حضرت فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنہا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20ستمبر2010ء میں مکرمہ ش۔انجم صاحبہ کے قلم سے حضرت فاطمۃالزھراؓ کی سیرۃ و سوانح پر مشتمل ایک مضمون شائع ہوا ہے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجۃالکبریٰ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہر ا ؓ کی کنیت امّ الحسنین تھی کیونکہ آپؓ حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسینؓ کی والدہ ماجدہ تھیں۔ فاطمہ کے معنی ہیں بازرہنے والی۔ آپؓ یقینا دنیا اور علائق دنیا سے پاک اور باز رہنے والی تھیں۔ آپؓ کے لقب بتولؔ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ’وہ جس کا دنیا و مافیہا سے کوئی تعلق نہ ہو‘۔ آپؓ کے مشہور القاب زہرہ بتول، سیدۃ النساء العالمین اور سیدۃ النساء اہل الجنۃ ہیں۔
آپؓ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ارشاد فرمایا: اے فاطمہ! کیا تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام دنیا کی عورتوں کی سردار ہو۔ یا تم اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔
حضرت فاطمہ ؓ کے سن ولادت میں اختلاف ہے۔ تاہم زیادہ تر یہی تسلیم کیا گیا ہے کہ بعثت نبوی کے پہلے سال میں آپ کی ولادت ہوئی۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی علوم و لطائف کا عکس سیدہ فاطمہؓ کی سیرت صالحہ پر نقش تھا۔ اور آپؓ رسول کریمؐ سے بے پناہ محبت کرتی تھیں اور آنحضورؐ کی ذراسی تکلیف سے بے چین ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی سنگدل مشرک نے آنحضورؐ کے سر اقدس پر خاک ڈالی دی۔ آپؐ اسی حالت میں گھر تشریف لے آئے۔ سیدہ فاطمہ ؓنے آپؐ کو اس حالت میں دیکھا تو بے قرار ہوگئیں۔ پانی لے کر آئیں اور پھر سر اقدس دھوتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں۔ آنحضورؐ نے آپؓ کو روتے دیکھا تو فرمایا: بیٹی! رو نہیں، اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو بچائے گا۔
اسی طرح ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خانۂ کعبہ کے نزدیک نماز ادا کر رہے تھے جب کفار کے کہنے پر ایک بدبخت عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لایا اور آنحضورؐ کے مبارک شانوں کے درمیان اس وقت رکھ دی جبکہ آپؐ سجدہ کی حالت میں تھے۔ سیدنا رسول کریم ؐاس حال میں تھے کہ سجدے سے سر مبارک نہ اٹھاسکے۔ تمام کفار یہ دیکھ کر ہنسنے اور خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ حتیٰ کہ حضرت فاطمہؓ کو خبر ہوئی۔ وہ آئیں اور انہوں نے سر کار دوعالمؐ کے شانوں سے اس اوجھڑی کو اٹھایا اور ان کافروں کو برا بھلا کہا۔ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: اے اللہ! ان بدبختوں کو مَیں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کہیں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ ؓ سے مل کر رخصت ہوتے اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ سے ملتے۔ سفر طائف کے وقت بھی آنحضور ؐ سیدہ فاطمہ ؓ سے شفقت و محبت فرمانے کے بعد روانہ ہوئے لیکن جب طائف سے لوٹے تو خستگی اور زخموں کی وجہ سے نڈھال تھے۔ سیدہ فاطمہ ؓ یہ دیکھ کر بہت پریشان اور مضطرب ہوئیں اور پھر اپنی بہن سیدہ امّ کلثوم کے ساتھ مل کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کردیا۔
ذی الحجہ 2 ہجری میں آنحضورؐ نے سیدہ فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ کے ساتھ کر دیا۔ اس وقت سیدہ فاطمہؓ کی عمر مبارک پندرہ سال ساڑھے پانچ ماہ اور حضرت علیؓ کی عمر مبارک اکیس برس پانچ ماہ تھی۔ نکاح سے قبل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ ’علی تمہارارشتہ چاہتے ہیں‘۔ سیدہ فاطمہؓ کچھ نہ بولیں اور خاموش رہیں۔ اس کے بعد آنحضور ؐ نے حضرت علی ؓ سے ان کا نکاح کر دیا۔
غزوۂ اُحد کے موقع پر جب آنحضرتؐ شدید زخمی ہوئے اور حضرت فاطمہؓ کو مدینہ میں خبر ہوئی تو آپؓ شدید بے قرار ہوکر باپردہ حالت میں چند ہمراہیوں کے ساتھ میدان جنگ میں پہنچیں۔ حضرت علی ؓ نے آپؓ کو غمگین و ملول دیکھ کر بہت تسلی دی۔ زخموں کی شدت سے آنحضورؐ کو ضعف ہو گیا تھا اور آپؐ کے زخموں سے خون جاری تھا۔ حضرت علی ؓ پانی لے کر آئے اور آنحضورؐ کے زخموں پر پانی ڈالنا شروع کیا۔ سیدہ فاطمہؓ زخموں کو دھوتی جاتی تھیں مگر زخم ایسا کاری تھا کہ بار بار دھوئے جانے پر بھی خون بند نہ ہوتا تھا۔ آخر سیدہ فاطمہؓ نے کپڑے کا ایک ٹکڑا جلایا اور زخم میں بھرا جس سے خون بند ہو گیا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند دن قبل جب آنحضورؐ بیمار ہوئے تو سیدہ فاطمہؓ عیادت اور تیمارداری کی غرض سے حاضر خدمت رہتی تھیں۔ ایک دن جب کہ مرض کافی شدید تھا، آنحضورؐ نے سیدہ فاطمہ ؓ کو بلایا، اپنے پہلو میں بٹھایا اور آپؓ کے کان میں کچھ فرمایا۔ جسے سن کر سیدہ فاطمہ ؓ رونے لگیں۔ اس کے بعد پھر کان میں کچھ فرمایا تو آپؓ خوش ہو کر ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ ؓ سے کہا کہ مَیں نے کسی رونے والے کو ہنستا ہوا اور کسی غم کو خوشی کے ساتھ معاون و متصل نہیں دیکھا جیسا کہ مَیں نے آج دیکھا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ سیدہ فاطمہ ؓ نے فرمایا کہ یہ میرے اور رسول کریمؐ کے درمیان راز کی بات ہے جسے میں ظاہر نہیں کر سکتی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول کریمؐ کی وفات ہوگئی تو اس کے بعد مَیںنے سیدہ فاطمہ ؓ سے دوبارہ دریافت کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جبرائیل ؑ ہرسال ایک مرتبہ آکر میرے ساتھ قرآن مجید کا دَور کیا کرتے تھے مگر اس برس دو مرتبہ دَور کیا ہے اور مَیں سمجھتا کہ میرا وقتِ وصال قریب ہے۔ یہ سن کر مَیں رونے لگی۔ پھر آنحضورؐ نے فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی اور کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو!۔ اس پر مَیں ہنسنے لگی۔
آنحضورؐ کے وصال کے وقت آنحضورؐ نے پانی منگوایا جو پیالہ میں پیش کیا گیا۔ آپؐ نے پیالے میں دست مبارک ڈالا اور اپنے چہرہ انور پر ملتے ہوئے فرمایا: ’اے اللہ! نزع کی سختی میں میری مدد فرما‘۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف دیکھ کر سیدہ فاطمہ ؓ نے درد ناک آواز میں کہا: ہائے میرے ابا جان آپؐ کو کتنی تکلیف ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بیٹی ! آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔
سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓ کی سیرت مبارکہ ہر لحاظ سے مومن خواتین کے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے آپؓ کی گھریلو زندگی اور حیات طیبہ کے واقعات سے صبر و شکر اور ربّ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا درس ملتا ہے۔
سیدہ فاطمہؓ کو اپنے گھر کے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرنا اور اپنے خاوند کی خدمت کرنا بہت محبوب تھا۔ ایک مرتبہ آپؓ کو بخار ہو گیا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ وہ رات آپ ؓ نے بڑی بے چینی اور اضطراب کی حالت میں کاٹی کہ آپؓ کی بیقراری کی وجہ سے مَیں بھی نہ سوسکا۔ رات کے آخری پہر ہم دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ فجر کی اذان ہوئی تو مَیں اٹھ کھڑا ہوا۔ دیکھا کہ آپؓ وضو کر رہی ہیں۔ مَیں نے سوچا کہ بجائے وضو کے تیمم کرلیتیں تو بہتر تھا۔ مگر مَیں نے کچھ نہ کہا اور مسجد چلا آیا۔ جب واپس آیا تو دیکھا کہ آپؓ حسب معمول چکّی پیس رہی ہیں اور آثارِ مرض چہرہ سے نمایاں ہیں۔ مَیں نے کہا: فاطمہ ! تمہیں اپنے آپ پر رحم نہیں آتا۔ ساری رات تم نے تڑپ کر گزاری۔ پھر صبح ٹھنڈے پانی سے وضو کر لیا اور اب چکّی پیسنے بیٹھ گئیں۔
سیدہ فاطمہ ؓ نے جواب دیا کہ ’’اگر مَیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں مربھی جائوں تو مجھے ابدی مسرت ملے گی۔ مَیںنے وضو کیا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے اور چکّی پیسی آپ کی اطاعت کے لئے اور بچوں کی خدمت کے لئے۔فاطمہ ؓ کے لئے ان سے بڑھ کر اور کون سا فریضہ ہو سکتا ہے۔‘‘
حضرت امام حسن ؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ اپنے خانہ داری کے کاموں کی انجام دہی میں کبھی کسی عزیز یا ہمسایوں کو اپنی معاونت کی تکلیف نہیں دیتی تھیں اور کام کی کثرت سے نہ گھبراتی تھیں۔
ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ سے تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ؓ نے خیر مقدم کے طور پر اپنے گھر کے دروازہ پر پردے لگائے، حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ کو چاندی کے کنگن پہنائے۔ آنحضورؐ حسب معمول سیدہ فاطمہ ؓ کے یہاں آئے تو اس دنیوی سازوسامان کو دیکھ کر واپس تشریف لے گئے۔ جب آپؓ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی کا حال معلوم ہوا تو پردہ چاک کردیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار ڈالے۔ بچے روتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا: ’’یہ میرے اہل بیت ہیں، مَیں نہیں چاہتا کہ وہ ظاہری آرائش سے آلودہ ہوں۔ اس کے بدلے فاطمہ ؓ کے لئے عصیب کا ایک ہار اور ہاتھی کے دانت کے کنگن خرید لاؤ‘‘۔
ایک مرتبہ لوگوں کے پوچھنے پر حضرت عائشہ ؓ نے بتایا کہ آنحضورؐ کو اہل بیت میں فاطمہؓ زیادہ محبوب تھیں اور مردوں میں اُن کے شوہر علیؓ محبوب تھے۔
ایک دن حضرت علی ؓنے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہؐ ! آپؐ کو فاطمہ زیادہ عزیز ہیں یا مَیں؟ آنحضور ؐ نے فرمایا: فاطمہ تم سے زیادہ مجھے پسند ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھے عزیزہو۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک بار سیدہ فاطمۃ الزہراؓ سے فرمایا: اللہ کی قسم! اے فاطمہ ! میں نے کسی کو سیدنا رسول کریم ؐ کے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب نہ دیکھا اور قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ مَیں نے آپ کے والد ماجدؐ کے بعد کسی شخص کو آپ سے زیادہ محبوب نہ پایا۔
رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’فاطمہ ؓ میرے جگر کاٹکڑا ہے جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے ان سے بغض رکھا بلاشبہ اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘
اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ فاطمہ کے غصہ سے غضب فرماتا ہے اور ان کی رضا سے خوش ہوتا ہے۔‘‘
پھر فرمایا: ’’بلاشبہ فاطمہ مجھ سے ہے۔‘‘
سیدہ فاطمہ ؓ جب تشریف لاتیں تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان کا ہاتھ تھام لیتے۔ ان کو اپنی جگہ پر بٹھاتے اور ان کے لئے اپنی چادر بچھاتے۔
آنحضورؐ ہمیشہ حضرت علی ؓ اور سیدہ فاطمہ ؓ کے تعلقات خوشگوار کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ چنانچہ جب کبھی حضرت علی ؓ اور سیدہ فاطمہ ؓ کے مابین گھریلو معاملات کے بارے میںرنجش ہو جاتی تو آنحضورؐ دونوں میں صلح کرا دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آنحضور سیدہ فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور ان کے اور حضرت علی ؓ کے درمیان صلح کرا دی اور گھر سے بڑے خوش خوش باہر تشریف لائے۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا، یا رسول اللہؐ! آپ ان کے گھر میں تشریف لے گئے تھے تو اَور حالت تھی اور اب آپ اس قدر خوش کیوں ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: مَیں نے ان دو افراد میں مصالحت کرائی ہے جو مجھ کو محبوب ترین ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ فاطمہ بنت رسول اللہؐ کی نسبت چال چلن میں، انداز میں، سیرت میں ، کھڑے ہونے میں، بیٹھنے میں سیدنا رسول کریم ؐ سے زیادہ مشابہ ہو اور جس وقت فاطمۃ الزہرا نبی کریمؐ کے پاس آتی تھیں تو آپؐ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور ان کو اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔
حضرت امام حسن ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سارا دن بھوکے رہنے کے بعد شام کے وقت ہم لوگوں کو کھانا میسرہوا۔ سیدہ فاطمہؓ نے پہلے ہمیں کھلایا، پھر خود کھانے کے لئے بیٹھیں۔ ابھی لقمہ توڑ کر تناول فرمانا چاہتی تھیں کہ دروازہ پر سائل نے صدا لگائی کہ دو وقت کا بھوکا ہوں۔ اُس کی آواز سن کر آپؓ بے چین ہوگئیں۔ روٹی کا ٹکڑا رکھ دیا اور پوری روٹی مجھے دے کر فرمایاکہ جائواس بھوکے کو دے آئو۔ میں نے پوچھا: اماں جان! آپ خود بھی تو بھوکی ہیں۔ آپؓ نے ارشاد فرمایا: بیٹا تمہاری ماں تو صرف ایک ہی وقت کی بھوکی ہے جبکہ یہ سائل دو وقت کا بھوکا ہے۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا: باوجود اس کے کہ سیدہ فاطمہؓ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اکثر مصروف رہتی تھیں مگر گھر کا کوئی کام بے وقت نہیں ہونے پاتا تھا۔ ان کی کثرتِ عبادت کی وجہ سے مجھے امور خانہ داری میں کبھی کوئی شکایت پیدا نہیںہوئی۔
حضرت امام حسن ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ وہ گھر کی مسجد میں ساری رات نماز میں مشغول رہتی تھیں حتیٰ کہ صبح طلوع ہو جاتی اور میں نے انہیں مسلمانوں اور مسلمان خواتین کے حق میں بہت زیادہ دعا کرتے سنا۔ آپؓ کو قرآن کریم کی تلاوت سے خاص شغف تھا اور تلاوت کرتے ہوئے آنسوئوں کے قطرے مصلّے پر گرتے جاتے۔
حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ فاطمہؓ کے گھر آیا۔ مَیںنے دیکھا کہ حضرت امام حسن ؓ و حسین بکرے کی کھال پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں اور سیدہ فاطمہ ؓ اپنے ہاتھ سے پنکھا جھل رہی ہیں اور زبان مبارک سے قرآن حکیم کی تلاوت فرما رہی ہیں۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت علیؓ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ ؓ روٹی پکاتی جاتی ہیں اور نہایت خوش الحانی سے قرآن حکیم کی تلاوت بھی کرتی جاتی ہیں۔
حضرت فاطمہؓ کے بطن سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں یعنی حضرت امام حسن ؓ ، حضرت امام حسین ؓ، حضرت زینب ؓ ، حضرت ام کلثوم ؓ اور حضرت محسنؓ۔ حضرت محسن کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔
سیدہ فاطمہؓ آنحضورؐ کے وصال کے تقریباً چھ ماہ بعد وفات پا گئیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/M1Tzn]

اپنا تبصرہ بھیجیں