حضرت سید محمد رضوی صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جون 2005ء میں حضرت سید محمد رضوی صاحبؓ کے بارہ میں ایک مضمون مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔
حیدرآباد کی مخلص جماعت سے تعلق رکھنے والے حضرت نواب سید محمد رضوی صاحبؓ کو ابتداء میں ہی حضرت مسیح موعودؑ کی آواز پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ سادات خاندان میں مکرم سید ابوطالب صاحب کے ہاں قریباً 1862ء میں مدراس کے مقام ایلور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اپنے چاروں لڑکوں کو خود تعلیم دیتے تھے۔ آپ بہت ذہین تھے چنانچہ بارہ چودہ برس کی عمر میں قرآن، احادیث اور فارسی کی تعلیم حاصل کرکے اکیلے ہی حیدرآباد آگئے اور مزید علم عربی وفقہ و حدیث وغیرہ حضرت مولانا محدث حسن الزمان صاحب سے سیکھے۔ وہاں اپنے والد کے ایک دوست کے ہاں مقیم ہوئے اور اپنے میزبان کے توسط سے ایک رئیس کے لڑکے کو ٹیوشن دینی شروع کی جس پر پچاس روپیہ ماہانہ وظیفہ ملنے لگا۔ پھر آپ نے قانون کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور روزانہ میلوں کا سفر کرکے سکندرآباد سے پیدل حیدرآباد جاتے اور شام کو واپس آتے۔ اس دوران دیوانی وفوجداری کی دونوں کتب قریباً حفظ کرلیں۔ 1884ء میں امتحان وکالت میں کامیابی حاصل کی اور پریکٹس شروع کر دی۔ پھر اس میدان میں بہت کامیابی حاصل کی۔ آپ کے ایک عرب دوست کو کیمیا کا بڑا شوق تھا۔ انہوں نے وکیل صاحب کو بھی ترغیب دی تو آپ نے بھی اس کا تجربہ کیا اور آخر چند ماہ کے بعد ایک چھوٹی کتاب لکھی کہ یہ کام احمقوں کا ہے۔
آپ نے اپنی زندگی میں پانچ شادیاں کیں سب سے پہلا نکاح 1884ء میں فخرالنساء بیگم صاحبہ سے کیا۔ 1889ء میں ظہیر النساء بیگم صاحبہ سے شادی کی یہ دونوں بیویاں ایلور میں رہتی تھیں اور آپ وکالت کے سلسلے میں حیدرآباد رہتے تھے۔ 1891ء میں سید رئیس النساء بیگم صاحبہ بنت مولوی سید ادیب الدین صاحب سے تیسری شادی کی۔ 1902ء میں ریاست دکن کے اسٹیٹ وکیل مقرر ہوئے۔ نظام دکن نے پائیگہ اسٹیٹ کا کام اپنی بہن لیاقت النساء بیگم صاحبہ کے سپرد کیا ہوا تھا۔ وہ بیوہ تھیں اور انہیں اسٹیٹ کی دیکھ بھال کے لئے قابل آدمی کی تلاش تھی۔ بالآخر انہوں نے اپنی والدہ سے حضرت رضوی صاحبؓ کے ساتھ نکاح کی اجازت حاصل کر لی۔ 1906ء میں آپؓ کا نکاح حضرت میر محمد سعید صاحبؓ نے پڑھایا۔ آپ صدر نشین پائیگہ وقارالامر بہادر مقرر کئے گئے۔ اسٹیٹ کے تمام کاروبار آپؓ نے خوب سنبھالے چنانچہ 1912ء تک اس پائیگہ اسٹیٹ کی آمدنی گیارہ لاکھ سے کچھ اوپر ہوگئی جو آپ کی قابلیت کا نتیجہ تھا۔ 1930ء میں مرہٹہ قوم کی ایک لڑکی جو مسلمان ہوگئی تھی، اُس سے آپ نے شادی کی۔ ان خاتون کا نام بعد میں بسم اللہ بیگم رکھا گیا۔
حیدر آباد دکن میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے بزرگ حضرت میر عرفان علی صاحب تھے جنہوں نے 23 ستمبر 1891ء کو بیعت کی۔ پھر حیدرآباد دکن میں جب حضور علیہ السلام کے اشتہارات وغیرہ آنا شروع ہوئے تو حضرت سید محمد رضوی صاحب کو بھی اس کی آگاہی ہوئی اور آپ نے حضورؑ سے کتب منگوائیں اور ان کا مطالعہ کرتے رہے۔ آپ کے دوست حضرت میر محمد سعید صاحب بھی اس تحقیق میں آپ کے ساتھ تھے۔
رضوی صاحب مولوی حسن زمان صاحب کے مرید تھے۔ اُن سے اجازت لے کر آپ حضرت میر محمد سعید صاحب کے ہمراہ قادیان تشریف لے گئے۔ واپس آئے تو استاد نے کہا کیا لائے ہو؟ آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کوئی عربی کتاب دی۔ اگلے روز استاد خوشی سے کہنے لگے یہ مصنف تو عربی کا شیر ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آپ سمجھ گئے کہ حضور کی صداقت کا یہ گواہ ہیں۔
حضرت رضوی صاحبؓ کے مکان پر ہی تمام احمدی جمع ہوتے اور جمعہ کی نمازیں وغیرہ وہاں ہوتیں۔ سالانہ جلسے بھی وہیں ہوتے۔ اخبار الحکم 17مئی 1901ء میں آپؓ کے گھر کے بارہ افراد کی بیعت کا اندراج موجود ہے۔
حضرت سید رضوی صاحبؓ کو حضرت مسیح موعودؑ نے 313 رفقاء میں شامل فرمایا ہے۔ ’’انجام آتھم‘‘ میں دی گئی فہرست میں آپؓ کا نام 244 نمبر پر موجود ہے۔ اسی طرح ’’کتاب البریہ‘‘ میں بھی گورنمنٹ کے سامنے اپنے مخلص صحابہؓ کے اسماء پیش فرماتے ہوئے حضورؑ نے آپؓ کا نام 133 نمبر پر درج فرمایا ہے۔
حضرت سید محمد رضوی صاحبؓ جب قادیان جاتے تو حضور بڑی محبت سے پیش آتے۔ کھانے کے وقت حضورؑ خود بسااوقات کھانا لاتے اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے۔ ایک بار آپؓ حیدرآباد دکن سے ایک جماعت لے کر آئے تو حضورؑ نے خاص طور پر حکم دیا کہ ان کے لئے مختلف قسم کے کھٹے سالن تیار ہوا کریں جیسا کہ یہ کھانے کے عادی ہیں۔
حضرت سید محمد رضوی صاحبؓ مالی قربانیوں میں ایک مثالی نمونہ رکھتے تھے۔ اخبار الحکم 17؍اپریل 1901ء پر رقوم اغراض مدرسہ، فیس بورڈنگ ہاؤس، عید فنڈ، مساکین کے لئے تینوں مدات میں آپ کا نام شامل ہے۔ جب چندہ منارۃ المسیح کی تحریک ہوئی تو آپ نے یک صد روپیہ چندہ ادا کیا۔
1914ء میں الحکم کی ضروریات کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف سے چھ ہزار روپے کی اپیل کی گئی تو اس اپیل کا فوری عملی جواب دینے والوں کی فہرست میں دوسرا نام آپ کا تھا۔ حضرت عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ نواب صاحب نے نہ صرف الحکم کی بلکہ سلسلہ کی ہمیشہ بے نظیر قیمتی خدمات کی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں ضروریات سلسلہ کے موقع پر ہمیشہ آپ کو خطاب کیا جاتا تھا۔ 1901ء میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے آپ کو ایک پبلک خط لکھا تھا کہ مدرسہ کے منتظم آپ کے وجود کو خدا کا فضل اور غنیمت سمجھتے ہیں۔ موعودہ چندہ کو جس پابندی اور خوبی کے ساتھ آپ پہنچا رہے ہیں بھائیوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔ آخر آپ ہی کی ہمت اور جوانمردی امید گاہ نظر آئی۔ غرض نہایت عالی ہمتی سے آپ نے مدد دی ہے اور سلسلہ کی تمام مدات آپ کی فیاضیوں کو یادگار رکھتی ہے۔ آپ نے اکائیوں اور دہائیوں سے لے کر سینکڑوں اور ہزاروں تک اس راہ میں دے دیئے ہیں۔
الفضل 25فروری 1914ء پر دعوت الی الخیر فنڈ میں آپؓ کے 100 روپے کا چندہ کا ذکر ہے۔ جماعت حیدرآباد میں بھی آپ نے ذاتی خرچ پر جماعتی نظام کو بہت منظم کیا ہوا تھا اور مقامی جماعت کے اخراجات کا کافی حصہ اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ مقامی جلسہ سالانہ کا بیشتر خرچ آپؓ اٹھایا کرتے تھے۔ کتب سلسلہ کی اشاعت وغیرہ میں بھی پیچھے نہ رہتے جس کا ذکر صدر انجمن کی ایک سالانہ رپورٹ میں بھی ملتا ہے۔
آپؓ اپنے رشتہ داروں اور قریبی دوستوں کو بھی ذرائع معاش مہیا کرنے میں بھرپور مدد دیا کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحیم صاحب کٹکی نے بیعت کی تو “وفات مسیح” سے متعلق ایک کتاب بھی لکھی جس پر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس پر حضرت رضوی صاحبؓ کی کوشش سے انہیں دوسری جگہ ملازمت مل گئی۔ اپنی سٹیٹ کے صدرنشین مقرر ہوتے ہی آپؓ نے تمام ملازموں کی رُکی ہوئی تنخواہوں کا فوری طور پر انتظام کیا جس کی وجہ سے ملازمین آپ سے بہت محبت اور احترام سے پیش آتے۔
آپؓ جب حضرت اقدسؑ کی خدمت میں قادیان حاضر ہوتے تو تحفتہً کچھ چیزیں بھی لے جاتے۔ ایک بار مسجد مبارک اور ساتھ والے کمرہ کے لئے دریاں بھی لے کر گئے۔ ایک بار حضورؑ کی خدمت میں کیوڑہ بھجوانے کا ذکر بھی حضورؑ کی زبان سے ہی محفوظ ہے۔
1912ء میں نواب عثمان علی خان صاحب سلطنت آصفیہ کے تخت شاہی پر متمکن ہوئے تو سلطنت کے بعض اکابر خصوصاً مہاراجہ سرکشن پرشاد حضرت رضوی صاحبؓ سے بہت نالاں تھے۔ چنانچہ نواب صاحب کو آپؓ کے خلاف بہت ابھارا گیا تو انہوں نے آپؓ کے تعلق داروں کو نشانہ بنایا اور مال و اسباب ضبط کئے۔ آپؓ نے یہ صورت حال دیکھی تو اپنی فوج کو لڑائی سے منع کیا اور خود ہجرت کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ 25؍اپریل 1912ء کو سٹیٹ کا کوئی سازو سامان لئے بغیر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر بمبئی آگئے۔ وکالت کے زمانہ کا کافی روپیہ بینک میں جمع تھا۔ آپؓ نے ایک عالیشان بلڈنگ بنوائی اور دو دیگر کوٹھیاں بنواکر کرایہ پر دیدیں۔
آپؓ کے بمبئی چلے آنے پر حیدرآباد کی جماعت کو ایک مخلص وجود سے محروم ہوناپڑا لیکن جماعت احمدیہ بمبئی کی قسمت جاگ اٹھی۔ یہاں آپؓ کا مسکن جماعتی مہمانوں قیام و طعام کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ نیز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ جب مصر جارہے تھے تو آپؓ کے ہاں ہی مقیم ہوئے۔ پھر 1924ء میں جب حضورؓ پہلی مرتبہ اپنے رفقاء کے ساتھ انگلستان تشریف لے گئے تو واپسی پر حضرت رضوی صاحبؓ کے گھر ہی تین روز قیام فرمایا۔ اس دوران حضورؓ نے گاندھی جی سے مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور مولانا آزاد کی موجودگی میں ملاقات بھی فرمائی۔
1913ء میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ، حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ، حضرت سید مولوی سرور شاہ صاحبؓ اور حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ شملہ گئے تو وہاں کی جماعت نے ان بزرگوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جلسہ سالانہ کا پروگرام ترتیب دیدیا لیکن جلسہ کا خرچہ آڑے آگیا۔ اتفاق سے حضرت سید محمد رضوی صاحبؓ بھی وہاں تشریف لے آئے اور آپ نے سب اخراجات اپنے ذمہ لے لئے۔
آپؓ زندگی بھر خلافت سے چمٹے رہے۔ 1917ء میں جماعت احمدیہ بمبئی کے دو افراد نے اخبار پیغام صلح میں یہ اعلان شائع کرایا کہ جماعت احمدیہ بمبئی اپنے تعلقات قادیان کی خلافت سے قطع کرتی ہے اس پر جماعت احمدیہ بمبئی کی طرف سے ایک فوری مرسلہ بھیجا گیا جس میں وضاحت کی گئی کہ صرف ان دو افراد نے ایسا کیا ہے باقی تمام جماعت حضرت خلیفہ ثانیؓ کی بیعت میں داخل ہے۔ پھر خلافت سے وابستہ افراد میں سر فہرست حضرت نواب صاحبؓ کا اسم گرامی ہے۔
حضرت سید محمد رضوی صاحب نے اگست 1932ء میں بمبئی میں وفات پائی اور بمبئی کے قبرستان ناریل واڑی میں دفن ہوئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/3cO3S]

اپنا تبصرہ بھیجیں