حضرت عبداللہ بن عباس ؓ

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے تھے (ازلہ اوہام)۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اگست 2004ء میں آپؓ کا تفصیلی ذکر بطور مفسر قرآن بقلم مکرم سہیل احمد ثاقب بسراء صاحب شامل اشاعت ہے۔
حضرت عبداللہؓ کے والد حضرت عباسؓ آنحضورﷺ کے چچا تھے۔آپؓ کی والدہ لبابہ بنت حارث الھالیتہ تھیں۔ آپؓ کی پیدائش اس وقت ہوئی جبکہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے ہمراہ شعب ابی طالب میں محصور تھے۔ یہ ہجرت سے تین سال قبل کا واقعہ ہے۔جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کو رسول پاک ﷺ کی خدمت میں لے جایا گیا چنانچہ آنحضورﷺ نے تبرکاًلعاب مبارک آپ کے منہ میں ڈالا۔ آپؓ آغاز طفولیت سے ہی رسول کریم ﷺ سے وابستہ رہے۔ آپؓ کی خالہ حضرت میمونہ ؓ حضور ؐ کے نکاح میں تھیں۔
حضور کی وفات کے وقت حضرت ابن عباسؓ کی عمر تیرہ یا پندرہ برس تھی۔ پھر آپؓ نے کبار صحابہ کی صحبت اختیار کی اور اُن کے چشمۂ علم سے اپنی پیاس بجھائی۔ آپؓ نے 68ھ میں بعمر 70 سال طائف میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ جب آپ کو قبر میں اۡتارا گیا تو درج ذیل الفاظ صحابہؓ کی زبان پر تھے:

مَاتَ وَاللہِ حَبْرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ

بخدا آج اس امت کے عظیم عالم نے وفات پائی۔

اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو قرآن کریم کا خاص فہم عطا کیا ہوا تھا۔ آپؓ کے علمی مقام کی وجہ سے آپ کو مختلف صفاتی ناموں سے پکارا جاتا تھا چنانچہ آپؓ کو کثرت علم کی وجہ سے البحر (سمندر) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ آپؓ کا ایک نہایت دلکش اور قابلِ فخر نام ’’فَتَی الْکَھول‘‘ پڑا ہوا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ کم عمری میں ہی بڑوں جیسا تجربہ اور فہم رکھنے والا نوجوان۔ نیز آپؓ کے لئے یہ بھی کہا جاتا تھا:

’’اِنَّہٗ لِسَانًاسَئُوْلًاوَقَلْبًاعُقُوْلاً‘‘

یعنی سراپا سوال کرنے والی زبان اور غیرمعمولی قلبی سمجھ رکھنے والا۔

زھری سے روایت ہے کہ مہاجرین نے حضرت عمرؓ بن خطاب سے کہا کہ ہمارے بیٹوں کو بھی ویسا ہی مقام دیں جیسا آپ ابن عباس کو دیتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ ابن عباس تم میں ایک ایسا شخص ہے جو کم عمری میں ہی بڑوں سی بصیرت رکھتا ہے اور ان کی زبان سراپا حسنِ سوال ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے غیرمعمولی عقل و سمجھ والا دل عطا فرمایا ہے۔
بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ مجھے اپنی محفل میں بدری صحابہ کے ساتھ جگہ دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے ایک بار اس بات کا اظہار کیا کہ یہ لڑکا ہمارے ساتھ کیونکر بٹھایا جاتا ہے حالانکہ یہ تو ہمارے بیٹوں کے برابر ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ لڑکا ان لوگوں میں سے ہے جن سے تم نے تعلیم پائی چنانچہ اس کے بعدحضرت عمر ؓ نے ایک بدری صحابی ؓ کو بلایا اور حضرت ابن عباسؓ کو ان کے ساتھ بٹھایا ۔ پھر حضرت عمر ؓ نے بدری صحابہ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم سورۃ النصر کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ بعض نے کہا ہمیں اس وقت خدا تعالیٰ کی حمد اور اس سے مغفرت چاہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہمیں نصرت عطا ہو اور ہمیں فتوحات حاصل ہوں اور بعض صحابہ خاموش رہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ان کا جواب سن کر میری طرف توجہ کی اور کہا: تم بھی ایسا ہی کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: پھر تم کیا کہتے ہو؟۔ مَیں نے کہا کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی رحلت ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی تھی اور فرمایا کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے تو یہ بات تمہارے دنیا سے سفر کرنے کی علامت ہے، اس وقت تم اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرنا اور اس سے مغفرت چاہنا کیونکہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ میرا جواب سن کر حضرت عمر ؓ نے کہا: مجھ کو بھی اس سورۃ کے بارہ میں یہی علم ہے جو تم نے کہا۔
حضرت ابن عباس ؓ کے لئے سب سے بابرکت نام ’’حِبْرُالْاُمَّۃ‘‘ ہے جو آپؓ کو دربار نبوی سے بزبان جبرائیل ؑ عطا ہوا۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار مَیں رسول پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل بھی وہاں موجود تھے۔ چنانچہ جبرائیل ؑ نے حضورؐ سے کہا کہ یہ شخص ’’حِبْرُ الْاُمَّۃ‘‘ ہے پس اسے بھلائی کی نصیحت کیجیے۔ (’’حِبْر‘‘ بہت بڑے عالم کو کہتے ہیں اور ’’حِبْرُالْاُمَّۃ‘‘ کا مطلب ہے کہ پوری امت کا بہت بڑا عالم)۔
آپؓ نے قرآن کریم کے متعدد مشکل مقامات کی احسن رنگ میں وضاحت کی جس کی بنا پر آپ کو ’’نعم تر جمان القرآن‘‘ یعنی قرآن کریم کا بہترین ترجمان ہونے کا لقب ملا۔
ایک بار کسی صحابی ؓ نے ابن عمر ؓ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا تو آپؓ نے فرمایا: حضرت ابن عباس سے اس کی بابت دریافت کریں کیونکہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ پر اتارا ہے یعنی قرآن مجید اس کا وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کی علمی شہرت و برتری کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ وہ دعائیں ہیں جو آنحضرت ؐ نے آپ کے حق میں کیں۔ ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ! اس کو دین کا فہم عطا کر اور اسے قرآن کی تفسیر سکھادے۔
ایک اور روایت ہے کہ اے اللہ! اسے قرآن کا علم اور حکمت سکھا۔
علمی برتری کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ خاندان نبوت میں پروان چڑھے۔
تیسری وجہ آنحضرت ؐ کی وفات کے بعد کبارصحابہؓ کی صحبت ہے۔
چوتھی بڑی وجہ عربی زبان پر دسترس کا ہونا ہے۔
پانچویں یہ کہ بچپن سے ہی آپ بڑے شوق اور ولولے سے اسوہ رسول ؐ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے۔
چھٹی وجہ آپ کا اجتہاد کے مرتبہ پر فائز ہونا ہے اور بے باک حق کی بات کہنا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کو آنحضرت ؐ کے اسوہ پر عمل کرنے کا اس قدرشوق تھا کہ ایک بار وہ بچپن میں اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے ہاں صرف اس لئے آئے تاکہ آپؐ کے قرب میں رہ کر آپ کا اُسوہ دیکھ سکیں۔
حضرت ابن عباس ؓسے بے شمار تفسیری روایات منقول ہیں اور ان روایات کے اسناد کے مختلف طریق بیان کئے جاتے ہیں جن میں سے نو معروف ہیں۔ اگرچہ آپؓ کی طرف منسوب روایات کی کثرت کی وجہ سے صحیح اور غلط میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ksHq8]

اپنا تبصرہ بھیجیں