حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7 دسمبر 2009ء میں مکرم مرزا وحید اقبال مغل صاحب کے قلم سے حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ (المعروف امّ داؤد) کی سیرۃ پر مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپؓ کے بارہ میں قبل ازیں 3 نومبر 1995ء اور 3 اپریل 2009ء کے شماروں کے اسی کالم میں بھی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
یہ بچی جس کا نام صالحہ جان رکھاگیا 12جنوری 1897ء کو دارالمسیح قادیان میں پیدا ہوئی۔ آپؓ کی والدہ کا نام محمدی بیگم اور والد کا نام حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ تھا جو حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کے بیٹے تھے جو لدھیانہ کے علاقہ کے بہت بڑے ولی تھے اور ہزاروں لوگ آپ کے مرید تھے۔ لیکن جب اُن کی ملاقات حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے (قبل از بعثت) ہوئی تو آپ نے حضورؑ کی پاک سیرت کی بنا پر دُوراندیشی کی وجہ سے یہ اندازہ کرلیا کہ حضورؑ ہی اس زمانہ کے مصلح اور مسیح موعود ہوں گے اور اس بات کی تائید میں ایک رسالہ نکالا۔ اس میں ایک نظم بھی لکھی جس کا ایک شعر یہ تھا: ؎

سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

حضرت خلیفۃا لمسیح الاوّلؓ کی بیوی حضرت صغریٰ بیگم صاحبہؓ حضرت پیر منظور محمد صاحب کی سگی بہن تھیں اس رشتہ سے حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ کے پھوپھا لگے۔
قاعدہ ’’یسرناالقرآن‘‘ کو لکھنے والے سیدہ محترمہ کے والد حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ تھے جنہوں نے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ اور اپنی بیٹی صالحہ بیگم کو قاعدہ پڑھانے کے لئے لکڑی کے بلاک بنائے اور ان کے ذریعے اردو کے حروف کی پہچان کروائی اور ایک نئی طرز کی بنیاد ڈالی۔ جس کی تعریف حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی ایک نظم میں بھی کی ہے۔
آپؓ کی پرورش دارالمسیح قادیان میں ہی ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا تھا کہ میاں محمد اسحق پسر حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ اور صالحہ بیگم بنت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحبؓ کی شادی ہورہی ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے حضرت اقدسؑ کی موجودگی میں فروری 1906ء میں مسجد اقصیٰ قادیان میں نکاح کا اعلان کیا۔ حضرت میرمحمد اسحق صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ’’ہمارا نکاح شعائر اللہ میں سے ہے‘‘۔
حضرت صالحہ بیگم صاحبہؓ کی شادی 1911ء میں ہوئی اور آپ حضرت میرناصر نواب صاحبؓ کی بہو بن کر دارالمسیح میں آگئیں۔ اس موقعہ پر حضرت مصلح موعودؓ نے ایک نظم کہی جس کا ایک شعر یوں ہے:

میاں اسحق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو
ہر اک منہ سے یہی آواز آتی ہے مبارک ہو!

حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کا جماعت احمدیہ میں ایک خاص مقام ہے۔ آپ حضرت اماں جان نوراللہ مرقدھا کے سگے بھائی تھے۔ آپ نے حضرت اماں جانؓ کا دودھ بھی پیاہواتھا اور اس طرح آپ حضرت اماں جان کے رضاعی بیٹے اورحضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے دودھ شریک بھائی تھے۔ چنانچہ حضرت سیدہ صالحہ بیگم کو حضرت امّاں جانؓ کی بھابھی اور بہو ہونے کا دوہرا شرف حاصل ہوا۔
حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بھی آپؓ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ گھرکے کاموں کے علاوہ آپ پڑھائی کے لئے بھی وقت نکال لیتی تھیں۔ خود بھی پڑھتیں اور دوسری عورتوں کو بھی پڑھاتیں۔ آپ کے مزاج میں یہ بات تھی کہ ہمیشہ کچھ سیکھتی رہتیں۔ شادی کے بعد اپنے شوہر سے قرآن مجید اور حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ آپ کو قرآن مجید سے بہت محبت تھی۔ درسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتیں۔ اپنے قرآن مجید کے ہر صفحہ کے ساتھ درس میں نوٹس لینے کے لئے سفید کاغذ لگوائے ہوئے تھے۔ جس بات کاعلم نہ ہوتا اس کو پوچھ لینے میں ہر گز عار محسوس نہ کرتیں۔ جب آپ کے جڑواں بچے پیدا ہوئے (جو بعد میں فوت ہوگئے) تو آپؓ ان دو ننھے بچوں سمیت بھی قرآن مجید کا درس سننے مسجد جایا کرتی تھیں۔
آپؓ کی وفات پر حضرت مرزا طاہراحمد صاحبؒ نے ایک مضمون میں لکھا: ’’آپ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلویہ ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ ایک قابل صد رشک مربیہ تھیں اور یہ بات آپ سے تربیت یافتہ لوگوں کے اعلیٰ اخلاق اور دینداری کو دیکھ کر ان آنکھوں پر بھی روشن ہوجاتی ہے جنہوں نے آپؓ کو دیکھا نہ تھا۔ وہ مقدّس اورپاکیزہ ماحول جو آپؓ نے اپنے گھر میں پیداکررکھا تھا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماحول میں پلنے کا موقع ملا۔ تربیت کے ہر پہلو پر آپ کی نظر رہتی تھی۔ اگرایک طرف آپؓ کے قلوب میں دین کی محبت کے شعلے بھڑکاتی تھیں تودوسری طرف آپ دماغوں میں طلب علم کی بھڑکی لگادیتی تھیں اورکیوں نہ ہو آپ خود بھی توعلم کا ایک بحرذخارتھیں‘‘۔
1914ء کا جلسہ سالانہ اس لحاظ سے پہلا جلسہ تھا جس میں عورتوں نے بھی جلسہ کے پروگرام میں مردوں سے علیحدہ حصہ لیا۔ حضرت صالحہ بیگم صاحبہؓ نے بھی زنانہ جلسہ گاہ میں اپنا لکھا ہوا مضمون پڑھا۔
آپؓ کو دینی خدمت کا بے حدشوق تھا۔ شادی کے بعد ابتدائی زمانہ تو علم سیکھنے میں گزارا۔ اور پھر لجنہ اماء اللہ کے قائم ہوتے ہی آپ نے لجنہ کے ہرکام میں حصہ لیا۔ ہر خدمت کے لئے سب سے پہلے تیار ہوتیں۔ پھٹے پرانے، میلے کمبلوںاور کپڑوں کو قومی ضرورت کی خاطر پیوند لگاتیں اورجب تک تمام کام ختم نہ ہوجاتا آرام کی نیند نہ سوتیں۔ اپنے شوہر کی طرح غرباء اور یتیموں کی مدد کرتیں۔ آپ میں یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ جب کام ختم ہوجاتا تو پوچھنے پر کبھی فخریہ طورپر اپنا ذکرنہ کرتیںبلکہ حد درجہ عاجزی سے ہمیشہ اپنی ساتھی عورتوں میں سے کسی کا نام بتادیتی تھیں۔ اس سے آپ کامقصد دوسروں کی حوصلہ افزائی تھی اور انکساری بھی انتہا درجہ کی تھی۔
حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ اپنے مضمون میں مزید فرماتے ہیں کہ : ’’جلسہ سالانہ کے دنوں میں دوبار مجھے آپ کے ساتھ کام کرنے کا حسین اتفاق ہوا ہے اورکئی کئی روز، دن کا اکثر حصہ انتظامات کے سلسلہ میں آپ کے ارشادات کی تعمیل میں گزارنے کا موقع ملا ہے اس لئے میں شاہد ہوں کہ اور سچ سچ کہتا ہوں کہ انتظامی قابلیت کے لحاظ سے آپ کے پائے کا انسان ملنا مشکل ہے۔ اپنے ماتحت ہمراہیوں سے آپ کی درشتی شاذونادر مگر عین باموقع ، البتہ محبت کا سلوک اکثر رہتا تھا۔ آپ دن رات انتھک کام کرنے والی تھیں اور آپ کے ساتھی تھک تھک کر منزلوں پیچھے رہ جاتے تھے جلسے کی خنک راتوں میں روزانہ کے کام کے اختتام کی بھی عجب کیفیت ہوتی ہے ۔ دن رات کا کھانا کھلانے کے بعد دن بھر کے تھکے ہارے کارکن ایک ایک کرکے رخصت ہوجاتے تھے مردوں میںسے بھی اور عورتوں میں سے بھی۔ مرد کارکنوں کا خیمہ زنانہ رہائش گاہ کے دفتر سے بالکل ملحق ہوتا ہے اورہم سنتے تھے کہ شور اور ہنگامے کی آواز دھیمی پڑتی پڑتی آخر خاموشیوں میں ڈوب جاتی تھی۔ ہاں! کبھی کبھی ممانی جان کی آواز ان کی موجودگی اور بیداری کا پتہ دیتی تھی۔ آپ اپنی چند خاص کارکنات کے ساتھ رات کی آخری گاڑی اور پھر اس کے آخری مہمان کی راہ دیکھتی ہوئیں راتوں کا اکثر حصہ دفتر میں ہی گزارتی تھیں۔ آپ کی صحت کمزور تھی اور جسم ناتواں مگر ہمت بہت … بہت بلند تھی‘‘۔
دسمبر1922ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔ پہلے دن چودہ خواتین اس کی ممبر بنیں جن میں ساتویں نمبر پر حضرت سیدہ امّ داؤد کانام ہے۔ حضرت سیدہ امتہ الحیٔ صاحبہؓ کی وفات پر آپؓ کچھ عرصہ جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات بجالائیں۔ بعد میں نائبہ جنرل سیکرٹری کے طورپر تقرر ہوا۔ حضرت سیدہ امۃالحیٔ بیگم صاحبہ کی یادگار ’’امۃ الحیٔ لائبریری‘‘ قائم کرنے کی تحریک و تجویز بھی آپؓ کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔
1947ء میں آپؓنے قادیان کی مہاجر ممبرات کی صدر کے طور پر لاہور میں اس شوق سے خدمت کی کہ مقامی لجنہ لاہور میں بھی بیداری کی لہر دوڑ گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد احمدی لاہور آکر رتن باغ اور اس سے ملحقّہ عمارتوں میں رہنے لگے۔ درویشانِ قادیان اور مربیان کے بیوی بچے بھی قادیان سے خالی ہاتھ لاہور پہنچے اور حضورؓ کی خاص شفقت کے نتیجہ میں ان عمارتوں میں ٹھہرے۔ یہ لوگ اکتوبر 1947ء سے اپریل 1950ء تک حضرت مصلح موعودؓ کی سرپرستی کا لطف اٹھاتے ہوئے یہاں مقیم رہے۔ ان میں کچھ معذور عورتیں اور بچے بھی تھے۔ 1949ء کا جلسہ سالانہ اپریل میں ہوا تو حضورؓ نے ان سب کو ربوہ منتقل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور ریل گاڑی کے ذریعہ اپنی خاص نگرانی میں ان لوگوں کو ربوہ پہنچوایا۔ حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ باوجود طبیعت خراب ہونے کے ان لوگوں کے ساتھ تشریف لے گئیں۔ اور ربوہ سٹیشن پر اس وقت تک موجود رہیں جب تک ہر ایک اپنی اپنی جگہ کے لئے روانہ نہیں ہوگیا۔ ربوہ میں بھی آپؓ ان لوگوں کاخاص خیال رکھتی رہیں۔
آپؓ نے 20ستمبر1948ء کو ربوہ کی بنیاد رکھتے وقت عورتوں اوربچیوں کو وہ اشعار یاد کروائے جو مدینہ کی عورتوں نے ہجرت مدینہ کے بعد پڑھے تھے اور اس طرح حضورؓ کا استقبال کیا گیا۔
جوانی میں ہی آپؓ کو گلے کی بیماری ہوگئی اور اس وجہ سے طبیعت اکثر کمزور رہتی۔ لیکن آپ نے کبھی اپنی بیماری کو کام نہ کرنے کا بہانہ نہیں بنایا۔ بہت ہمت و بہادر ی کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا اور جماعتی کام انتہائی توجہ، محنت لگن، جوش اور جذبہ سے کرتیں کہ دیکھنے والی ہر آنکھ آپ کی بلند ہمتی، قوت ارادی اور سلسلہ کے ساتھ محبت پر حیران رہ جاتی۔ گلے کی تکلیف کبھی کم ہوجاتی لیکن کچھ دیر بعد پھر دوبارہ بڑھ جاتی۔ ایک وقت آیا کہ کھانے کی نالی بند ہوگئی تو آپریشن کروانا پڑا اور آٹھ ماہ مسلسل بستر پر گزارے۔ آخر 8ستمبر 1953ء کو لاہور میں آپ کی وفات ہوگئی۔ جنازہ ربوہ لایا گیا اور تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔
آپؓ اپنی تمام ذمہ داریوں کے باوجود سیر و تفریح اور کھیل کود کیلئے بھی وقت نکالاکرتی تھیں۔ آپ نے بہت سے شہروں کے سفر کئے۔ سائیکل بھی چلالیتی تھیں اور بیڈمنٹن کھیلنا پسند کرتی تھیں۔ تمام رشتہ داروں میں ہر دلعزیز تھیں۔ خصوصیت سے حضرت اماں جانؓ تو آپ سے بہت محبت کرتیں اور آپ کا خیال رکھتیں۔ حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کی وفات کے بعد خاندان میں کسی کی شادی تھی۔ حضرت امان جانؓ دلہن کو مہندی لگوارہی تھیں کہ اُن کی نظر حضرت سیدہ صالحہ بیگمؓ پر پڑی تو فرمایا: ’’صالحہ! تم بھی مہندی لگاؤ‘‘۔ آپؓ نے عرض کی کہ ’’مَیں توبیوہ ہوں‘‘۔ حضرت اماں جان نے نہایت محبت سے فرمایا: ’’تم آؤ اور مہندی لگاؤ، تم تو سدا سہاگن ہو، تم نے یہ کیوں سوچا کہ تم اکیلی ہو‘‘۔
آپؓ خلیفہ وقت کا بہت احترام اور اطاعت کرتی تھیں۔ آپؓ کی بڑی صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ صرف 17سال کی تھیں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اُن کے لئے حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ (جن کے پہلے 3بچے تھے اور عمر میں کافی بڑے تھے) کا رشتہ بھیجا تو آپؓ نے خوشی سے منظور فرمالیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ تینوں بیٹوں کو خدمت دین کی نمایاں توفیق ملی یعنی حضرت میر داؤد احمد صاحب، محترم سیدمیر مسعود احمد صاحب اور محترم سید میر محمود احمد صاحب۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/D2JcX]

اپنا تبصرہ بھیجیں