جنوبی افریقہ

جنوبی افریقہ – مختلف رنگ و نسل کے 44 ملین لوگوں کا ملک ہے۔ کیپ ٹاؤن یہاں کا آئینی، پریٹوریہ انتظامی اور بلوم فانٹین عدالتی دارالحکومت ہیں۔ ملک نو صوبوں میں منقسم ہے۔ بنیادی طور پر ایک خشک ملک ہے تاہم زیادہ گرمی نہیں پڑتی۔
یہاں کی تاریخ مختلف نسلوں اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کی کہانی ہے۔ سترھویں صدی میں ہالینڈ کے (ڈچ) باشندے یہاں پہنچے اور کسانوں کے طور پر پھیلتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی گورے اور کالے کا تصور پروان چڑھا۔ انگریزوں نے 1795ء میں پہلا حملہ کیا اور 1806ء میں دوبارہ حملہ کرکے یہاں قابض ہوگئے تو افریقان ڈچ نے ملک کے اندرونی حصوں کی طرف ہجرت شروع کی۔ کالوں کے مشہور قبیلہ زولو کے بادشاہ شاکا نے 1838ء میں افریقان (ڈچ) قبیلہ کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی۔ 1879ء میں انگریزوں کے ساتھ زولو قبیلہ کی لڑائی ہوئی تاہم انگریزوں نے جلد ہی تمام اقوام کو زیر کرلیا۔
1860ء میں ہندوستانی کام کی غرض سے پہلی بار یہاں پہنچے تھے اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا مگر 1896ء میں ہندوستانی مہاجرین کی آمد کو محدود کرنے کے لئے قانون نافذ کردیا گیا۔
1867ء میں یہاں ہیروں کی دریافت اور 1886ء میں سونے کی دریافت نے جنوبی افریقہ کو بدل کر رکھ دیا۔ بہت سے نئے لوگ یہاں پہنچے اور ایک دیہاتی و پسماندہ تہذیب بڑھتی ہوئی صنعتی معیشت میں تبدیل ہوگئی۔ نئے آنے والوں میں جرمن، یہودی، یونانی، پرتگالی اور اطالوی شامل تھے چنانچہ اب جنوبی افریقہ Rainbow Nation کہلاتا ہے۔ اس وقت ملک میں کالے 70 فیصد، گورے 20 فیصد، برصغیر کے 5 فیصد لوگ بستے ہیں جبکہ 5فیصد وہ رنگدار ہیں جو گوروں اور کالوں کے ملاپ سے وجود میں آئے۔
1948ء کے بعد ملک میں گوروں اور کالوں کی تفریق یعنی نسل پرستی کو قانونی حیثیت دی جانے لگی۔ چنانچہ دونوں قوموں کے درمیان تصادم بڑھتا گیا اور ظلم و ستم کے سنگین واقعات کی وجہ سے جنوبی افریقہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھنے لگا چنانچہ 1961ء میں اس نے کامن ویلتھ سے علیحدگی اختیار کرلی اور نیلسن منڈیلا کو عمر قید کی سزا دے کر جزیرہ رابن بھجوا دیا گیا۔ آخر لمبے عرصہ کے بعد 1990ء میں ایف، ڈبلیو ڈی کلارک نے ملک کا صدر بن کر کالوں کی سیاسی پارٹی افریقن نیشنل کانگریس پر سے پابندی اٹھالی اور منڈیلا کو 27سال بعد جیل سے رہا کردیا گیا۔ 94ء میں متحدہ قوم کے طور پر ملک میں پہلی بار انتخابات ہوئے جو افریقن نیشنل کانگریس نے بھاری اکثریت سے جیتے اور نیلسن منڈیلا صدر بن گئے۔ اور جنوبی افریقہ سیاسی طور پر بین الاقوامی سطح پر قبول کرلیا گیا۔ اس ملک کے خوبصورت قدرتی مناظر سیاحوں کیلئے بہت کشش رکھتے ہیں۔ 1995ء کے بعد سے اب تک سیاحت میں 43فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جنوبی افریقہ میں احمدیت کا آغاز اس طرح ہوا کہ مکرم ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب وہاں سے میڈیکل میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن آئے اور یہاں جماعت سے رابطہ ہوا اور حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں قبول احمدیت کی توفیق پائی۔ واپس جاکر آپ نے 1946ء میں جنوبی افریقہ میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ 1956ء میں Mediator ایک رسالہ شروع کیا گیا۔ 1959ء میں ماہنامہ ’’العصر‘‘ کا اجراء ہوا اور 1960ء میں لجنہ اماء اللہ نے ’’البشریٰ‘‘ جاری کیا۔ یہ دونوں رسالے اب تک شائع ہو رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں احمدیت کی کامیابی دیکھ کر بہت سے مخالفین نے 2؍مئی 1965ء کو ایک جلسہ میں اکٹھے ہوکر احمدیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اُس وقت سے یہ مخالفت جاری ہے۔ اس کے باوجود 1969ء میں خدا تعالیٰ نے جماعت کو باقاعدہ مشن ہاؤس عطا کیا اور 1971ء میں مسجد بھی تعمیر کی گئی جس کا افتتاح مرحوم ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب کی ہمشیرہ محترمہ عائشہ پٹ صاحبہ نے کیا۔ اس مشن ہاؤس کو 1967ء میں حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل ہوا۔
گزشتہ برس اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک نیا مرکز جوہانسبرگ کے اچھے علاقہ میں خریدنے کی توفیق دی ہے جس میں مسجد تعمیر کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ اگرچہ احمدی ملک کے مختلف علاقوںمیں پھیلے ہوئے ہیں تاہم اس وقت دو بڑی جماعتیں (کیپ ٹاؤن اور جوہانسبرگ ) تیزی سے کام کر رہی ہیں۔
یہ معلوماتی مضمون مکرم ڈاکٹر عالیہ عصمت صاحبہ کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍ جنوری 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/clZhj]

اپنا تبصرہ بھیجیں