حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍جنوری 2010ء میں مکرم مجید احمد سیالکوٹی صاحب کے قلم سے حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولانا صاحب سے پہلا براہ راست واسطہ اس وقت پڑا جب خاکسار کوجامعہ احمدیہ کی ’’شاہد‘‘ کلاس میں مقالہ لکھنے کی چٹھی ملی اور مولانا صاحب کو اس مقالہ کا نگران اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ خاکسار راہنمائی کے لئے آپ کے دفتر میں حاضر ہوا تو آپ بہت خوش ہوئے لیکن اُن کا یہ جواب کہ میں آپ کے لئے کچھ نہیں کرسکتا جو کچھ کرنا اور لکھنا ہے آپ نے خود کرنا ہے، سن کر میں گھبرا گیا اور منہ لٹک گیا۔ تاہم اس کے بعد آپ نے وقتاً فوقتاً مجھے جو ہدایات دیں اور جس طرح رہنمائی فرمائی اس کے نتیجہ میں مجھے شاندار مقالہ لکھنے کی توفیق ملی۔
1977ء میں خاکسار مغربی افریقہ میں خدمت بجالانے کے بعد واپس مرکز پہنچا تو مولانا صاحب بعض اوقات حوالوں کو ضبط تحریر میں لانے کا کام مجھے دیتے رہے۔ ایک دن جامعہ احمدیہ سے شاہد کلاس کے طلباء کے چند پرچے مارکنگ کے لئے مجھے دیئے۔ اُن کی ہدایات کے مطابق مَیں نے پرچے چیک کئے تو دو تین طلباء چند نمبروں کی کمی سے کامیاب نہیں ہوپارہے تھے۔ اس نتیجہ کو دیکھ کر مولانا صاحب کو سخت فکر لاحق ہوگئی۔ انہوں نے دوبارہ افسران متعلقہ سے رابطہ کیا اور تازہ ہدایت لی اور مجھے فرمایا کہ وہ پرچے دوبارہ دیکھو اور ممکن ہو تو گنجائش نکالو کیونکہ ان طلبہ کا یہ آخری سال کا امتحان ہے، مجھے یقین ہے کہ میدان عمل میں تجربوں سے گزر کر خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔ چنانچہ دوبارہ مارکنگ کی گئی تو وہ دو تین طلباء بھی کامیاب قرار پائے۔ یہ آپ کی ہمدردانہ سوچ تو تھی ہی لیکن بعد میں مَیں نے دیکھا کہ وہی طلباء میدان عمل میں غیرمعمولی طور پر کامیاب ثابت ہوئے۔ چنانچہ مولانا صاحب کی خداداد بصیرت کو داد دینی پڑتی ہے۔
آپ حقیقتاً ایک فرشتہ سیرت انسان تھے۔ آپ جس طرح جماعت کے ردّی کاغذ کی بھی حفاظت کرتے تھے تو جماعت کے واقفین کے لئے کیا کچھ نہ سوچتے ہوں گے؟
مختلف اوقات میں خاکسار نے حضرت مولانا صاحب سے جو سبق سیکھے اُن میں ایک یہ بھی تھا کہ جو شخص خدمت دین میں مصروف ہو اُس کے فرض کی ادائیگی میں مخل نہیں ہونا چاہئے۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ارشاد پر حضرت مولانا صاحب کچھ عرصہ کے لئے لندن آئے تو مَیں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں خدمت بجا لارہا تھا۔ ہماری درخواست پر آپ نے عربی زبان میں دعائیہ خطوط کے چند نمونے ہمیں تیار کرکے دیئے تاکہ حضور انور کی طرف سے عرب بھائیوں کو اُسی طرز کے دعائیہ جوابات بھجوانے میں آسانی ہوجائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/pd7J9]

اپنا تبصرہ بھیجیں