حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ کا شمار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپؓ 1850ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور آپؓ کا نام کریم بخش رکھا گیا جو بعد میں حضور علیہ السلام نے بدل کر عبدالکریم رکھ دیا۔ ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کرنے کے بعد آپؓ نے ذاتی محنت سے فارسی زبان میں اتنی مہارت حاصل کی کہ امریکن مشن سیالکوٹ میں فارسی کے استاد مقرر ہوگئے لیکن ایک طالبعلم کی قرآن کریم کی شان میں گستاخی پر جب آپؓ نے ناراضگی کا اظہار کیا تو آپؓ کو ملازمت سے علیحدہ کردیا گیا۔ آپؓ نے کچھ عرصہ بورڈ مڈل سکول میں ملازمت کی اور پھر استعفیٰ دے کر راجہ بازار کے چوک میں عام تقریر کرنی شروع کی۔ آپؓ عربی، انگریزی، اردو اور فارسی میں فصاحت و بلاغت سے خطاب کر سکتے تھے چنانچہ مشن سکول نے گھبراکر آپؓ کو دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی جسے آپؓ نے مسترد کردیا۔آپؓ قرآن کریم کی تلاوت اس سوز سے کیا کرتے کہ لوگ وجد میں آجاتے۔
حضرت مولوی صاحبؓ 1888ء میں پہلی بار قادیان آئے تھے، 1889ء میں بیعت کی سعادت پائی اور 1892ء میں قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور اس کے بعد آپؓ کو علمی معاونت کے سلسلہ میں حضور اقدسؑ کی خاص خدمت کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ بیان کرتے ہیں ’’مولوی صاحبؓ کو اردو، عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا‘‘۔ چنانچہ حضورؑ کی کئی کتب مثلاً ’آئینہ کمالات اسلام‘ کے عربی حصہ کا فارسی ترجمہ اور ’ایام الصلح‘ کا اردو سے فارسی ترجمہ آپؓ ہی کا ہے۔
آپؓ بہت خوش الحان پرشوکت آواز کے مالک تھے، تحریر و تقریر میں بھی کمال حاصل تھا۔ حضرت اقدس علیہ السلام کو آپؓ پر کامل اعتماد تھا چنانچہ کئی مواقع پر حضورؑ کی نمائندگی میں آپؓ کو حضورؑ کے مضامین سنانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جلسہ مذاہب عالم لاہور دسمبر 1896ء میں اور پبلک لیکچر سیالکوٹ 190 4ء میں آپؓ کے جوشِ خطابت سے لوگ مسحور ہوگئے۔
قادیان میں امامت کے فرائض عموماً حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ اور آپؓ کے ذمہ ہوا کرتے تھے۔ حضرت اقدسؑ کے ایک الہام میں آپؓ کو ’’مسلمانوں کا لیڈر‘‘ کہا گیا۔ آپؓ کی تصانیف میں لیکچر گناہ، سیرت مسیح موعودؑ، اثبات خلافت شیخین، خلافت راشدہ حصہ اول اور دعوۃ الندوہ شامل ہیں۔
1905ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی وفات پر حضور علیہ السلام نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور امانتاً عام قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر تابوت نکال کر دوبارہ جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا اور اس طرح بہشتی مقبرہ میں پہلی قبر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی تیار ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کی قبر پر ایک نظم سنگ مرمر کے کتبہ پر تحریر کروائی۔
آپؓ کے مختصر حالات روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍جولائی 1995ء میں محترم محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے اور ایک مضمون ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ستمبر 1995ء میں شاملِ اشاعت ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں