جرمنی کا مشہور صوبہ، بائرنBayern

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍جنوری 2004ء میں مکرم قمر الدین مبشر صاحب نے جرمنی کے صوبہ بائرن (Bavaria) کا تعارف کرواتے ہوئے اس کی منفرد حیثیت پر روشنی ڈالی ہے۔
بائرن صوبہ 23؍نومبر 1870ء کو بعض حقوق کے ساتھ جرمن سلطنت میں شامل ہوا تھا۔ اس سے قبل قریباً ہزار سال سے یہ آزاد ریاست تھی اور اس کا شمار یورپ کی قدیم ترین مملکتوں میں ہوتا تھا۔ بائرن کی سرکاری زبان جرمن ہے مگر اس کے باسیوں کی ایک پرانی زبان بائرش بھی ہے جو عام بولی جاتی ہے۔ ان کی تہذیب یورپ کے مکینوں سے الگ تھلگ ہے اور قیاس ہے کہ ان کی نسل مختلف نو آباد یورپین قبیلوں اور پیچھے رہ جانے والے رومیوں اور نقل مکانی کرنے والے جرمانن کا مجموعہ ہے۔
چھٹی صدی میں بائرش نسل ایک نوابی ریاست کے طور پر نمودار ہوئی۔ ساتویں صدی میں یہاں چرچ کو منظم کرکے وسیع اختیارات دئیے گئے۔ 1158ء میں Isar دریا کے کنارہ ایک نئے شہر میونخ کی بنیاد رکھی گئی۔ تیرہویں صدی میں Regensburgبائرن کا دارالخلافہ بنا۔
(1347ء-1302ء) Ludwig I کی حکومت کے دوران میونخ ایک مضبوط ثقافتی مرکز بن گیا جس نے زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت کو بہت اہمیت دی۔ پھر Ludwig II (1886ء – 1864ء)نے فرانس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور اس کے بعد بائرن کو نئی بنیادوں پر استوار کیا۔ Ludwig II نے ہمیشہ کے لئے ریاست کو خیرباد کہا اور حکومت چھوڑ کر اپنے محل کی تیاری اور میوزک کی دنیا میں گم ہو گیا۔ اس کا چچا Luitpoldاور اس کا بیٹا Ludwig III اس کے لواحقین میں سے بائرن کے آخری شہزادے تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد 1918ء میں بائرن کو آزاد قرار دیدیا گیا۔ بائرن کے لوگ انتہائی وطن پرست ہیں۔ ان کی تہذیب وتمدن کی وجہ سے ان کے مردوں کا لباس گھٹنوں تک چمڑے کی آدھی پتلون، چمڑے کی مخصوص جیکٹ اور چمڑے کا ہیٹ ہے جس میں جانوروں کے پر لگے ہوتے ہیں۔ جب 1933ء میں ہٹلر نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بائرن کی اپنی حیثیت معطل ہو گئی اور اس کے شہر Dachau میں بنائے گئے کیمپ میں ہٹلر کے مخالفین کو جلا دیا گیا اور لاکھوں یہودیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ کسی یہودی کو پناہ دینے والے کے سارے خاندان کو بھی ختم کردیا جاتا۔ دوسری جنگ عظیم میں بائرن کے شہر میونخ، نیورن برگ اور ورس برگ پر برطانوی طیاروں نے سب سے زیادہ بمباری کی۔ 1945ء میں مشروط جنگ بندی کے بعد بائرن امریکن فوج کی آماجگاہ بن گیا۔
جرمنی کی کل آبادی 82.78 ملین ہے جس میں 91 فیصد جرمن اور 9 فیصد غیر ملکی ہیں۔ جرمنی کے 16صوبوں میں سے بڑا صوبہ رقبہ کے لحاظ سے بائرن ہے اور آبادی کے لحاظ سے یہ دوسرے نمبر پر ہے اور اس کی کل آبادی 12.15 ملین ہے۔
بائرن صوبہ نہایت خوبصورت سرسزو شاداب ہے اور صنعت میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بہت قدیمی اور اہم علاقہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں سیاح سیرو تفریح کے لئے یہاں آتے ہیں۔ بائرن کے بعض علاقے خاص طور پر صحت افزا مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا سپورٹس میلہ میونخ میں لگایا جاتا ہے۔ ہر سال اکتوبر میں بہت بڑا میلہ لگتا ہے جس میں سارے یورپ سے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہاں کی فٹ بال کی ٹیم پوری دنیا میں مشہور ومعروف ہے اور اکثر جرمن چیمپئن شپ حاصل کرتی ہے۔ اس وقت بائرن میں 12 یونیورسٹیاں ہیں۔ میونخ اور اولانگن کی یونیورسٹیوں کا شمار جرمنی کی اہم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ جرمنی میں سب سے پہلے ٹرین کاآغاز بھی بائرن کے شہر نیورن برگ اور ملحقہ شہر Furthکے درمیان تقریباً سو سال قبل ہوا تھا۔
جرمنی آنے والے سیاسی پناہ گزینوں کے لئے سب سے بڑی اور پہلی عدالت اور اس کا ہیڈ کوارٹر بائرن میں واقع ہے۔ مرکزی حکومت کے سب سے بڑے ایمپلائمنٹ ایکسچینج کا ہیڈ کوارٹر نیورن برگ میں ہے۔ دنیا کی مشہور ومعروف کار BMWکی فیکٹری میونخ میں ہے جس میں روزانہ دو ہزار کاریں تیار ہوتی ہیں۔ ہٹلر نے یہودیوں کو سزائیں دینے اور ان پرمقدمے چلانے کے لئے اپنا فوجی ہیڈ کوارٹر نیورن برگ میں بنایا تھا۔
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ جب پہلی بار یورپ تشریف لائے تھے تو آسٹریا کے راستے بذریعہ کار میونخ تشریف لائے اور اپنا دورہ 15 جون 1955ء کو نیورن برگ سے شروع فرمایا۔ گیارہ دن یہاں قیام بھی فرمایا اور اس دوران 16 جون 1955ء کو نیورن برگ سے 15 میل دُور ارلانگن یونیورسٹی کے مشہور اعصابی مرکز کے ڈاکٹر نے حضور کا معائنہ کیا۔ مقامی نو احمدی جرمنوں سے حضور کی ملاقات بھی ہوئی۔ ایک ہوٹل میں مقامی جماعت کی طرف سے استقبالیہ دیا گیا جس میں 35 ؍ افراد شامل ہوئے۔ اس موقع پر حضورؓ نے انگریزی میں خطاب فرمایا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ بھی متعددبار بائرن کے شہر میونخ اور ایک دفعہ آؤگس برگ تشریف لائے۔ حضورؒ کے ساتھ ہونے والی متعدد تبلیغی نشستوں میں ایک بہت بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں کے افراد نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ 1985ء تک جرمنی میں چار احمدیہ مشن تھے جو فرینکفورٹ، ہمبرگ، کولون اور میونخ میں تھے۔ اسی سال میونخ کے نواحی علاقہ نوئے فارن میں ایک عمارت خریدی گئی جس کا نام حضورؒ نے بیت المہدی تجویز فرمایا اور یہ ریجنل سرگرمیوں کا مرکز ہے۔
جرمنی میں باضابطہ مشن کا آغاز 1922ء میں ہوا لیکن اس سے قبل بھی لوگ احمدیت سے متعارف تھے۔ 1907ء میں ایک جرمن خاتون مسز کیرولائین نے میونخ سے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں خط میں لکھا :
’’میں کئی ماہ سے آپ کا پتہ تلاش کررہی تھی …۔ بیان کیا گیا ہے کہ آپ خدا کے بزرگ مامور ہیں اور مسیح موعود کی قوت میں ہوکر آئے ہیں اور میں دل سے مسیح کو پیار کرتی ہوں۔ ہمارے لارڈ مسیح کے واسطے جو اس قدر جوش آپ کے اندر ہے اس کے واسطے میں آپ کو مبارکباد دیتی ہوں اور مجھے بڑی خوشی ہو گی اگر آپ چند سطور اپنے اقوال کی مجھے تحریر فرمادیں اگر ممکن ہوتو مجھے اپنا فوٹوارسال فرمادیں۔ کیا دنیا کے اس حصہ میں آپ کی کوئی خدمت ادا کر سکتی ہوں؟ …‘‘
میونخ میں 10 ، 11مئی 2003 ء کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میوزیم کی سو سالہ تقریبات منعقد ہوئیں۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا میوزیم مانا جاتا ہے اور تحقیقی اداروں کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کا پہلا ٹیلیفون سیٹ، پہلی گاڑی،پہلا بجلی سے چلنے والا انجن بھی یہیں پایا جاتا ہے۔ پچھلے کئی عشروں سے یہ عجائب گھر ایک ایسی نمائش بن چکا ہے جس کی لمبائی 20کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے اور اس میں تقریباً 20ہزار اشیاء نمائش کی غرض سے رکھی جاتی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں