حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍اپریل 1999ء میں حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ کا ذکر خیر مکرمہ لبنیٰ اکرم چٹھہ صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ ضلع گورداسپور کے باشندہ تھے اور سندھ میں ریلوے میں ملازم تھے۔1905ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت اور زیارت کی سعادت حاصل کی۔ 1928ء میں جب قادیان تک ریل گاڑی جاری ہوئی تو آپؓ قادیان کے پہلے سٹیشن ماسٹر مقرر ہوئے۔ 1959ء میں قریباً اسّی سال کی عمر میں وفات پائی۔
آپؓ ابھی بچے ہی تھے جب آپ کے والد حضرت مسیح موعودؑ کے عم زاد مرزا کمال الدین کے مرید تھے۔ ایک روز وہ اپنی اہلیہ سے کہنے لگے کہ لوگ قادیان والے مرزا صاحب (یعنی حضرت مسیح موعودؑ) کو برا کہتے ہیں لیکن مَیں تو دیکھ کر آیا ہوں، بڑا نورانی چہرہ ہے۔ ایک روپیہ ہاتھ پر رکھ کر مَیں تو اُن کی اقتداء میں نماز جمعہ پڑھ آیا ہوں۔
بچپن میں ہی حضرت بابو صاحبؓ نے احمدی علماء کا چرچا سنا تھا۔ پھر گورداسپور شہر میں جب آپؓ زیر تعلیم تھے تو ایک قریبی گاؤں اوجلہ میں دو احمدی بزرگ رہتے تھے جن کے پاس دیگر احمدی احباب بھی آیا کرتے تھے۔ چونکہ بابو صاحبؓ وہاں مسجد میں مغرب و عشاء کے وقت درود و اذکار میں مصروف رہتے تھے اس لئے آپؓ کو دیندار دیکھ کر کسی صحابیؓ نے آپؓ کو مخاطب کرکے کہا یہ لڑکا بہت نیک اور سعید ہے یہ ضرور احمدی ہو جائے گا۔ آپ نے عدم معرفت کی وجہ سے جواب دیا کہ مَیں آپ کے جھانسے میں نہیں آؤں گا۔ لیکن ایک مومن نے خداداد فراست سے جو بات 1897ء کے لگ بھگ کہی تھی وہ 1905ء میں یوں پوری ہوئی کہ آپ بلوچستان کے پہلے سٹیشن جھٹ پٹ پر اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر متعین تھے کہ حضرت منشی عبدالغنی صاحب اوجلویؓ نے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کا ایک اشتہار بھجوایا۔ پھر کوئی کتاب بھی زیر مطالعہ رہی لیکن مخالفین کے اعتراضات کے مطالعہ سے آپ شش و پنج کا شکار رہے اور دعاؤں میں مشغول ہوگئے۔ لیکن آپ کا دل حضور علیہ السلام کی صداقت پر گواہ تھا چنانچہ آپ نے اپنی بیوی کو کہہ رکھا تھا کہ اگر میری موت کا وقت آئے تو میرے سامنے حضرت مرزا صاحب کی فلاں تحریر کر دینا۔ پھر ایک روز آپ نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد اپنے کچھ رشتہ داروں کی موجودگی میں کہا کہ آپ سب گواہ رہیں کہ آج مَیں حضرت مرزا صاحب کے متعلق فیصلہ کے لئے قرآن مجید کھولتا ہوں۔ جو حضور اور مخالفین دونوں کا مشترک و مسلّم کلام ہے، دائیں صفحہ کی تیسری سطر فیصلہ کن ہوگی۔ چنانچہ سورۃ یوسف کا یہ حصہ نکلا جس کا ترجمہ ہے کہ یہ بشر نہیں یہ تو معزز فرشتہ ہے۔ چنانچہ آپ نے برملا کہہ دیا کہ حضرت مرزا صاحبؓ صادق من اللہ ہیں اور پھر اپنی اور اپنی بیوی کی بیعت کا لکھ دیا جس کی کچھ دن میں منظوری آگئی۔ پھر آپؓ چند دن کی رخصت پر قادیان گئے۔ حضورؑ نے آپؓ سے بیعت کی تفصیل دریافت کی اور مسکرا کر فرمایا ’’آپ نے خوب کیا، اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے بعد قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کی، اگر وہاں شیطان کا لفظ نکل آتا تو آپ شاید ساری عمر میری شکل بھی نہ دیکھتے‘‘۔
حضرت بابو صاحبؓ بہت پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ بہت سے لوگوں نے آپؓ کے ذریعہ بیعت کی سعادت حاصل کی اور علی برادران، گاندھی جی، پنڈت نہرو سمیت بہت سے معززین سے آپؓ نے بالمشافہ مذہبی گفتگو کی۔ ثناء اللہ امرتسری سے کئی بار مقابلہ کیا۔ تحریک شدھی کے موقع پر بھی آپؓ نے خدمت کی توفیق پائی۔ آپؓ بہت بااصول اور جرأت مند تھے۔ فرائض منصبی پوری دیانتداری سے ادا کرتے اور کسی دھمکی کی پروا نہیں کرتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں