حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحبؓ

حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحبؓ 1856ء میں ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں تالومہی میں ضلع گجرات کے ایک باعظمت سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کو مغلیہ دربار میں خاص دخل رہا ہے۔ آپ کے والد سید ہدایت شاہ صاحب اپنی پارسائی کی وجہ سے علاقہ بھر میں مشہور تھے۔ آپ کے تین بھائی سارجنٹ درجہ اول تھے اور سب کو حضرت اقدس علیہ السلام کا صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ ایک بھائی حضرت سید امیر علی شاہ صاحبؓ کا نام 313؍ اصحاب میں 79 نمبر پر اور دوسرے بھائی حضرت سید احمد علی شاہ صاحبؓ کا نام 228 نمبر پر درج ہے۔
حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحبؓ کی شادی 1877ء میں حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب رئیس سیالکوٹ کی صاحبزادی سے ہوئی۔ نیز آپ کے بھائی حضرت سید احمد علی شاہ صاحبؓ کو بھی حضرت میر صاحبؓ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا اور یہی تعلق آپؓ کے خاندان کے سیالکوٹ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا باعث بنا۔
حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحبؓ 1878ء میں محکمہ پولیس میں ملازم ہوئے اور اپنی خداداد لیاقت سے بیس سالہ ملازمت کے دوران انسپکٹر کے عہدہ تک پہنچے۔ 9؍جولائی 1891ء کو آپؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپؓ کا نام 183 نمبر پر درج ہے جبکہ حضورؑ نے 313؍ اصحاب میں آپؓ کا نام 226 نمبر پر درج فرمایا۔
آپؓ اپنی بیعت کا حال یوں بیان کرتے ہیں کہ جب آپؓ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں امرتسر کی ایک حویلی میں حاضر ہوئے تو اگلے روز صبح حضورؑ باہر تشریف لائے۔ جب حضورؑ نے وعظ شروع فرمایا تو آپؓ کو نیند کے جھونکے آنے لگے۔ جاگنے کی بہت کوشش کی لیکن نیند بار بار مغلوب کرتی تھی۔ آخر جاکر پانی کے چھینٹے منہ پر مارے اور دوبارہ حضورؑ کے قریب آکر بیٹھ گئے۔ بیٹھتے ہی نیند نے پھر مغلوب کیا اور آپؓ نے نظارہ دیکھا کہ گویا ایک باغ ہے جس میں ایک مکان ہے … دیواروں میں طاق بنے ہوئے ہیں، کتابیں بھی ہیں۔ آپؓ کو اپنے والد محترم ملے جنہوں نے کہا کہ یہ کتابیں طاقوں میں رکھ دو۔ آپؓ نے ایسا ہی کیا اور اس کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔ معاً یہ تفہیم ہوئی کہ پہلا علم بالائے طاق رکھو۔ چنانچہ اسی وقت بیعت کی توفیق پائی۔ بیعت کے بعد آپؓ کی روحانی قوتیں مزید صیقل ہوئیں اور ترقی کرنے لگیں۔ کشوف اور الہام ہونے لگے اور رؤیا صادقہ کی نعمت نصیب ہوئی۔ دسمبر 1892ء میں منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ میں بھی آپؓ شامل ہوئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مہمانوں کی فہرست میں آپؓ کا نام 21 نمبر پر درج فرمایا۔ حضرت اقدسؑ سے آپؓ کی خط و کتابت بھی رہی۔ اپنے ایک خط میں حضورؑ نے آپؓ کو اپنے اہل خانہ سے نرمی برتنے کی نہایت پُراثر نصیحت فرمائی۔
حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب 6؍ستمبر 1898ء کو ایک مختصر بیماری کے بعد وفات پاگئے اور تدفین آپ کے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ جب حضورؑ کو آپؓ کی ناگہانی وفات کی اطلاع ہوئی تو حضورؑ کو بہت دکھ ہوا اور حضورؑ نے اپنے ایک مکتوب میں آپؓ کے سسر کو لکھا:- ’’…خبر سن کر وہ صدمہ دل پر ہے جو تحریر و تقریر سے باہر ہے۔ طبیعت اس غم سے بیقرار ہوئی جاتی ہے… شاہ صاحب کو جس قدر خدا تعالیٰ نے اخلاص بخشا تھا اور جس قدر انہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق اور محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں…‘‘۔مزید تحریر فرمایا:- ’’ بعض خدا کے بندے جب دنیا سے انقطاع کرکے خدا تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کے نامہ اعمال میں مصیبتوں کے وقت میں صبر کرنا بھی ایک بڑا عمل پایا جائے گا تو اسی عمل کے لئے بخشے جائیں گے‘‘۔
حضور علیہ السلام نے 9؍ستمبر کو نماز جمعہ سے قبل حضرت شاہ صاحبؓ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی اور پھر بہت دیر تک چپ چاپ کھڑے دعائیں مانگتے رہے۔ حضرت شاہ صاحبؓ کی وفات کے قریباً چار سال بعد ایک بار پھر حضرت اقدسؑ نے آپؓ کا اور بعض دیگر مرحوم صحابہؓ کے اخلاص اور وفا کا تذکرہ بڑی شفقت سے اپنی مجلس میں فرمایا۔
حضرت سید حامد علی شاہ صاحبؓ کا بیان ہے کہ حضرت خصیلت علی شاہ صاحبؓ خلیق، متواضع، شب بیدار، تہجد خوان، غیرت مند اور باحیا انسان تھے۔ غض بصر اُن کی خاص صفت تھی۔ اپنے ہم عصروں کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ بن گئے۔ قرآن کے ساتھ ایسی محبت تھی کہ ایک احمدی حافظ کو ملازم رکھا ہوا تھا اور اُن کے ساتھ درس قرآن کا سلسلہ خاص انداز سے جاری تھا۔ حوصلہ ایسا فراخ تھا کہ کبھی کسی محتاج سے دریغ نہیں کیا۔ آپؓ کی فقیرانہ زندگی کا ثبوت یہ تھا کہ وفات کے بعد گھر سے دس روپے برآمد ہوئے اور 36 روپے قرض لے کر کاربراری ہوئی۔
حضرت شاہ صاحبؓ نے ایک بار حضور اقدسؑ کی خدمت میں اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا ’’… (خاکسار) اقرار کرتا ہے اور حضورکو شاہد کرتا ہے کہ حضور کا من جانب اللہ ہونا اپنے ایمان سے مانتا ہے اور موعود ہونا جانتا ہے … اس اقرار کے آپ شاہد رہیں کہ اس عاجز کو اللہ پاک آپ کے ایمان لانے والوں میں لکھے اور … دعا فرماویں کہ قرآن شریف کا زیادہ شوق ہو اور توفیق تفہیم حاصل ہو۔ اس وقت وہ جوش ہے جس کو یہ عاجز روک نہیں سکتا‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں