جماعت احمدیہ بینن کی ابتدائی تاریخ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2004ء میں جماعت احمدیہ بینن کی ابتدائی تاریخ اور ترقیات کے بارہ میں مکرم صفدر نذیر گولیکی صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
1957ء میں نائیجیریا سے تین افراد کا وفد بینن (Benin)کے شہر Portonovoمیں پہنچا جس کی قیادت مکرم الحاج سیکرو داؤدہ کررہے تھے جن کا تعلق پورتونووو سے ہی تھا۔ یہ وفد مکرم الحاج راجی بصیرو کے گھر میں پہنچا۔ ظہر کی نماز ہوچکی تھی۔ مکرم الحاج سیکرو داؤدہ صاحب نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا اور جماعت احمدیہ کے متعلق وضاحت سے یوروبا زبان میں تعارف پیش کیا۔ ہر بات مکرم الحاج راجی بصیرو کے دل پر اثر کرتی گئی اور جب بات چیت ختم ہوئی تو مکرم سیکروداؤدہ صاحب نے بیعت فارم پیش کیا۔ الحاج راجی بصیرو صاحب نے وہ فارم یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ یہ تو انگریزی میں ہے۔فرانسیسی زبان میں چاہئے تاکہ میں تمام باتوں کو اچھی طرح سمجھ کر اس پر دستخط کروں۔ چنانچہ انہیں فرانسیسی میں بیعت فارم دیا گیا اور آپ نے دستخط کئے۔ بینن کے اکثر مسلمان مالکی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ ہاتھ چھوڑ کر نماز ادا کرتے ہیں لیکن حاجی صاحب نے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کردی۔ جب مقامی امام مسجد کو اس کا علم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ یہ نیا مذہب کہاں سے لے آئے ہو۔ پھر انہوں نے حاجی صاحب کی والدہ سے شکایت کی۔ جب والدہ صاحبہ کو حاجی صاحب نے خود تفصیل بیان کی تو انہوں نے امام صاحب کو پیغام بھجوادیا کہ میرے بیٹے نے صحیح طریق اختیار کیا ہے۔ چنانچہ مکرم الحاج راجی بصیرو کی نیک اور صالح فطرت نے رنگ دکھایا اور آہستہ آہستہ جماعت کے افراد بڑھنے لگے۔بعض احمدی احباب جلسے اجتماعات میں نائیجیریا جا کر شامل ہوتے اور بعض معلّمین بینن آکر احمدیوں کی تربیت کرتے رہے۔
1974ء میں بینن کی پہلی احمدیہ مسجد تعمیر ہوئی جو الحاج بصیرو صاحب نے اپنی ذاتی زمین پر تعمیر کی جو مین روڈ پر واقع ہے۔ اس مسجد نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پورتونووو کے قرب وجوار میں احمدیت پھیل گئی۔پھر مکرم الحاج راجی بصیرو نے ایک اور مسجد گانیوئے میں تعمیر کر دی۔ پھر الحاج سیکرو داؤدہ صاحب نے بھی 3منزلہ مکان پورتونوو میں تعمیر کیا جو 1988ء سے مشن ہاؤس کے طور پر استعمال ہونے لگا اور اب وہ احمدیہ ہسپتال ہے۔ الحاج راجی بصیرو صاحب نے ایک اَور بڑی قربانی کی اور اپنے ناریل کے باغ میں سے ڈیڑھ ایکڑ زمین برائے عیدگاہ جماعت کو پیش کردی۔
محترم عثمانی صاحب کی کاوش سے احمدیت شمالی علاقہ مانی گیری میں بھی پہنچ گئی اور اس طرح Parakoمیں احمدیت کا پودا لگا۔
1981-82ء میں ماریشس سے مکرم مولانا شمشیر سوکیہ صاحب مربی بینن مقرر ہوئے۔ آپ نے جماعتی نظام کو بہت مستحکم کیا اور آٹھ سال میں آٹھ مساجد تعمیر کروائیں، بہت سا فرانسیسی لٹریچر شائع کیا۔ اس پر احمدیت کی ترقی کو دیکھ کر مخالفین نے منصوبہ بندی سے ملک کے سربراہ General Mathiou Kere Ko کو غلط رپورٹیں دینی شروع کر دیں۔ اس مخالفت میں پورتونووو کے بڑے امام پیش پیش رہے جن کا بیٹا احمدی ہوگیا تھا۔
1988ء کو محترم ڈاکٹر عبد السلام صاحب گورنمنٹ بینن کی دعوت پر تشریف لائے۔ آپ نے جمعہ احمدیہ مسجد Cotono میں ادا فرمایا تو علماء کو ایک اَور بہانہ ہاتھ آگیا اور جنرل ماتھیو کیرے کو بھڑکاکر 1988ء میں مشن سیل کر دیا گیا، مربی سلسلہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور کچھ افراد کو پکڑ کر پابند سلاسل کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے تمام پڑوسی ممالک کے امراء کو لکھا کہ وہ بینن کے صدر کو خطوط کے ذریعہ بتائیں کہ جماعت احمدیہ کسی کی مخالف نہیں۔ ہر ملک کے قانون کا احترام کرتی ہے۔اس پر صدر صاحب نے تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا۔ کمیشن میں جماعت کی طرف سے مکرم سیکروداؤدہ صاحب اور دیگر افراد پیش ہوئے۔ جبکہ مخالفین بار بار بلانے کے باوجود نہ آئے۔ چنانچہ کمیشن نے مکمل رپورٹ صدر مملکت کو دی جس پر جنرل صاحب نے جماعت کو باقاعدہ رجسٹرڈ کر کے یہ اجازت نامہ جاری کر دیا: ’’یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جماعت مسلمہ احمدیہ کو باقاعدہ رجسٹرڈ کر دیا گیا ہے۔ اس کے افراد ملک میں جہاں چاہیں جسے چاہیں جب چاہیں تبلیغ کر سکتے ہیں اگر کوئی ان کی راہ میں روک ڈالے گا تو وہ قابل گرفت ہوگا‘‘۔ قید ہونے والا سعادتمند خاندان آتے شیدے آدم کا خاندان تھا جو کہ بوزوں کے رہنے والے ہیں۔
1989ء میں خاکسار آئیوری کوسٹ سے بینن پہنچا اور آٹھ سال وہاں مقیم رہا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/IkBOc]

اپنا تبصرہ بھیجیں