حضرت مصلح موعودؓ سے وابستہ چند یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍مارچ2006ء میں مکرم ملک صلاح الدین صاحب (مؤلف اصحاب احمد) کے قلم سے حضرت مصلح موعودؓ سے وابستہ چند یادیں بیان کی گئی ہیں۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ کی قبولیت دعا کا اندازہ اُن فتنوں اور اشتعال انگیز حالات سے کیا جاسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچانک اپنا رُخ موڑ گئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مخالفین سلسلہ کو حکومت پنجاب (متحدہ) نے جماعت کے خلاف نہ صرف مشتعل کیا بلکہ ان کی ہررنگ میں اعانت کی۔ حتیٰ کہ ایک نوجوان کے ذریعہ دن دیہاڑے اور برسرِعام حضرت مسیح موعود ؑ کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ پر لاٹھی سے حملہ کروا کر احمدیوں کے قلوب کو شدید طور پر مجروح کیا گیا۔ لیکن حضورؓ کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے شہرت پر پہنچے ہوئے اعداء کو غیر متوقع حالات پیدا کر کے بغتۃً قعر مذلت میں گرادیا کہ ان اعداء کی پشت پناہ حکومت بھی ورطۂ حیرت اور بحر یاس میں ڈوب گئے۔
٭ 1932ء میں خاکسار کو دیپالپور ضلع ساہیوال کے ایک ہندو مدرس نے دوران گفتگو بتایا کہ مجھے تجربہ ہے کہ آپ کے فلاں چچا صاحب کے کسی بچے کی حالت بیماری سے جب بھی تشویش والی ہوتی تو خواہ ڈاک کا وقت نہ ہوتا اور رات کا وقت ہوتا، وہ اُسی وقت حضورؓ کی خدمت میں دعا کا خط حوالہ ڈاک کردیتے اور فوراً بعد ہی تشویش والی صورت دُور ہوجاتی۔
٭ مکرم چوہدری چراغ دین صاحب آف یوگنڈا اور مکرم فضل الٰہی خاں صاحب درویش سناتے تھے کہ قادیان سے فٹ بال، والی بال اور ہاکی کی ٹیمیں بٹالہ کے Happy کلب کے ساتھ مقابلہ کے لئے گئیں۔ اس کلب کی ٹیمیں بہت ہی مضبوط تھیں۔ ہاکی کے مقابلہ میں اس کلب نے دو گول کردیئے اور کھیل کی حالت سے کلب کی کامیابی عیاں تھی۔ حضور اتفاقاً اُس وقت بٹالہ سے گزررہے تھے کہ حضورؓ سے کسی نے ذکر کیا اور آپؓ بیئرنگ کالج کے میدان میں تشریف لے آئے جہاں یہ کھیل جاری تھا۔ چند لمحوں میں احمدیہ ٹیم نے دو گول اتار دیئے۔ اور پھر ایک یا دو گول مزید کر کے جیت گئے۔ دیگر مقابلوں میں بھی ہماری ٹیمیں کامیاب ہوئیں۔ وہاں شہر میں یہی چرچا ہونے لگا کہ مرزا صاحب آئے تھے نہ معلوم انہوں نے کیا جادو کیا یا پھونک ماری کہ پانسہ ہی پلٹ گیا۔
٭ ایک کالج کے ہندو پرنسپل اپنے بیٹے کو قادیان لائے اور بتایا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی دعا سے یہ بچہ مجھے عطا ہوا تھا اس لئے میں اسے قادیان دکھانے آیا ہوں تا جہاں کی دعا سے یہ پیدا ہوا تھا، اس سے اس کا رابطہ قائم ہو۔
٭ تقسیم ملک سے قبل ایک ہندو قادیان میں تھانیدار تھے۔ وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی اہلیہ صاحبہ کے مراسم اہلیہ صاحب مولوی محمد عبداللہ صاحب سے تھے جو حضور کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔ موصوفہ کے مشورہ کے مطابق تھانیدارنی صاحبہ ان کے ساتھ دعا کے لئے حضورؓ کی خدمت میں عرض کرنے ڈلہوزی گئیں۔ چنانچہ حضورؓ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بچہ عطا فرمایا جس کا ذکر تھانیدار صاحب بعد میں بھی نہایت خوشی سے کیا کرتے تھے۔
٭ بعض لوگ دنیادار افراد کے طریق پر حضورؓ سے بعض احمدی حکام عدالت کے پاس سفارش کے لئے آتے تھے لیکن حضورؓ اس امر کو پسند نہ کرتے تھے۔ حضرت ڈپٹی میاں محمد شریف صاحب قصور میں متعین تھے۔ اس علاقہ کے ایک سکھ صاحب آئے اور اصرار کرنے لگے کہ میرا عزیز بالکل بے قصور ہے، اس کے بَری کرنے کے لئے میاں صاحب سے سفارش کی جائے۔ حضورؓ بہت دیر تک سمجھاتے رہے کہ جماعت کو میری طرف سے ہمیشہ انصاف کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اور میاں صاحب خود ہی نیک آدمی ہیں، وہ بغیر سفارش کے بھی انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔جب ان صاحب کا اصرار بہت زیادہ ہوا تو فرمایا کہ اچھا میں اُنہیں اس شرط پر خاص توجہ دینے کے لئے لکھتا ہوں کہ اگر آپ کا عزیز وہ قصوروار پائیں تو اسے دُگنی سزا دیں کیونکہ آپ یقین دلاتے ہیں کہ وہ بے قصور ہے۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ بے شک آپ یوں لکھ دیں واقعی وہ بالکل بے قصور ہے۔ چنانچہ حضور کے ارشاد پر مضمون نگار نے میاں صاحب کی خدمت میں لکھ دیا کہ آپ سے ہمیشہ ہی انصاف پسندی کی امید ہے پھر بھی حضورؓ فرماتے ہیں کہ اس مقدمہ کے معاملہ پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ آپ حقیقت تک پہنچ سکیں۔ اور یہ سفارش لے جانے والے صاحب کہتے ہیں کہ اگر ان کا عزیز بے قصور نہ ہو تو بیشک آپ اسے دُگنی سزا دیدیں۔ کچھ دنوں بعد وہ صاحب آئے اور شکوہ کرنے لگے کہ ڈپٹی صاحب نے اسے دُگنی سزا دے دی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ وہ بے قصور نہ ہوگا۔ اس پر اس نے اقرار کیا کہ وہ واقعی قصوروار تھا۔ تو فرمایا کہ آپ کی رضامندی سے تحریر کیا گیا تھا اور اس کے مطابق انہوں نے دُگنی سزا دیدی۔ اب شکوہ کس بات کا ہے؟
٭ حضرت مصلح موعودؓ اپنے قول و عمل سے مساوات پر عامل تھے۔ شملہ کے کئی ماہ کے قیام میں ایک ہی میز پر حضورؓ اور جناب چوہدری ظفر اللہ خانصاحبؓ اور محترم میاں عبد الرحیم احمد صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ ناشتہ اور کھانا کھاتے تھے اور خاکسار کو بھی ہمیشہ وہیں شامل رکھا جاتا تھا۔ اور کبھی دُور کا بھی اس امر کا اظہار کسی کی طرف سے نہیں پایا گیا کہ خاکسار وہاں کیوں شامل ہے جو کہ ظاہراً بے حد غریب ہونے کے علاوہ حضور کے نہایت ادنیٰ غلاموں میں سے تھا۔ بلکہ خود خاکسار دل میں یہ چاہتا تھا کہ میں وہاں شرکت نہ کیا کروں کیونکہ حضور کے خداداد رُعب کی وجہ سے میرے لئے کھانا مشکل ہوتا تھا۔ اسی طرح حضور کا یہ سلوک تھا کہ اپنے دفتر کا بھی کوئی معمولی سے معمولی کارکن بھی اپنے ذاتی امور کے متعلق مشورہ کے لئے ملاقاتوں میں ملاقات کرتا تو حضور دوسروں کے لئے جس طرح اٹھتے اسی طرح تعظیم و اکرام کے طور پر اٹھتے اور مصافحہ کا موقع عطا کرتے اور نہایت توجہ سے مشورہ عنایت فرماتے اور حضور کا یہ ارشاد تھا کہ معمولی سے معمولی شخص بھی دفاتر میں آئے تو افسر جس سے ملاقات کرے اٹھ کر ملیں۔
٭ حضور جذبات کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ جمعہ میں میری ایک ران سن ہوگئی اور یہ تکلیف بڑھنے لگی۔ خاکسار نے دفتر میں آکر صرف دعا کے لئے حضور کی خدمت میں عریضہ لکھا اور گھر چلا گیا۔ جب حضور کو ملا تو کسی کے ہاتھ میرے گھر دور محلہ دارالفضل میں ہومیوپیتھی دوا بھجوائی۔ میری تکلیف بہت بڑھ چکی تھی اور سارا سر بھی سن ہوگیا تھا۔ حضور کی دعا اور دوا سے بفضلہ تعالیٰ اسی روز چند گھنٹوں میں بکلّی شفاء ہوگئی۔
٭ غالباً مکرم ملک نواب دین صاحب (مدفون بہشتی مقبرہ) کا واقعہ ہے۔ دلداری کی خاطر حضورؓ نے قصر خلافت میں ایسی حالت میں اُن کا جنازہ پڑھایا کہ حضور بوجہ شدید علالت کے خود کھڑے بھی نہ ہوسکتے تھے اور کسی نے حضورؓ کو تھاما ہوا تھا۔
٭ کئی شریف لیکن غریب گھرانے تھے۔ حضور مخفی طور پر ان کی مالی مدد فرماتے تھے اور غریب سے غریب شخص کے ہاں دعوت پر جانے سے بھی انکار نہ کرتے تھے۔ حالانکہ دعوت کرنے والے کے حالات سے یقینی علم ہوتا تھا کہ بہت ادنیٰ سا کھانا وہاں ہوگا۔ کیونکہ کھانا مقصود نہ ہوتا تھا بلکہ دلداری مقصود ہوتی تھی۔ بلکہ اگر کوئی کھا نے کو برا مناتا تو حضور اسے ناپسند فرماتے۔
٭ حضورؓ نے خود ذکر فرمایا کہ سردار بلد یو سنگھ (سابق وزیر دفاع ہند) کے والد صاحب نے کسی کو میرے پاس بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ انکشاف ہو کہ کونسا مذہب سچا ہے میں اسے قبول کرلوں گا۔ میں نے اس شخص کو کہا کہ انکشاف تو ہوجائے گا لیکن وہ قبول ہر گز نہیں کریں گے۔ اُس نے یقین دلانا چاہا کہ وہ اس پر پوری طرح آمادہ ہیں۔ فرمایا: میں نے سورۂ فاتحہ کا ترجمہ لکھ دیا کہ یہ پڑھیں چنانچہ کچھ عرصہ بعد ان کی طرف سے پیغام ملا کہ اس کے پڑھنے سے مجھ پر اسلام کی صداقت منکشف ہوئی ہے لیکن افسوس ہے کہ میں اپنے حالات کی وجہ سے قبول نہیں کر سکتا۔
1949ء میں مجھے وہ بوڑھا سکھ ملا جو ساہیوال کے بیدی خاندان کا فرد تھا۔ حضرت مصلح موعود کا ذکر کر کے اُس نے نہایت حسرت سے کہا کہ حضورؓ کے دعا بتلانے پر مجھ پر یہ انکشاف ہوگیا تھا کہ اسلام سچا ہے لیکن افسوس کہ جائیداد کی خاطر میں نے قبول نہ کیا۔ اور اب تقسیم ملک کے نتیجہ میں وہ جائیداد بھی ہاتھ سے گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں