حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ

ربوہ کے دو رسائل ماہنامہ ’’خالد‘‘ اور ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ کے پبلشر محترم مبارک احمد خالد صاحب کی وفات کے بعد نئے پبلشر کی اجازت ملنے تک یہ رسائل قانوناً طبع نہیں کئے جاسکتے تھے۔ اس عرصہ کے دوران یہ رسائل لاہور سے ہفت روزہ ’’سیرروحانی‘‘ کے نام سے شائع کئے جاتے رہے۔ اس رسالہ کے 15 تا 21؍جون 2000ء کے شمارہ میں حضرت سالمؓ کے بارہ میں ایک مضمون مکرم غلام مصباح صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔
آپؓ کا نام سالمؓ اور کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ایران آپؓ کا وطن تھا۔ بچپن ہی میں آپؓ قیدی بناکر لائے گئے اور مدینہ میں غلام کے طور پر فروخت کئے گئے۔ ابتدائے اسلام میں آپؓ اپنے آقا حضرت ابوحذیفہؓ کے ساتھ مکہ میں ہی مقیم تھے۔ دونوں نے اسلام کا پیغام سنا تو آنحضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ جس کے بعد حضرت ابوحذیفہؓ نے حضرت سالمؓ کو آزاد کردیا لیکن چونکہ آپؓ کو اپنے مالک سے بہت محبت تھی اس لئے آپؓ اُنہی کے پاس رہنے لگے اور انہوں نے آپؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا۔
جب آنحضورﷺ نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا تو حضرت سالمؓ بھی حضرت ابوحذیفہؓ کے ہمراہ مدینہ ہجرت کرگئے اور قبا میں رہائش پذیر ہوئے۔ چونکہ آپؓ کو قرآن کریم کا بہت سا حصہ زبانی یاد تھا اس لئے آپؓ مسجد قبا میں نمازوں کی امامت کروایا کرتے تھے۔ مؤاخات کے موقع پر آپؓ کو حضرت معاذ انصاری ؓ کا بھائی بنایا گیا۔
حضرت سالمؓ نے تمام غزوات اور اہم جنگوں میں شرکت کی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ میں جنگ یمامہ میں شامل ہوئے۔ عَلم آپؓ کے پاس تھا۔ نہایت جوش سے کفار پر حملہ کیا۔ جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑتے ہوئے دیکھے تو فرمایا: افسوس! رسول اللہﷺ کے عہد میں تو ہمارا یہ حال نہ تھا۔ پہلے آپؓ کا داہنا ہاتھ کٹا تو آپؓ نے علم بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا۔ جب بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو عَلم سینے سے چمٹالیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
چونکہ آپؓ غرباء کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اس لئے آپؓ نے اپنے پیچھے زیادہ مال نہیں چھوڑا بلکہ یہ وصیت فرمائی کہ متروکہ مال میں سے تیسرا حصہ مختلف اسلامی ضروریات اور غلاموں کی آزادی کے لئے خرچ کیا جائے اور تیسرا حصہ میرے سابق آقاؤں کو دیدیا جائے۔
حضرت سالمؓ کا شمار بہت بلند مرتبہ صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپ فن قراء ت کے امام سمجھے جاتے تھے۔ آنحضورﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قراء ت چار آدمیوں سے سیکھو: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ، حضرت ابی بن کعبؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ۔
ایک بار آنحضورﷺ نے آپؓ کی تلاوت قرآن سن کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم جیسے لوگوں کو میری امّت میں پیدا کیا۔
حضرت عمر فاروقؓ نے ایک بار ایک مجلس میں ہر شخص سے دریافت فرمایا کہ اُس کی سب سے بڑی نیک خواہش کیا ہے۔ جب سب حاضرین اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرچکے تو آپؓ نے فرمایا ’’میری تمنا ہے کہ میرا گھر ابوعبیدہ بن جراحؓ، معاذ بن جبلؓ، سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ اور حذیفہ بن یمانؓ جیسے بزرگوں سے بھرا ہوتا‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں