جنگ جمل کی وجوہات، واقعات اور اثرات

(مطبوعہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن- ستمبر و اکتوبر 2020ء)

جنگ جمل کی وجوہات، واقعات اور اثرات

(محمود احمد ملک)

جنگ جمل مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی خونریز جنگ تھی جس کے نتیجہ میں اسلام اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور اُمّتِ مسلمہ کی روزافزوں ترقیات کو سبوتاژ کرکے اس جنگ نے باہمی نفرت کے وہ بیج بودیئے جو آج بھی کانٹے اُگا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 3؍اپریل 2020ء میں بدری صحابہ کے تذکرہ میں جنگ جمل کے حالات کا بھی ذکر فرمایا تاکہ اس حوالے سے تاریخ میں راہ پاجانے والی بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ نیز ضمناً غیرمبایعین کے انکارِ بیعتِ خلافت کے پس منظر میں غیرمبایعین کے چند دلائل کا ردّ بھی فرمادیا۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ سے متعلّقہ حصہ اختصار کے ساتھ درج ذیل ہے۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
جب حضرت عثمانؓ شہید ہوئے تو تمام لوگ حضرت علی ؓکی طرف دوڑتے ہوئے آئے جن میں صحابہ اور اس کے علاوہ تابعین بھی شامل تھے۔ وہ سب یہی کہہ رہے تھے کہ علیؓ امیرالمومنین ہیں یہاں تک کہ وہ آپؓ کے گھر حاضر ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ پس آپؓ اپنا ہاتھ بڑھائیے کیونکہ آپؓ اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں ہے بلکہ یہ اصحاب بدر کا کام ہے۔ جس کے بارے میں اصحابِ بدر راضی ہوں تو وہ خلیفہ ہوگا۔ پس وہ سب اصحابِ بدر حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر انہوں نے عرض کی ہم کسی کو آپؓ سے زیادہ اس کا حق دار نہیں دیکھتے۔ پس اپنا ہاتھ بڑھائیں کہ ہم آپؓ کی بیعت کریں۔ آپؓ نے فرمایا طلحہؓ اور زبیرؓ کہاں ہیں؟ سب سے پہلے آپؓ کی زبانی بیعت حضرت طلحہؓ نے کی اور دستی بیعت حضرت سعدؓ نے کی۔ جب حضرت علیؓ نے یہ دیکھا تو مسجد گئے اور منبر پر چڑھے۔ سب سے پہلا شخص جو آپؓ کے پاس اوپر آیا اور انہوں نے بیعت کی وہ حضرت طلحہؓ تھے۔ اس کے بعد حضرت زبیرؓ اور باقی اصحاب نے حضرت علی ؓ کی بیعت کی۔
حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ وغیرہ نے حضرت علی ؓکی بیعت کی تھی یا نہیں، خواجہ کمال الدین صاحب کے بعض اعتراضوں کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ ذکر فرمایا (اور یہ ذکر بیان کرنا انتہائی ضروری ہے اس لیے میں بیان کر رہا ہوں) کہ ’’طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حجت نہ پکڑیں۔‘‘یعنی خواجہ صاحب کو کہہ رہے ہیں۔ ’’ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا سوال تھا۔ پھر میں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہا ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔ حضرت عائشہؓ تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے مدینہ جابیٹھیں اور طلحہؓ اور زبیرؓ نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کرلی۔‘‘ چنانچہ خصائص کبریٰ کی جلد ثانی میں حاکم نے روایت کی ہے کہ ثور بن مجزاء نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہؓ کے پاس سے گزرا۔ اس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرت امیرالمومنین علیؓ کی جماعت میں سے ہوں تو کہنے لگے اچھا اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔‘‘ چنانچہ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ’’اور پھر جان بحق تسلیم کرگئے۔ میں نے آ کر حضرت علیؓ سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔ آپؓ سن کر کہنے لگے۔ اللہ اکبر! خدا کے رسولؐ کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔ (آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔)
حضرت عائشہؓ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کہ کاش جس طرح اَور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔ اس بات کی تمنا مجھے اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت ﷺ سے دس بچے جنتی جن میں سے ہر بچہ عبدالرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہوتا۔‘‘ پھر اگلی بات جو ہے وہ یہ ہے ’’…اور طلحہؓ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت ﷺ نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کر لی۔‘‘
(القول الفصل، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 318-319)
حضرت عثمانؓ کی شہادت،حضرت علی ؓکی بیعت اور جنگِ جمل کا تذکرہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعوؓد فرماتے ہیں کہ ’’قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے دوسروں پر الزام لگاتے تھے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقعہ مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ (یعنی حضرت علیؓ) کے ارد گرد حضرت عثمانؓ کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہوگئے تھے۔ اس لیے ان (مخالفین اور منافقین) کو الزام لگانے کا عمدہ موقعہ حاصل تھا۔ چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی۔ اس نے حضرت عائشہؓ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کریں۔ چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہؓ کو اپنی مدد کے لیے طلب کیا۔ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت اس شرط پر کرلی تھی کہ وہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔ انہوں نے (یعنی ان دونوں نے) جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علیؓ کے نزدیک خلاف مصلحت تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہوجائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے کیونکہ اوّل مقدم اسلام کی حفاظت ہے۔ قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا۔ جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علیؓ کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علیؓ کو بالطبع شبہ نہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں۔ دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے۔ اس اختلاف کی وجہ سے طلحہؓ اور زبیرؓ نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علیؓ نے پوری نہ کی تھی اس لیے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہؓ کا اعلان ان کو پہنچا تووہ بھی ان کے ساتھ جاملے۔ اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔ بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہؓ اور زبیرؓ نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علیؓ کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جب حضرت علیؓ کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کی طرف بھیجا۔ وہ آدمی پہلے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپؓ کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے اس کے بعد اس شخص نے طلحہؓ اور زبیرؓ کو بھی بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپؓ بھی اسی لیے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے، اس کا نتیجہ تو فساد ہے۔اِس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور اس کا مقابلہ کریں گے تو اَور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔ حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔ یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علیؓ کا یہی عندیہ ہے تو وہ آ جائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔ اس پر اس شخص نے حضرت علیؓ کو اطلاع دی اور طرفین کے قائمقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہوگیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہیے۔
جب یہ خبر سبائیوں کو (یعنی جو عبداللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمانؓ تھے) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لیے اکٹھی ہوئی۔ انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لیے سخت مضر ہو گی کیونکہ اسی وقت تک ہم حضرت عثمانؓ کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔ اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں نہیں اس لیے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔ اتنے میں حضرت علیؓ بھی پہنچ گئے اور آپؓ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپؓ کی اور حضرت زبیرؓ کی ملاقات ہوئی۔ وقتِ ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپؓ نے میرے لڑنے کے لیے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے۔ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔ کیا مَیں آپ لوگوں کا بھائی نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔ اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے؟ اس پر حضرت طلحہؓ نے کہا کہ آپؓ نے حضرت عثمانؓ کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں۔ پھر حضرت علیؓ نے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم تُو علیؓ سے جنگ کرے گا اور تُو ظالم ہو گا۔ یہ سن کر حضرت زبیرؓ اپنے لشکر کی طرف واپس لَوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔ جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہو گی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا اور جو اُن کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔
جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علیؓ نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہؓ کو اطلاع دے شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اَور بھی خطرناک نکلا۔ مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔ حضرت عائشہؓ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کیے۔ حضرت عائشہؓ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگو! جنگ کو ترک کرو اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو۔ لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپؓ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔ چونکہ اہل بصرہ اُس لشکر کے ساتھ تھے جو حضرت عائشہؓ کے اردگرد جمع ہوا تھا اُن کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور اُمّ المومنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔ اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہؓ کا اونٹ جنگ کا مرکزبن گیا۔ صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔ حضرت زبیرؓ تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقیّ نے ان کے پیچھے سے جا کر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔ حضرت طلحہؓ عین میدانِ جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہو گی جب تک حضرت عائشہؓ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے بعض لوگوں نے آپؓ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیے اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا۔ تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔ اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علیؓ کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا۔ جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہؓ کی نعش ملی تو حضرت علیؓ نے سخت افسوس کیا۔
ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہؓ کا ہرگز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلان عثمانؓ کی ہی تھی اور یہ کہ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ حضرت علیؓ کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علیؓ کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔‘‘
(انوار خلافت،انوا رالعلوم جلد 3 صفحہ 198تا 201)
جنگِ جمل اور حضرت طلحہ ؓکی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک اَور جگہ فرماتے ہیں کہ انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو ان کے ابتدائی ایام میں جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی بڑے سمجھے جاتے ہیں۔ ہرمسلمان جانتا ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت سعدؓ اور حضرت سعیدؓ وہ لوگ تھے جو بڑے سمجھے جاتے تھے۔ مگر ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو آرام زیادہ میسر آتا تھا بلکہ ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ دین کی خاطر انہوں نے دوسروں سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی تھیں۔ جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ایک گروہ نے کہا کہ حضرت عثمانؓ کے مارنے والوں سے ہمیں بدلہ لینا چاہیے تو اس گروہ کے لیڈر حضرت طلحہؓ حضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ تھے لیکن دوسرے گروہ نے کہا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ چکا ہے۔ آدمی مرا ہی کرتے ہیں۔ سرِدست ہمیں تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا چاہیے تاکہ اسلام کی شوکت اور اس کی عظمت قائم ہو۔ بعد میں ہم ان لوگوں سے بدلے لے لیں گے۔ اس گروہ کے لیڈر حضرت علیؓ تھے۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ حضرت طلحہ ؓحضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ نے الزام لگایا کہ علیؓ ان لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان ؓکو شہید کیا ہے اور حضرت علیؓ نے الزام لگایا کہ ان لوگوں کو اپنی ذاتی غرضیں زیادہ مقدّم ہیں، اسلام کا فائدہ ان کو مدّنظر نہیں۔ گویا اختلاف اپنی انتہائی صورت تک پہنچ گیا اور پھر آپس میں جنگ بھی شروع ہوئی۔ ایسی جنگ جس میں حضرت عائشہؓ نے لشکر کی کمان کی۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی اس لڑائی میں شامل تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ شروع میں مخالفین میں شامل تھے۔ پھر حضرت زبیرؓ تو حضرت علی ؓکی بات سن کر علیحدہ ہو گئے تھے اور دوسرے بھی صلح کرنا چاہتے تھے لیکن پھر مخالفین جو تھے انہوں نے، اور جو منافقین تھے یا جو فتنہ پردازتھے انہوں نے پھرفتنہ ڈالا۔
لیکن بہرحال یہ دو گروہ تھے اور دونوں فریق میں جنگ جاری تھی تو ایک صحابی حضرت طلحہؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا:طلحہ تمہیں یاد ہے کہ فلاں موقع پر میں اور تم رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا طلحہؓ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اَور لشکر میں ہو گے اور علیؓ اَور لشکر میں ہو گا اور علیؓ حق پر ہو گا اور تم غلطی پر ہو گے۔ حضرت طلحہؓ نے یہ سنا تو اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے کہا: ہاں! مجھے یہ بات یاد آ گئی ہے۔ اور پھر اُسی وقت لشکر سے نکل کر چلے گئے۔ جب وہ لڑائی چھوڑ کر جا رہے تھے تا کہ رسول کریم ﷺ کی بات پوری کی جائے تو ایک بدبخت انسان جو حضرت علیؓ کے لشکر کا سپاہی تھا اس نے پیچھے سے جا کر آپؓ کو خنجر مار کر شہید کر دیا۔ حضرت علیؓ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو حضرت طلحہ ؓکا قاتل تھا وہ اس خیال سے کہ مجھے بہت بڑا انعام ملے گا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت علی کو کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کو آپ کے دشمن کے مارے جانے کی خبر دیتا ہوں۔ حضرت علیؓ نے کہا کون دشمن؟ اس نے کہا اے امیر المومنین! میں نے طلحہؓ کو مار دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اے شخص! مَیں بھی تجھے رسول کریم ﷺ کی طرف سے بشارت دیتا ہوں کہ تُو دوزخ میں ڈالا جائے گا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا تھا جبکہ طلحہ ؓبھی بیٹھے ہوئے تھے اور مَیں بھی بیٹھا ہوا تھا کہ اے طلحہ!تُو ایک دفعہ حق و انصاف کی خاطر ذلّت برداشت کرے گا اور تجھے ایک شخص مار ڈالے گا مگر خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا۔
رِبْعِیْ بِنْ حِرَاشْ سے مروی ہے کہ میں حضرت علیؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ (حضرت طلحہؓ کے بیٹے) عمران بن طلحہ آئے۔ انہوں نے حضرت علیؓ کو سلام کیا۔ حضرت علیؓ نے ان کو کہا مَرْحَبَا۔ عمران بن طلحہ مَرْحَبَا۔ عمران بن طلحہ نے کہا اے امیرالمومنین! آپ مجھے مَرْحَبَا کہتے ہیں حالانکہ آپؓ نے میرے والد کو قتل کیا اورمیرا مال لے لیا۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ تمہارا مال تو بیت المال میں الگ پڑا ہوا ہے۔ صبح کو اپنا مال لے جانا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا میں نے اسے اپنے تصرّف میں اس لیے لے لیا تھا کہ لوگ اسے اُچک نہ لیں۔ لے نہ جائیں کہیں۔ اور جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ میں نے تمہارے والد کو قتل کر دیا تو میں امید کرتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(الحجر:48)

اور ہم ان کے دلوں سے جو بھی کینے ہیں نکال باہر کریں گے، بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
محمد انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگِ جمل کے روز ایک شخص حضرت علیؓ کے پاس آیا اور کہا طلحہؓ کے قاتل کو اندر آنے کی اجازت دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓکو کہتے سنا کہ اس قاتل کو دوزخ کی خبرسنا دو۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 169 من بنی تیم بن مرۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضورانور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ میں جنگ جمل کے جن اندوہناک حقائق کا اظہار فرمایا ہے، اُس کی کسی قدر تفصیل تاریخی کتب کی مدد سے بیان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جنگ جمل کی وجوہات
شہادتِ سیّدنا عثمانؓ کا پس منظر اور

یہود کی اسلام دشمنی

آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد سے یہود نے اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اگرچہ خداتعالیٰ نے ابتدائی دَور میں اُنہیں ناکام و نامراد رکھا۔ لیکن سیّدنا حضرت عثمانؓ کے دَور میں یہودیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے خلافتِ اسلامیہ پر حملہ کیا اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری میں ایک یمنی یہودی عبداللہ بن سبا نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور ورد و وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔ لیکن اُس کی نیّت مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا اور اُن کے اتحاد کو نقصان پہنچانا تھی۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کی نبی کریمﷺ سے قریبی رشتہ داری ہے تو اُس نے بظاہر حضرت علیؓ کی محبت میں حضرت عثمانؓ کے خلاف رائے زنی شروع کی۔ لیکن صحابہ کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے اُس کا فتنہ مدینہ منوّرہ میں کامیاب نہ ہوسکا۔ چنانچہ وہ عراق چلاگیا۔
عراق کو اگرچہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن وہاں مقامی لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت موجود تھی۔ وہاں جاکر عبداللہ بن سبا نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ کے رشتہ دار (یعنی علیؓ) تو یوں ہی بیٹھے رہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ کیوں نہ عثمانؓ کو ہٹاکر علیؓ کو خلیفہ بنادیا جائے۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متأثر ہونے لگے تو بصرہ کے گورنر عبدا للہ بن عامر کو عبدا للہ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی۔ انہوں نے اس کو بصرہ سے نکال دیا تو یہ کوفہ پہنچ گیا لیکن وہاں سے بھی نکلوادیا گیا۔ پھر یہ شام چلاگیا لیکن وہاں کے گورنر حضرت معاویہؓ نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔ پھر اُس نے مصر جاکر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھا اور وہاں ایک گروہ کو اکٹھا کرکے اُس نے باقاعدہ ریشہ دوانیوں کا آغاز کیا۔
عبداللہ بن سبا نے جعلسازی سے مختلف علاقوں کے معتمدین کی طرف سے ایک خط تیار کرکے اپنے ساتھیوں کے ہاتھ دوسرے علاقوں کے معتمدین کو بھجوایا جس میں لکھا تھا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے علاقے میں اسلام زندہ ہے۔ گورنر دیانت دار اور انتظامیہ منصف مزاج ہے جبکہ میرے علاقے میں اسلام مُردہ ہوچکا ہے۔ گورنر شرابی اور عورتوں کا رسیا ہے۔ انتظامیہ بدعنوان ہے۔وغیرہ
یہ خطوط مدینہ سے مختلف شہروں میں مسلسل آئے اور مساجد میں پڑھ کر سنائے گئے۔ اسی طرح ہرشہر سے ایسے ہی خطوط مدینہ آئے۔ پہلے پہل تو اہل مدینہ نے کوئی توجہ نہ دی لیکن جب اس طرح کے خطوط مسلسل آنے لگے تو حضرت عثمانؓ نے مشورہ کرکے مدینہ سے با اعتماد نمائندوں کو مختلف علاقوں میں بغرضِ تحقیق بھجوایا۔ تمام علاقوں سے نمائندے اپنے مقررہ وقت پر واپس مدینہ منوّرہ پہنچ گئے اور یہی خبر لائے کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور حالات بہت اچھے اور معمول کے مطابق ہیں۔ صرف مصر جانے والے عمار بن یاسرؓ واپس نہ آئے اور کچھ ہی عرصہ بعد مصر کے گورنر نے حضرت عثمانؓ کو رپورٹ بھجوائی کہ وہاں کچھ لوگوں نے عمارؓ کو دھوکا دے کر ساتھ ملالیا ہے اور اُن لوگوں میں عبد اللہ بن سبا بھی شامل ہے۔
طبریؔ نے لکھا ہے کہ شوال 35 ہجری میں ابن سبا اپنے 600 ساتھیوں کے ساتھ مصر سے مدینہ کے لئے روانہ ہوا اور دھوکا دینے کے لئے اعلان کیا کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔ اُس نے بصرہ اورکوفہ کی طرف پیغامات بھی بھجوائے تو وہاں سے بھی سینکڑوں سبائی مدینہ جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں بعض مخلص مسلمان بھی شامل تھے جو اپنی سادگی کے باعث سبائی پراپیگنڈہ کا شکار ہوگئے تھے۔ ان سب کا مطالبہ یہ تھاکہ خلیفہ کو معزول کیا جائے۔ لیکن ان میں یہ اتفاق رائے نہیں ہو رہا تھا کہ متبادل کون ہو!۔ مصری حضرت علیؓ کو خلیفہ دیکھنا چاہتے تھے۔ بصرہ کے سبائی حضرت طلحہؓ کے حق میں تھے جبکہ کوفی حضرت زبیر بن العوامؓ کے حامی تھے۔
دراصل سبائیوں نے عامۃالمسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے زمین بڑی احتیاط سے ہموار کی تھی۔ جو خطوط مدینہ سے بھجوائے گئے تھے ان پر حضرت علیؓ کے جعلی دستخط کیے گئے تھے جن میں مصریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مدینہ آئیں اور حضرت عثمانؓ کو خلافت کی گدی سے اتارنے میں ان کی مدد کریں۔ (طبری)۔ دوسرے خطوط پر حضرت عائشہؓ کے دستخط تھے۔ (ابن سعد صفحہ 574)۔ جبکہ بعض خطوط پر حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے دستخط کیے گئے تھے۔ (ابن کثیر صفحہ175)
جب شام کے گورنر حضرت معاویہؓ کو مشکوک افراد کے قافلوں کی مختلف مقامات سے مدینہ روانگی کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے حضرت عثمانؓ کو مطلع کرتے ہوئے اپنے قابل اعتماد فوجی دستے دارالحکومت بھجوانے کی اجازت چاہی مگر حضرت عثمانؓ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
سبائی مدینہ پہنچے تو اپنے اپنے محبوب لیڈروں علیؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے امّہات المومنین کے پاس بھی حاضری دی۔ ان سب اصحاب نے باغیوں کی طرف سے کی جانے والی خلافت کی پیشکش ٹھکرا دی اور انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کیا۔ اس پر مصری باغی حضرت عثمانؓ کے پاس چلے گئے اور گورنر کے خلاف شکایات کیں۔ آپؓ نے پوچھا کہ تم کس کو گورنر لانا چاہتے ہو؟ باغیوں نے جواب دیا ’’ابوبکرؓ کے صاحبزادے محمد کو‘‘۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مدینہ میں محمد بن ابو بکر کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا تھا بلکہ انہیں فاسق کہا جاتا تھا اور حضرت عائشہؓ کھلے لفظوں میں ان کے بارہ میں نا پسندیدگی کا اظہار کرتی تھیں۔ لیکن حضرت عثمانؓ نے فوری طور پر باغیوں کا مطالبہ تسلیم کرکے نئے گورنر کی تقرری کا خط لکھ کر محمد بن ابی بکر کے حوالے کیا اور اُنہیں مصر پہنچنے کی ہدایت کی۔باغیوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ ان کا مطالبہ اتنی آسانی سے تسلیم کرلیا جائے گا۔ لیکن اب اُن کے لیے مصر واپسی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہ گیا تھا۔
عبداللہ بن سبا نے اس صورتحال میں نئی سازش تیار کی۔ (طبری، ابن حجر، زوائد، مسند البزار، ابن العربی، عواصم من القواسم صفحہ 96)۔ اسی اثناء میں جبکہ مصری دستہ جو مطمئن ہوکر واپسی کے سفر پر تھا اور نامزد گورنر محمد بن ابی بکر بھی اُن کے ہمراہ تھا، ایک تیزرفتار شترسوار اُن کے پاس سے گزرا مگر کسی نے اس سے تعرض نہ کیا۔ پھر وہ واپس آیا اور قافلہ والوں پر دشنام طرازی شروع کردی۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا: میں خلیفہ کا قاصد ہوں اور گورنر مصر کے لیے خلیفہ کا خط لے کر جارہا ہوں۔ پھر خط بھی انہیں دکھا دیا۔ متجسس ہوکر محمد بن ابی بکر نے وہ خط کھول کر پڑھا جس میں مبیّنہ طور پر گورنر مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جونہی نامزد گورنر محمد بن ابی بکر وہاں پہنچے اسے قتل کردیا جائے اور اس کے ساتھیوں کو سزائیں دی جائیں۔
سازشیوں کی توقع کے عین مطابق خط پڑھ کر محمد بن ابی بکر شدید غصّے میں واپس مدینہ پہنچا اور وہاں طوفان کھڑا کر دیا۔ اگرچہ حضرت عثمانؓ نے قسم اٹھا کر اُسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ خط انہوں نے نہیں لکھا مگر وہ نہ مانا۔ مصری باغی پھر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ خلیفہ نے بلاوجہ ہمارے قتل کا حکم دیا ہے اس لئے خلیفہ کے قتل کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ حضرت علیؓ نے انکار کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہمیں کس طرح انکار کرسکتے ہیں، آپ ہی نے تو خط لکھ کر ہمیں بلوایا ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: خدا کی قسم! مَیں نے کبھی کوئی ایسا خط نہیں لکھا۔ اس پر باغی بھی حیرت کا شکار ہوگئے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: تم تو مصر کے راستے سے عثمانؓ کے ایک جعلی خط کا بہانہ بنا کر واپس آگئے ہو مگر بصرہ اور کوفہ جانے والے دستے بھی راستے سے ہی واپس مدینہ آچکے ہیں۔ یقیناً یہ سازش کا شاخسانہ ہے۔ (طبری)

سیّدنا حضرت عثمانؓ کی شہادت

حج قریب آ رہا تھا۔ مدینہ کے فوجی دستے حضرت عثمانؓ کی اجازت سے مکّہ روانہ ہونے لگے۔ مدینہ امن و امان قائم رکھنے والی فوج سے خالی ہو گیا تو باغیوں نے خلیفہ کی رہائشگاہ کا محاصرہ کر لیا اور انہیں مسجدِ نبوی میں امامت سے بھی روک دیا۔ عبداللہ بن سبا کے ایک یمنی نائب غفیقیؔ نے نمازوں کی امامت شروع کردی۔ (وہ بھی یہودی تھا اور اُس نے ہی اُس قرآن کو پاؤں سے ٹھوکر ماری تھی جسے شہادت کے وقت حضرت عثمانؓ پڑھ رہے تھے۔)
پھر باغیوں نے حضرت عثمانؓ کی رہائشگاہ کا دروازہ جلادیا تاہم وہ اندر نہ جاسکے۔ اس پر محمد (بن ابو بکرؓ) باغیوں کو ہمراہ لے کر مکان کی عقبی دیوار سے اندر کودا اور قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف معصوم خلیفہ راشد کو شہید کرڈالا۔ اُن کی اہلیہ اپنے شوہر کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئیں اور ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ باغیوں نے گھر میں لُوٹ مار بھی کی۔
بدبخت باغیوں نے سیّدنا حضرت عثمانؓ کے جسدِ خاکی کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا۔ آپؓ کو جس قطعہ اراضی پر دفن کیا گیا وہ ایک یہودی کی ملکیت تھا۔ بعد میں جب معاویہؓ ’امیر‘ بنے تو انہوں نے وہ قطعہ اراضی خرید کر جنّت البقیع میں شامل کر دیا۔

شہادتِ عثمانؓ کے بعد

شہادت عثمانؓ کے بعد باغی چاہتے تھے کہ اپنے جرم کا کوئی جواز پیدا کر لیں تاکہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔ پہلے وہ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور انہیں خلافت کی پیشکش کی مگر انہوں نے انہیں جھڑک کر واپس بھیج دیا۔ اس کے بعد وہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے پاس گئے لیکن انہوں نے بھی انہیں منہ نہ لگایا۔ پھر وہ مدینہ کی گلیوں میں اعلان کرنے لگے کہ حضرت علیؓ سے کہو کہ وہ خلافت سنبھال لیں ورنہ ہم تمہارا قتلِ عام شروع کر دیں گے۔ اس پر لوگ روتے پیٹتے حضرت علیؓ کے پاس گئے اور استدعا کی کہ انہیں باغیوں کی دستبرد سے بچائیں۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ خلیفہ کی ضرورت تو ہے مگر یہ عوام الناس کا معاملہ ہے، مَیں نہ تو تمہارے کہنے پر اور نہ ہی باغیوں کے کہنے پر خلافت سنبھال سکتا ہوں۔ اس لئے مَیں کل نمازِ فجر کے بعد لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔
اگلے روز نماز فجر کے بعد حضرت علیؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر بے گناہ خلیفہ کے بہیمانہ قتل پر دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کرنے کے بعد حاضرین سے کہا کہ تم کسی کو خلیفہ منتخب کر لو۔ اس پر مجمع میں سے اکثر نے کہا کہ صرف آپ ہی اس کے مستحق ہیں۔ چونکہ کوئی اَور نام سامنے نہ آیا تو لوگوں نے حضرت علیؓ کی بیعت کرنا شروع کردی۔ باغیوں نے دیکھا کہ بعض ممتاز اصحاب اس موقع پر خاموش تھے۔ ان میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت اسامہؓ اور حضرت صہیبؓ بھی شامل تھے لیکن باغیوں کو سب سے زیادہ خوف حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ سے تھا۔ چنانچہ وہ ان دونوں کو بہ نوکِ شمشیر مسجد میں لائے اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہ کی تو قتل کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ دونوں نے مجبوراً قاتلانِ عثمانؓ سے بدلہ لینے پر حضرت علیؓ کی بیعت کرلی۔

خلافتِ اسلامیہ کے خلاف فتنہ انگیزی کی خوفناک سازش

جب سیّدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر متمکّن ہوئے تو آپؓ سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔ لیکن مدینہ منوّرہ کے مخدوش حالات اور اسلامی افواج کے (سینکڑوں میل دُور) مختلف سرحدوں پر برسرپیکار ہونے کی وجہ سے مدینہ کا کنٹرول عملی طور پر باغیوں کے ہاتھ میں تھا اور حضرت علیؓ اُن کی مرضی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے۔
اسی اثناء میں مدینہ سے ایک جعلی خط پورے عالمِ اسلام میں بھیجا گیا جس میں کہا گیا کہ علیؓ نے خلیفہ بننے کے لیے عثمانؓ کو قتل کرایا ہے اور اسی لئے قاتلینِ عثمانؓ سے کوئی تعرض نہیں کیا جارہا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو اس الزام پر یقین آنے لگا۔ یہ فطری بات تھی کہ حضرت عثمانؓ کی اہلیہ اور بچوں کو قاتلینِ عثمانؓ کے خلاف کارروائی میں زیادہ دلچسپی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی کٹی ہوئی انگلیاں اور حضرت عثمانؓ کا خون آلود کُرتہ (جو بوقتِ شہادت زیبِ تن تھا) شام کے گورنر معاویہؓ کو بھجوادیا جو حضرت عثمانؓ کے کزن تھے۔
دوسری طرف سبائیوں نے شام سے حضرت علیؓ کو خطوط لکھے کہ معاویہؓ اپنی خلافت کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور راہِ اسلام سے بھی ہٹ گئے ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے حضرت معاویہؓ سمیت تمام صوبائی گورنروں کو لکھا کہ وہ نہ صرف خود نئے خلیفہ کی بیعت کریں بلکہ اپنے اپنے صوبوں میں بھی خلیفہ کے لیے بیعت لیں۔
پھر آپؓ نے ایک دوسرے خط میں معاویہؓ کو گورنر کے منصب سے معزول کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ چارج نئے گورنر کے حوالے کر دیں۔
سبائیوں نے اس موقع پر حضرت معاویہؓ کو حضرت علیؓ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کی۔ لیکن انہوں نے حضرت علیؓ کے خط کا جواب نہایت نرمی سے یہ دیا کہ جب قاتلینِ عثمانؓ کو گرفتار کرکے سزا دیدی جائے گی تو وہ بھی بیعت کر لیں گے۔

جنگ جمل واقعات

حج کے لئے مکّہ جانے والی ازواج مطہّرات حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ اور دیگر کو بصرہ کے سبائیوں کی طرف سے خط بھجوائے گئے کہ علیؓ قاتلینِ عثمانؓ کو سزا دینے سے انکاری ہیں اور امّہات المومنین ہونے کی حیثیت سے آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ اپنے ’بچے‘ عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کریں۔ نیز اگر امّہات المومنینؓ بصرہ آئیں گی تو اُن کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ اس پر حضرت عائشہؓ اپنے کچھ قریبی عزیزوں کے ہمراہ عراق روانہ ہوگئیں۔
کچھ عرصہ بعد حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے پہلے حضرت علیؓ کے ساتھ مشورہ کیا اور حالات بہتر کرنے کی کوشش کرنے کے لئے اجازت لے کر مدینہ سے روانہ ہو گئے۔ اُن کی منزل بھی بصرہ تھی۔ دونوں حضرت عائشہؓ سے جاکر ملے اور اُن کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حالات کو پُرامن بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا اور پروگرام کے مطابق چند روز کے بعد حضرت علیؓ نے بھی عراق جانے کا قصد کر لیا اور اپنے لشکر کے ساتھ بصرہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپؓ کے ہمراہ مدینہ سے آنے والے لشکر میں باغی سبائی بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔
بصرہ کے نزدیک حضرت عائشہؓ کے گروہ اور حضرت علیؓ کے لشکر میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا کیونکہ سبائی باغی دونوں لشکروں میں شامل تھے اور فتنہ انگیزی میں مصروف تھے۔ تاہم بعض مخلص مسلمانوں نے مصالحت کی کوششیں شروع کیں جو بارآور ثابت ہوئیں۔
حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! حضرت عثمانؓ کو میں نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے بلکہ میں نے قتل سے منع کیا تھا اور میں اس معاملے میں مغلوب رہا۔ (المصنف لابن ابی شیبہ جلد 15 صفحہ 208)۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ نہ تو حضرت علیؓ قاتلینِ عثمانؓ کو سزا دینے کے خلاف تھے اور نہ ہی حضرت عائشہؓ، طلحہؓ اورزبیرؓ کے کوئی ذاتی عزائم تھے۔ چنانچہ باہم گفتگو کے نتیجے میں امن معاہدہ طَے پاگیا۔
بظاہر ابن سبا کے کھیل کی بساط الٹ چکی تھی۔ مگر وہ حوصلہ نہ ہارا اور رات کے آخری پہر اُس کے کچھ آدمی حضرت عائشہؓ کے کیمپ میں داخل ہو گئے اور چند نے حضرت علیؓ کی فوج پر حملہ کر دیا۔ قدرتی طور پر فریقین نے یہی سمجھا کہ دوسرے فریق نے دھوکہ دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے اپنے ایک سپاہی کے ہاتھوں میں قرآن دے کر بلند کروایا اور مخالفین کو کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے اور تفرقہ سے باز رہنے کی دعوت دی۔ لیکن باغیوں نے اسے شہید کردیا۔
جلد ہی حضرت علیؓ کے فوجیوں نے صورت حال پر قابو پالیا۔
سارا وقت حضرت عائشہؓ انتہائی جرأت مندی سے آخر تک اپنے اونٹ پر سوار رہیں۔ چونکہ اونٹ کو عربی میں جَمَل کہا جاتا ہے اس طرح یہ مختصر جنگ ’جنگ جمل‘ کہلائی۔ حضرت علیؓ کی فوج نے حضرت عائشہؓ کی اونٹنی کو گھیرے میں لے لیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تاکہ مخالف فریق کا جوش ٹھنڈا ہوجائے۔ لیکن جب تک صورت حال واضح ہوئی تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ پھر حضرت عائشہؓ نے حضرت علیؓ کو ان کے حریف معاویہؓ کے خلاف مدد کی پیشکش کی لیکن حضرت علیؓ نے اُن کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ واپس مدینہ تشریف لے چلیں۔ اور انتہائی احترام کے ساتھ اُن کی شایانِ شان واپسی کے انتظامات بھی کردیے۔ انہی دنوں حضرت عائشہؓ کا ایک خط مشتہر ہوگیا جس میں لوگوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر بھڑکایا گیا تھا۔ جب یہ خط حضرت عائشہؓ کے علم میں آیا تو آپؓ نے کہا: قسم اس ذات کی جس پر ایمان لانے والے یقین رکھتے ہیں اور فتنہ گر انکار کرتے ہیں، میں نے اس جگہ بیٹھنے تک کبھی ان لوگوں کو کچھ نہیں لکھا۔ (ابن سعد، 1/3 صفحہ 57)
جنگ جمل میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد کے بارہ میں اختلاف ہے۔ ابو خَیثَمَہ نے وَہب بن جَریر سے نقل کیا ہے کہ اہلِ بصرہ کے اڑھائی ہزار افراد مارے گئے (بلاذری، جلد2، صفحہ187)۔ اسی طرح اصحاب جمل کے مارے گئے سپاہیوں کی تعداد چھ ہزار سے پچیس ہزار کے درمیان لکھی گئی ہے۔ جبکہ حضرت علیؓ کے لشکر میں سے چار صد سے پانچ ہزار افراد کی شہادت کا ذکر مختلف کتب میں کیا گیا ہے۔
(خلیفہ بن خیاط، جلد 1، صفحہ112)

جنگ جمل کے اثرات

1۔ مسلمانوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہی ہزاروں مسلمان شہید ہوگئے اور مستقل طور پر نفرت کا بیج بویا گیا۔ بعدازاں سیّدنا حضرت امام حسینؓ کی شہادت بھی اسی نفرت کا شاخسانہ تھی۔
2۔ جنگِ جمل میں کامیابی سے اگرچہ حضرت علیؓ کی طاقت میں اضافہ ہوا مگر شام کے گورنر معاویہؓ نے قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کرتے ہوئے بغاوت کردی جس پر دونوں (حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ) کے درمیان جنگ صفین لڑی گئی۔ یوں عظیم اسلامی ریاست کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔
3۔ حالات کے مدّنظر اسلامی مملکت کا دارالخلافہ مدینہ منوّرہ سے کوفہ منتقل ہوگیا۔
4۔ اصحاب رسول ﷺ اور خلیفۂ وقت کے درمیان اس براہ راست جنگ سے کئی فقہی اور علمی مسائل پیدا ہوئے جنہیں اجماعِ اُمّت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ایک مثبت پہلو تھا۔
5۔ ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ مسلمانوں کو یہ نصیحت حاصل ہوئی کہ یہود کی سازشوں اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ دعا، اتحاد اور حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔

ایک ضروری وضاحت

دراصل صحابہ کرامؓ کے مابین جو اختلافات رونما ہوئے اور خون ریز جنگوں تک کی نوبت آگئی، ان اختلافات کو علماء اُمّت جنگ و جدال کی بجائے (صحابہ کرامؓ کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے) ’’مشاجرات‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ’’مشاجرہ‘‘ کے معنی ہیں ایک درخت کی شاخوں کا دوسرے میں داخل ہونا۔
جماعت احمدیہ کے نزدیک بھی تمام صحابہ کرامؓ واجب الاحترام، لائق تعظیم اور روشن ستاروں کی مانند ہیں اور کسی ایک کے حق میں بھی ادنیٰ سوء ادب کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم صحابہ کرامؓ کے وہ اختلافات جو اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے اور جس میں وہ باہم برسرپیکار بھی ہوگئے تو اُن مواقع پر ایک فریق کا حق پر اور دوسرے کا خطا پر ہونا بدیہی ہے۔چنانچہ اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جنگ جمل وجنگ صفین میں خلیفۃالرسول حضرت علیؓ حق پر تھے اور ان سے مقابلہ کرنے والے خطا پر، لیکن ان کی خطا اجتہادی تھی جو شرعاً گناہ نہیں۔ چنانچہ امام قرطبیؒ سورۃ الحجرات کی آیت ’’وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا‘‘ کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ (جنگ جمل اور جنگ صفین کے) فریقین میں سے کوئی بھی گناہ کا مرتکب نہیں تھا۔
حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دونوں عشرۂ مبشرہؓ میں سے ہیں جن کا نام لے کر جنّتی ہونے کی خبر حضور ﷺ نے خود دی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں حضرت علیؓ کے مخالف لشکر میں شامل تھے اور اسی دوران شہید ہوئے۔ لیکن حضرت طلحہؒ کے بارہ میں حدیث مبارکہ ہے: طلحہ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔ اور حضرت زبیرؓ کے بارہ میں حضرت علیؓ سے یہ حدیث مروی ہے کہ زبیر کا قاتل جہنم میں ہے۔
اسی طرح حضرت علیؓ کی فوج میں شامل ہوکر حضرت عمار بن یاسرؓ بڑی جرأت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ جبکہ حضرت نبی اکرمﷺ نے ان کی شہادت کی پیش گوئی بھی فرمائی ہوئی تھی۔
اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ کا مقام بھی انتہائی بلند ہے۔ اس واقعہ کے بعد جب بھی اُنہیں جنگ جمل کی یاد آتی تو وہ یہ آرزو کیا کرتی تھیں کہ اے کاش! اس سے پہلے وہ مر چکی ہوتیں۔ ایک موقع پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میرا خیال تھا کہ مَیں اپنے مقام و مرتبہ کی بِنا پر لوگوں کے درمیان (جنگ) سے مانع ہوں گی اور یہ کہ مجھے یہ گمان ہی نہیں تھا کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع ہو گا۔ اگر مجھے یہ بات قبل ازیں معلوم ہوتی تو مَیں اس مقام میں ہرگز نہ پہنچتی۔ (المصنف لعبدالرزاق جلد5 صفحہ 457)
چنانچہ رسول کریمﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت علیؓ کے طرفدار بھی شہید اور مخالفین بھی شہید۔ ایسے میں کسی ایک فریق کو گناہ گار یا فاسق کیونکر کہا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان تمام صحابہؓ کے پیش نظر رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا۔ اُن کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہ تھا بلکہ اجتہاد ورائے کی بِنا پر تھا جس پر کسی بھی فریق کو مطعون نہیں کیا جاسکتا۔ نیز جو صحابہؓ کنارہ کش رہے وہ بھی اجتہاد کی بِنا پر رہے، اس لئے وہ بھی بے گناہ اور واجب التعظیم ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے: یہ ایک ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہؓ موجود تھے اور ہم غائب۔ وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے۔ جس معاملے پر تمام صحابہؓ کا اتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔ (قرطبی سورۂ الحجرات)

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی آلِ مُحَمّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں