حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی قبولیت دعا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2002ء میں مکرم محمد ادریس شاہد صاحب کے قلم سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی قبولیت دعا کا ایک اعجازی نشان شامل اشاعت ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ مجھے کچھ عرصہ بورکینافاسو میں خدمت کی توفیق ملی۔ یہاں غانا سے آنے والے جماعتی وفود کے ذریعہ 1951ء میں جماعت قائم ہوچکی تھی مگر باقاعدہ مرکز نہ تھا۔ 1989ء میں مکرم مظفر احمد منصور صاحب بطور مربی سلسلہ وہاں تشریف لے گئے اور 1990ء میں خاکسار وہاں پہنچا۔ 21؍جون 1996ء کو خاکسار ایک سفر کے دوران گاڑی چلا رہا تھا۔ میرے ہمراہ مقامی معلم مکرم ابراہیم کندا صاحب اور میرا بیٹا فضل حق بھی تھے۔ مکرم کندا صاحب مکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے، جب واپس آئے تو حق سمجھ کر احمدیت قبول کرلی اور ساتھ ہی اپنی زندگی بھی وقف کردی۔ بورکینافاسو میں وقف کرنے والے نوجوانوں کو جامعہ احمدیہ غانا میں مزید تعلیم کے لئے بھجوایا جاتا تھا لیکن کندا صاحب کو حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی اجازت سے براہ راست سروس میں لے لیا گیا۔ اِنہیں عربی اور فرانسیسی کے علاوہ متعدد مقامی زبانوں پر عبور حاصل تھا اس لئے عموماً میرے شریک سفر ہوتے تھے۔ اس حادثے میں آپ کو شہادت کی منزل مل گئی اور مجھے بیہوشی میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں بیہوشی کے ساتھ ساتھ بائیں طرف فالج بھی گرنا شروع ہوگیا۔ اگرچہ ڈاکٹر مطمئن تھے کہ جب ہوش آئے گا تو باقی امراض ختم ہوجائیں گے لیکن جب مکرم ودراگومحمدی صاحب (ممبر آف پارلیمینٹ) نے اپنے ایک نیوروسرجن دوست کو ہسپتال لاکر میری حالت دکھائی تو ڈاکٹر صاحب نے ایک خاص زاویہ سے ایکسرے لیا اور بتایا کہ میرے دو مہرے اپنی جگہ پر نہیں ہیں اور اس کا علاج وہاں ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے یورپ لے جانے کا مشورہ دیا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اُن دنوں کینیڈا کے دورہ پر تھے۔ جب حضورؒ کی خدمت میں صورتحال عرض کی گئی تو آپؒ نے ازراہ شفقت مجھے لندن بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔ مکرم ڈاکٹر محمود بھنو صاحب مجھے اپنی نگرانی میں لندن لائے جہاں حضورؒ کی ہدایت پر نیوروسرجری ہسپتال سے پہلے ہی رابطہ ہوچکا تھا۔ علاج شروع ہوا، کچھ دن میں ہوش آگئی لیکن عام کیفیت قومہ کی سی تھی۔ انہی دنوں ایک طابعلم ڈاکٹر نے وقف عارضی کیا تو حضورؒ نے اُن کی ڈیوٹی میرے ساتھ لگادی۔ جب مجھے ہسپتال سے گھر منتقل کیا گیا تو بھی ہوش و حواس پوری طرح قائم نہ تھے، سر کو سلاخوں کے سہارے سے سیدھا رکھ کر جکڑ دیا گیا تھا۔ مجھے حضورؒ کا پیغام ملا کہ جونہی وقت ملا، حضورؒ خود میرے پاس تشریف لائیں گے۔ یہ سن کر مَیںآبدیدہ ہوگیا اور پیغام بھجوایا کہ حضورؒ کی دعائیں پہنچ رہی ہیں، مَیں ٹھیک ہوکر خود حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا۔
چند ہی دن میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مَیں نے چلنا پھرنا شروع کردیا۔ پھر جلسہ سالانہ برطانیہ کے لئے حضورؒ اسلام آباد تشریف لے گئے۔ جلسہ کے بعد جب واپس تشریف لائے تو اگلی صبح فجر کی نماز کے بعد پیغام بھجوایا کہ آج تو ہم نے ملنا ہی ملنا ہے، تم بتاؤ، تم آؤگے یا مَیں آؤں؟ مَیں نے عرض کیا: یہ غلام حاضر ہوگا۔
مجھ سے ملنے والے ہر شخص کو ہدایت کی جاتی تھی کہ حادثہ اور معلم صاحب کی شہادت کا ذکر میرے سامنے نہ کیا جائے لیکن باتوں سے مجھے اندازہ ہوجاتا تھا کہ کوئی بات چھپائی جا رہی ہے۔ بہرحال مَیں اپنے دوبیٹوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر حضورؒ کے دفتر میں داخل ہوا تو فرمایا: یہ کیا ہے، اگر یہ بات تھی تو مجھے کہہ دیتے، مَیں وہاں آجاتا۔ یہ سن کر مَیں نے دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے اور سیدھا کھڑا ہوگیا، پھر خود ہی چل کر کرسی تک پہنچا۔ حضورؒ کے ساتھ خوب باتیں ہوئی۔
بعد میں ایک اَور ملاقات میں حضورؒ نے فرمایا کہ اس قسم کے حادثات بہت کم ہوتے ہیں اور اس حالت کو میڈکل زبان میں Hang up Twice یعنی دو دفعہ پھانسی دیئے جانے کے الفاظ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ جب مجھے ان حالات کا علم ہوا تو مَیں نے سوچا افریقن قوم توہم پرست ہے، اگر حادثہ کا نتیجہ کوئی اَور نکلا تو بہت نقصان ہوگا اس لئے مَیں نے خصوصی توجہ سے دعا کی تو جواب ملا کہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اس لئے خطرناک رپورٹوں کے باوجود مجھے یقین تھا کہ خدا نے جو کہا ہے، وہی ہوگا۔
دو ماہ بعد لوہے کی سلاخوں کا پنجرہ اتار دیا گیا اور تین ماہ بعد ہسپتال سے مکمل فراغت ملی۔ آخری دن بڑے ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی تو مَیں نے کہا کہ ٹانگیں بہت بھاری محسوس ہوتی ہیں۔ وہ ہنسے اور کہنے لگے کہ جن چیزوں کے متعلق ہمیں یقین نہ تھا، وہ تو ٹھیک ہوگئی ہیں، یہ تومعمولی بات ہے۔ پھر کہنے لگے کہ 1968ء سے یہ ہسپتال قائم ہے اور اس کیس میں تم پہلے شخص ہو جو اپنے پاؤں پر چل کر جارہے ہو۔ اس پر مَیں نے انہیں بتایا کہ آپ نے تو میرا وہی علاج کیا ہے جو دوسروں کا کرتے رہے ہیں لیکن جو زائد چیز مجھے ملی ہے وہ حضورؒ کی دعائیں ہیں۔
دوسری طرف بورکینافاسو میں اس حادثہ کے بعد مخالفین خوشیاں منا رہے تھے۔ ایک مخالف الحاج محمود جو ہمارے مرکز کے سامنے ہی اپنامرکز بنائے بیٹھے تھے، خود احمدیوں کے گھروں میں ٹیلیفون کرکے اس حادثہ کی اطلاع دے رہے تھے۔ پھر یہ مشہور کیا گیا کہ جو شخص احمدیت کا پیغام لایا تھا، اُسے اس کی سزا مل گئی ہے اور مقامی معلم کو تو یہاں دفنادیا گیا لیکن اُس کی (یعنی میری)نعش تدفین کے لئے پاکستان بھجوادی گئی ہے۔ ابھی یہ خوشیاں جاری تھیں کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ریڈیو پر اعلان کروایا گیا کہ ہمارے امیر صاحب صحتیاب ہوکر فلاں دن واپس آ رہے ہیں۔ چنانچہ مَیں وہاں پہنچا تو آدھی رات ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر بہت زیادہ تعداد تھی۔ جب مَیں حادثہ والے علاقہ میں پہنچا تو لوگ حیران تھے اور جس حالت میں مجھے منتقل کیا گیا تھا اور جو افواہیں وہ بعد میں سنتے رہے تھے، اُن کے نتیجہ میں مجھے دیکھ کر اُن کے چہروں پر خوشی اور حیرانی کی لہر دوڑ گئی۔
بورکینافاسو کے جلسہ سالانہ 1997ء سے حضورؒ نے MTA کے ذریعہ براہ راست خطاب فرمایا جس میں میرے حادثہ اور شفایابی کا بھی ایمان افروز تذکرہ فرمایا۔ انہی دنوں غانا سے ایک تجارتی وفد برکینافاسو آیا جس کے سربراہ ایک غانین احمدی تھے۔ اُن کے ذریعہ وفد کو کھانے پر بلایا گیا۔ کھانے کے بعد اُنہیں حضورؒ کا جلسہ والا خطاب بھی سنایا گیا۔ اس وفد میں شامل ایک عیسائی دوست نے اُسی وقت بیعت کرلی اور کہا کہ معجزے خدا تعالیٰ یہاں دکھا رہا ہے، ہم کہاں پھر رہے ہیں۔ بعد میں وہ غانا سے ایک بار پھر صرف مجھے ملنے کے لئے آئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/usfjh]

اپنا تبصرہ بھیجیں