حضرت حافظ مختار احمد صاحبؓ شاہجہانپوری

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اگست و ستمبر 2010ء میں مکرم عبدالہادی ناصر صاحب نے حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوریؓ کا ذکرخیر کیا ہے۔ قبل ازیں آپؓ کا تذکرہ 25جولائی 1997ء، 29جنوری 1999، 28اپریل 2000ء، 17 ستمبر 2004ء اور 21دسمبر 2007ء کے شماروں میں ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ کی زینت بن چکا ہے۔
آپؓ ایک جیّد عالم تھے۔ آپؓ کا قد دراز، چہرہ نورانی، گفتگو مسحورکُن اور شخصیت سحرانگیز تھی۔ اس ہستی سے جو بھی ملا گرویدہ ہوگیا اور دوبارہ ملنے کا آرزو مند رہا۔
میری پہلی ملاقات حضرت حافظ صاحبؓ سے 1956ء میں ہوئی۔ آپؓ مسجد محمود کے پاس کچے کوارٹر میں رہائش پذیر تھے۔ عصر کے بعد احباب آپؓ کو ملنے آتے جن میں سلسلہ کے جیّد علماء ہوتے۔ جو علماء اُس دن ملنے آئے اُن میں قابل ذکر سید زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحبؓ تھے جو اُن دنوں تجرید بخاری لکھ رہے تھے اور اپنا مسوّدہ ہر روز حافظ صاحبؓ کو سنانے آتے تاکہ اردو کی نوک پلک درست ہوجائے۔ حافظ صاحبؓ اغلاط کی اصلاح کرتے اور ساتھ ساتھ لسانی قواعد کی وضاحت بھی کرتے۔ مجھے حافظ صاحبؓ کی مجلس بہت اچھی لگی اور مَیں نے روزانہ اس مجلس میں شامل ہونے کی اجازت چاہی۔ چنانچہ عصر کے بعد آپؓ کی خدمت میں حاضر ہونا میرا معمول بن گیا۔
حافظ صاحب اردو ادب میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ اُن کی شخصیت پاکستان کے اس وقت کے بڑے بڑے ادیبوں میں مسلّم تھی۔ اردو ادب میں وہ ’’اتھارٹی‘‘ تھے۔ بڑے بڑے غیر از جماعت ادیب اصلاح کی خاطر ربوہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے، اردو ادب کی گتھیاں سلجھاتے۔ اُن میں غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک بھی شامل تھے۔ علماء سلسلہ اکثر اپنی تصانیف کی نوک پلک درست کرانے اپنے مسودات چھوڑ جاتے۔ حافظ صاحب مزید مشوروں سے اُن کو مزیّن کرتے۔آپ کی میز پرمسوّدات کا ڈھیر لگا ہوتا۔ حضرت حافظ صاحبؓ کی محفل علم و حکمت کا دربار تھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، تصوف، منطق اور فلسفہ ہر موضوع پر بات ہورہی ہوتی۔ آپؓ پلنگ پر نیم دراز گاؤ تکیہ پر ٹیک لگائے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود گھنٹوں بولتے۔ جوں جوں سلسلہ کلام بڑھتا تو آواز بلند اور پُرشوکت ہوتی چلی جاتی۔
آپ کا غضب کا حافظہ تھا۔ حضرت مسیح موعودؑکی کتب کی عبارتوں کی عبارتیں ازبر تھیں۔ یہاں تک کہ اکثرصفحات کے نمبر یاد ہوتے اور یہ بھی اُن کو معلوم ہوتا کہ یہ حوالہ حاشیہ میں فلاں عبارت سے شروع ہوتا ہے۔
آپؓ اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔ امیر مینائی کا شاگرد ہونے پر فخر تھا۔ امیر مینائی کا یہ شعر اکثر پڑھتے ؎

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

اپنے استاد کے اکثر اشعار بطور سند دَوران گفتگو سناتے۔ اپنے استاد کی طرح آپؓ کا کلام بہت طویل ہوتا تھا جو کئی کئی صفحوں پر محیط ہوتا ۔ امیر مینائی کے دیوان ’’صنم خانۂ عشق‘‘ میں کوئی غزل 35شعروں سے کم نہیں تھی۔ حافظ صاحبؓ اپنے استاد سے بھی لمبی نظمیں لکھتے تھے۔ آپؓ کا کلام سلسلہ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ غیر مطبوعہ کلام کہیں زیادہ تھا۔ ایک دفعہ مَیں نے درخواست کی کہ آپ ان سب کو اکٹھا کر کے دیوان کی صورت میں شائع کیوں نہیں کر دیتے؟ جواب میں فرمایا کہ میرے دیوان سے سلسلہ کے کام زیادہ اہم ہیں۔
آپ جب کسی لفظ یا شعر کے متعلق بحث کررہے ہوتے تو اُس کے ثبوت میں سند کے طورپر فصحاء ادب کے تین چار شعر پڑھ دیتے۔ ہزار ہا شعر اُن کو یاد تھے۔کوئی معترض اگر حضرت مسیح موعودؑ کے کسی شعر یا نثر پر اعتراض کرتا تو حافظ صاحبؓ قدیم شعراء کے کلام سے ثابت کرتے کہ حضرت اقدسؑ نے جو ترکیب یا لفظ استعمال کیا ہے وہ درست ہے۔ نہ صرف اردو بلکہ فارسی اور عربی پر کئے گئے اعتراضات کے جواب میں سند کے ذریعے ثابت کرتے کہ حضور علیہ السلام کے کلام میں کوئی غلطی نہیں۔ آپؓ نے اپنی ساری عمر اس کام کے لئے وقف کر رکھی تھی۔
حافظ صاحب کی مجلس میں اگر کوئی لفظ یا فقرہ غلط استعمال کرتا تو آپؓ فوراً تصحیح کردیتے اور اس کی وجہ بھی بیان کردیتے۔ مثلاً ایک صاحب سے حافظ صاحبؓ نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ تو کہنے لگے کہ کل مجھے کافی بخار تھا۔ حافظ صاحب مسکرائے اور کہا کہ کافی کا مطلب یہ ہے کہ جتنا آپ بخار چاہتے تھے اتنا ہی تھا، آپ کو کہنا چاہئے تھا کہ تیز بخار تھا۔ ایک صاحب نے دوران گفتگو یہ کہا کہ حضرت مسیح موعودؑ مُلْہِمْ تھے۔ آپؓ نے فرمایا کہ مُلْہِمْ ۡ تو خداتعالیٰ ہوتا ہے جو الہام کرتا ہے۔جس کو الہام ہوتا ہے اس کو مُلھَمْکہتے ہیں۔ اسی طرح اردو کی فصاحت و بلاغت کے متعلق بات کرتے ہوئے ایک نامور ادیب نے کہا کہ بلاغت کے بعض امام کہتے ہیں کہ اگر کلام میں دو سے زائد اضافتیں استعمال ہوں تو کلام بلاغت سے گر جاتا ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا کہ چاہئے کہ بلاغت والے اپنے اصول کو درست کریں کیونکہ اگر رئیس الشعراء مرزا غالب دوسے زیادہ اضافتیں استعمال کرتا ہے تو کلام بلاغت سے نہیں گرتا بلکہ شعر میں حسن آجاتا ہے۔ اس ضمن میں آپ نے فی الفور غالب کے تین چار شعر پڑھ دیئے۔ ایک تھا ؎

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

اس شعر میں داغِ فراقِ صحبتِ میں تین اضافتیں واقع ہوئی ہیں شعر کے حسن میں کمی نہیں آئی بلکہ سماع میں بھی بھلا لگتا ہے۔ دوسرا شعر تھا ؎

ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری واہ واہ!
پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے

اس شعر میں ’نشاطِ آمدِ فصلِ‘ تین اضافتیں واقع ہیں لیکن شعر بلاغت سے نہیں گرا۔ آپؓ نے غالب کا ایک اور شعر بھی پڑھا جس میں چار اضافتیں استعمال ہوئی ہیں۔
ایک دفعہ میں نے آپؓ سے شاہجہانپور سے قادیان ہجرت کرکے آنے کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے فرمایا کہ جن دنوں ہم شاہجہان پور میں رہتے تھے ہمیں اہل زبان ہونے پر بہت فخر تھااور اردو زبان کو گھر کی لونڈی سمجھتے تھے۔ ان دنوں کسی نے ہمیں آکر کہا کہ سنا ہے کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک جاٹ آج کل اردو میں بہت سی کتابیں لکھ رہا ہے۔ ہم یہ سُن کر بہت ہنسے کہ پنجاب کا جاٹ کیا اردو لکھے گا۔ اتفاقاً چند دنوں کے بعد کسی نے ہمیں ایک کتاب لاکر دی اور کہا کہ یہ اس جاٹ کی کتاب ہے۔ جب ہم نے اس کتاب کا ایک صفحہ پڑھا تو ہم اپنا سر تھام کر بیٹھ گئے۔ اور کہا کہ یہ کیسا جاٹ ہے جو اتنی فصیح اردو لکھتا ہے۔ اور ایک صفحہ پر اتنی معرفت کی بات لکھ گیا ہے۔ ہم تو حیران رہ گئے۔ پھر کیا تھا اور کتابیں منگوائیں ان کو پڑھا اور پھر اس کے لکھنے والے کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اور قادیان آگیا۔ اورپھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کے قدموں میں راحت محسوس کی۔ اورپھر ساری زندگی میں نے اس مقصد کیلئے وقف کردی کہ اگر کوئی معترض حضرت مسیح موعودؑ کی اردو، فارسی اور عربی تحریر پر کوئی انگلی رکھے گا تو مَیں اس کا دفاع کروں گا۔ اور اُٹھنے والے ہر اعتراض کا جواب دوں گا۔ کیونکہ اگر حضورؑ اپنی صداقت کے لئے کوئی نشان نہ دکھاتے تو بھی یہی ایک نشان کافی تھا کہ آپؑ نے اردو، فارسی، عربی میں 90کے قریب کتب لکھیں۔ اور کوئی لفظ اور کوئی فقرہ گرائمر کے قواعد کے خلاف نہیں۔
ایک دن مَیں نے کہا کہ مودودی صاحب نے بھی بہت سی کتب لکھی ہیں۔ کیا ہم اُن کو عالم کہہ سکتے ہیں ؟ آپؓ نے فرمایا: سامنے شیلف پر مودودی صاحب کی ساری کتب پڑی ہوئی ہیں۔ وہاں سے کوئی ایک کتاب اُٹھا کر لاؤ۔ چنانچہ حسبِ ارشاد میں اُٹھا اور ایک کتاب نکالی۔ آپؓ نے فرمایا کہ اس کتاب کو کہیں سے کھولو اور ایک پیراگراف پڑھو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؓ نے فرمایا کہ اب اس پیراگراف کی سطریں گنو۔ مَیں نے گن کر بتایا: 19سطریں ہیں۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم اکثر میرے پاس آکر بیٹھتے رہے ہو۔ اورتمہارے سامنے مختلف اوقات میں لسانی قواعد پر گفتگو ہوتی رہی ہے، تم اس میں سے غلطیاں نکالو۔ مَیں نے بڑے غور سے ایک ایک سطر کو پڑھا اور تین غلطیاں نکالیں۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم نے تین غلطیاں نکالی ہیں۔ اس کے علاوہ تین اَور غلطیاں ہیں۔ 19سطروں میں جب 6غلطیاں ہوں اور پھر اُن کو یہ بھی گمان ہو کہ وہ اہل زبان ہیں تو کیا تم ایسے شخص کو عالم کہو گے۔ یہ تو صرف اردو ادب کا حال ہے۔ علم و حکمت اور فہم قرآن کی ایک علیحدہ بحث ہے۔ آپؓ نے مزید بتایا کہ مودودی صاحب دہلی کے رہنے والے ہیں اور ان کے دادا سیّد حسن شاہ صاحب جو سجادہ نشین تھے اُن کو بھی حضرت مسیح موعودؑ نے اشتہار مباہلہ میں چیلنج دیا تھا اور مباہلہ کا یہ اشتہار 105علماء ، مشائخ اور سجادہ نشینوں کو بذریعہ رجسٹری بھجوایا تھا۔ کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ مقابل پر آئے۔ یہ اشتہار’’انجام آتھم‘‘ میں مع ناموں کے موجود ہے۔ آپؓ نے ’’انجام آتھم‘‘ میں وہ مقام بھی بتایا جہاں مودودی صاحب کے دادا کانام درج تھا۔
ایک دن دورانِ گفتگو تعلق باﷲ کا مضمون شروع ہوگیا جس پر حافظ صاحبؓ نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ خداتعالیٰ سے اس وقت تعلق قائم ہوتا ہے جب تعلق قائم کرنے والا استقامت اختیار کرتا ہے۔ سورۃ الانشقاق میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے انسان! تجھے ضرور اپنے رَبّ کی طرف سخت مشقت کرنے والا بننا ہوگا پھر تلاقی ہوگی‘‘۔ اسی طرح سورۃ العنکبوت میں فرمایا کہ : ’’وہ لوگ جو ہمارے بارہ میں کوشش کرتے ہیں تو ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘
حافظ صاحبؓ نے فرمایا کہ اکثر لوگ خداتعالیٰ کے ساتھ تعلق کو یوں سمجھتے ہیں کہ چند مہینے عبادت کی تو اُن کا تعلق قائم ہوگیا۔ اور پھر جب اُن کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارا تعلق قائم نہیں ہوا تو شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ انگریز احمدی بشیر احمد آرچرڈ صاحب جب نئے نئے قادیان آئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت پر اُنہیں میرے پاس لایا گیا۔ چند دن بعد وہ کہنے لگے کہ مَیں کچھ مہینوں سے نماز پڑھ رہا ہوں مگر مجھے خدا نہیں ملا۔ مَیں نے کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ کو فون کرو کہ مَیں قادیان میں ہوں مجھے آکر مل لیں۔ وہ کہنے لگے کہ برطانیہ کا بادشاہ مجھے نہیں جانتا وہ مجھے ملنے کیسے آسکتا ہے؟ تو مَیں نے کہا کہ ایڈورڈ تو ایک چھوٹے ملک کا بادشاہ ہے وہ آپ کو ملنے نہیں آسکتا تو وہ جو شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے اس کے متعلق آپ نے کیسے سوچ لیا کہ تعلق قائم کئے بغیر وہ آپ کو ملنے آئے گا۔
ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے بچپن کے حالات سناتے ہوئے حضرت حافظ صاحبؓ نے فرمایا کہ صاحبزادہ مرزا محمود کو مولانا حکیم نور الدین صاحب سے بہت لگاؤ تھا۔ جو بھی نئی چیز اُن کو ملتی سب سے پہلے اُسے دکھانے کیلئے آپؓ کے پاس لے کر آتے۔ آپؓ بھی دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور جس طرح بچوں کی دلجوئی کی جاتی ہے آپ دلجوئی کرتے۔ ایک دفعہ صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑسے ضد کی کہ مجھے ایک گاڑی لادیں۔ اس وقت قریباً چھ یا سات سال کے ہوں گے چنانچہ حضورؑ نے ایک بڑھئی کو بلایا اور اُس نے چار پہیوں والی لکڑی کی خوبصورت گاڑی تیار کی جس میں ایک آدمی آسانی سے بیٹھ سکتا تھا۔ گاڑی ملتے ہی صاحبزادہ صاحب فوراً حضرت مولانا نورالدین صاحب کے مطب میں گاڑی دکھانے کے لئے پہنچے۔ آپؓ نے فرمایا: میاں گاڑی بہت خوبصورت ہے، مجھے بھی اس میں بیٹھنے دو۔ چنانچہ آپؓ گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: میاں اب مجھے سیر بھی کراؤ۔ پھر صاحبزادہ صاحب نے پیچھے سے دھکا لگا کر ایک چکر دیا۔ جب ایک چکر ختم ہوا تو آپؓ نے اصرار کیا کہ میاں ایک چکر اور دے دو۔ ہر چکر پرآپؓ اصرار کرتے کہ میاں ایک اورچکر۔لیکن جب چھ چکر ہوگئے تو صاحبزادہ صاحب نے باوجود آپ کے باربار اصرار کرنے پر یہ کہا کہ آپ اتریں اب میری باری ہے۔ لہٰذا آپؓ اتر گئے۔ حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خلافت کے چھ سال بعد مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ بنے۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے فرمایا کہ ایک دن صاحبزادہ صاحب کھیلتے کھیلتے حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ کے مطب میں آگئے۔ یہی کوئی چھ یا سات سال کی عمر ہوگی۔ آپؓ نے اُن کو پیار کیا اور پیارسے کہا کہ ’’ توں ای موعود بیٹا ایں۔ تیرے پیو دا وی ایہی خیال اے۔تے میرا وی ایہی خیال اے‘‘یعنی تم ہی موعود بیٹے ہو اور آپ کے والد کا بھی یہی خیال ہے اور میرا بھی یہی خیال ہے۔
حضرت حافظ صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ عشق تھا۔ جب بھی آپ اُن کا ذکر کرتے آپ کی آنکھیں نم ہوجاتیں۔ ایک دن فرمایا کہ جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ مجھے ملنے آتے ہیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ بہت سے لطیفے ان کو سناؤں۔میں لطیفے اُن کو اس وجہ سے سناتا ہوں کہ وہ ہنسیں۔ جب وہ ہنستے ہیں تو اس طرح ہنستے ہیں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنسا کرتے تھے۔ یہ کہہ کر آپؓ آبدیدہ ہوگئے۔
میںنے ایک دفعہ حافظ صاحبؓ سے اُن کی عمر کے متعلق پوچھا۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میاں یہ بات مجھ سے نہ پوچھو اگر عزرائیل نے سن لیا تو کہیں آ نہ دھمکے۔ پھرآپ نے فرمایا کہ موت تو کوئی چیز نہیں جس سے ڈرا جائے۔ موت تو ایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں داخل ہونے کا نام ہے۔ دنیا اور عقبیٰ دونوں ہمارے ہی گھر ہیں کہ جب ایک گھر میں رہتے رہتے تھک گئے تو دوسرے گھر چلے گئے۔ پھر امیر مینائی کا یہ شعر پڑھا ؎

کیا ہستی و عدم کا کہیں حال اے امیرؔ
اس گھر سے تنگ جب ہوئے اُس گھر چلے گئے

حضرت حافظ صاحبؓ نے 100سال سے کچھ زائد عمر پائی ۔ خداتعالیٰ کے فضل سے آپؓ کا حافظہ تادمِ واپسیں قائم رہا اور خدمتِ دین آخری سانس تک کرتے رہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Etbyd]

اپنا تبصرہ بھیجیں