حضرت مولوی عبدالرحمن صاحبؓ

حضرت مولوی عبدالرحمن صاحبؓ کو سلسلہ احمدیہ کا پہلے شہیدہونے کا فخر حاصل ہے۔ آپؓ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کے شاگرد اور ہم وطن تھے۔ 20؍جون 1901ء میں آپؓ کو امیر عبدالرحمن والیٔ کابل کے حکم پر گلا گھونٹ کر شہید کردیا گیا اور آپؓ کی شہادت کی خبر نومبر 1901ء میں حضرت مولوی عبدالستار خان صاحبؓ المعروف بزرگ صاحب نے قادیان آکر حضرت مسیح موعودؑ کو دی۔ حضورؑ فرماتے ہیں: ’’میری جماعت میں اکثر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس سلسلہ کے لئے بہت دکھ اٹھائے ہیں اور بہت ذلّتیں اٹھائی ہیں اور جان دینے تک سے فرق نہیں کیا۔ کیا ابدال نہیں ہیں؟ شیخ عبدالرحمن۔ امیر عبدالرحمن کے سامنے اس سلسلہ کے لئے گلا گھونٹ کر مارا گیا اور اس نے ایک بکری کی طرح اپنے تئیں ذبح کرالیا۔ کیا وہ ابدال میں داخل نہ تھا؟‘‘
حضرت سید احمد نور کابلی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؓ خوبصورت نوجوان تھے۔ میانہ قد، پتلا جسم، تعلیم یافتہ تھے اور مولوی کہہ کر مخاطب کئے جاتے تھے۔ محترم سید محمد احمد افغانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپؓ کا آبائی وطن قریہ کندرخیل تھا جو گردیز سے متصل ہے۔ آپؓ کا قبیلہ احمد زئی تھا۔
آپؓ 1897ء سے قبل قادیان آکر حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت سے مشرف ہوچکے تھے۔ آپؓ کا نام حضورؑ نے اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں 313؍ اصحاب کی فہرست میں 111نمبر پر درج فرمایا ہے۔
آپؓ کا تعلق مینگل قوم سے تھا اور آپؓ کو امیر کی طرف سے 240؍روپے وظیفہ ملتا تھا۔ جب حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کو سید چن بادشاہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ دی تو انہوں نے اسے پڑھنے کے بعد اپنے شاگردوں کو شوق دلایا کہ وہ مسیح موعود کو دیکھیں کہ کہاں ہیں اور کیا حال ہے۔ آپؓ نے کہا کہ ’’مَیں جاؤں گا‘‘۔ چنانچہ آپؓ قادیان آئے، چند ماہ یہاں قیام فرمایا اور پھر واپس خوست جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی کچھ مزید کتب حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کو دیں۔ پھر آپؓ دو دفعہ غالباً مزید آئے۔ پھر جب واپس گئے تو امیر عبدالرحمٰن نے بعض پنجابیوں کے بھڑکانے پر آپؓ کو قید کروادیا اور پھر یہ ثبوت ملنے کے بعد کہ آپؓ مسیح قادیانی کے مرید ہیں، گردن میں کپڑا ڈال کر آپؓ کو شہید کردیا گیا۔ اس واقعہ کا ذکر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ میں تحریر فرمایا ہے اور اپنے الہام ’’شاتان تذبحان‘‘ کا مصداق آپؓ کو بھی قرار دیا۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍مئی 2002ء میں حضرت مولوی عبدالرحمٰن صاحبؓ کے بارہ میں ایک مضمون مکرم محمد شکراللہ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں