حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی یاد میں

جماعت احمدیہ برطانیہ کے ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں مکرم محمد عثمان چو صاحب اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ مَیں 1949ء میں چین سے ربوہ (پاکستان) آیا۔ کچھ عرصہ بعد جب جامعۃ المبشرین کھل گیا تو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ بھی بطور طالب علم ا ُس کلاس میں شامل تھے جو مبشرین کی کلاس تھی۔ میرے علاوہ کئی اور غیر ملکی بھی تھے جو ابتدائی تعلیم پارہے تھے۔ حضور ؒ ہم تمام غیر ملکی طلبا سے بہت محبت اورخلوص سے پیش آتے اور خاص دوستانہ تعلق رکھتے اور و قتا ً فوقتاً ہمیں اپنے گھر پر بلاتے یا ہم خودہی چلے جاتے۔ اور یہ مثالی حسن ِسلوک آپؒ نے ہر ایک غیر ملکی سے بلا امتیاز روا رکھا ہوا تھا۔

اس دوران میرے ساتھ حضورؒ کا پیار بڑھتا چلا گیا۔ جب حضور ؒ مہتمم مقامی ربوہ تھے تو آپؒ نے مجھے ناظم اصلاح وارشاد مقرر فرمایا۔ پھر جب ہم غیرملکیوں کی ایسوسی ایشن بنی تو حضورؒ کی محبت ہمارے دلوں میں اس قدر تھی کہ ہم نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے نگران بن جاویں۔ اس کی وجہ فی الواقع آپؒ کا قابل قدر محبت آمیز جذبہ تھا۔ میری والدہ مرحومہ کی نماز جنازہ بھی آپ ؒنے ہی پڑھائی اور بعد میں جب میری اہلیہ سے تعزیت کی تو ان سے میرا ذکر کر کے فرمایا: یہ میرا بھائی ہے۔


جب آپؒ خلیفہ بنے تو مَیں کراچی میں بطور مربی متعین تھا۔ آپؒ نے مجھے فرمایا کہ چینیوں میں تبلیغ کے واسطے بہتر ہے کہ آپ ربوہ آکر چینی زبان میں تصنیف کا کام کریں۔ چنانچہ مَیں نے اس پر عمل کیا۔ حضورؒ خود میری راہنمائی فرماتے اور تفصیلی ہدایات سے نوازا کرتے۔ جب حضورپر نورنے انگلستان ہجرت فرمائی تو مجھے بشدّت یہ احساس ہوا کہ میں حضور انور کی براہ راست نگرانی اور زبانی ہدایات سے محروم ہو گیا ہوں۔ حضورؒ کے ارشاد کے مطابق مَیں نے قرآن حکیم کا چینی زبان میں ترجمہ ربوہ میں ہی شروع کر دیا تھا۔ پھر مَیں لندن سے بھی حضورؒ سے ہدایات لیتا رہتا تھا۔ مگر کچھ مدت کے بعد آپؒ نے ازراہ مہربانی مجھے لندن یاد فرمایااور پھر حضور کی براہ راست نگرانی یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کا چینی زبان میں ترجمہ مکمل ہوا۔
MTA کی اردو کلاس میں بھی حضورؒ نے مجھے مستقل طالب علم کے طور پر شامل فرمالیا۔ باوجود اس قدر معمورالاوقات ہونے کے جب بھی آپ اس کلاس میں تشریف لاتے تو آپ کا چہرہ ہشاش بشاش نظر آتا، تھکاوٹ نام کو نہ تھی۔ اس نوخیز کلاس کی مہمان نوازی بھی خود فرماتے اور آپ کا یہ عظیم خلق آپ کو اس قدر مرغوب تھا کہ آپ اس سے بہت لطف اندوز ہوتے۔ مہمان نوازی تو گویا آپ کی فطرت ثانیہ تھی۔ آپؒ بہت مہمان نواز، بہت ہی مہمان نواز تھے۔ حضور کی ایک بڑی قابل تقلید خوبی یہ بھی تھی کہ آپ کسی کو کبھی بھی نظر انداز نہ فرماتے۔ کلاس میں ہر اک چھوٹے بڑے کایکساں خیال فرماتے ۔ حضور اردو کلاس کو سیر پر ناروے بھی لے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں