حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب خلیفۃالمسیح الاوّل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اُس عظیم خدمتِ اسلام کے لئے جو آپؑ کے سپرد کی گئی تھی، ایک معین و مددگار کے عطا ہونے کے لئے دعا کی تو آپؑ کو ایک فاروق کی بشارت دی گئی جو حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ کے وجود میں پوری ہوئی۔ چنانچہ آپؑ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی اور دعا کو قبول کیا اور ربّ العالمین کی رحمت نے جوش مارا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا جو میرے مددگاروں کی آنکھ ہے اور اُن مخلص دوستوں کا خلاصہ ہے جو دین کے بارے میں میرے دوست ہیں۔ اس کا نام نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے… مجھ کو اس کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جداشدہ عضو مل گیا اور ایسا سرور ہوا جس طرح کہ حضرت نبی کریمﷺ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ کے ملنے سے خوش ہوئے تھے‘‘ ، ’’اور جب وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے ملا اور میری نظر اُس پر پڑی تو مَیں نے اس کو دیکھا کہ وہ میرے ربّ کی آیات میں سے ایک آیت ہے اور مجھے یقین ہوگیا کہ میری اسی دعا کا نتیجہ ہے‘‘۔
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ مئی 2000ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں تحریر ہے کہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات یوں بیان فرماتے ہیں کہ ایک بہت تعلیم یافتہ شخص جو مسلمان کہلاتا تھا میرا اُس سے حضرت نبی کریمؐ کی نبوت کے معاملہ میں مباحثہ ہوا ۔ آخرکار اُس نے تسلیم کیا کہ وہ آپؐ کو خاتم النبیین یقین کرتا ہے۔ جب مَیں نے اُس سے دلیل پوچھی تو میرا خیال درست نکلا کہ اُس نے یہ اقرار محض پیچھا چھڑا نے کے لئے کیا ہے۔اُس نے کہا کہ آپؐ بہت دانا تھے اور چونکہ آپؐ کو علم تھا کہ لوگوں کی عقلیں بہت بڑھ گئی ہیں اسلئے آئندہ ایسا زمانہ نہیں آئے گا کہ لوگ کسی کو مُرْسَل یا مہبطِ وحی مان سکیں، اسلئے آپؐ نے (نعوذ باللہ) خاتم النبیین ہونے کا دعویٰ کردیا۔ یہ سُن کر میرے دل کو سخت صدمہ ہوا کہ یہ شخص بڑا ہی بیباک ہے اور اولیائے کرام کے حالات سے بھی نابلد معلوم ہوتا ہے۔ اُنہی دنوں وہاں کے وزیراعظم نے مجھے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک اشتہار دیا جس میں اُس شخص کے اعتراض کا بیّن جواب تھا۔ مَیں نے یہ اشتہار اُسے دکھایا کہ اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے۔ پھر فوراً اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیق کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑا اور سفر میں نہایت اضطراب سے دعائیں کیں۔
قادیان میں جہاں یکّہ ٹھہرا وہاں ایک بڑا محراب دار دروازہ نظر آیا جس کے اندر چارپائی پر ایک ذی وجاہت آدمی بیٹھا نظر آیا۔ یکہّ بان نے اُس رشائل مشبہ داڑھی والے شخص کی طرف اشارہ کیا کہ یہی مرزا صاحب ہیں۔ مگر خدا کی شان! اس کی شکل دیکھتے ہی میرے دل میں ایسا انقباض پیدا ہوا کہ مَیں نے یکّے والے سے کہا کہ ذرا ٹھہرو، مَیں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا۔ اُس شخص کی شکل ہی میرے واسطے ایسی صدمہ دِہ تھی کہ جس کو مَیں ہی سمجھ سکتا ہوں۔ آخر طوعاًو کرہاًمَیں اُس (مرزا امام الدین) کے پاس پہنچا۔ میرا دل ایسا منقبض اور اُس کی شکل سے متنفر تھا کہ مَیں نے السلام علیک تک بھی نہ کہا کیونکہ میرا دل برداشت ہی نہیں کرتا تھا۔ الگ ایک خالی چارپائی پڑی تھی۔ اس پر مَیں نہایت اضطراب اور تکلیف دِہ کیفیت میں بیٹھ گیا۔ دل میں سخت تحیّر تھا کہ میں یہاں آیا کیوں؟۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ مَیں نے نہایت روکھے الفاظ اور کبیدہ کبیدہ دل سے کہا کہ پہاڑ کی طرف سے آیا ہوں۔ تب اُس نے جواب میں کہا آپ کا نام نورالدین ہے اور آپ جموں سے آئے ہیں اور غالباً آپ مرزا صاحب کو ملنے آئے ہوں گے؟ بس یہ لفظ تھا جس نے میرے دل کو کس قدر ٹھنڈا کیا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص جو مجھے بتایا گیا ہے مرزا صاحب نہیں ہیں۔ اُس نے ایک آدمی مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا اور حضرت اقدسؑ نے اُس آدمی کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ نماز عصر کے وقت آپ ملاقات کریں۔ یہ بات معلوم کرکے میں معاً اٹھ کھڑا ہوا۔
چنانچہ آپؑ سیڑھیوں سے اترے تو مَیں نے دیکھتے ہی دل میں کہا: یہی مرزا ہے اور اس پر مَیں سارا ہی قربان ہوجاؤں۔
حضرت اقدس نے فرمایا: مَیں ہوا خوری کے لئے جاتا ہوں کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے؟۔ مَیں نے عرض کیا کہ ہاں۔ چنانچہ آپؑ دُور تک میرے ساتھ گئے اور مجھے یہ بھی فرمایا کہ امید ہے کہ آپ جلد واپس آجاویں گے۔ حالانکہ مَیں ملازم تھا اور بیعت وغیرہ کا سلسلہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ پھر مَیں آگیا اور ایسا آیا کہ یہیں کا ہورہا۔ مومن میں ایک فراست ہوتی ہے۔
راستہ میں مَیں نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا جس میں مَیں نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ کیا حضرت ابوہریرہؓ کو آپؐ کی احادیث بہت کثرت سے یاد تھیں اور کیا وہ آپؐ کی باتوں کو ایک زمانہ بعید تک بھی نہیں بھولا کرتے تھے؟۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ عرض کیا کہ کوئی تدبیر ہوسکتی ہے کہ جس سے آپؐ کی حدیث نہ بھولے۔ فرمایا کہ وہ قرآن شریف کی ایک آیت ہے جو مَیں تمہیں کان میں بتا دیتا ہوں، چنانچہ آپؐ نے اپنا منہ مبارک میرے کان کی طرف جھکایا اور دوسری طرف معاً ایک شخص نورالدین نام میرے شاگرد نے مجھے بیدار کردیا کہ ظہر کا وقت ہے۔
مَیں نے مرزا صاحب کے سامنے اسے پیش کیا کہ کیوں وہ معاملہ پورا نہ ہوا۔ اس پر آپ کھڑے ہوگئے اور میری طرف منہ کرکے ذیل کا شعر پڑھا:

من ذرّہ ز آفتابم ہم از آفتاب گویم
نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم

(یعنی میں سورج کا ایک ذرّہ ہوں اور سورج ہی کی بات کرتا ہوں۔ نہ مَیں شب ہوں نہ شب پرست کہ مَیں خواب کی باتیں کروں۔) پھر فرمایا کہ جس شخص نے آپ کو جگایا تھا اس کے ہم معنی کوئی آیت قرآن کریم کی ہے اور وہ یہ ہے لآیَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْن۔ غرض یہ پہلا بیج تھا جو میرے دل میں بویا گیا اور حضرت مرزا کی سادگی، جواب اور وسعت اخلاق اور طرزِ ادا نے میرے دل میں ایک خاص اثر کیا۔
آپؓ نے اس پہلی ملاقات میں ہی حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور! میری بیعت لے لیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس معاملہ میں کوئی قدم نہیں اٹھاسکتا۔ اس پر آپؓ نے عرض کیا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم آجائے، سب سے پہلے میری بیعت لی جائے۔ آپؑ نے فرمایا: ٹھیک ہے، انشاء اللہ آپ ہی کو پہلے بیعت کرنے کا موقعہ دیا جائے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ آپؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) وہ ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفّس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام)
پھر فرمایا: (ترجمہ) ’’مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجہ کا صدیق دیا جو رراستباز اور جلیل القدر فاضل ہے اور باریک بین اور نکتہ رس۔ اللہ تعالیٰ کے لئے مجاہدہ کرنے والا اور کمال اخلاص سے اس کے لئے ایسی اعلیٰ درجہ کی محبت رکھنے والا کہ کوئی محب اس سے سبقت نہیں لے گیا‘‘۔ (حمامۃالبشریٰ)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں