حضرت حکیم عبدالصمد صاحبؓ

رسالہ ’’انصارالدین‘‘ یوکے نومبر دسمبر 2010ء میں مکرمہ مبارکہ مسعود صاحبہ کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے اپنے والد حضرت حکیم عبدالصمد صاحب کا تفصیلی ذکرخیر کیا ہے۔
حضرت حکیم عبدالصمد صاحب ولد حکیم محمد عبدالغنی صاحب ولد حکیم محمد بلاقی صاحب (مہتمم شاہی دواخانہ قلعہ دہلی) کی پیدائش دہلی میں ہوئی۔ مسلک اہل حدیث تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر اور بعد میں متعدد علماء کرام سے حاصل کی۔ اس غرض سے بیشتر وقت مدارس اور مساجد میں گزرتا۔ ایک رات دو بجے والد صاحب کی آنکھ کھلی تو آپ جاگ رہے تھے۔ انہوں نے جاگنے کا سبب پوچھا تو آپ نے کہا کہ تفسیر جلالین میں آیت ’’یٰعیسیٰ انِّی مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا مطلب سمجھ میں نہیں آ رہا۔ والد نے کہا کہ صبح اپنے استاد سے معلوم کرلینا۔ آپ نے جب مولوی صاحب سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ میاں شروع سے لے کر آج تک سب کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ ہیں تم اس بحث میں مت پڑو اور آگے پڑھو۔ آپ نے کہا جب تک یہ میری سمجھ میں نہیں آئے گا آگے کس طرح پڑھ سکتا ہوں۔ مولوی صاحب یہ سن کر ناراض ہوئے۔ پھر آپ اپنے دوسرے استاد مولوی محمد اسحاق متقی کے پاس گئے۔ انہوں نے بھی پہلے استاد والا جواب دیا۔ لیکن غصّہ میں آکر کہنے لگے کہ ایک تم ہو اور دوسرا مرزا ہے جس کو اس قسم کا جنون ہے۔یہ سن کر آپ کو کچھ تقویت ملی کہ کوئی اَور بھی ہے۔ پھر ایک اَور استاد مولوی عبدالوہاب سے اپنا سوال دہرایا تو انہوں نے کہا: میاں اب تو مہدویت کا ایک دعویدار بھی پیدا ہو گیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ہیں اور مَیں وہی مسیح موعود ہوں جس کا سب کو انتظار ہے، اس کا نام مرزا غلام احمد ہے۔
یہ سن کر حضرت حکیم صاحب کا اشتیاق بڑھ گیا اور قرآن اور حدیث پڑھنے میں لذّت اور سکون آنے لگا۔
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لائے۔ آپ کی نظر حضرت اقدسؑ کے چہرہ پر پڑی تو جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور دل نے کہا کہ یہ شکل جھوٹے کی نہیں۔ پھر اسی وقت ایمان لے آئے۔ بیعت کے وقت حضورؑ نے فرمایا: ’’کہو مَیں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔ اس وقت ایک لمحے کے لئے آپؓ رُکے۔ سوچا، پھر یہ الفاظ دہرائے اور اپنے اس عہد کو آخری دَم تک نبھایا۔
بیعت کرنے کے بعد مخالفت کا طوفان کھڑا ہوگیا۔ والدین نے بات کرنا بند کردی تاہم وہ آپؓ کی ضروریات پوری کرتے رہے۔ طالبعلمی کا زمانہ تھا ۔ایک پُرانی خادمہ کھانے وغیرہ کا خیال رکھتی تھی۔ اگر کھانا مل جاتا تو کھا لیتے ورنہ تھوڑی سی چنے کی دال بھگو دیتے اور صبح کو کھا لیتے تھے ۔ اکثر روزہ رکھتے۔ اسی حالت میں قریباً ایک سال گزرا۔ ایک دن مسجد میں وضو کر رہے تھے کہ اچانک آپؓ نے دیکھا کہ مسجد میں آگ لگ گئی ہے اور شعلے چھت تک بلند ہو رہے ہیں۔ آپؓ نے شور مچادیا۔ بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور پوچھا میاں کہاں ہے آگ؟ آپ نے کہا: وہ دیکھو۔ مؤذن کا کہنا تھا کہ ایک لمحہ کے لئے مجھے بھی آگ نظر آئی تھی۔ یہ دراصل احمدیت کی مخالفت کی آگ تھی جو کشفاً آپؓ کو دکھائی دی۔ جلد ہی اُس مسجد سے سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت شروع ہوگئی۔
احمدیت قبول کرنے کے بعد آپؓ کو کئی بار زہر دیا گیا۔ رشتہ دار آپ کی دعوت کرتے اور میٹھے میں زہر ملا دیتے۔ جب آپؓ کھانے کے لئے بیٹھتے تو آواز آتی مت کھاؤ۔ لیکن گھر والے بار بار میٹھا لینے کے لئے اصرار کرتے۔ اُس وقت ایک غیبی اور پُرہیبت آواز آتی کہ مت کھاؤ۔ ایک بار آپ نے گھر والوں کا دل رکھنے کے لئے ایک چمچہ کھا لیا۔ غیبی آواز بہت غصہ میں تبدیل ہو گئی ’’تم کو کتنی دفعہ منع کیا مت کھاؤ مت کھاؤ‘‘۔ آپ جلدی سے گھر آئے اور چھوٹے بھائی کو صرف اتنا بتا سکے کہ مجھے فلاں شیشی سے دوا دیدو۔ یہ کہہ کر بیہوش ہو گئے۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے ہر بار اپنے فضل سے آپؓ کو بچا لیا۔
ایک مرتبہ ایک شخص مریض دکھانے کے بہانے آپؓ کو اپنے گھر لے گیا۔ جیسے ہی دروازہ پر پہنچے تو آپؓ کو محسوس ہوا کہ اندر نہیں جانا چاہئے۔ مگر چونکہ حکیم تھے اور کام ہی مریض کو دیکھنا تھا اس لئے اﷲ کا نام لے کر گھر میں داخل ہوگئے۔ اچانک دو لمبے تڑنگے آدمی قدموں میں گرگئے۔ گھر میں با لکل اندھیرا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کون ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں نے ہمیں لالچ دیا تھاکہ آج حکیم صاحب کا کام تمام کردو تو تم کو اتنی رقم دیں گے۔لیکن آپ کو دیکھتے ہی ہمارے ہاتھ سے ہتھیار گر گئے آپ ہمیں معاف کر دیں۔
آپؓ کے گھوڑے جس جگہ باندھے جاتے تھے اس کی چھت گھاس پھونس کی تھی ۔اس میں مخالفین اکثر آگ لگا دیتے تھے لیکن وہ آگ سلگ سلگ کر خود ہی ختم ہو جاتی تھی۔
آپؓ کی قبولیت دعا کے بہت سے واقعات محفوظ ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شادی کے دوران ایک عزیزہ کا ہار گُم گیا۔ جب ڈھونڈنے سے بھی نہ ملا تو اُس نے آپؓ سے دعا کی درخواست کی۔ آپؓ نے دعا کی تو آواز آئی: بیٹھک، بیٹھک۔ جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو آپؓ نے پھر دعا شروع کی تو آواز آئی: نوار نوار۔ گھر والوں نے دونوں لفظوں کو جوڑا اور پھر بیٹھک میں پڑا ہوا نوار کا پلنگ کھڑا کرکے اُس کو جھاڑا تو اُس کی دونوں تہوں کے درمیان میں سے ایک تھیلی گری جس میں وہی ہار موجود تھا۔ آپؓ نے وہاں موجود عزیزوں کو منع کیا کہ اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کریں اور پھر کہا کہ ایسی جگہ جہاں پر زیادہ لوگ ہوں، اپنی چیز کی حفاظت خود کرنی چاہئے اور کسی غریب کو امتحان میں نہیں ڈالنا چاہئے۔
ایک دفعہ رمضان میں روزہ رکھ کر آپ کسی ہندو مریض کو دیکھنے چلے گئے۔ ہندو گھروں سے آپؓ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ واپسی رات کے وقت ہوئی اور اتنی کمزوری محسوس ہوئی کہ آپؓ جنگل میں ہی لیٹ گئے اور آنکھ لگ گئی۔ پھر کھانے کی خوشبو سے آنکھ کھلی۔ دیکھا تو ایک تھال میں پلاؤ رکھا تھا لیکن کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہے اور پیٹ بھر کر کھایا۔ پھر وہ تھال درخت پر لٹکا دیا جو بعد میں بھی وہیں لٹکتا رہا۔
اسی قسم کے ایک دوسرے موقع پر بھی جب آپؓ نقاہت کی وجہ سے لیٹ گئے تو خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص گرم روٹیاں اور بُھنا ہوا گوشت لایا ہے۔ آپؓ نے خواب ہی میں کھانا کھالیا اور جب آنکھ کھلی تو جسم میں طاقت اور توانائی ایسی ہی تھی کہ گویا کھانا کھایا ہوا ہے۔
ایک بار اپنی بیٹی کے پوچھنے پر آپؓ نے بتایا کہ قبولیتِ دعا کے لئے رزق حلال کھاؤ، دل میں خوفِ خدا ہو، ﷲ تعالیٰ پر توکّل ہو، پاک صاف رہو اور ہمیشہ سچ بولو۔
آپؓ جب کسی سود خور کا علاج کرتے تو اُس سے ملنے والی فیس کو اپنے گھر میں استعمال کرنے کی بجائے غرباء میں تقسیم کردیتے تھے۔
تقسیم ہند کے بعد آپؓ پہلے لاہور آئے پھر پنڈی چلے گئے۔ دونوں جگہ سامان سے بھرے ہوئے مکان الاٹ ہوئے لیکن آپؓ نے کہا کہ جیسے میرا دل اپنا بھرا ہوا گھر چھوڑنے سے دُکھا ہے ایسے ہی دوسروں کا دل بھی دُکھا ہوگا۔ مجھے صرف خالی مکان اور خالی دکان چاہئے۔ جب پنڈی میں بھی دل نہ لگا تو آپؓ نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا کہ کراچی کا کرایہ معلوم کرو۔بیٹے نے کہا: آپ کسی سے فیس بھی نہیں لیتے تو کرایہ کہاں سے آئے گا۔ آپ نے کہا ہم دعا کر رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی آپؓ کو باہر راستہ میں ایک صاحب ملے اور بڑی معذرت کے ساتھ کچھ رقم پیش کی کہ آپؓ سے علاج کروایا تھا اور اب حالت اچھی ہے۔ آپؓ نے اُن کے اصرار پر رقم لے لی اور گھر لاکر گنی تو وہ کراچی کا پورا کرایہ تھا۔ آپؓ کراچی اس لئے بھی آنا چاہتے تھے کہ وہاں آپؓ کی بڑی بیٹی نور جہاں صاحبہ اہلیہ مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب رہتی تھیں۔ چنانچہ کراچی پہنچے، کچھ دن بیٹی کے پاس رہنے کے بعد ایک بڑی دکان جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ بھی تھا، کرایہ پر لے لی۔ دکان میں مطب کھل گیا اور کمرہ میں فیملی نے رہائش رکھ لی۔ رات کو گھر کے لوگ مطب میں سوجاتے۔
ایک روز ایک ہندو آیا کہ اُس کے باپ کی حالت بہت نازک تھی۔ آپؓ نے جاکر دیکھا۔ بظاہر وہ چند گھنٹوں کا مہمان تھا۔ ہندو کہنے لگا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ان کو چھوڑ کر دہلی چلے جاؤ مگر میرا دل نہیں مانتا کہ زندہ باپ کو کیسے چھوڑ کر چلا جاؤں۔ آپؓ نے دعا کرکے دوا کی ایک چٹکی مریض کے منہ میں ڈال دی تو تھوڑی دیر بعد مریض نے آنکھیں کھول دیں اور دو دن بعد سفر کے قابل ہو گیا۔ اس ہندو نے پوچھا: مَیں کیا خدمت کروں؟ آپؓ نے کہا کہ ہمیں اس وقت رہنے کے لئے خالی مکان اور مطب کے لئے خالی دکان چاہیے۔ اُس نے کہا کہ دکان تو میرے پاس نہیں ہے جبکہ مکان کو بیچ چکا ہوں مگر خریدار کو پیسے واپس کرکے مَیں مکان آپ کو دے سکتا ہوں۔ اور پھر وہ مکان اس نے آپؓ کو دیدیا۔
اسی طرح ایک مریض کو ڈاکٹروں نے جواب دیدیا تو آپؓ کی دوا سے مریض ٹھیک ہونے لگا۔ لوگوں نے حیرت سے کہا کہ یہ تو معجزہ ہے، مُردہ زندہ ہوگیا ہے۔ آپؓ نے فیس بھی قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پیسے آپ لیتے نہیں اس کے علاوہ ہم آپ کی کیا خدمت کریں تو آپؓ نے کہا کہ مجھے مطب کے لئے ایک خالی دکان چاہئے۔ اُن صاحب نے کئی دکانیں بنا کر کرایہ پر دی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک دکان بغیر کرایہ کے پیش کی۔ آپؓ نے اصرار کیا کہ کرایہ ضرور دیں گے۔ بتایا گیا کرایہ 80 روپے ہے۔ چنانچہ دکان بھی مل گئی اور معجزہ یہ ہوا کہ یہ دکان آپؓ کے مکان کے سامنے سڑک کے دوسری طرف واقع تھی۔
اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مکان اور دکان دیدی تھی لیکن گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا۔ آپؓ بچوں کو ساتھ لے کر اجتماعی دعا بھی کرتے۔ ایک دن تقریباً 11 بجے کے قریب ایک صاحب آئے اور آپؓ کو پانچ سو روپے دے کر کہا کہ فلاں تکلیف کے لئے دوا بنا دیں ایک ہفتہ بعد آکر لے لوں گا۔ آپؓ نے کہا ہم پہلے پیسے نہیں لیتے، جب آپ دوا لینے آئیں تو اُس وقت پیسے دیں۔ مگر اس شخص نے بہت اصرار کرکے پیسے دیئے اور چل دیا۔ آپؓ کے بیٹے اُس کا نام اور پتہ معلوم کرنے پیچھے گئے لیکن باہر موجود تمام لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ آپؓ نے فرمایا وہ فرشتہ تھا اور یہ غیبی امداد تھی۔
آپؓ کے بڑے بیٹے عبدالواحد صدیقی کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ ڈاکٹر کہتے تھے کہ بیوی کا اپریشن کروانا پڑے گا۔ آخر بیوی کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ۔ آپریشن والے دن بیٹے نے آپؓ کو دعا کے لئے کہا تو آپؓ نے فرمایا کہ تم کو کتنی دفعہ کہا ہے کہ ہم دعا کر رہے ہیں، تم بھی دعا کرو، میرے مولا کو اگر اولاد دینی ہے تو اسی سے دے گا۔ مَیں چھوٹی جان کے لئے بڑی جان قربان نہیں کر سکتا۔ تب بیٹا اپنی بیوی کو گھر لے آیا۔ ایک سال کے بعد لڑکی پیدا ہوئی۔ آپؓ نے شکر کا سجدہ کیا اور کہا کہ اب انشااﷲ لڑکا ہو گا۔پھر ایک سال بعد لڑکا ہوا۔ یہ دونوں بچے صاحبِ اولاد ہیں۔
اپنی بڑی بیٹی کی وفات کے بعد آپؓ نے مطب چھوڑ دیا اور گھر پر ہی رہتے تھے۔ گھر آنے والوں کو حضرت مسیح موعودؑ، حضرت خلیفہ اوّلؓ اور حضرت خلیفہ ثانیؓ کے واقعات سناتے اور کہتے کہ خلیفہ ثالث اور خلیفہ رابع کا دَور بہت سخت ہو گا۔بہت مشکلات ہوں گی۔ اطاعت امیر پر بہت زور دیتے تھے۔مربیان اور واقفین زندگی کا احترام اور اُن کا خیال رکھنا سب کا فرض سمجھتے۔ حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کا درسِ حدیث یاد کر کے رقّت طاری ہو جاتی۔
آپؓ خود تو تہجد کے لئے کافی پہلے اُٹھتے مگر بچوں کو فجر کی نماز سے آدھ پون گھنٹہ قبل اُٹھاکر کہتے کہ تم لوگ چاہے دو نفل پڑھو مگر معنی سمجھ کر پڑھو۔ پھر فجر کی نماز باجماعت ہوتی جس کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور حدیث اور ملفوظات بچوں سے پڑھوا کر سنتے۔ اسی طرح مغرب کی نماز کے بعد کشتی نوح اور دیگر کتب بچوں سے پڑھوا کر سنتے۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا اور ایک بڑی تعداد میں لوگ احمدیت میں داخل کئے۔ آپؓ کے ایک پڑوسی تحصیلدار اور اُن کی اہلیہ بھی احمدی ہوئے۔ آپؓ کے بھائی اور والد سمیت متعدد رشتہ داروں نے آپؓ کے ذریعہ بیعت کی توفیق پائی تھی۔ والد محترم حکیم محمد عبدالغنی صاحب نے 98 سال کی عمر میں قادیان میں بیعت کی تھی۔
حضرت حکیم عبدالصمد صاحبؓ موصی تھے۔ وفات کے بعد بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں آپؓ کی تدفین ہوئی۔
حضرت حکیم صاحبؓ نے اپنی وفات کے بعد بھی اپنے بچوں کو خواب میں آکر مختلف دعائیں اور دوائیں بتائیں۔ آپؓ کی بیٹی (اہلیہ عبدالرحیم بیگ صاحب) چھوٹے بھائی بہنوں کی وجہ سے پریشان تھیں تو آپؓ نے خواب میں آکر کہا کہ تم کیوں پریشان ہوتی ہو، ہم نے تو اپنا سب کام اﷲ کے سپرد کر دیا ہے۔ پھر آپؓ نے ایک دعا باربار پڑھواکر یاد کروائی۔ صبح جب بیٹی کی آنکھ کھلی تو وہ دعا زبان پر جاری تھی۔ اسی خواب میں آپؓ نے بیٹی کو بیٹا پیدا ہونے کی بشارت بھی دی۔ اُس وقت اُن کی چار لڑکیاں تھیں اور آپؓ نے ان لڑکیوں کی شادیاں قریش خاندانوں میں ہونے کی بشارت بھی دی۔ پھر لڑکے کے بعد ایک اور لڑکی کی پیدائش کی بشارت دی جو بہت نیک صفات اور بہت مبارک ہوگی۔ اس خواب کے ایک سال بعد لڑکا پیدا ہوا اور تین سال بعد لڑکی پیدا ہوئی۔ خواب حرف بحرف پوری ہوئی۔ جب لڑکی جوان ہوئی، اس کی شادی ہوئی، دو بچے ہوئے۔ پھر اس لڑکی کا اپنڈکس کا اپریشن ہوا لیکن ٹانکوں میں پیپ پڑگئی تو اس کی والدہ بہت پریشان ہوئیں اور کہنے لگیں کہ ابا جان ایک تیل بناتے تھے جس سے آرام آجاتا تھا لیکن معلوم نہیں کہ کیسے بناتے تھے۔ اس کے بعد حضرت حکیم صاحبؓ اُن کے خواب میں آئے اور بتایا کہ پاؤبھر تیل کو خوب گرم کرو پھر چولہا بند کرکے اس میں دو کھانے کے چمچ رتن جوت ڈال دو۔ پھر چھان کر بوتل میں رکھ لو۔ اس تیل سے لڑکی کا پیپ خشک ہو گیا ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کیسا ہی زخم ہو اس تیل سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

حضرت حکیم عبدالصمد صاحبؓ” ایک تبصرہ

  1. السلام علیکُم و رحمۃاللہ و برکاتہ ۔ حضرت حکیم عبدالصمد صدیقی صاحب دہلوی جو کہ میرے دادا تھے- 1905ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لے گئے تھے تو دادا جان نے صرف 17 سال کی عمر میں آپ کو دیکھتے ہی بیعت کرلی تھی- دہلی میں دادا جان کی بہت بڑی حویلی تھی جس کے بالکُل سامنے خواجہ میر درد جو صوفی شاعر تھے اُُن کی حویلی تھی- بیعت کے بعد داداجان اور سارا خاندان قادیان چلا گیا تھااور پارٹیشن کے وقت قادیان سے ہی پاکستان آئے تھے میرے والد مُحترم حضرت حکیم عبدالماجد صدیقی جو کہ موصی تھے اُن کا انتقال 5 اگست 1990ء کو ہؤا تھا اور اُن کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X