حضرت مصلح موعود کی شفقتیں اور فراست

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کا 16؍فروری 2007ء کا شمارہ ’’مصلح موعود نمبر‘‘ ہے۔ اس میں حضورؓ کے حوالے سے مکرم محترم میاں منیر احمد صاحب بانی نے اپنی یادیں بیان کی ہیں۔
خداتعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ کو لاکھوں عشاق عطا فرمائے۔ لیکن یہ خاکسار جب حضور پر عاشق ہوا تو میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ 1939ء کا جلسہ سالانہ سلور جوبلی کا جلسہ تھا۔ جب ہماری جماعت ملاقات کے لئے حاضر ہوئی تو حضورؓ نے باری باری سب کو شرف مصافحہ بخشا۔ جب ہماری باری آئی تو والد صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے حضور کے ہاتھ میں دیدیا۔ حضور کا جو تصور قائم کر رکھا تھا اس سے کہیں زیادہ حسین و جمیل۔ مصافحہ سے ایک بجلی کی رو میرے بدن سے گزر گئی۔ خاکسار شعور کے پختہ ہونے تک بجلی کی اس رَو پر بہت حیران رہا۔ بعد ازاں بہت سے بزرگان سے ایسے واقعات سنے اور کتابوں میں پڑھا کہ خداتعالیٰ کے فرستادوں اور روحانیت سے معمور شخصیتوں کا لمس حاصل ہونے پر بعض دفعہ بجلی کی سی رو بدن سے گزرتی ہے جس کی لذت صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔ تحریر و تقریر ا س کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔
1941ء میں ہمارا خاندان قادیان آبسا۔ حضور کی خدمت میں کئی دفعہ حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہر ملاقات کے دل پر گہرے نقوش ثبت ہیں۔
حضرت ام طاہر صاحبہؓ نے ہماری والدہ صاحبہ کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ والدہ صاحبہ کے ہمراہ ہم بچے بھی ہفتہ میں دو تین بار حضرت مرحومہ کے ہاں جاتے۔ اکثر حضرت مصلح موعودؓ بھی وہاں تشریف فرما ہوتے۔ گھریلو ماحول میں انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔
عام طور پر بزرگان کے بارہ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بہت خشک اور خاموش ہوتے ہوں گے لیکن حضرت مصلح موعودؓ سے زیادہ زندہ دل شخصیت میں نے نہیں دیکھی۔ آپ اکثر اپنی بات کی وضاحت کے لئے دلچسپ لطائف بیان فرماتے جو کہ میں گھر آکر اپنی نوٹ بک پر درج کرتا ۔ ایک دن ہم نے حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہؓ سے درخواست کی کہ حضورؓ کا کوئی تبرک عنایت فرماویں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور قصر خلافت میں ہیں، خود جا کر مانگ لو۔ چنانچہ ہم تینوں چلے گئے۔ حضورؓ اپنے کمرہ میں فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور کسی کتاب کا مطالعہ فرما رہے تھے۔ السلام علیکم عرض کرنے پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور اتنے تپاک اور شفقت سے حال دریافت فرمایا کہ گویا حضور ہمارا ہی انتظار فرمارہے تھے۔ پوچھا: بچو! کیسے آنا ہوا۔ ہم نے مدعا عرض کیا کہ کوئی تبرک عنایت فرمائیں۔ حضور نے تین سیب نکال کر دیئے اور خود پھر کتاب پڑھنے میں منہمک ہوگئے۔ تھوڑی دیرکے بعد حضورؓ کی توجہ ہماری طرف ہوئی تو فرمایا: بچو! اب کیوں بیٹھے ہو؟ خاکسار نے عرض کیا کہ ہم نے تبرک کے لئے درخواست کی تھی۔ حضورؓ زیر لب مسکرائے اور فرمایا کہ جو سیب کھائے وہ کیا تھا؟ بچپن کی سادگی تھی۔ ہم نے عرض کیا وہ تو ہم نے کھا لئے۔ کوئی ایسی چیز دیں جو ہمارے پاس رہے۔ اس پر حضورؓ نے تین خوبصورت لال رومال عنایت فرمائے اور ہم اجازت لے کر چلے آئے۔ 1946ء کے فسادات میں کلکتہ میں ہمارا مکان جل گیا تو ہم ان تبرکات سے ہم محروم ہو گئے۔ لیکن اپنے محبوب کے مقدس ہاتھوں سے جو سیب کھائے تھے ان کی لذت اور شیرینی تادم واپسیں نہ بھولے گی۔
ایک دن حضورؓ کی خدمت میں ہم حاضر ہوئے تو حضورؓ نے والدہ صاحبہ سے تحریک جدید میں شمولیت کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ میں اور سیٹھ صاحب 1934ء سے ہی اس تحریک میں بفضل اللہ تعالیٰ شامل ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ دونوں کے متعلق مجھے علم ہے، میں بچوں کے بارہ میں پوچھ رہا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے اپنے تین لڑکوں اور دو بچیوں کی طرف سے دس روپے سالانہ کے حساب سے دس سال کے لئے مبلغ پانچ صد روپیہ وہیں ادا کئے۔ حضور نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ دفتر تحریک جدید قصر خلافت کے قریب ہی تھا۔ رقم آپ نے وہاں بھجوادی۔ اوردو تین روز بعد حضور کے دستخطوں سے مزین دس سالہ سرٹیفیکیٹ ہم پانچوں بہن بھائیوں کو خود عنایت فرمائے۔ حضور کی اس مہربانی سے ہم پانچوں اب سب د فتر اول کے مجاہدین میں شامل ہیں۔
والد صاحب نے 1943ء میں قادیان میں مکان خریدنے کا ارادہ کیا تو ایک نیا تعمیر شدہ مکان مکرم شیخ فضل حق صاحب گارڈ کا پسند آیا۔ قیمت فروخت انہوں نے بارہ ہزار بتلائی لیکن یہ شرط رکھی کہ کسی سے اس کی فروختگی کا ذکر نہ کریں اور دو دن تک مجھے ہاں یا ناں میں بتا دیں۔ والد صاحب نے صرف حضرت صاحب سے مشورہ کرنے کی اجازت چاہی۔ چنانچہ والد صاحب خاکسار کو ہمراہ لے کر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بیان کی۔ حضور نے فرمایا کہ گارڈ صاحب کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی تو میں بھی اس مکان میں گیا تھا۔ بڑے ہال کمرہ میں مہمانوں کو بٹھایا گیا تھا۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ چاروں کونوں پر ہال کمرہ کے رقبہ کے چار کمرے ہیں۔ حضورؓ نے دو منٹ انگلیوں پر حساب کیا اور فرمایا کہ گارڈ صاحب نے یہ مکان ایک سال قبل بنوایا تھا۔ میرے اندازہ کے مطابق ان کی لاگت اس مکان پر پونے گیارہ ہزار روپے ہے۔ اس لحاظ سے بارہ ہزار روپے بہت مناسب قیمت ہے۔
چنانچہ ملاقات کے بعد بیعانہ دیدیا گیا۔ پھر والد صاحب نے اُنہیں کہا کہ اب آپ کے بتلانے میں کوئی حرج نہیں کہ تعمیر میں آپ کا کیا خرچ آیا تھا۔ گارڈ صاحب نے بتلایا قریباً پونے گیارہ ہزار۔ اس پر والد صاحب نے انہیں حضورؓ سے ملاقات کی تفصیل سنائی تو وہاں موجود سب احباب بہت ہی خوش ہوئے۔
خاکسار نے 1948ء میں تعلیم الاسلام کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ان دنوں حضرت مصلح موعودؓ کا قیام رتن باغ لاہور میں تھا۔ ہجرت کی وجہ سے انتہائی بے سرو سامانی کا عالم تھا۔ ایسے حالات میں بھی طلبہ پر حضورؓ غیرمعمولی شفقت کا اظہار فرماتے تھے۔ کالج میں کوئی تقریب ہوتی تو حضور اکثر تشریف لا کر خطاب سے نوازتے۔ رتن باغ میں ملاقات کی سعادت بھی مل جاتی۔ 18ستمبر 1949ء کو طلبہ کا ایک وفد پروفیسر سلطان محمود صاحب شاہد کی قیادت میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور قالین پر تشریف فرما تھے۔ ہم بھی حضور کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ طلبہ نے اپنی اپنی نوٹ بکیں پیش کیں۔ حضور نے ان پر نصائح لکھ کر دیں۔ خاکسار کی ڈائری پر رقم فرمایا: ’’تقویٰ۔ تقویٰ اور تقویٰ اور پھر محنت۔ عزم اور ایثار‘‘۔
بعد ازاں حضور نے طلباء کو نصائح سے نوازا کہ آپ کو بے حد محنت کی ضرورت ہے۔ حالات سرعت سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان میں احمدیت کی مخالفت بہت تیز ہوجائے گی۔ اگر کسی وقت بھی جماعت بے سر ہوجائے تو ہر شخص اپنے آپ کو ستون سمجھے اور جماعت کو منتشر ہونے سے بچائے۔
1944ء میں اللہ تعالیٰ نے الہاماً حضور کو بتلایا کہ آپ ہی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں۔ یوں تو منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعدسے ہی حضور کی تقاریر اور خطبات مسحور کن ہوتے تھے۔ لیکن اس انکشاف کے بعد تو حضور کے جلال اور جمال پر گویا نکھار آ گیا۔ والد صاحب ہر سال ایک دو ماہ کے لئے قادیان آیا کرتے تھے اور یہاں کے روحانی ماحول اور برکات پر فدا تھے۔ 1944ء میں جب آپ قادیان آئے تو اس وقت حضورؓ کا حسن کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ روزانہ ہم لوگ مجلس علم و عرفان میں حاضر ہوتے اور اکثر رات دس گیارہ بجے واپس گھر آتے۔ والد صاحب ایسے مسحور ہوئے کہ انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ کاروبار چھوڑ کر قادیان میں ہی دھونی رماکر بیٹھ جائیں گے۔ آپ کا کہنا تھا کہ خداتعالیٰ نے مجھے اتنی دولت سے نوازا ہے کہ میری تین چار پشتوں کے لئے کافی ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ نہیں پایا۔ لیکن یہ امر میرے اختیار میں نہ تھا۔ اب میں اس موعود کی روحانیت سے مستفید ہوا جو حسن و احسان میں حضرت مسیح موعودؑ کا ہی نظیر ہے۔ یہ شعر اکثر آپ کے ورد زبان رہتا ؎

اِک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا
پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار

والدہ صاحبہ کئی وجوہات سے اس پروگرام کی سخت مخالف تھیں۔ گھر کی فضا ہفتہ عشرہ بہت کشیدہ رہی۔ مذکورہ پروگرام کی موافقت و مخالفت میں روزانہ ہی دلچسپ مباحثہ ہوتا۔ والد صاحب کئی واقعات سناتے کہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے فلاں فلاں صحابی کو اور حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو ارشاد فرمایا کہ قادیان آ کر سکونت اختیار کرو۔ والدہ صاحبہ کی یہ دلیل تھی کہ ایک لحاظ سے تو قادیان میںہی آپ کی سکونت ہے، مکان خرید لیا ہے، بال بچے یہاں کے روحانی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ لیکن بچوں کا مستقبل اس امر کا متقاضی ہے کہ آپ کاروبار کو خیر باد نہ کہیں۔ خداتعالیٰ کے فرستادے اور خلفاء روحانی طبیب ہوتے ہیں ہر مریض کی علیحدہ تشخیص فرما کر ا س کے مناسب حال نسخہ تجویز فرماتے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے کسی صحابی کو نصیحت فرمائی کہ سب سے بڑی نیکی ماں باپ کی خدمت کرنا ہے۔ کوئی اگر عبادت میں کمزور تھا تو اس کے مناسب حال یہ نسخہ تجویز فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی نمازوں کی بروقت ادائیگی ہے۔ کسی کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
چنانچہ جب گھر میں باہمی بحث و مباحثہ سے مفاہمت نہ ہو سکی تو طے پایا کہ حضرت مصلح موعودؓ سے ہی راہنمائی حاصل کی جائے اور دونوں حضورؓ کی ہدایت کے دونوں پابند ہوں گے۔ والد صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ والدہ صاحبہ کے نمائندہ کے طور پریہ خاکسار ہمراہ تھا۔ والد صاحب نے اپنی دلی خواہش کا اظہار بلاکم وکاست کیا۔ حضورؓ نے ارشاد فرمایا کہ کیا اس بات کی گارنٹی آپ نے حاصل کر لی ہے کہ یہ تین چار پشتوں والی دولت ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی؟ اگر آپ کی ضروریات سے وافر دولت آپ کے پاس ہے تو اسلام اور احمدیت کی پہلے سے زیادہ خدمت کریں۔ رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ بنے ہوئے کام اور روزگار کو بلاوجہ نہ ترک کرنا چاہئے۔ اگر آپ اس وقت کاروبار چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے تو آپ کے بچے بڑے ہوکر کبوتر اڑائیں گے۔
چنانچہ حضورؓ کے مشورہ پر والد صاحب نے عمل کیا اور واپس کلکتہ چلے گئے۔ خداتعالیٰ کے پیاروں کے منہ سے عمومی رنگ سے نکلی ہوئی باتیں اکثر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہیں۔ اس واقعہ کے قریباً دو سال بعد ہی 1946ء میں کلکتہ میں وسیع پیمانے پر ہندو مسلم فسادات رونما ہوئے۔ ہماری تجارت بکلّی تباہ ہو گئی۔ مکانات جلادئیے گئے، کار نذر آتش ہوئی اور تین چار پشتوں والی دولت ایک قصہ پارینہ ہو گئی۔ 1947ء میں قادیان میں خریدی ہوئی وسیع جائیداد بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ والد صاحب نے ہمت نہ ہاری اور 1958ء تک مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اپنے فضلوں سے نوازا تو احمدیت کی راہ میں اپنے آخری وقت تک بے دریغ خرچ کرتے رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/OYqgI]

اپنا تبصرہ بھیجیں