جلسہ سالانہ کینیڈا 2004ء سے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب

یاد رکھیں کہ احمدی جس جس ملک میں بھی آباد ہے وہ وہاں پہلے احمدیت کا سفیر ہے۔ دنیا کی نظر آپ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب ہمارے اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔ اور اس طرح ہماری ہمدردیٔ مخلوق کے دعوے بھی تبھی سچے ثابت ہوں گے جب ہم نہ صرف باتوں سے، نہ صرف اپنے دین کی خوبصورت تعلیم سے دکھا کر بلکہ اپنے عمل سے بھی ہمدردیٔ مخلوق کر رہے ہوں گے۔
قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا قرب پانے کے طریقے سکھائے ہیں۔ اپنی خشیت ہمارے دلوں میں پیدا کرنے کے طریقے سکھائے ہیں، تقویٰ حاصل کرنے کے طریقے سکھائے ہیں۔ اور سب سے ضروری چیز جو اس سلسلے میں فرمائی وہ نمازوں کی ادائیگی ہے۔
قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے نمازو عبادت کی اہمیت کا تذکرہ
(جلسہ سالانہ کینیڈا کے موقع پر انٹرنیشنل سینٹر مسس ساگا، اونٹاریو میں 04جولائی 2004ء کو سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا اختتامی خطاب)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آپ لوگ جو دنیا کے اس خطّۂ زمین میں رہ رہے ہیں جہاں مختلف قومیں آباد ہیں۔ مختلف مذاہب اور روایات کے لوگ ہیں۔ اپنی روایات کی بعض باتیں یہاں آنے والے مختلف معاشرتی گروہوں نے قائم رکھی ہوں گی اور بعض روایات کو، بعض اچھائیوں یا برائیوں کو ایک دوسرے میں سمو بھی لیا ہو گا۔ کیونکہ کم و بیش یہ سب گروپ، یہ دنیا کی آبادیاں، جو یہاں اکٹھی ہوئی ہیں دنیاداروں سے متعلق ہی ہیں اور روحانیت کی طرف لے جانے کے لئے ان کی کوئی سمت متعین نہیں۔ لیکن آپ لوگ جو احمدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادیٔ کامل کے طور پر مانا ہے اور آپ سے پہلے کے تمام انبیاء پر بھی ایمان ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی اپنی قوم کے لئے بھیجا ہؤا سمجھتے ہیں اور اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اسی ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے، پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا سمجھتے ہیں۔ تو یہ ایک انفرادیت ہے جو ہم احمدیوں کی ہے جو دنیا کے کسی مذہب کے ماننے والوں کی نہیں ہے حتّی کہ دوسرے مسلمانوں کی بھی نہیں ہے اور اس وجہ سے ہر ایک کا رخ مختلف سمتوں میں ہے۔ تو یہ اعزاز جو ہم احمدیوں کا ہے اور یہ انفرادیت جو ہم احمدیوں کی ہے ہم پر ایک ذمہ داری ڈالتی ہے کہ ہم جب ایک دعویٰ لے کر کھڑے ہوئے ہیں تو اس دعوے کا پاس کرتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کریں۔ اپنے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں۔ ہمیشہ مدّ نظر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ احمدی جس جس ملک میں بھی آباد ہے وہ وہاں پہلے احمدیت کا سفیر ہے۔ دنیا کی نظر آپ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہو سکتا ہے اور تبھی سچا ثابت ہو گا جب ہمارے اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔ اور اس طرح ہماری ہمدردیٔ مخلوق کے دعوے بھی تبھی سچے ثابت ہوں گے جب ہم نہ صرف باتوں سے، نہ صرف اپنے دین کی خوبصورت تعلیم سے دکھا کر بلکہ اپنے عمل سے بھی ہمدردیٔ مخلوق کر رہے ہوں گے۔ اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے ابھی جو میئر صاحبان نے اعلان کیا کہ یہاں آپ لوگوں نے ہسپتال کے لئے خدمت انسانیت کیلئے ایک بڑی رقم ان کو اکٹھی کر کے دی۔ تو بہرحال یہ نمونے ہمیں دکھانے ہوں گے۔ ہمارے عزیز رشتے دار ہم سے فیض پانے والے ہوں گے۔ ہمارے ہمسائے ہم سے فیض پانے والے ہوں گے۔ ہمارے محلے کے لوگ ہمارے سے فیض پانے والے ہوں گے۔ ہمارے شہر کے لوگ ہم سے فیض پانے والے ہوں گے۔ ہمارے ملک کے لوگ ہم سے فیض پانے والے ہوں گے اور تمام انسانیت ہم سے فیض پانے والی ہو گی حتی کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق ہم سے فیض پانے والی ہو گی تو تبھی ہمارا دعویٰ سچا ہو گا۔ تبھی ہم دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ اسلام کی حسین تعلیم ہے جس کو لے کر جماعت احمدیہ اٹھی ہے۔ تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تمام دنیا کے دل اپنے پیدا کرنے والے خدا کے حضور جھکنے والے بنانے ہیں اور یہ تمام باتیں کسی کے اپنے زور سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور جھکنا اور اس کی عبادت کرنی ہو گی۔ اس کا خوف اور اس کی خشیت اپنے دلوں میں پیدا کرنی ہو گی۔ اپنے دلوں میں عاجزی پیدا کرنی ہو گی۔ جب عاجزی دلوں میں پیدا ہو گی تو خوف بھی بڑھتا جائے گا تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہو گی کہ اے ہمارے پیارے خدا ہمارے دل اپنے حضور جھکنے والے بنا دے۔ اپنی عبادات کا حق ادا کرنے والے بنا دے۔ اپنے احکامات پر عمل کرنے والے بنا دے۔ ہمیں اپنی مخلوق سے محبت کرنے والا بنا دے۔ ہمیں اپنی مخلوق کے حقوق ادا کرنے والا بنا دے۔ جب ہم اس طرح دعا کریں گے تو خدا تعالیٰ ہمارے دلوں کو پاک کرتے ہوئے ہمیں وہ معیار بھی عطا فرمائے گا جس کا اس نے ہم سے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے وعدہ کیا ہے اور تعلیم دی ہے۔ تو قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا قرب پانے کے طریقے سکھائے ہیں۔ اپنی خشیت ہمارے دلوں میں پیدا کرنے کے طریقے سکھائے ہیں تقویٰ حاصل کرنے کے طریقے سکھائے ہیں۔
اور سب سے ضروری چیز جو اس سلسلے میں فرمائی وہ نمازوں کی ادائیگی ہے۔ مختلف مقامات پر نمازوں کے بارے میں فرمایا ہے۔ یہاں اِس وقت مَیں ایک آیت پڑھوں گا۔ فرماتا ہے

وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ (البقرۃ:46)

پھر فرمایا کہ یہ خشیت یونہی دل میں پیدا نہیں ہو جائے گی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ’ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو اور یقینا یہ عاجزی کرنے والوں کے سوا سب پر بوجھل ہے‘۔ اس کے لئے تمہیں مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا ہو گا۔ اس کی عبادت کا حق ادا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی عاجزی سے جھکو اور اپنے ماحول میں بھی تم ایک عاجز انسان کی طرح رہو۔ کسی بڑائی اور تکبر کا شائبہ بھی تمہارے کسی عمل سے نہ پڑے۔ اس سے مدد مانگتے ہوئے یہ کہنا ہو گا کہ اے اللہ! تُو ہی میری مدد فرما اور میری نمازوں میں ذوق پیدا کر۔ اور جتنا جتنا یہ ذوق بڑھے گا اللہ تعالیٰ کا عرفان بھی حاصل ہوتا جائے گا اور اس کی خشیت بھی آتی جائے گی، پیدا ہوتی جائے گی۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ صبر کے معنی برے خیالات سے بچنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔ یعنی بہادری سے، مستقل مزاجی سے مقابلہ کرتے جائیں۔ یہ بھی لغت میں لکھا ہوا ہے۔ تو یہ جو بہادری اور مستقل مزاجی ہے یہ دکھانی ہو گی۔ آپ کو اپنی روایات کو قائم رکھنا ہو گا۔ آپ کو وقت پر اپنی عبادات کو بجا لانے کے لئے دنیا سے ڈرے بغیر اس طرف توجہ دینی ہو گی۔ پھر فرمایا کہ جب کوئی بد اثرات کو ردّ کرے اور نیک اثرات قبول کرنے کی عادت ڈالے جو دعاؤں سے حاصل ہو سکتی ہے تو اس کے دل میں روحانیت بھی پیدا ہوتی جائے گی۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ397) تو جتنی زیادہ روحانیت پیدا ہو گی اتنی زیادہ خشیت دل میں پیدا ہو گی اور پھر عاجزی بھی پیدا ہو گی تو روحانیت کے معیار نماز سے حاصل ہوں گے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو‘‘۔ فرمایا ’’نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح، تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرّع سے مانگی جاتی ہے‘‘۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد19 صفحہ68-69) انتہائی گڑگڑا کر مانگی جاتی ہے۔ عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر مانگی جاتی ہے۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد اس کی تسبیح اور اپنے گناہوں سے معافی کی حالت میں دل میں پیدا ہو گی اسی طرح خشیت بھی بڑھتی جائے گی۔ تو مختصر یہ کہ نمازوں میں وہ ذوق پیدا کرو گے تو یہ سب کچھ ملے گا۔
نماز کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نماز بڑے بھارے درجے کی دعا ہے مگر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔ اس زمانے میں مسلمان درود و وظائف کی طرف متوجہ ہیں۔ اور نماز کی طرف متوجہ نہیں۔ پھر فرمایایہ لوگ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ فرمایا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ مشکلات کے وقت میں وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور نماز میں دعا کرتے تھے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ خدا کے قریب لے جانے والی کوئی چیز نماز سے بڑھ کر نہیں۔ نماز کے اجزاء اپنے اندر ادب خاکساری اور انکساری کا اظہار رکھتے ہیں۔ قیام میں نمازی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ غلام اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے طریق ادب سے کھڑا ہوتا ہے۔ رکوع میں انسان انکسار کے ساتھ جھک جاتا ہے اور سب سے بڑا انکسار سجدہ میں ہے جو بہت ہی عاجزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 93۔ 94۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
فرمایا ’’نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو۔ بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔ آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں’‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ263۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’مَیں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو‘‘ (یعنی تعلق اور رابطہ جوڑنا ہے) تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں’‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ170۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر فرمایاباوجود انسان کی خواہش کے کہ وہ پاک ہو جاوے نفس لوّامہ کی لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے۔ اس کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے۔ پس پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔ نماز کیا ہے؟ ایک دعا جو درد، سوزش اور حرکت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے۔ یعنی یہ گرمی دل میں پیدا ہوتی ہے تا کہ یہ بدخیالات اور برے ارادے دفعہ ہو جائیں اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 92۔ 93۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن اللہ تعالیٰ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا اس دن اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔ اول امام عادل۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی۔ تیسرے وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ چوتھے وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اسی پر وہ متحد ہوئے اور اسی کی خاطر وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ پانچویں وہ پاکباز مرد جس کو خوبصورت اور با اقتدار عورت نے بدی کے لئے بلایا لیکن اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ سخی جس نے اس طرح پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتویں وہ مخلص جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی محبت اور خشیت سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ و فضل المساجد حدیث 660)
اس حدیث میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ تقریباً تمام ایسی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور محبت کی وجہ سے ہی ان پر عمل ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لیں پہلے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی۔ یہ بھی جس میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہو گی اسی میں یہ ذوق بھی پیدا ہو گا کہ وہ نوجوانی کی حالت میں بھی عبادت میں زندگی گزارے۔ پھر دل مسجد سے لگا ہو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی طرف لے جانے والی چیز ہے اور وہ بھی خشیت سے پیدا ہوتی ہے، ایک تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا صحیح عرفان حاصل ہو گا تو مسجدوں کی طرف آنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے تعلق ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے اور اسی محبت کی وجہ سے ہے جو ایک بندے کو خدا تعالیٰ سے ہونی چاہئے اور ہوتی ہے۔ پھر اللہ کی خاطر بدی سے پرہیز ہے۔ عورت کی جو بات کی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر بدی سے پرہیز ہے۔ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خشیت ہی ہے۔ اپنے پیاروں کی خاطر آدمی بہت ساری باتیں چھوڑتا ہے۔ تو یہاں جو اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے گی تو ایسی حرکتوں سے بھی انسان باز آ جاتا ہے۔ پھر چھپ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو جذب کرنے کے لئے ہی ہے۔ پھر چھپ کر عبادت کرنے والے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت اور خشیت ہی ہے اور ایک بظاہر حقوق العباد میں ہے بلکہ وہ بھی اللہ کی خاطر ہی ہے جو اس کے حکم پر چلتے ہوئے عدل اور انصاف قائم کرنے کی تلقین ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے فرائض بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ہیں۔ تو فرمایا جس میں یہ باتیں موجود ہوں گی اس کو کوئی خوف نہیں کوئی حساب کتاب کی فکر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کا سایہ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اپنے بندوں میں شمار کرے گا اور اپنی جنتوں کا تمہیں وارث بنائے گا۔ اللہ کرے کہ ہم یہ سب سچی محبت اور خشیت حاصل کرنے والے ہوں، پانے والے ہوں۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں دوزخ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جو خدا کے خوف سے رو پڑی یعنی خشیت سے رو پڑی اور دوسری وہ آنکھ جو رات کو راہ خدا میں پہرہ دیتی ہے۔ (سنن الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ما جاء فی فضل الحرس فی سبیل اللہ حدیث 1639)
تو یہاں بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ایسا خوف ہے جو کسی محبت اور تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ کوئی ڈر ہو۔ تو ایک محبت والا خوف جو ایک محبت کرنے والے کو اپنے محبوب سے ہوتا ہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے اور اس ناراضگی سے بچنے کے لئے، اس کو راضی کرنے کے لئے وہ بڑے بڑے پاپڑ بیلتا ہے تو یہاں بھی ہے کہ پھر اس کو راضی کرنے کے لئے ایک لمبا عرصہ اور ایک مستقل مزاجی سے اس کی یاد میں گزارو۔ راتوں کو بھی گزارو، دنوں کو بھی گزارو۔ گریہ و زاری کرنے والی آنکھیں ہوں۔ اور پھر بتایا کہ گریہ و زاری کے، اللہ تعالیٰ کی خشیت کے اعلیٰ معیار کس طرح قائم ہوں گے۔ وہ اس طرح کہ اس کی عبادت بجا لاؤ اور عبادات کے بھی اعلیٰ معیار کیا ہیں کہ راتوں کو اٹھو، اور اسے پکارو جیسا کہ پہلے مَیں نے کہا۔ تو یہی اصل چیز ہے۔ اپنی راتوں میں اس کے آگے رو رو کر اس سے دعائیں مانگو اور کیونکہ راتوں کو جاگنے والے، راتوں کی عبادت کرنے والے دنیا دکھاوے کے لئے عبادت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کی خاطر کر رہے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ ایسے ہیں جنہیں جہنم نہیں چھوئے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنے پیار اور محبت کی گود میں رکھے گا۔
پھر ایک حدیث میں اس بات کو یوں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی خشیت سے روتا ہے وہ کبھی آگ میں نہ جائے گا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے۔ (سنن الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ما جاء فی فضل الغبار فی سبیل اللہ حدیث 1633)
یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہو اور پھر وہ جہنم میں جائے یا آگ میں پڑے۔ اور خدا کی راہ میں انسان کے جسم پر لگا ہوا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے رستے میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادات کرتے ہیں کبھی یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کو جہنم کا دھؤاں یا جہنم کی آگ ان کے قریب بھی پہنچ سکے۔ تو یہ مزید تسلی فرما دی کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تم اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہو، برائیوں سے بھی بچتے ہو اور اس کی عبادت بھی کرنے والے ہو اور پھر تم جہنم میں بھی جاؤ، ناممکن ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ تمہیں خوشخبری ہو کہ تم اس کی رضا حاصل کرتے ہوئے جنت میں جانے والے ہو۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :
’’جگری گریہ و بکا آستانہ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے اور اس کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔ اہل اللہ کا ایک آنسو جو توبۃ النصوح کے وقت نکلتا ہے ہوا وہوس کے بندے اور ریا کار اور ظلمتوں کے گرفتار کے ایک دریا بہا دینے سے افضل اور اعلیٰ ہے کیونکہ وہ خدا کے لئے ہے اور یہ خَلق کے لئے یا اپنے نفس کے واسطے‘‘۔ (ملفوظات جلداول صفحہ411۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
تو فرمایا کہ دل سے جو دعا نکلتی ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور پورے عاجزی سے جھکتے ہوئے جو تم دعا مانگتے ہو، ہر قسم کی نفسانیت سے بالا ہو کر اس کو حاصل کرنے کے لئے دعا مانگتے ہو تو پھر تمہارے یہ سارے گند اللہ تعالیٰ نکال دے گا اور یہی توبۃ النصوح ہے۔
پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ والے بننے کی کوشش کرو۔ اللہ کی راہ میں ایک بھی آنسو بہاؤ اور حقیقت میں وہ آنسو اس کی یاد میں بہنے والا ہو، اس کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو تو پھر یہ ایک آنسو بھی جو ہے یہ معجزات دکھانا شروع کر دیتا ہے لیکن شرط یہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ تمہارے دل کے اندر سے، اس کی گہرائیوں سے یہ آنسو باہر نکل رہا ہو۔
پھر فرمایا ہے کہ نمازوں کو اپنی عبادات کو اس طرح اس رنگ میں رنگین کیا جائے کہ ذہن میں صرف اللہ ہی اللہ ہو۔ نمازوں میں ایسی کیفیت اختیار کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو اور اسے دیکھ رہے ہو۔ اس کے حضور حاضر ہو۔ اگر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو کم از کم اتنا ضرور ہو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اور پھر اس کیفیت کو، اس خشیت کو، اس حالت کو جو خشیت کی حالت ہے مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے بھی ہمیشہ ذہن میں رہے کہ خدا ہماری ہر حرکت دیکھ رہا ہے۔ صرف یہی نہیں ہے کہ نماز پڑھی اور سلام پھیرا تو اس کے بعد خدا نے دیکھنا بند کر دیا بلکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر لمحہ ہماری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے۔ اس لئے برائیوں سے بھی بچنا ہے اور اپنے ہر عمل کو خالصۃً لِلّٰہ کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ ان لوگوں کی طرح نہیں ہو جانا جو ہمسایوں سے نیک سلوک نہ کر رہے ہوں، اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک نہ کر رہے ہوں، اپنی بیوی سے نیک سلوک نہ کر رہے ہوں۔ کیونکہ اگر اللہ کا خوف ہے تو یہ بات بھی ہر وقت ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ صرف نماز پڑھتے ہوئے ہی نہیں دیکھتا، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے، بلکہ وہ ہر حالت میں تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس لئے اگر تم اپنے بندوں کے حقوق ادا کرنے میں بھی سستی کرتے ہو اور عاجزانہ طور پر ان کی خدمت کے لئے کمربستہ نہیں ہو، ان کی خدمت میں لگے نہیں رہتے یا ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو یاد رکھو کہ وہ خدا تمہارا محاسبہ کر سکتا ہے۔ اس لئے اپنے معاشرے کے حقوق بھی اسی طرح ادا کرو جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت تم اس کی خشیت کی وجہ سے کرتے ہو۔ جس ملک میں تم رہ رہے ہو اس سے محبت کرنے کا بھی حکم ہے۔ اس لئے اگر اللہ کا خوف ہے تو اپنے ملک سے بھی مکمل وفا کرو۔ اب یہاں جن کو کینیڈین شہریت مل گئی ہے ان کا فرض ہے کہ کینیڈا کے مکمل وفادار بن کر رہیں۔ جب تم یہ معاشرتی حقوق ادا کر رہے ہو گے تو تب سمجھا جا سکتا ہے کہ تم تقویٰ پر قائم ہو اور اللہ کا خوف بھی تمہارے دل میں ہے اور اس کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے تا کہ اللہ کا قرب پانے کے اعلیٰ معیار حاصل ہو سکیں۔
ایک روایت آتی ہے۔ کچھ حصہ میں پڑھتا ہوں۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاک کر کیونکہ تُو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے۔ تُو ہی اس کا ولی ہے اور تُو ہی اس کا آقا ہے۔ تو یہ دعا اس طرح کرنی چاہئے۔
پھر فرمایا کہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے۔ اور ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو۔ اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو۔ اور ایسی دعا سے جو مقبول نہ ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ والاستغفار باب التوبۃ التعوذ من شر ما عمل و من شر ما لم یعمل حدیث 6906)
پھر فرمایا کہ جو لوگ تقویٰ پر چلنے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ اپنے علم سے اپنی صلاحیتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں۔ ان کو بھی کوشش کر کے اعلیٰ معیار پر لے کر آئیں۔ یہ نہ ہو کہ اس بارے میں کنجوسی ہو اور ٹریڈ سیکرٹ (Trade secret) کے نام پر کسی کو فائدہ پہنچانے میں کنجوسی سے کام لے رہے ہوں کیونکہ ایسے لوگوں کے دل اللہ کی خشیت سے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ ان میں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ صرف اپنے نفس کو فائدہ پہنچائیں۔ ہر چیز اپنی جیب میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو آخر میں نہ قبول ہونے والی دعاؤں سے پناہ مانگی ہے کیونکہ جو لوگ صرف ذاتی مفاد حاصل کرنے والے ہوں اور لوگوں کو دینے میں کنجوسی سے کام لینے والے ہوں اور جن کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے خالی ہوں تو پھر ایسے لوگ تو اللہ تعالیٰ کے مقرب نہیں بن سکتے اور پھر ایسے لوگوں کی دعائیں بھی خدا تعالیٰ نہیں سنتا۔ اللہ ہر احمدی کو اس سے بچائے۔
پھر فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اس کی عبادات بجا لانے والے ہوتے ہیں وہ اللہ کی راہ میں قربانیاں کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور بڑی بشاشت سے قربانیاں کرتے ہیں۔ اور یہ اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس کی دائمی جنتوں کا وارث بننا ہے جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ

وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رَاجِعُوْنَ۔ (المؤمنون:61)

کہ اور وہ لوگ بھی کہ جو بھی وہ دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس خیال سے ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ یقینا اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔
پھر فرمایا کہ یہ قربانیاں کر کے، مالی قربانیاں کر کے آرام سے نہ بیٹھ جاؤ کہ ہم نے بہت مالی قربانیاں کر لی ہیں۔ بلکہ مالی قربانی کرنے والوں کے دل پھر بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے کسی فعل کی وجہ سے ان کی قربانیاں ردّ نہ کر دی جائیں۔ ان کی نیّتوں میں کہیں دنیا کی ملونی شامل نہ ہو جائے۔ یہ خیال دل میں نہ آ جائے کہ مَیں پانچ وقت کی نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور اللہ کی راہ میں مالی قربانیاں بھی کر رہا ہوں اب چاہے جو مرضی کرتا پھروں۔ بندوں کے حقوق ادا نہ کروں۔ ملک سے وفادار نہ رہوں۔ پھر فرمایا نہیں بلکہ یہ جو مالی قربانی اور نمازیں ہیں یہ تمہیں ان حقوق کی طرف زیادہ توجہ دلائیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت تمہارے دل میں زیادہ پیدا کریں تبھی وہ فائدہ مند ہوں گی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسان جو چاہے کرے مگر خدا سے ڈرتا رہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے مگر ساتھ ہی خدا سے بھی ڈرتا رہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب التوقی علی العمل حدیث 4198)
تو کبھی بھی انسان کو اپنی ظاہری نیکیوں پر تکیہ نہیں کرنا چاہئے، کبھی انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ کبھی ان کو کچھ سمجھنا نہیں چاہئے۔ بلکہ مستقل استغفار کی طرف توجہ رہنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہو اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ رہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ جہاں عاجز آجاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ147۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
تو جب انسان ایک احساس ندامت کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو، اس کی بخشش حاصل کرنے کے لئے ایک تڑپ ہو، اللہ کے در پر بیٹھ جائے کہ تیری رضا حاصل کر کے ہی اٹھنا ہے تو جتنا بھی گنہگار ہے اللہ تعالیٰ اس کی تڑپ کی ضرور قدر کرتا ہے جیسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ تو موقع تلاش کر رہا ہوتا ہے کہ کس طرح کوئی بھولا بھٹکا بندہ میری طرف آئے اور میں اسے اپنے ساتھ چمٹاؤں۔
اس بارے میں حضرت ابو سعید خدری کی ایک لمبی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔ آخر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تا کہ وہ اس سے گناہ سے توبہ کرنے کے بارے میں پوچھے۔ اسے ایک تارک الدنیا عابد زاہد کا پتا بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا اس نے ننانوے قتل کئے ہیں اور کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس عابد زاہد نے کہا کہ ایسے آدمی کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے اور اتنے بڑے گناہ کیسے معاف ہو سکتے ہیں۔ اس پر اس نے اس کو بھی قتل کر دیا۔ اس طرح پورے سو قتل ہو گئے۔ پھر اسے اور ندامت ہوئی اور اس نے کسی بڑے عالم کے متعلق پوچھا۔ اس کو ایک بڑے عالم کا پتا بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے جواب دیا کیوں نہیں۔ توبہ کا دروازہ کیسے بند ہو سکتا ہے اور توبہ کرنے والے اور اس کی توبہ کے قبول ہونے کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے۔ تم فلاں علاقے میں جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو ں گے اور دین کے کام کر رہے ہوں گے تم بھی ان کے ساتھ اس نیک کام میں شریک ہو جاؤ اور ان کی مدد کرو۔ نیز اپنے اس علاقے میں واپس نہ آنا کیونکہ یہ بُرا اور فتنہ خیز علاقہ ہے۔ چنانچہ وہ اس سمت میں چل پڑے لیکن ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ موت نے اسے آ لیا۔ تب اس کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتے کہتے تھے کہ اس شخص نے توبہ کر لی ہے اور اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا ہے اس لئے ہم اسے جنت میں لے جائیں گے۔ عذاب کے فرشتے کہتے تھے کہ اس نے کوئی نیک کام نہیں کیا یہ کیسے بخشا جا سکتا ہے۔ اسی اثناء میں اس کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا۔ اس کو انہوں نے اپنا ثالث مقرر کر لیا۔ اس نے دونوں کی باتیں سن کر کہا کہ جس علاقے سے یہ آ رہا ہے اور جس کی طرف جا رہا ہے ان دونوں کا درمیانی فاصلہ ناپ لو تو ان میں سے جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہے وہ اسی علاقے کا شمار ہو گا۔ پس انہوں نے اس فاصلے کو ماپا تو اس علاقے کے قریب پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا یعنی نیکی حاصل کرنے کی طرف۔ اس پر رحمت کے فرشتے اسے جنت کی طرف لے گئے۔ (صحیح مسلم کتاب التوبۃ باب قبول تو بۃ القاتل و ان کثر قتلہ حدیث 7008)
تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے بخشنے کے طریقے۔ اس لئے کبھی یہ خیال نہ آئے کہ یوں ہو گیا تو اب کس طرح ہم اپنے دل میں یہ حالت پیدا کریں۔ جو جس طرح زندگی گزر رہی ہے گزارتے چلے جائیں۔
پھر یہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہی مقام ملتا ہے بلکہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے جو اس کی عبادت کرنے والوں کی مجلسوں میں بیٹھنے والے ہیں۔
اس بارے میں بھی حضرت ابوہریرۃ سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے۔ جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو تو وہ بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ساری فضا ان کے سایہ برکت سے معمور ہو جاتی ہے۔ جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ (اب یہ ہمارے جلسے بھی ذکر کی مجالس ہی ہیں) وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے کہ کہاں سے آئے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے، تیری عبادت میں مصروف تھے اور تیری حمد میں رطب اللسان تھے اور تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے۔ اس پراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں نہیں، اے میرے رب انہوں نے تیری جنت دیکھی تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان کی کیا کیفیت ہو گی اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں۔ پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے وہ کس چیز سے میری پناہ چاہتے ہیں۔ فرشتے اس پر کہتے ہیں تیری آگ سے وہ پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں دیکھی تو نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا کیا حال ہو گا اگر وہ میری آگ کو دیکھ لیں۔ پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری بخشش طلب کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انہوں نے مجھ سے مانگا اور میں نے ان کو پناہ دی جس سے انہوں نے میری پناہ طلب کی۔ اور اس پر فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ان میں فلاں شخص غلط کار شخص بھی تھا وہ وہاں سے گزرا اور ان کو ذکر کرتے ہوئے دیکھ کر تماش بین کے طور پر ان میں بیٹھ گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کو بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والے بھی محروم اور بدبخت نہیں رہتے۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ والاستغفار باب فضل مجالس الذکر حدیث 6839)
تو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کتنی غیرت رکھتا ہے کہ ان کی مجلس میں بیٹھنے والے شخص کو بھی بخش دیا۔ دراصل تو یہ بخشش اس پیار کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے ہے اور کیونکہ یہ بھی فرماتا ہے کہ جو کسی کی ہدایت کا باعث بنے اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ہدایت پانے والے کو۔ تو اس طرح دونوں کے درجات کو بڑھا رہا ہے۔ تو کون ہے جو ایسے پیار کرنے والے خدا سے پیار نہ کرے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ انسان اگر سچے دل سے اخلاص لے کر رجوع کرے تو وہ غفور رحیم ہے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس کس گناہگار کو بخشے گا؟ خدا تعالیٰ کے حضور سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ اس کی رحمت کے خزانے وسیع اور لا انتہا ہیں۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔ اس کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوتے۔ انگریزوں کی نوکریوں کی طرح نہیں کہ اتنے تعلیم یافتہ ہو کہاں سے نوکریاں ملیں۔ خدا کے حضور جس قدر پہنچیں گے سب اعلیٰ مدارج پائیں گے۔ یہ یقینی وعدہ ہے۔ وہ انسان بڑا ہی بدقسمت اور بدبخت ہے جو خدا تعالیٰ سے مایوس ہو اور اس کی نزع کا وقت غفلت کی حالت میں اس پر آ جاوے۔ بیشک اس وقت دروازہ بند ہوجاتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3 صفحہ297-296۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے اور آخری وقت تک کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بخشش کے سامان پیدا فرماتا ہے اگر سچے دل سے معافی مانگی جائے۔
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے۔ جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔ جس وقت انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ پہلے گناہ بخش دیتا ہے۔ پھر بندے کا نیا حساب چلتا ہے۔ اگر انسان کا کوئی ذرا سا بھی گناہ کرے تو وہ ساری عمر اس کا کینہ اور دشمنی رکھتا ہے اور گو زبانی معاف کر دینے کا اقرار بھی کرے لیکن پھر بھی جب اسے موقع ملتا ہے تو اپنے کینہ اور عداوت کا اس سے اظہار کرتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اس کی طرف آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور رجوع بہ رحمت فرماتا ہے۔ اپنا فضل اس پر نازل کرتا ہے اور اس گناہ کی سزا کو معاف کر دیتا ہے۔ اس لیے تم بھی اب ایسے ہو کر جاؤ کہ تم وہ ہو جاؤ جو پہلے نہ تھے۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ خدا جو یہاں ہے وہاں بھی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ جب تک تم یہاں ہو تمہارے دلوں میں رقّت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں جاؤ تو بے خوف اور نڈر ہو جاؤ۔ نہیں، بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہیے۔ ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو اور دیکھ لو کہ اس سے خدا تعالیٰ راضی ہو گا یاناراض۔ نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لیے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں۔ بہت لوگ ایسی ہی نماز پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں۔ یہ کچھ نہیں’‘۔ (ملفوظات جلد 3 صفحہ247۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر آپ فرماتے ہیں : ‘’تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ۔ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو۔ اور اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔ دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جس پر پڑتی ہے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کُنی کر جاتی ہے‘‘ اس کو ختم کر دیتی ہے۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد19 صفحہ12)
اللہ کرے کہ ہم حقیقی تقویٰ حاصل کرنے والے ہوں۔ اس کی خشیت ہمارے دلوں میں ہمیشہ قائم رہے۔ اس کی مخلوق سے سچی ہمدردی کرنے والے ہوں۔ ان کے حقوق ادا کرنے والے ہوں۔ عاجزی دکھانے والے ہوں۔ اپنے ملک سے وفا کرنے والے ہوں۔ اس ملک نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے اس کے لئے دعا کریں۔ اللہ حکومت کو بھی عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور یہاں رہنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق دے۔ آپ سب کو نظام جماعت سے ہمیشہ وابستہ رکھے۔ کبھی بھی آپ لوگ کسی بھی قسم کی ٹھوکر کھانے والے نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ سفر میں آپ کا حافظ و ناصر ہو۔ خیریت سے آپ سب کو اپنے گھروں میں واپس لے جائے اور ہمیشہ اپنے فضلوں سے نوازتا رہے۔ آپ کی اولادوں کی طرف سے بھی آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔
آپ لوگوں میں سے بہت سارے باہر سے بھی آئے ہوئے ہیں۔ امریکہ سے بھی آئے ہوئے ہیں۔ یہاں کے فاصلے بھی اتنے ہیں کہ بعض لوگوں کے امریکہ سے بھی زیادہ فاصلے ہیں تو جنہوں نے ڈرائیو کر کے جانا ہے آرام سے جائیں اور احتیاط سے ڈرائیو کریں اور جہاں بھی سروس(service) آتی ہے نیند کی صورت میں وہاں آرام کر کے جائیں۔ جلد بازی نہ کریں۔ اور سپیڈ لمٹ(speed limit) کی اور قانون کی بھی پابندی رکھا کریں۔ بعض دفعہ حادثات اسی طرح ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔
اب یہ جو امیر صاحب نے رپورٹ دی ہے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج کی حاضری جو اُن کے مطابق اب تک کے جلسوں میں سب سے زیادہ حاضری ہے وہ اکیس ہزار دو سو چھیانوے(21296) ہے۔ الحمدللہ۔ اب دعا کرلیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/mE02a]

اپنا تبصرہ بھیجیں