حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2002ء میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی احمدنگر (نزد ربوہ) میں خدمات کے حوالہ سے مکرم ناصر احمد ظفر بلوچ صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
1949ء میں حضرت مولوی صاحب کی قیادت میں جامعہ احمدیہ کا اجراء احمدنگر میں حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت نامساعد حالات میں فرمایا۔ بنیادی ضروریات کے فقدان کے باعث بعض نوعمر طلباء گھبراگئے تو آپ نے ایک صبح اسمبلی میں مختصر تقریر کرتے ہوئے کہا: موافق حالات میں تو ہر کوئی خوشگوار نتائج پیدا کرسکتا ہے، جواں مرد تو وہ ہے جو نامساعد حالات میں خوشگوار نتائج پیدا کرے۔
آپ نے احمدنگر میں احمدیہ مسجد کا فوری طور پر عارضی انتظام کیا جس میں حالات کے مطابق توسیع ہوتی رہی۔ اسی طرح مہاجرین کی آبادکاری کے لئے مرکز نے حکومت سے احمدنگر کی متروکہ جائیداد الاٹ کرنے کی منظوری حاصل کرلی تھی اور پھر جو الاٹمنٹ کمیٹی قائم ہوئی اُس میں آپ کا نام نمایاں تھا۔ کمیٹی نے انتہائی صبر و تحمل سے استحقاق اور انصاف پر مبنی فیصلے کئے جو ایک کٹھن کام تھا۔
احمدنگر میں مسلم لیگ کی تنظیم قائم کرنے کے لئے ایک اجلاس بلایا گیا اور اس میں صدر کے انتخاب کے لئے جب عمائدین کی طرف سے رائے طلب کی گئی تو حاضرین نے بیک زبان حضرت مولوی صاحب کا نام پیش کیا اور آپ متفقہ طور پر پہلے صدر منتخب ہوگئے۔ ایک بااثر غیرازجماعت زمیندار نے جو خود بھی صدارت کے امیدوار تھے، اٹھ کر آپ کو مبارکباد دی۔ پھر نظام سلسلہ کی طرف سے آپ کو ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں یونین کونسل کا انتخاب لڑنے کی ہدایت ہوئی۔ دو نشستوں پر چار امیدوار تھے۔ غیرازجماعت ووٹرز کی حمایت سے آپ کو غیرمعمولی کامیابی نصیب ہوئی۔ آپ کی کامیابی کے پس منظر میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی بصیرت اور دُوراندیشی کا غیرمعمولی عمل دخل تھا۔
حکومت کی طرف سے جب ان ممبران کی لازمی تربیت شروع کی گئی تو اگرچہ احمدنگر کا ٹریننگ سنٹر دس بارہ کلومیٹر دُور واقع ’’بخش والا‘‘ میں رکھا گیا لیکن حضرت مولوی صاحب آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کے باوجود روزانہ سائیکل پر بروقت وہاں پہنچتے رہے اور اپنی علمی برتری کے اظہار کی بجائے توجہ اور انہماک سے تربیتی پروگرام سے استفادہ کیا۔ چنانچہ الوداعی پارٹی ہوئی تو ٹریننگ کے انچارج نے آپ کی فرض شناسی، حاضری اور قابلیت کی دل کھول کر تعریف کی۔
1950ء میں دریائے چناب کے سیلاب نے احمدنگر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو آپ نے جامعہ کے طلباء کے ہمراہ خدمت خلق کا نہایت عمدہ نمونہ پیش کیا اور یہ سلسلہ ایک ہفتہ جاری رہا جس میں افراد اور اُن کے اموال اور مویشیوں کو پانی سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔
یونین کونسل کا ممبر اور صدر جماعت احمدنگر ہونے کی وجہ سے اکثر سرکاری ملازمین اور ہر طبقہ کے لوگ آپ کے پاس آیا کرتے تھے۔ آپ نہ صرف اُن سے اُن کی سطح کے مطابق گفتگو فرماتے بلکہ اُن کی ضیافت بھی ضرور فرماتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں