حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24 و 25 جون 2005ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے تفصیلی حالات مکرم مبشر احمد صاحب خالد کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ حضورؓ کے بارہ میں قبل ازیں متعدد مضامین اس کالم کی زینت بن چکے ہیں۔ ذیل میں چند وہ امور پیش ہیں جو مذکورہ مضامین میں اضافہ ہیں۔
سیّدنا حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ 1841ء میں بھیرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت نور بخت صاحبہ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں کے ساتھ حضرت عمر فاروقؓ تک اور والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب حضرت علیؓ تک پہنچتا ہے۔
حلیہ مبارک کے لحاظ سے آپؓ کا رنگ گندمی تھا، قد لمبا، داڑھی مبارک گھنی، شکل و صورت کے لحاظ سے نہایت وجیہ اور بارُعب شخصیت کے حامل تھے۔ آپ شروع سے ہی غضب کا حافظہ رکھتے تھے حتیّٰ کہ آپ کو اپنا دودھ چھڑانا بھی یاد تھا۔ آپ بچپن میں تیراکی کے بہت شوقین تھے، آپ کو بچپن ہی سے کتابوں کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حصول علم کی خاطر مکہ مدینہ اور بہت دور دراز کے علاقوں میں بھی تشریف لے گئے۔
تعلق باللّہ
حقیقت یہ ہے کہ آپؓ کو آغاز جوانی میں ہی عرفان الٰہی حاصل ہوچکا تھا جس کی وجہ سے آپ خدا کے ہوچکے تھے اور خدا آپ کا۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ مسجد اقصیٰ قادیان میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کے کچھ صحابہ جمع تھے۔ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید بھی وہاں موجود تھے جو کسی ضرورت کے پیش نظر اپنی جگہ سے اُٹھ کر ذرا باہر گئے۔ اتنے میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ تشریف لے آئے اور خالی جگہ پاکر حضرت صاحبزادہ صاحب کی جگہ پر بیٹھ گئے۔ جب حضرت صاحبزادہ صاحب واپس آئے تو کچھ غصہ کے انداز میں کہا کہ مولوی صاحب آپ کو معلوم نہیں کہ دوسرے کی جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہئے! حضرت مولوی صاحب اس جگہ سے اُٹھنے والے تھے کہ فوراً صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ نہیں نہیں آپ بیٹھے رہیں۔ ابھی ابھی مجھے الہام ہوا ہے کہ ’’اللہ کے پیارے بندوں سے نہیں جھگڑتے‘‘۔
٭ اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر معمولی تعلق اور توکل کے باعث حضورؓ کی ہر ضرورت کے پورا ہونے کا غیب سے سامان ہوجاتا تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’میری آمدنی کا راز خدا نے کبھی کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی‘‘۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کو جو ضرورت ہو اُسی وقت پوری ہوجاتی ہے۔ ایک دفعہ میرے سامنے ایک آدمی آیا اس نے دو سو روپیہ بطور امانت دو سال کے لئے دیا اور کہا کہ میں دو سال کے بعد آکر آپ سے لے لوں گا۔ ایک شخص جس نے ایک سو روپیہ قرض مانگا ہوا تھا۔ وہ بھی پاس ہی بیٹھا ہوا تھا، آپ نے ایک سو روپیہ اسے دیدیا اور رسید لے کر اس تھیلی میں رکھ لی اور تھیلی روپوں کی گھر بھجوا دی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہی امانت رکھوانے والا پھر آیا اور کہا کہ میرا ارادہ بدل گیا ہے وہ روپے مجھے دیدیں۔ آپ نے فرمایا کب جاؤ گے۔ اس نے کہا ایک گھنٹے کو۔ آپ نے فرمایا اچھا تم یکّہ وغیرہ کرو اور ایک گھنٹہ کو آکر مجھ سے روپیہ لے لینا۔ میں اس وقت آپ کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: دیکھو انسان پر بھروسہ کرنا کیسی غلطی ہے۔ میں نے غلطی کی۔ خدا نے بتلادیا کہ دیکھو تم نے غلطی کی۔ اب دیکھو میرا مولا کیسے میری مدد کرتا ہے۔ پھر وہ ایک سو روپیہ ایک گھنٹے کے اندر اندر آپ کو مل گیا اور آپ نے اسے دیدیا۔
٭ حضرت خلیفۃ المسح الاوّلؓ خود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اچھے استاد کی تلاش میں وطن سے دور چلا گیا۔ تین دن کا بھوکا تھا مگر کسی سے سوال نہیں کیا۔ میں مغرب کے وقت ایک مسجد میں چلا گیا۔ مگر وہاں کسی نے مجھے نہیں پوچھا اور نماز پڑھ کر سب چلے گئے۔ جب میںاکیلا تھا تو مجھے باہر سے آواز آئی نور الدین! نورالدین! یہ کھانا جلد آکر پکڑ لو۔ میں گیا تو ایک بڑا پرتکلف کھانا تھا۔ میں نے پکڑ لیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ کھانا کہاں سے آیا کیونکہ مجھے علم تھا کہ خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ میں نے خوب کھایا اور برتن مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ ایک کونٹھی پر لٹکا دیا۔ جب میں آٹھ دس دن کے بعد واپس آیا تو وہ برتن وہیں آویزاں تھا جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ کھانا گاؤں کے کسی آدمی نے نہیں بھجوایا تھا۔ خدا تعالیٰ ہی نے بھجوایا تھا۔
٭ ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ دارالضعفاء یا نور ہسپتال کے چندہ کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؓ نے فرمایا: میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔ مگر حضرت میر صاحب نے کئی بار اصرار کیا تو حضورؓ نے کپڑا اٹھایا اور وہاں سے ایک پاؤنڈ اٹھا کر دیدیا اور فرمایا: ’’اس پر صرف نورالدین نے ہاتھ لگایا ہے‘‘۔
٭ ایک دن عبد المحی عرب صاحب نے 40 روپے قرض چاہے۔ آپؓ نے فرمایا آج سے پندرھویں دن لے لیں۔ جب وقت آیا اتوار کا دن تھا کوئی منی آرڈر نہ پہنچا نہ کہیں سے روپیہ آیا۔ شام کے قریب حضرت اپنا کوٹ اور واسکٹ لٹکا کر وضو کے لئے گئے۔ عبد المحی صاحب نے آپ کا کوٹ اور واسکٹ کی جیبیں دیکھیں اور خالی پائیں مگر جب وضو کر کے واپس آئے تو کوٹ واسکٹ پہنا اور 40 روپے عبدالمحی صاحب کو نکال کر دیے اور فرمایا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ ہے جس سے کوئی واقف نہیں۔
٭ حضرت ملک غلام فرید صاحبؓ ایم اے کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اولؓ نے اپنے آخری ایام مرض میں میاں عبد الحئی صاحب کو درس دیتے ہوئے فرمایا: ’’کہ اب ہم جارہے ہیں جب کبھی مشکل پیش آئے خدا سے دعا کرنا کہ اے نورالدین کے خدا! جس طرح تُو نے نورالدین کی حاجت روائی کی ہے، میری بھی مشکل دور کر۔ میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس طرح تمہاری ضرورت بھی پوری کر دے گا۔ یہ فرماتے ہوئے آپ کی آواز نمایاں طور پر بھرّا گئی‘‘۔
٭ ایک مرتبہ ایک شخص نے جو افسر مدارس تھا اور حضورؓ بھی پنڈدادنخان میں مدرس تھے، آپؓ سے کسی بات پر کہا کہ آپ کو ڈپلومے کا گھمنڈ ہے۔ آپؓ نے اپنا ڈپلومہ منگواکر اسی وقت ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اُس افسر سے فرمایا کہ آپ نے اس کو باعث غرور تکبر، موجب روزی سمجھا ہے۔ میں نے اس کو پارہ پارہ کر کے دکھایا ہے کہ میرا ان چیزوں پر بھروسہ نہیں۔
توکل علی اللہ
آپؓ ہر بات میں اللہ تعالیٰ پر متوکل نظر آتے ہیں اور اُدھر ہر بات میں خود اللہ تعالیٰ آپ کا متولّی و متکفل دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں اگر کہیں جنگل بیابان میں بھی ہوں تب بھی خدا تعالیٰ مجھے رزق پہنچائے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں رہوں گا‘‘۔
٭ محترم حکیم محمد صدیق صاحب کی روایت ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ تین ساتھیوں کے ساتھ ہم راستہ بھول گئے اور کہیں دُور نکل گئے۔ کوئی بستی نظر نہیں آتی تھی۔ میرے ساتھیوں کو بھوک اور پیاس نے سخت ستایا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ نورالدین جو کہتا ہے کہ میرا خدا مجھے کھلاتا پلاتا ہے، آج ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح کھلاتا پلاتا ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں دعا کرنے لگا۔ چنانچہ جب ہم آگے گئے تو پیچھے سے زور کی آواز آئی۔ ٹھہرو، ٹھہرو۔ جب دیکھا تو دوشتر سوار تیزی کے ساتھ پاس آئے اور کہا کہ ہم شکاری ہیں۔ ہرن کا شکار کیا تھا اور خوب پکایا۔ گھر سے پراٹھے لائے تھے۔ ہم سیر ہو چکے ہیں اور کھانا بھی بہت ہے، آپ کھالیں۔ چنانچہ ہم سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ ساتھیوں کو یقین ہوگیا کہ نورالدین سچ کہتا تھا۔
٭ قریشی امیر احمد صاحب بھیروی کی شہادت ہے کہ ہمارے سامنے حضورؓ کی خدمت میں چھٹی رساں کتابوں کا ایک VP لایا جو سولہ روپے کا تھا۔ آپؓ نے فرمایا کہ یہ کتابیں مجھے پیاری ہیں اور میں نے بڑے شوق سے منگوائی ہیں لیکن اب ان کی قیمت میرے پاس نہیں ہے لیکن میرے مولا کا میرے ساتھ ایسا معاملہ ہے کہ سولہ روپے آئیں گے اور ابھی آئیں گے۔ چنانچہ ہم بیٹھے ہی تھے کہ ایک ہندو اپنا بیمار لڑکا لے کر آیا۔ حضرت نے نسخہ لکھ دیا۔ ہندو ایک اشرفی اور ایک روپیہ رکھ کر چل دیا۔ آپ نے اسی وقت سجدہ شکر کیا اور فرمایا کہ میں اپنے مولا پر قربان جاؤں کہ اس نے تمہارے سامنے مجھے شرمندہ نہیں کیا، اگر یہ شخص مجھے کچھ بھی نہ دیتا تو میری عادت ہی مانگنے کی نہیں۔ پھر ہوسکتا تھا کہ وہ صرف ایک روپیہ دیتا یا اشرفی ہی دیتا۔ مگر میرے مولا نے اسے مجبور کیا کہ میرے نورالدین کو سولہ روپے کی ضرورت ہے اس لئے اشرفی کے ساتھ روپیہ بھی ضرور رکھو۔
٭ اسی طرح آپؓ فرماتے ہیں کہ جموں میں حاکم نام ایک ہندو پنساری ہمیشہ نصیحتاً کہا کرتا تھا کہ ہر مہینہ ایک سو روپیہ پس انداز کر لیا کریں، یہاں مشکلات پیش آجاتی ہیں۔ میں ہمیشہ یہی کہتا کہ ایسے خیالات کرنا اللہ تعالیٰ پر بدظنّی ہے۔ جس دن میں وہاں سے علیحدہ ہوا اس دن وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ آج شاید آپ کو میری نصیحت یاد آئی ہوگی۔ میں نے کہا میں تمہاری نصیحت کو جیسا پہلے حقارت سے دیکھتا تھا آج بھی ویسا ہی حقارت سے دیکھتا ہوں۔ ابھی وہ مجھ سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ خزانہ سے چار سو اسّی روپیہ میرے پاس آئے کہ یہ آپ کی ان دنوں کی تنخواہ ہے۔ اس پنساری نے افسروں کو گالی دے کر کہا کہ نوردین تم پر نالش تھوڑا ہی کرنے لگا تھا!۔ ابھی وہ اپنے غصہ کو فرو نہ کرنے پایا تھا کہ ایک رانی صاحبہ نے بہت ساروپیہ بھجوایا اور کہا کہ یہ ہمارے جیب خرچ کا روپیہ ہے، جس قدر موجود تھا سب کا سب حاضر خدمت ہے۔ پھر تو اس کا غضب بہت ہی بڑھ گیا۔ مجھ کو ایک شخص کا ایک لاکھ 95 ہزار روپیہ دینا تھا۔ اس پنساری نے اشارہ کیا کہ بھلا جن کا آپ کو قریباً دو لاکھ روپیہ دینا ہے وہ آپ کو بدوں اس کے کہ اپنا اطمینان کر لیں کیسے جانے دیں گے؟ اتنے میں اُنہی کا آدمی آیا اور بڑے ادب سے کہنے لگا کہ میرے پاس ابھی تار آیا ہے، میرے آقا فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو تو جانا ہے، ان کے پاس روپیہ نہ ہوگا اس لئے تم ان کا سب سامان گھر جانے کا کردو اور جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت ہو دیدو اور اسباب کو اگر وہ ساتھ نہ لے جا سکیں تو تم اپنے اہتمام سے بحفاظت پہنچوادو۔ میں نے کہا مجھ کو روپیہ کی ضرورت نہیں۔ خزانہ سے بھی روپیہ آگیا ہے اور ایک رانی نے بھی بھیج دیا ہے اور اسباب میں سب ساتھ ہی لے جاؤں گا۔ وہ ہندو پنساری کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ پر میشروں کے یہاں بھی کچھ لحاظ داری ہوتی ہے۔ ہم لوگ صبح سے لے کر شام تک کیسے کیسے دکھ اٹھاتے ہیں تب کہیں بڑی دقّت سے روپیہ کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ اس احمق کو دیکھو اپنے روپیہ کا مطالبہ تو نہ کیا اَور دینے کو تیار ہوگیا۔ میں نے کہا خدا تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے، ہم اس کا روپیہ انشاء اللہ بہت جلد ادا کردیں گے۔ تم ان بھیدوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
٭ ایک دفعہ آپ کی بیماری کے دنوں میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ نے عرض کیا کہ اگر پسند کریں تو حاذق الملک کو دہلی سے بلوالیا جائے۔ فرمایا: ’’خدا پر توکل کرو۔ میرا بھروسہ نہ ڈاکٹروں پر ہے نہ حکیموں پر۔ میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور اُسی پر تم بھروسہ کرو۔‘‘
٭ حضرت عرفانی صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت مسیح موعودؑ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور گئے ہوئے تھے۔ حضورؑ نے وہاں سے کہلا بھیجا کہ مولوی نور الدین صاحبؓ اور شیخ یعقوب علی صاحب فوراً پہنچ جائیں۔ چنانچہ ہم دونوں دوبجے دوپہر یکہ پر بٹالہ کی طرف چل پڑے۔ اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت مولوی صاحب کہا کرتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ … میں کبھی بھوکا نہیں رہوں گا‘‘۔ آج ہم بے وقت چلے ہیں، پتہ لگ جائے گا کہ رات کو ان کے کھانے کا کیا انتظام ہوتا ہے۔
بٹالہ میں مقامی جماعت کی طرف سے ایک مکان بطور مہمان خانہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں ہم دونوں چلے گئے۔ حضرت مولوی صاحبؓ ایک چارپائی پر لیٹ کر کتاب پڑھنے لگ گئے۔ قریباً شام چھ بجے ایک اجنبی شخص آیا اور کہنے لگا: میں نے سنا ہے کہ آج مولوی نورالدین صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ پھر آپؓ سے کہنے لگا: حضور! آج شام کی دعوت میرے ہاں قبول فرمائیے، میں ریلوے میں ٹھیکیداری کرتا ہوں اور میری ٹرین کھڑی ہوئی ہے اور میں نے امرتسر جانا ہے۔ میرا ملازم حضور کے لئے کھانا لے آئے گا۔ آپؓ نے فرمایا: بہت اچھا۔ چنانچہ شام کو اُس کا ملازم بڑا پُرتکلف کھانا لایا جسے ہم دونوں نے سیر ہو کر کھالیا۔ پھر ہم اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں چلے آئے۔ گاڑی رات کے دس بجے کے بعد آتی تھی۔ میں نے آپؓ کا بستر کھول دیا تاکہ آپؓ آرام فرمالیں۔ جب بستر کھلا تو اس کے اندر سے دو پراٹھے نکلے جن کے ساتھ قیمہ رکھا ہوا تھا۔ میں سخت حیران ہوا کہ یہ خدا کی طرف سے اَور کھانا بھی آگیا۔ پھر مَیں نے چلتے وقت اپنے دل کا حال حضورؓ کو بتایا تو آپؓ نے فرمایا: ’’شیخ صاحب اللہ تعالیٰ کو آزمایا نہ کرو اور خدا سے ڈرو۔ اُس کا میرے ساتھ خاص معاملہ ہے‘‘۔
عشق قرآن
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ قرآن کریم کے عاشق صادق تھے۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا، آیات قرآنیہ پر گھنٹوں غور و فکر کرتے رہنا اور جہاں بھی ہوں درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھنا۔ یہ آپ کے روزمرہ کے چیدہ پسندیدہ اور محبوب و مرغوب مشاغل تھے۔آپؓ کے چند ارشادات یوں ہیں:
٭ ’’میں نے اپنی ماں کے پیٹ میں قرآن مجید سنا۔ پھر گود میں سنا اور پھر اُن سے ہی پڑھا۔‘‘
٭ ’’قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دائرے زلف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا اک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔ بعض وقت تو میں حیران ہوجاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں۔‘‘
٭ ’’میں نے قرآن کریم بہت پڑھا ہے اور اب تو میری غذا ہے۔ اگر آٹھ پہر میں خود نہ پڑھوں اور نہ پڑھاؤں اور میرا بیٹا میرے سامنے آکر نہ پڑھے تو میں اس کا وجود بھی نہیں سمجھتا۔ سونے سے پہلے وہ آدھ پارہ مجھے سنا دیتا ہے۔ غرض میں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ میری غذا ہے‘‘۔
٭ ’’بعض وقت میں نے قرآن کے تین تین لفظوں کو علیحدہ چھانٹ کر دیکھا ہے کہ اُنہی تین الفاظ سے میں دنیا کے تمام مذاہب کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔‘‘
٭ ’’میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع ایک انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔ جس باغ میں مَیں رہتا ہوں اگر لوگوں کو خبر ہوجاوے تو مجھے بعض دفعہ خیال گزرتا ہے کہ میرے گھر سے قرآن نکال کرلے جاویں۔‘‘
آپؓ درس قرآن بڑی ہی محبت، لگن اور باقاعدگی سے دیتے تھے۔ حتیّٰ کہ جب مرض الموت میں مبتلا تھے اور کمزور ونحیف ہوچکے تھے تب روزانہ دو آدمیوں کا سہارا لے کر درس دینے کے لئے تشریف لے جاتے۔ جب سہارا لے کر چلنے کی بھی سکت نہ رہی تو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اب آپ درس دینا بند کردیں۔ اس پر آپؓ نے فرمایا: ’’قرآن کریم میری روح کی غذا ہے اس کے بغیر میرا زندہ رہنا محال ہے۔ لہٰذا درس میں کسی حالت میں بھی بند نہیں کرسکتا۔ بول تو میں سکتا ہوں خدا کے آگے کیا جواب دوں گا۔درس کا انتظام کرو کہ میں قرآن کریم سنا دوں۔‘‘
وفات سے قبل اپنے بیٹے عبد الحئی کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی: ’’تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنا، پڑھانا اور عمل کرنا۔ میں نے بہت کچھ دیکھا پر قرآن جیسی چیز نہیں دیکھی۔ بے شک یہ خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔‘‘
وفات سے چند روز قبل جماعت کے نام جو وصیت تحریر فرمائی اس وصیت کے آخری الفاظ یہ تحریر فرمائے: ’’قرآن وحدیث کا درس جاری رہے‘‘۔
آپ کی قرآن فہمی اور تفسیر بیانی کو حضرت مسیح موعودؑ کی نگاہ میں خاص مقام حاصل تھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ جس طرح ان کے دل میں قرآن کریم کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ایسی محبت مَیں کسی اور کے دل میں نہیں دیکھتا۔ آپ قرآن کے عاشق ہیں اور آپ کے چہرہ پر آیاتِ مبین کی محبت ٹپکتی ہے۔ آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نور ڈالے جاتے ہیں۔ پس آپ نوروں کے ساتھ قرآن شریف کے وہ دقائق دکھاتے ہیں۔ جو نہایت بعیدو پوشیدہ ہوتے ہیں۔ آپ کی اکثر خوبیوں پر مجھے رشک آتا ہے… جب کبھی آپ کتاب اللہ کی تاویل وتفسیر کی طرف توجہ کرتے ہیں تو اسرار کے قلعے کھول دیتے، لطائف کے چشمے بہا دیتے، عجیب وغریب پوشیدہ معارف ظاہر کرتے، دقائق کے ذرّات کی تدقیق کرتے اور حقائق کی انتہا تک پہنچ کر کُھلا کُھلا نور لاتے ہیں۔
حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ عاشقانہ تعلق
حضرت مولوی صاحبؓ کی سیرت طیبہ کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی عقیدت، محبت، فدائیت اور اطاعت میں عدیم المثال مقام کے حامل تھے۔ حضورؑ کے ایک اشارہ پر اپنا وطن بھیرہ اور اپنا کاروبار اور اپنی تمام املاک اور جائیداد چھوڑ چھاڑ کر قادیان میں درِ محبوب پر دھونی رما کر بیٹھ گئے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ہزار روپیہ روزانہ بھی مجھے دے تو پھر بھی میں حضرت صاحب کی صحبت چھوڑ کر قادیان سے باہر جانے کے لئے تیار نہیں۔
٭ مہاراجہ کشمیر نے آپؓ کو نوکری سے برخواست کیا تو آپؓ قادیان آگئے۔ راجہ کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اُس نے کئی مرتبہ آپؓ کو واپس بلانا چاہا لیکن آپؓ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ ’’اب میں ایسی جگہ پہنچ چکا ہوں کہ اگر مجھے ساری دنیا کی حکومت بھی مل جائے تو میں اس جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
٭ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور الدین معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے (اس کا نمونہ ان کے خط کی چند سطور سے ہوتا ہے) اور وہ سطریں یہ ہیں: عالی جناب ! میری دعا ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام الزمان سے، جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے، وہ مطالب حاصل کروں اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دیدوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہوتو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دے دوں۔ میں آپ کی راہ میں قربان ہوں میرا جو کچھ ہے، میرا نہیں، آپ کا ہے۔ حضرت پیرومرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال ودولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجائے میں مراد کو پہنچ گیا … مجھے آپ سے نسبتِ فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔‘‘
٭ حضورؑ مزید فرماتے ہیں کہ: ’’انہوں نے ایسے وقت میں بلاتردد مجھے قبول کیا کہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہدبیعت فسخ کردیا تھا اور بہتیرے سست اور متذبذب ہوگئے تھے۔ تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے‘‘۔
٭ 1896ء میں حضرت مولوی صاحبؓ حضرت مسیح موعودؑ کی اجازت سے نواب صادق محمد صاحب رابع نواب بہالپور کے علاج کیلئے بہالپور تشریف لے گئے۔ نواب صاحب موصوف نے آپ کو بہاولپور میں رہنے اور ساٹھ ہزار ایکڑ زمین دینے کی پیش کش کی مگر آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ اس قدر زمین سے کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ آپ اس سے امیر کبیر ہوجائیں گے۔ آپ نے پوچھا کہ اب تو آپ ہمارے پاس چل کر آتے ہیں کیا پھر بھی آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ تب آپ نے ارشاد فرمایا: پھر فائدہ ہی کیا ہے۔
٭ حضرت مسیح موعودؑ آپؓ کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اور میرے سب دوست متقی ہیں لیکن ان سب سے قوی بصیرت اور کثیرالعلم اور زیادہ تر نرم اور حلیم اور اکمل الایمان والاسلام اور سخت محبت اور معرفت اور خشیت اور یقین اور ثبات والا ایک مبارک شخص بزرگ، متقی، عالم، صالح، فقیہ ، اور جلیل القدر محدث اور عظیم الشان حاذق حکیم، حاجی الحرمین، حافظ القرآن ، قوم کا قریشی ، نسب کا فاروقی ہے جس کا نام نامی مع لقب گرامی مولوی حکیم نور الدین بھیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو دین و دنیا میں بڑا اجر دے اور صدق و صفا اور اخلاص اور محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں میں سے وہ اول نمبر پر ہے… رقیق القلب ، صاف طبع، حلیم، کریم اور جامع الخیرات، بدن کے تعہد اور اس کی لذات سے بہت دُور ہے۔ بھلائی اور نیکی کا موقع اس کے ہاتھ سے کبھی فوت نہیں ہوتا…۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجہ کا صدیق دیا جو راستباز اور جلیل القدر فاضل ہے اور باریک بین اور نکتہ رس۔ اللہ تعالیٰ کے لئے مجاہدہ کرنے والا اور کمال اخلاص سے اس کے لئے ایسی اعلیٰ درجہ کی محبت رکھنے والا ہے کہ کوئی محب اس سے سبقت نہیں لے گیا۔‘‘
اطاعت امام
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اطاعت امام کا یہ عالم تھا کہ اپنے آقا کے ہر اشارہ پر لبیک کہنے میں فخر محسوس کرتے۔ جس وقت اور جس حالت میں بھی آپ کو حضورؑ کا کوئی پیغام ملتا تو آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بغیر ایک لمحہ کے توقف کے تعمیل ارشاد کیلئے اُٹھ کھڑے ہوتے۔ جوتا بھی چلتے چلتے پہنتے اور پگڑی بھی چلتے چلتے باندھتے۔ اور یہاں تک کہ اگر خطبہ کے درمیان میں بھی پیغام ملا ہے تو خطبہ چھوڑ کر حاضر خدمت ہوگئے۔
٭ اکتوبر 1905ء میں حضورؓ دہلی گئے تو حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ بیمار ہوگئے۔ اس پر حضورؑ کو خیال آیا کہ حضرت مولوی صاحبؓ کو بھی دہلی بلا لیا جائے۔ چنانچہ آپؓ کو تار دلوادیا جس میں تار لکھنے والے نے immediate یعنی بلاتوقف کے الفاظ لکھ دئیے۔ یہ تار آپؓ کو اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے ملا اور آپؓ اسی حالت میں فوراً چل پڑے۔ نہ گھر گئے نہ لباس بدلا، نہ بستر لیا۔ اور لطف یہ کہ ریل کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ گھر والوں نے پیچھے سے ایک آدمی کے ہاتھ کمبل تو بھجوادیا مگر خرچ بھجوانے کا انہیں بھی خیال نہ آیا۔ جب آپ بٹالہ پہنچے تو ایک متمول ہندورئیس نے اپنی بیوی کے لئے نسخہ لکھنے کی درخواست کی۔ آپؓ نے فرمایا: میں نے اس گاڑی پر دہلی جانا ہے۔ اس رئیس نے کہا: میں اپنی بیوی کو یہاں ہی لے آتا ہوں۔ چنانچہ وہ لے آیا۔ آپؓ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھ دیا۔ وہ ہندو چپکے سے دہلی کا ٹکٹ خرید لایا اور معقول رقم بطور نذرانہ بھی پیش کی اور اسی طرح آپ دہلی پہنچ کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
٭ حضرت مولوی صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے جو کچھ پایا ہے جو کچھ سیکھا ہے اپنے پیارے مطاع وامام سے سیکھا اور پایا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’لوگ اکسیر اور سنگ پارس تلاش کرتے پھرتے تھے۔ میرے لئے تو حضرت مرزا صاحب پارس تھے۔ میں نے ان کو چھواتو بادشاہ بن گیا۔‘‘
٭ نیز ایک موقع پر فرمایا: ’’میں نے آپ کی صحبت میں یہ فائدہ اٹھایا کہ دنیا کی محبت مجھ پر بالکل سرد پڑ گئی … یہ سب مرزا صاحب کی قوت قدسیہ اور فیض صحبت سے حاصل ہوا۔‘‘
٭ حضرت اقدس نے آپؓ کے بارہ میں ایک مرتبہ فرمایا: ’’یہ شخص ہزار عبد الکریم کے برابر ہے۔‘‘
٭ حضرت مسیح موعودؑ نے جب صدر انجمن احمدیہ کا قیام فرمایا تو حضرت مولوی صاحب کو اس کا صدر مقرر فرمایا اور ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ :
’’مولوی صاحب کی ایک رائے انجمن کی سو رائے کے برابر سمجھنی چاہئے‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ipHNZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں