حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اور تربیت کے پہلو

سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر کی خصوصی اشاعت میں حضورؒ کی اپنی زبان سے بھی بعض تربیتی امور بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً ٹیلی وژن کے بارہ میں ایک سوال کا جواب آپ نے یوں دیا کہ مَیں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ ٹیلی وژن میں فقط خرابی ہی خرابی ہے۔ کچھ پروگرام یقینا نامناسب ہوتے ہیں لیکن اگر آپ اسے دیکھنا ممنوع قرار دیدیں تو اس صورت میں ہم نوجوانوں کی فطرت کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہوں گے۔ اگر بچوں کے لئے اپنے گھر میں ٹیلی وژن دیکھنا شجرہ ممنوعہ بن جائے تو وہ اسے اپنے گھر میں دیکھنے کے بجائے کسی ہمسائے کے گھر میں جاکر دیکھ لیں گے۔ اس طرح ہم انہیں منافقت اور دوغلے پن کی تربیت دے رہے ہوں گے اور بچے ماں باپ کی نظریں بچاکر ایک مجرمانہ احساس کے ساتھ اپنے جذبات کی تسکین کے سامان تلاش کرنے لگیں گے جس کے نتائج بھیانک اور افسوسناک ہوسکتے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مَیں اپنے بچوں کو اپنے گھر میں اپنی نظروں کے سامنے ٹیلی وژن دیکھنے کی اجازت دیدوں تاکہ ضرورت پڑنے پر مَیں اُن کی راہنمائی کرسکوں اور بچے جب بھی چاہیں مجھ سے مشورہ کرسکیں۔
اسی طرح نقاب کے ڈیزائن کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضورؒ نے فرمایا کہ نقاب اور اس کے ڈیزائن کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکھتے۔ بنیادی اصول جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ خواتین اپنے لباس کے بارہ میں تقویٰ سے کام لیں اور شرم و حیا اور پاکدامنی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ ایسا لباس نہ پہنیں جس سے دیکھنے والے مرد کے دل میں ہیجان اور بُرے خیالات پیدا ہوں۔ ظاہر ہے اس قسم کے لباس کو تقویٰ کا لباس نہیں کہا جاسکتا۔ لباس کی وضع قطع اگر خوف خدا کی چاردیواری کے اندر رہتی ہے تو لباس کوئی سا بھی ہو، درست ہوگا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9JLNn]

اپنا تبصرہ بھیجیں