حضرت سید میر حامد شاہ صاحبؓ سیالکوٹی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا ’’سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم کے اضلاع کی سرزمین اپنے اندر اسلامی سرشت کی خاصیت رکھتی ہے۔ ان اضلاع میں بہت لوگوں نے حق کی طرف رجوع کیا اور کثرت سے مرید ہوئے‘‘۔ …
سیالکوٹ کے مردم خیز خطہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سید میر حامد شاہ صاحبؓ بھی حضرت اقدسؑ کے اوّلین اصحاب میں سے تھے جن کی سیرت کے بارے میں مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب کا مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ ستمبر 1997ء کی زینت ہے۔
حضرت سید میر حامد شاہ صاحبؓ کا تعلق سیالکوٹ کے معروف سید خاندان سے تھا۔ سیالکوٹ کا کوچہ میر حسام الدین آپؓ کے والد ماجد کے نام سے موسوم ہے۔ حضرت حکیم میر حسام الدین صاحبؓ کو حضرت مسیح موعودؑ سے شرف تلمذ حاصل تھا جب انہوں نے حضورعلیہ السلام سے قانونچہ اور موجز کی کتب پڑھی تھیں۔ انہیں حضرت اقدسؑ کی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل ہوتا رہا اور حضورؑ جب سیالکوٹ تشریف لاتے تو ان کے ہاں ہی قیام فرماتے۔ حضورؑ نے انہیں اپنا ’’محب صادق اور مخلص دوست‘‘ قرار دیا ہے۔ جب حضرت اقدسؑ دعویٰ کے بعد پہلی دفعہ فروری 1892ء میں سیالکوٹ تشریف لائے تو انہی کے مکان پر قیام فرمایا اور اسی دوران حضرت حکیم صاحبؓ نے بیعت کی سعادت بھی حاصل کی۔ بقول ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مؤلف ’’مجدد اعظم‘‘ اسی موقعہ پر علامہ اقبال نے حضورؑ کے گرد جمع ہونے والی بھیڑ کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحب سے کہا تھا ’’دیکھو شمع پر کس طرح پروانے گر رہے ہیں‘‘۔
حضرت سید میر حامد شاہ صاحبؓ کی ولادت اندازاً 1859ء میں ہوئی اور آپؓ کو 1890ء میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضورؑ نے ضمیمہ انجام آتھم میں 313؍ اصحاب میں آپؓ کا نام 13ویں نمبر پر درج فرمایا ہے۔
دنیاوی طور پر آپؓ نے اہلمندی سے ترقی کرکے ضلع سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوکر پھر رجسٹرار کے معزز عہدہ پر فائز ہوئے۔ جب حضور علیہ السلام کوآپؓ کے ضلع سپرنٹنڈنٹ بننے کا علم ہوا تو حضورؑ نے فرمایا: ’’شاہ صاحب درویش مزاج آدمی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔
حضرت اقدسؑ نے ازالہ اوہام میں آپؓ کے متعلق فرمایا ’’میر حامد شاہ کے بشرہ سے علامات صدق و اخلاص و محبت ظاہر ہیں … ان کا جوش سے بھرا ہوا اخلاص اور ان کی محبت صافی جس حد تک مجھے معلوم ہوتی ہے میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا‘‘۔
یہ خدا کا خاص فضل تھا کہ حضرت شاہ صاحبؓ کا سارا خاندان قبولِ احمدیت سے مشرف ہوچکا تھا۔
حضرت بھائی عبدالرحمان صاحبؓ قادیانی جب اپنے گھر کو خیرباد کہہ کر سیالکوٹ آگئے تو حضرت شاہ صاحبؓ کی ہی تحریک پر قادیان پہنچے اور بیعت کی توفیق پائی۔ اسی طرح علامہ اقبال کے والد حضرت شیخ نور محمد صاحبؓ کی بیعت کے محرک بھی آپؓ اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ تھے۔ حضرت شیخ نور محمد صاحبؓ کو 92۔1891ء میں بیعت کی توفیق ملی تھی۔ ان دنوں علامہ اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے والد کی بیعت کے بعد وہ بھی خود کو احمدی ہی شمار کرتے تھے۔ انہی دنوں سعداللہ لدھیانوی کی نظم کے جواب میں جو اس نے حضرت اقدسؑ کے خلاف لکھی تھی علامہ اقبال نے حضورؑ کی تائید میں ایک نظم لکھی تھی۔
1901ء میں حضرت اقدسؑ نے کتب کے انگریزی تراجم کے لئے ایک مستقل ادارہ ’’انجمن اشاعت اسلام‘‘ قائم فرمایا جس کے سرپرست خود حضورؑ تھے اور انتظامی معاملات کیلئے ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز تشکیل دیا گیا جو بیس ممبروں پر مشتمل تھا۔ اس بورڈ میں حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ بھی شامل تھے۔ اسی طرح 1906ء میں جب انجمن احمدیہ کی بنیاد پڑی تو مجلس معتمدین کے عہدیداران حضورؑ نے نامزد فرمائے ان میں آپؓ کا نام بھی شامل تھا۔…جماعت احمدیہ کے باقاعدہ مالی نظام کی ابتداء (یعنی مارچ 1902ء سے قبل) جو مخلصین حسب توفیق باقاعدہ مالی جہاد میں شامل ہوا کرتے تھے ان میں سے ایک حضرت شاہ صاحبؓ بھی تھے۔
خلافتِ ثانیہ کے قیام کے وقت حضرت شاہ صاحبؓ نے مصلحتاً بیعت میں تاخیر کی تاکہ غیرمبائعین سے رابطہ رکھ کر ان کو راہِ راست پر لایا جاسکے۔ چنانچہ آپؓ ان کی مجالس میں شامل ہوتے رہے اور وہ بھی آپؓ کی عزت کیا کرتے تھے۔ حتی کہ ایک خاص جلسہ میں انہوں نے حضرت شاہ صاحبؓ کو اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کے مشورے پر عمل کرنے کا عہد بھی کیا لیکن پھر عملاً اطاعت کرنے کے بجائے بغض و عناد میں بڑھتے ہی گئے۔ چنانچہ آپؓ نے ان سے ناامید ہوکر خلافتِ ثانیہ کی بیعت کرلی اور اپنی تاخیر کی وضاحت حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں ایک مفصل مکتوب میں بیان کی۔بعد کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ کی نیت صاف تھی اور حضورؓ کو بھی آپؓ پر کوئی شک نہ تھا۔ چنانچہ جب اپریل 1914ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک رؤیا کی بنا پر ’’انجمن ترقی اسلام‘‘ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھی تو اس کے نو ممبران میں حضرت شاہ صاحبؓ کا نام بھی شامل فرمایا۔ اسی طرح اکتوبر 1918ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی شدید علالت کے وقت وصیت تحریر فرمائی جس میں اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لئے گیارہ افراد کی کمیٹی بنائی تو حضرت شاہ صاحبؓ کوبھی اس کمیٹی میں شامل فرمایا۔
حضرت شاہ صاحبؓ بڑے ڈیل ڈول اور پرنور چہرہ کے مالک تھے۔ منکسرالمزاج اور حلیم الطبع اور رقیق القلب تھے۔ جلسہ سالانہ پر نظمیں بھی پڑھا کرتے تھے ۔ آواز میں درد اور رقّت تھی اور انداز تصنع سے ایسا پاک ہوتا تھا کہ حاضرین پر بھی رقّت طاری ہو جاتی تھی۔ حضرت اقدسؑ کی موجودگی میں پہلی دفعہ آپؓ نے جلسہ سالانہ 1892ء کے موقعہ پر قصیدہ مدحیہ پڑھا تھا۔ حضورؑ آپکی نظمیں پسند فرماتے اور انہیں شائع کرانے کا بھی ارشاد فرماتے تھے چنانچہ الحکم اور البدر میں آپکی متعدد نظمیں شائع شدہ ہیں۔نیز کئی مجموعے بھی مرتب ہوکر شائع ہوئے۔ آپؓ کے کلام سے متعلق حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں ’’جس قدر خدا تعالیٰ نے شعر اور سخن میں ان کو قوت بیان دی ہے وہ رسالہ قول فصیح کے دیکھنے سے ظاہر ہوگی… میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اسلام کی تائید میں اپنی نظم و نثر سے عمدہ عمدہ خدمتیں بجا لائیں گے‘‘۔
مئی 1902ء کے رسالہ ’مخزن‘ میں علامہ اقبال کے قلم سے ایک منظوم خط بعنوان ’’پیغام بیعت کے جواب میں‘‘ طبع ہوا۔ حضرت شاہ صاحبؓ نے اس کا منظوم جواب لکھا اورمزید یہ بھی لکھا کہ اب تک جو بھی اس آسمانی مرد کے مقابل میں آیا ہے اس کا نتیجہ آخرکار افسوسناک حالت پر مبنی ہوا ہے اسلئے بہتر ہے کہ وہ اپنے قلم کو روک لیں اور اپنے زورِ طبیعت کے لئے اور میدان پسند کریں ۔
حضرت شاہ صاحبؓ کے شعری مجموعات و تالیفات کی تعداد 13 ہے۔ ذیل میں آپؓ کا نمونہ کلام پیش ہے:

مسیحا سے جب تک صفائی نہ ہوگی
بلاؤں سے ہرگز رہائی نہ ہوگی
خدا کے ہیں مرسل مسیحائے موعود
بغیر ان کے اب حق نمائی نہ ہوگی
اگر تم نہ مانو گے ان کی نصیحت
وہ آئے گی شامت کہ آئی نہ ہوگی
تمہارے بھلے کی یہ باتیں ہیں ساری
کبھی ایسی پھر خیر خواہی نہ ہوگی
میسر ہو نہ دام نفس سے جب تک رہا ہونا
بہت مشکل ہے اس دنیا میں مرد باخدا ہونا
جنہیں فرصت نہیں کثرتِ اشغالِ دنیا سے
وہی کہتے ہیں مشکل ہے نمازوں کا ادا ہونا

1918ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی تشویشناک علالت کی خبر نے حضرت شاہ صاحبؓ کو مضطرب کردیا اور آپؓ نے حضورؓ کی صحت کیلئے بہت دعائیں کیں۔ ایک دن مکان کی چھت پر چڑھ کر خاک پر سجدہ میں گر کر بہت دیر تک دعا کرتے رہے… اسی حالت میں نیچے اترے اور فرمایا کہ دعا تو قبول ہوگئی مگر میں خود بیمار ہوگیا ہوں۔ چنانچہ اسی بیماری میں 15؍نومبر1918ء کو آپؓ وفات پاگئے۔ سیالکوٹ میں آپؓ کی وفات کی خبر پھیلی تو مشہور ہوگیا کہ ’’شہر کا قطب فوت ہوگیا ہے‘‘۔ آپؓ کو امانتاً سیالکوٹ میں دفن کیا گیا پھر بعد میں آپؓ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔
حافظ سید میر حسن صاحب نے (جو علامہ اقبال کے استاد تھے اور حضرت شاہ صاحبؓ کے رشتہ میں چچا لگتے تھے) آپؓ کی وفات پر فرمایا ’’آج ہمارے خاندان سے تقویٰ اور پرہیزگاری رخصت ہوگئی۔ حامد شاہ میرے بھتیجے تھے۔ ان کی ساری زندگی میرے سامنے ہے اور اس میں ایک بات بھی ایسی نہیں نکل سکتی جس پر انگلی رکھی جاسکے۔‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں