حضرت عمر بن الخطابؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍مئی 2004ء میں مکرم حافظ عبد الحئی صاحب کے قلم سے حضرت عمرؓ بن الخطاب کی پاکیزہ زندگی کے نادر واقعات شامل اشاعت ہیں۔
موعود خلیفہ
حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں مَیں قریش کے تیس اشخاص کے ساتھ بغرض تجارت شام گیا۔ مجھے ایک ضروری کام پڑا تو میں نے ساتھیوں سے کہا تم چلو میں آتا ہوں۔ پھر میں بازار میں کھڑا تھا کہ ایک طاقتور پادری مجھے گردن سے پکڑ کر گرجا میں لے گیا جہاں مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ایک بیلچہ اور کلہاڑا اور تھیلہ لاکردیا اور کہا: یہ مٹی اٹھا کر باہر پھینکو!۔ دوپہر کووہ دوبارہ آیا اور کہا کہ تم نے ذرا بھر بھی مٹی باہر نہیں نکالی؟ پھر اس نے میرے سر پہ ایک مکا دے مارا ۔ اس پر میں نے بیلچہ اٹھا کر اسے دے مارا جس سے اس کا بھیجا نکل کر باہر آگیا۔ میں نے اسے مٹی میں دبا یا اور وہاں سے نکل بھاگا۔ سارا دن اور رات چلتا رہا۔ صبح ایک راہب خانہ کی دیوار کے سایہ میں بیٹھا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی نکلا اور پوچھا: اے اللہ کے بندے! یہاں کیوں بیٹھا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں !۔ وہ مجھے اندر لے گیا اور خورونوش کی چیزیں لے آیا۔ پھر مجھے غور سے دیکھ کر کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تو وہی شخص ہے جو ہمیں اس راہب خانہ سے نکالے گا اور اس سارے ملک پہ قابض ہوگا!۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: تم کچھ اور ہی سوچ اور سمجھ رہے ہو!۔ اس نے میرا نام پوچھا میں نے کہا: عمر بن الخطاب۔ وہ بولا: خدا کی قسم تووہی شخص ہے، پس یہ راہب خانہ میرے نام لکھ دے۔ مَیں نے کہا: تو نے مجھ پہ جو احسان کیا ہے اب ایسی باتیں کرکے اسے مکدرنہ کر۔ اس نے دوبارہ کہا: اگر تُو وہی شخص ہے تو لکھ دے۔ اور اگر تُو وہ شخص نہیں تو تیرا کیا جاتا ہے؟۔ پھر میں نے اسے لکھ کر دیدیا۔ اور اس نے مجھے کچھ کپڑے اور پیسے دئیے اور ایک گدھی سواری کے لئے ساتھ کر دی اور کہا: تم جس بھی علاقہ سے گزروگے، لوگ خود ہی گھاس پھونس ڈال دیں گے۔ ہاں جب کسی پُرامن جگہ پہنچ جاؤ تو اسے موڑ کرایک ضرب لگا دینا یہ خود ہی واپس آجائے گی۔ میں نے دیکھا کہ واقعی لوگ اس گدھی کو چارہ ڈالتے اور پانی پلاتے رہے اور جب میں حجاز کے قریب ہواتو میں نے اس گدھی کا رخ موڑ کر اسے ایک ضرب لگائی تو وہ واپس ہولی۔
جب حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانہ میں شام آئے تو وہی راہب آپؓ کے پاس آپؓ کی تحریر لے کر آگیا اور کہا: وہ علاقہ مجھے دیدیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس میں عمر یا عمر کے باپ کا کچھ بھی نہیں ہے، یہ سب مسلمانوں کے مشترکہ منافع ہیں، ہاں اگر تم وعدہ کرو کہ مسلمانوں کی مہمان نوازی کروگے اور بھولے بھٹکے مسلمانوں کو راستہ بتاتے رہو گے تو ہم یہ علاقہ تمہیں لکھ دیتے ہیں! جب اس نے یہ شرائط مان لیں تو آپ نے بھی اپنا وعدہ نبھا دیا۔
قبولیت اسلام کی خبر
حضرت عمرؓ نے جب اسلام قبول کیا تو چاہا کہ یہ خبر فوراً پھیل جائے۔ چنانچہ آپؓ مکہ میں سب سے زیادہ چغلخور کے پاس گئے اور اسے اس بارہ میں بتاکر کہا کہ کسی کو بتانا نہیں۔ لیکن ابھی سورج بھی نہ ڈھلا تھا کہ تمام اہل مکہ کو آپؓ کے اسلام قبول کرنے کی خبر پہنچ گئی تھی۔
مالی معاملات میں احتیاط
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اونٹ خریدے اور انہیں چراگاہ میں بھیج دیا۔ جب وہ خوب موٹے تازے ہوگئے تو بیچنے لے گئے۔ حضرت عمرؓ نے بازار میں اُن اونٹوں کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس کے اونٹ ہیں؟ بتایا گیا: عبد اللہ بن عمر کے۔ آپؓ نے اپنے بیٹے کو بلوایا اور (طنزاً) کہنا شروع کردیا: ہاں ہاں امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹوں کو چارہ دو اور امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹوں کو پانی دو!۔ پھر فرمایا: عبد اللہ! یہ اونٹ بیچ کر اپنا راس المال لے لینا اور باقی پیسے بیت المال کو بھجوادینا۔
توحید کی غیرت رکھنے والا متوکل
٭ مصر فتح ہوا تو اہل مصر حضرت عمرو بن العاصؓ والیٔ مصر کے پاس آئے اور عرض کی کہ دریائے نیل کی ایک رِیت جب تک پوری نہ کی جائے، یہ بہتا نہیں ہے۔ اور وہ رِیت یہ ہے کہ اس مہینہ کی بارہویں رات کو ہم ایک کنواری لڑکی اس کے ماں باپ کو بہلا پھسلا کر لے لیتے ہیں اور پھر اسے عمدہ لباس زیب تن کروا کر قیمتی زیورات سے آراستہ کرکے دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمروؓ نے کہا : یہ اسلام میں نہیں چلے گا کیونکہ اسلام تمام بدرسوم کا خاتمہ کرنے آیا ہے۔
لیکن دریا واقعی نہ چلا یہاں تک کہ لوگوں نے تنگ آکر علاقہ چھوڑنا شروع کردیا۔ اس پر عمروؓ نے ساراماجرا حضرت عمرؓ کولکھ بھیجا۔ آپؓ نے جواب دیا کہ تم نے صحیح کہا کہ اسلام تما م پچھلی بدرسموں کا خاتمہ کرتا ہے۔ اور لکھا کہ میں اس خط کے ساتھ ایک رقعہ بھیج رہا ہوں وہ دریائے نیل میں ڈال دینا۔
اس رقعہ میں لکھا تھا: خدا کے ایک بندے عمر امیرالمومنین کی طرف سے نیل کے نام! اگر تو تُواپنی مرضی سے چلتا ہے تو بیشک نہ چل اور اگر خدا ئے واحد وقھار تجھے چلاتا ہے تو ہم اس سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے چلا دے۔
جب یہ رقعہ دریا میں ڈالا گیا تو دریا بہنے لگا اور ایک ہی رات میں پانی 16؍فٹ اونچا ہوگیا۔
علم دوست قدردان
کسی نے حضرت علیؓ کی اُس وقت حضرت عمرؓ کے پاس شکایت کی جبکہ وہ آپؓ کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؓ نے حضرت علیؓ سے کہا: ابوالحسن! اپنے مخالف کے پاس جاکر بیٹھ جاؤ۔ پھر دونوں اپنا اپنا قصہ پیش کیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حضرت علیؓ دوبارہ اپنی جگہ پہ آکر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے اُن کے چہرہ پہ تغیر کی وجہ پوچھی تو وہ بولے کہ آپ نے میرے مخالف کے سامنے میری کنیت کے ساتھ کیوں مخاطب کیا؟ یہ کیوں نہ کہا: علی اٹھ اور اپنے مخالف کے ساتھ جاکر بیٹھ!۔ (عربوں میں تکریم کے لئے کنیت سے مخاطب کرتے تھے)۔ اس پر آپؓ نے حضرت علیؓ کو گلے لگا لیا، چوما اور فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پہ قربان! اللہ نے تمہارے ذریعہ ہمیں ہدایت دی اور تمہارے ہی ذریعہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر نور سے منور کیا۔
صاحب کشف ورؤیا
حضرت عمرؓ نے ایک لشکر کا امیر ساریہ کو مقرر کیا۔ پھر ایک دن خطبہ دیتے دیتے پکار کر کہا: یاساریۃ الجبل، یاساریۃالجبل کہ اے ساریہ پہاڑ کی طرف ! اے ساریہ پہاڑ کی طرف !۔ کچھ دنوں بعد اسی لشکر کا ایک پیغامبر حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ امیر المومنین ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی اور وہ ہمیں شکست دینے کوتھے کہ ہم نے ایک پکار سنی کہ اے ساریہ پہاڑ کی طرف ! اے ساریہ پہاڑ کی طرف! اس پر ہم نے اپنی پشت پہاڑ کی طرف کرلی اور اللہ نے دشمن کو شکست دیدی!
مبارک شادی
حضرت عمرفاروق ؓ لوگوں کے حالات سے باخبر رہنے کیلئے رات کو گشت کیا کرتے تھے۔ ایک رات آپ نے ایک عورت کو اپنی بیٹی سے یہ کہتے سنا کہ دودھ میں کچھ پانی ملادو۔ لڑکی نے کہا: امیرالمومنین نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہے۔ ماں نے کہا: اس وقت تمہیں عمر نے دیکھنا ہے نہ ان کے منادی نے! لڑکی بولی: اگر عمر نہیں دیکھ رہا تو عمر کا خدا تو دیکھ رہا ہے! خدا کی قسم مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں جلوت میں تو ان کی اطاعت کروں لیکن خلوت میں نافرمانی کرتی پھروں!
صبح ہوئی تو حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عاصم سے کہا فلاں لڑکی ہے، اگر اس کی شادی نہیں ہوئی تو اس سے شادی کر لو شاید اللہ اس سے نیک نسل چلائے۔ چنانچہ عاصم نے اس لڑکی سے شادی کرلی اور اس سے وہ خاتون پیدا ہوئیں جو عبدالعزیز بن مروان کے عقد میں آئیں اور پھر جن کے بطن سے حضرت عمربن عبدالعزیز پیدا ہوئے جنہیں پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے ۔
قول کے پکّے
جب ھرمزان کو گرفتار کرکے حضرت عمرؓ کے پاس لایا گیا تو آپؓ مسجد نبوی میں اکیلے سورہے تھے۔ لوگ چپ چاپ کھڑے ہوگئے تاکہ آپ جاگ نہ جائیں۔ ھرمزان کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ آپؓ کا کوئی دربان ہے نہ پہریدار۔ کوئی کاتب ہے نہ دیوان۔ اس پر اُس نے کہا: پھر تو یہ نبی ہیں! لوگوں نے کہا: نہیں ان کے کام نبیوں والے ہیں۔
جاگنے پر حضرت عمرؓ کو بتایا گیا کہ یہ رستم کا ساتھی اور عجم کا لیڈر ہے! اس پر آپؓ نے اُسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو اس نے کہا: میں جس دین پہ ہوں اچھا ہوں اور کسی ڈر کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کرنا چاہتا۔ آپؓ نے تلوار منگوائی تاکہ اس کو قتل کروادیں۔ اس نے کہا: مجھے پیاسے مارنے سے بہتر ہے آپ مجھے پانی پلوادیں۔ آپؓ نے پانی منگوایا۔ جب اس نے پانی ہاتھ میں پکڑا تو کہا : کیا جب تک میں یہ پانی پی نہ لوں تو اپنے آپ کو امن میں سمجھوں؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ اس پر اُس نے وہ پانی پھینک دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اب تیری جان امان میں ہے۔ اس پر اس نے کہا: امیر المومنین اب میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں اور جو کچھ وہ لائے ہیں سب برحق ہے!۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو کیا ہی اچھا ایمان لایا ہے لیکن تجھے ایمان لانے سے کس چیز نے اتنی دیر روکے رکھا؟ اس نے کہا: پہلے میں اس لئے ایمان نہیں لایاکہ کہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ تلوار کے ڈر سے ایمان لایا ہے۔ اس پر آپؓ نے فرمایا: اہل فارس کے پاس واقعی ایسی سمجھ بوجھ ہے کہ جس کی بناء پہ وہ واقعی گذشتہ بادشاہت کے لائق تھے۔
نور فراست سے مزین
٭ جب کسریٰ کے خزانے حضرت عمرؓ کے پاس لائے گئے تو انہیں مسجد کے صحن میں رکھوادیا گیا۔ صبح جب انہیں کھولا گیا تو ان کی چمک دمک سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔ اس پر حضرت عمرؓ رونے لگ گئے۔ آپ سے کہا گیا: امیر المومنین! یہ تو خوشی اور شکر کا دن ہے!۔ آپؓ نے فرمایا: یہ خزانے جب بھی کسی قوم کو ملے ہیں ان میں باہمی بغض اور دشمنی کا آغاز ہوگیا۔
٭ ایک عامل نے حضرت عمرؓ کو اپنی خواب سنائی کہ میں نے چاند اور سورج کو لڑتے دیکھا ہے۔ آپؓ نے پوچھا: تم کس کی طرف تھے؟ اس نے کہا: چاند کی طرف۔ آپؓ نے کہا: مٹ جانے والے نشان کے ساتھ! پھر اسے عہدہ سے معزول کردیا۔ پھر جب حضرت علیؓ اور امیر معاویہ کے درمیان اختلاف ہواتو وہ شخص امیر معاویہ کے ساتھ رہا۔
٭ حضرت عمرؓ بن الخطاب نے حضرت عباسؓ بن عبد المطلب سے اُن کا گھر مسجد میں توسیع کے لئے مانگا تو حضرت عباسؓ نے انکار کردیا۔
تب دونوں نے حذیفہ بن الیمان کو اپنا حَکَم بنایا تو حضرت حذیفہؓ نے کہا: اس معاملہ کے بارے میں میرے پاس ایک واقعہ ہے۔ جب حضرت داؤدؑ نے بیت المقدس میں توسیع کا ارادہ کیا تو ایک یتیم نے اپنا قریبی گھر دینے سے انکار کردیا۔ جب آپؑ نے ہر حال میں وہ گھر حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو وحی کی کہ ظلم کرکے میرے گھر کی توسیع نہ کر! تو حضرت داؤد باز آگئے۔
یہ سن کر حضرت عمرؓ واپس مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تو آپؓ کی نظر حضرت عباس ؓ کے پرنالہ پہ پڑی جو بارش وغیرہ کے پانی کا اخراج کے لئے مسجد نبوی میں رکھا گیا تھا۔ تو آپؓ نے وہ پرنالہ اکھیڑ دیا۔ اس پر حضرت عباسؓ نے بتایا کہ یہ پرنالہ خود آنحضورﷺ نے یہاں لگوایا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: آپ میری گردن پر چڑھیں اور یہ پرنالہ اسی جگہ دوبارہ لگا دیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے اسے لگایا تھا۔ چنانچہ پھر حضرت عباسؓ حضرت عمرؓ کی گردن پہ چڑھے اور اس پرنالہ کو اس کی جگہ پہ دوبارہ لگایا اور پھر کہا: عمر! میں یہ گھر آپ کو توسیع مسجد کے لئے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس گھر کو مسجد نبوی میں شامل کرکے اس کی توسیع کی اور حضرت عباسؓ کو زوراء مقام پہ ایک بہت بڑا گھر اس کے بدلہ میں دیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/tSxxt]

اپنا تبصرہ بھیجیں