حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی قبولیتِ دعا

ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ جون 2010ء کے انگریزی حصہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی قبولیتِ دعا کے حوالہ سے چند واقعات شامل اشاعت ہیں۔ حضورؒ نے خود بھی متعدد مواقع پر خداتعالیٰ کے حضور اپنی عاجزانہ دعاؤں کی قبولیت سے متعلق اظہار فرمایا ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں شامل بہت سے واقعات قبل ازیں ’الفضل ڈائجسٹ‘ کی زینت بنائے جاچکے ہیں اس لئے ذیل میں محض وہی واقعات ہدیۂ قارئین ہیں جو غالباً پہلی بار اس کالم میں شائع کئے جارہے ہیں:
= حضور رحمہ اللہ تعالیٰ ایک خطاب میں یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے ایک خط ملا کہ ہم دو افراد کو ایک جھوٹے مقدمہ میں موت کی سزا ہوگئی ہے۔ اس سزا کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔ اصل مجرم کی گرفت نہیں کی گئی۔ اب ہم رحم کی اپیل کرنے جارہے ہیں۔ پہلے مَیں نے یہ جواب لکھوانا چاہا کہ اپنے ربّ کی رضا پر راضی رہو لیکن پھر کسی غیبی طاقت نے مجھے یہ جواب لکھوانے سے روک دیا کہ اس سے یہ تأثر نہ ملے کہ انتہائی مشکل حالات میں شاید ہمارا خدا قادر نہیں ہے۔ چنانچہ مَیں نے یہ لکھوایا کہ ہمارا خدا قادر مطلق اور رحیم ہے اور مَیں اُس سے دعا کروں گا کیونکہ اس کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔
چنانچہ مَیں نے دعا کرنا شروع کی اور چند روز بعد ہی خط آیاعدالت نے ہی اُن کو بری کردیا ہے۔
= مکرم میاں محمد اسلم صاحب آف پتوکی لکھتے ہیں کہ مَیں نے 1963ء میں احمدیت قبول کی۔ 1965ء میں شادی ہوئی لیکن بارہ سال تک اولاد سے محروم رہا۔ کوئی علاج کارگر ثابت نہ ہوا۔ میرے سارے رشتہ دار غیراحمدی تھے اور کہتے تھے کہ یہ قادیانی ہونے کی وجہ سے بے اولاد مرے گا۔ میری بیوی بھی نااُمید ہوکر مجھ سے دوسری شادی کرنے کے لئے کہنے لگی۔ ان حالات کی اطلاع بغرض دعا جب مَیں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کو دی تو حضورؒ نے جواباً فرمایا کہ ’اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور نرینہ اولاد سے نوازے گا‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے چار بیٹے عطا فرمائے۔ اگرچہ لیڈی ڈاکٹر کا یہی خیال تھا کہ میری بیوی کبھی بھی ماں نہیں بن سکتی۔
= محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو کئی انعامات مل چکے تھے لیکن نوبل پرائز نہیں مل سکا تھا جس کے لئے انہوں نے 1978ء میں حضورؒ سے دعا کی درخواست کی۔ دعا کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے حضورؒ کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے ابھی تک ایسا کام نہیں کیا جس پر نوبل انعام ملے سکے تاہم اگلے سال وہ ایک کام کریں گے جس پر یہ انعام انہیں مل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوااور 1979ء میں محترم ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
= حضورؒ خود فرماتے ہیں کہ دورۂ افریقہ کے دوران سیرالیون میں ایک افریقی خاتون نے (جس کی شادی کو 39 سال ہوچکے تھے اور اس کے کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی) بار بار بیٹے کی پیدائش کے لئے دعا کی درخواست کی۔ گو بظاہر حالات ایسے نہیںتھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور شادی کے 40 سال بعد اُس کو بیٹے سے نوازا۔
= محترم مولوی عبدالوہاب آدم صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کے دورۂ غانا کے دوران ایک خاتون حاضر ہوئی۔ اُس کے آنسو بہہ رہے تھے اور بولنا مشکل تھا۔ جب اُس نے اپنے جذبات پر کسی قدر قابو پالیا تو بتایا کہ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اُس کے رحم میں کینسر ہے اور اس لئے وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حضورؒ نے پوچھا: کیا ڈاکٹر خدا ہیں؟ اُس خاتون نے نفی میں جواب دیا تو حضورؒ نے فرمایا: ’’تم یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ تمہیں کئی بچوں سے نوازے گا‘‘۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس خاتون کے ہاں چھ بچے پیدا ہوئے۔
= حضورؒ نے خود یہ واقعہ بیان فرمایا تھا کہ ایک قانونی معاملہ میں آپؒ کو بہت زیادہ تشویش تھی اور اس میں کامیابی کے لئے آپؒ مسلسل دعا کررہے تھے کہ ایک رات بستر میں جانے سے قبل حضور ؒ کے دائیں کان میں کسی نے بلند آواز سے کہا: ’’مبارک ہووے‘‘۔ حضورؒ نے اُدھر دیکھا تو کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ چنانچہ حضورؒ کو اس مقدمہ میں کامیابی کا یقین ہوگیا اور اگلے ہی روز یہ خبر مل بھی گئی۔
= مکرم عطاء الرحمن محمود صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1974ء میں جب مَیں F.A. کے امتحان کی تیاری کررہا تھا اور اپنے گاؤں میں مقیم تھا تو میرے پاؤں پر چنبل نمودار ہوئی اور شدید تکلیف کی وجہ سے چلناپھرنا بھی مشکل ہوگیا۔ اس حالت میں ایک بزرگ احمدی کے کہنے پر حضورؒ کی خدمت میں بیماری سے شفایابی اور امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کی درخواست تحریراً بھجوائی۔
تکلیف اس قدر شدید تھی کہ مَیں بیل گاڑی پر گاؤں سے بس اڈّہ پر جاتا اور پھر دو دوستوں کے سہارے سے بس میں سوار ہوکر کالج پہنچتا۔ امتحان کی تیاری بھی اچھی طرح نہ کرسکا۔ دو تین پرچے ہوگئے تو میری حالت سنبھلنے لگی۔ چند روز بعد حضورؒ کی طرف سے میرے خط کا جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ معجزانہ شفا عطا فرمائے اور امتحان میں نمایاں کامیابی سے نوازے۔ خدا تعالیٰ نے حضورؒ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور نہ صرف مجھے شفا عطا فرمائی اور دوبارہ یہ تکلیف آج تک نہیں ہوئی بلکہ امتحان کا نتیجہ نکلا تو مَیں کالج میں اوّل آیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں