڈیرہ غازی خان میں احمدی مشن کی تبلیغ بڑے زور سے کررہے تھے اور اس علاقہ کی احمدی جماعت (جوکہ بے یارومددگار دشمن کے منہ کا شکار تھی) میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ کوہ سلیمان میں مدفون ہوئے۔ ہرچند کہ ان کی موت قابل رشک ہے لیکن دو ارمان دل کے اندر ہی رہ گئے ایک تو یہ کہ ان کا مزار بے ٹھکانہ ہے دوسرے بسبب بُعد مسافت کے ان سے زندگی میں ملنا درکنار جنازہ میں شامل نہ ہوسکا۔‘‘
آپؓ کے پوتے مکرم سردار محمد عنایت اللہ خان حسرت نے قادیان میں تعلیم اور خاندان حضرت اقدس میں تربیت پائی۔ ان کا انتقال 16دسمبر1986 ء کو ہوا ۔
ڈیرہ غازی خان میں احمدیت کا نفوذ
ڈیرہ غازی خان کی بستی مندرانی میں ایک بزرگ استاد اور عالم فاضل امام مسجد ہوا کرتے تھے جو لوگوں کو عربی اور فارسی کا درس دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ حضرت امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں ،جب وہ دعویٰ کریں تو تم سب اُن کی بیعت کرلینا۔اُن کی وفات کے بعد اُن کے شاگردوں نے اُن کی نصیحت یاد رکھی اور اُن شاگردوں کی بدولت ہی ڈیرہ غازی خان میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ اُن کے سعادتمند شاگردوں میں سے ایک حضرت محمد شاہ ڈکھنہ صاحبؓ تھے۔
حضرت محمد شاہ ڈکھنہ صاحبؓ
زبانی روایات کے مطابق حضرت محمد شاہ صاحبؓ تحصیلِ علم کے لئے راولپنڈی گئے اور ایک حکیم صاحب سے طبابت سیکھنے لگے۔یہ حکیم صاحب احمدی تھے چنانچہ اُن کی وساطت سے قادیان پہنچے تاکہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب سے فن طبابت سیکھ سکیں ۔قادیان پہنچ کر جہاں آپ نے حضرت مولوی صاحبؓ کی شاگردی اختیار کی وہیں آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ آپؓ کی رہائش حضرت مولوی صاحب کے کتب خانہ میں اور طعام بھی اُنہی کے ذمہ تھا۔ آپؓ کے قادیان پہنچنے کے ماہ وسال کا علم نہیں ہے لیکن جب کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘شائع ہوئی تو آپؓ قادیان میں رہائش پذیر تھے۔یہ کتاب1901ء میں طبع ہوئی۔
قبولِ احمدیت کے بعد حضرت محمد شاہ ڈکھنہ صاحبؓ نے اپنی بستی مندرانی کے پڑھے لکھے احباب کے نام تبلیغی خطوط لکھنا شروع کئے۔ کچھ عرصہ بعد آپؓ نے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کی خدمت میں لکھا کہ بہت دن ہوئے کہ دل سخت مشوّش ہے۔کیا ایک مہینہ کے لئے وطن جا سکتا ہوں؟ حضرت مولانا صاحبؓ نے جواباً تحریر فرمایا ’’السلام علیکم!میرے خیال میں تو حرج نہیں مگر حضرت صاحب سے اجازت لینا چاہئے۔ نورالدین‘‘۔
حضرت مولوی صاحب کی اس تحریک پر آپ نے سیدنا مسیح موعودؑ کی خدمت اقدس میں یہ مکتوب لکھا:
’’عرض خاکسار یہ ہے کہ مدت سے خاکسار نابکار گھر سے اس نیت پر کہ علم حاصل کروں نکلا تھا تو بعد تکلّفاتِ کثیرہ سفر کے اور بکثرت عبادت قبروں اور پیر پرستی کے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس نابکار کو حضور کے قدموں پر لایا اور حضور کی کتابوں سے ہی علم حاصل کیا … … اور اب مَیں چاہتا ہوں کہ گھر کو جاؤں اور اپنے اہل واقارب کو ملوںاور دیکھوں کہ حضورکی تبلیغ کو قبول کرتے ہیں یا نہیں؟امید ہے کہ اکثر قبول کرلیں گے۔ تو اس لئے حضور سے اجازت چاہتا ہوں کہ حضور دعا فرمائیں کہ میں گھر جاؤںاور ان کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ محفوظ فرماوے۔ ‘‘
حضورؑ نے آپؓ کے خط کی پشت پر تحریر فرمایا:
’’انسان جب سچے دل سے خدا کا ہو کر اس کی راہ اختیار کرتا ہے تو خود اللہ تعالیٰ اس کو ہر یک بلا سے بچاتا ہے اور کوئی شریر اپنی شرارت سے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اس کے ساتھ خدا ہوتا ہے۔ سو چاہئے کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کو یاد رکھو اور اس کی پناہ ڈھونڈو اور نیکی اور راست بازی میں ترقی کرو اور اجازت ہے کہ اپنے گھر چلے جاؤاور اس راہ کو جو سکھلایا گیا ہے فراموش مت کروکہ زندگی دنیا کی ناپائیداراور موت درپیش ہے۔اور مَیں انشاء اللہ دعا کروں گا۔غلام احمد ‘‘۔
چنانچہ اجازت ملتے ہی آپ بستی مندرانی تشریف لائے۔ آپؓ کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں 15؍افراد نے تحریری بیعت کی جن میں سے درج ذیل آٹھ افراد کو مختلف مواقع پر قادیان پہنچ کر حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی دستی بیعت کرنے کی سعادت بھی ملی
1۔حضرت حافظ فتح محمد صاحب ؓ۔2۔ حضرت حافظ محمد صاحبؓ۔3۔حضرت نور محمد صاحب مندرانیؓ۔ 4۔حضرت نور محمدصاحب ؓ۔5۔حضرت اللہ بخش صاحبؓ۔ 6۔حضرت محمد صاحبؓ (حجام)۔7۔حضرت محمد عثمان صاحبؓ۔ 8۔حضرت قاضی مسعود صاحبؓ۔
اس کامیاب سفر کے بعد حضرت محمد شاہ ڈکھنہ صاحبؓ قادیان مراجعت فرما گئے مگر جونہی موقعہ ملتا آپؓ ڈیرہ غازیخان تشریف لاتے اور تبلیغی و تربیتی امور سر انجام دیتے۔ آپ کی تبلیغ سے احمدی ہونے والے ایک بزرگ وجود حضرت مولوی محمد ابوالحسن صاحب بھی تھے۔
حضرت مولوی محمد ابوالحسن صاحبؓ
حضرت مولوی محمد ابوالحسن صاحب کو ڈیرہ غازیخان میں احمدیت کی تبلیغ کا بانی کہا جاتا ہے۔آپ کو 1900ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت حافظ فتح محمد صاحبؓ کا خط (24 ستمبر 1901ء کے اخبار الحکم میں شائع ہوا کہ ’’خدا کے پیارے امام الزماں۔ علیک الصلوٰۃ والسلام۔ مولوی ابوالحسن صاحب کی بیعت حضور منظورفرماکر ان کو مطلع فرماویں۔یہ مولوی صاحب موصوف مولوی نذیرحسین کے مشہور شاگرد اور پکے موحد اور ضلع ڈیرہ غازیخان کے علاقہ میں جلیل القدر عالم ہیں۔انہوں نے ہاتھ سے بیعت کا خط لکھ کر روانہ حضور کیا ہے…ان کے ساتھ تین اور شخصوں نے بیعت کی ہے۔ ان کی بیعت قبول ہو حافظ فتح محمد مندرانی ۔عیسیٰ خان صاحب۔فتح محمد صاحب کلاں…ضلع ڈیرہ غازیخان۔‘‘
حضرت مولوی صاحب بہت نیک انسان تھے۔ آپ آخر دم تک ضلع میںپیغام حق پہنچانے میں کوشاں رہے اور ضلع میں بڑی بڑی جماعتیں آپ ہی کے ذریعے سے قائم ہوئیں۔ خاص طور پر بستی رنداں جو ساری کی ساری احمدی ہے۔کچھ عرصہ آپ اس بستی میں مقیم بھی رہے۔
سندھی بلوچوں میں احمدیت کا نفوذ
وادیٔ سندھ میں بسنے والے بلوچوں میں بھی احمدیت کا نفوذ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں ہی ہو گیا تھا جب ضلع نوشہروفیروز کے ایک سعید فطرت حضرت ماسٹر محمد پریل صاحبؓ گوپانگ نے بیعت کی اور پھر لمبا فاصلہ طے کر کے قادیان پہنچے اور قریباً دو ما ہ قادیان میں رہے۔ آپؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا علم سندھ کے پہلے صحابی ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے حضرت اخوند حکیم محمد رمضان صاحبؓ کے ذریعہ ہوا تھا جنہوں نے 1897ء میں قادیان جاکر حضورؑ کی بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ آپؓ کی تحریک پر حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب نے قادیان کا سفر اختیار کیا اور جولائی 1905ء میں حضورؑ کی بیعت کی۔ چنانچہ سندھ کے بلوچوں میں احمدیت کا نفوذ آپ کے ذریعہ ہوا۔
بلوچستان میں احمدیت کا نفوذ
1897ء میں ریاست قلّات کے سابق والی حضرت میر خداداد خان صاحبؓ نے بیعت کی تھی۔ پھر 1904ء کے بعض صحابہ کی فہرست میں آپؓ کا نام بھی شامل ہے اورلکھا ہے کہ’’اس سال سابق والی قلّات میر خداداد خان صاحب حضرت مسیح موعود کے حلقہ غلامی میں شامل ہوئے‘‘۔ قرین قیاس یہی ہے کہ اس علاقہ میں آپ سب سے پہلے بلوچ احمدی تھے۔ واللہ اعلم باالصواب۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں