حضرت مہاشہ محمد عمر صاحب مرحوم (سابق یوگندر پال)

حضرت مہاشہ محمد عمر صاحب مرحوم (سابق یوگندر پال)

مرتبہ: فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ ’’انصارالدین‘‘ جنوری و فروری و مارچ اپریل 2022ء)
حضرت مہاشہ محمد عمر صاحب کا پیدائشی نام یوگندرپال تھا۔ آپ کے والد کا نام دھنی رام اور دادا کا نام جگت رام تھا۔ آپ دودھو چک ضلع سیالکوٹ کے ایک دُور افتادہ گاؤں میں 1907ء میں پیدا ہوئے۔یہ گاؤں ریاست جموں سے پانچ میل کے فاصلے پر آباد تھا۔ آپ کا خاندان کٹر ہندو برہمن تھا جہاں چھوت چھات سختی سے کی جاتی تھی۔ آپ اپنے والدین کی سب سے چھوٹی اولاد تھے۔ آپ سے بڑی ایک بہن تھیں اور بہن سے بڑے دو بھائی تھے جن میں سے ایک کانام شمبھو ناتھ تھا۔ آپ کا خاندان کئی نسلوں سے جوتشی تھا اور اس وجہ سے علاقہ بھر میں کافی مشہور تھا۔ آپ کے والد بھی جوتشی تھے۔ آپ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والد کی وفات ہوگئی۔

محترم مہاشہ محمد عمر صاحب

آپ کے گاؤں میں مسلمان بھی تھے لیکن ہندوؤں کا زور تھا اور مسلمان مقابلہ میں اچھوتی ذاتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ آٹھ سال کی عمر تک آپ نے گاؤں کے سکول میں تعلیم پائی جہاں آپ کی دوستی مسلمان بچوں سے زیادہ تھی۔ آپ ان کے گھر بھی چلے جاتے تھے جو آپ کی والدہ کو پسند نہیں تھا اور مسلمان لڑکوں سے کھیلنے کے بعد آپ کی والدہ آپ کو آٹے کا چھان مل کر نہلایا کرتی تھیں تاکہ آپ پاک اور شدھ ہو جائیں۔ یہ عمل آپ کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا تھا اور والدہ کے کہنے پر توبہ کرتے لیکن پھر مسلمان گھر وں میں چلے جاتے۔
سکول میں ایک احمدی استاد تھے جن کی دعوت الی اللہ سے آپ کو احمدیت کے بارے میں علم ہوا اور دل میں ہندومت سے طبعاًنفرت پیدا ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ جب آپ کی والدہ آپ کو لے کر مندر جاتیں اور بتوں کے منہ میں حلوہ اور مٹھائی وغیرہ ڈالتیں تو آپ پوچھتے کہ یہ کیسے خدا ہیں جو کھا بھی نہیں سکتے!۔
آپ کے دونوں بڑے بھائی کاروبار کرتے تھے لیکن آپ کے متعلق گھر والوں نے فیصلہ کیاکہ آپ کو سنسکرت اور ہندومت کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کانگڑہ کے مشہور مذہبی گوروکل سکول میں بھجوایا جائے تاکہ آپ اپنے آبائی پیشہ کے مطابق پنڈت بن سکیں۔ لہٰذا 8سال کی عمر میں آپ کوکانگڑہ بھجوادیاگیا جہاں آپ نے 6سال تک تعلیم پائی۔ 14سال کی عمر میں آپ اپنے ایک استاد اور چند دیگر طلباء کے ساتھ قادیان آئے اور ایک ہفتہ یہاں ٹھہرے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ملاقات کے دوران آپ کے استادجی کے سامنے وہ تجویزرکھی جو بالآخر ہندو خاندان کے اس سپوت کو دین کی گود میں ڈالنے کاموجب بنی۔ حضورؓ نے اُن سے فرمایا کہ آپ اپنے چند لڑکے ایک سال کے لیے ہمارے پاس چھوڑدیں اور ہمارے اتنے ہی لڑکے اپنے ساتھ لے جائیں ۔ آپ اُن کو سنسکرت پڑھائیں اور اگر وہ اس دوران ہندومذہب کو سچا سمجھ کر ہندو ہونا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہم آپ کے لڑکوں کو عربی پڑھائیں گے اور اگر وہ سال کے دوران مسلمان ہونا بھی چاہیں گے تو بھی ہم ان کو مسلمان نہیں کریں گے۔ اور اس دوران دونوں طرف کا خرچ مَیں (یعنی حضرت مصلح موعودؓ) برداشت کروں گا۔ اگرچہ اُس وقت تو یہ بات مذاق میں ختم ہوگئی لیکن آپ کے دل میں چونکہ اپنے احمدی استاد کی وجہ سے اسلام سے محبت کا بیج پرورش پا رہا تھا اس لیے آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر حضرت مصلح موعود ؓاس یقین اور وثوق سے اپنے لڑکے ہمارے ساتھ بھیجنے کو کیوں تیار ہوگئے ہیں اور ہمارے استاد کے دل میں اپنے مذہب کے متعلق ایسا یقین کیوں نہیں ؟ بہر حال واپس آنے کے بعد آپ نے ایک اَور لڑکے کو اپنے ساتھ ملایا اور حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں خط لکھ کر حضورؓ کی اس پیشکش کو یاد دلاکر عرض کیا کہ اگر وہ پیشکش ہنوزقائم ہے تو ہم دو لڑکے قادیان آکر عربی پڑھنا چاہتے ہیں۔ جب حضورؓ کا جواب ہاں میں آگیا تو دوسرا لڑکا تو انکار کر گیا لیکن آپ نے کما ل ہمت سے کام لیا اور اکیلے ہی قادیان تشریف لے آئے۔
قادیان میں حضرت مصلح موعود ؓ نے آپ کا انتظام مولوی عبدالغنی صاحب کے سپرد کردیا۔ آپ کھانا بھی ان کے گھر کھاتے۔ مکرم عزیزدین صاحب مرحوم بتایا کرتے تھے کہ آپ کے لیے حضورؓ نے ہمارا چوبارہ بھی کرایہ پر لیا تھا اور ایک ہندو نوکر ان کی خدمت کے لیے رکھا تھا۔ آپ کی عمر اس وقت 14سال کی تھی اور مَیں اکثر آپ کے پاس جاکر بیٹھاکرتا تھا۔ بعد میں آپ کا انتظام حضرت عبدالرحمان جٹ صاحبؓ کے ساتھ کیا گیا اور کچھ عرصہ کے لیے آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی بیٹھک میں بھی رہائش رکھی۔ بہرحال آپ نے مولوی فاضل کی تیاری شروع کر دی اور جلد ہی زندگی بھی وقف کردی۔ ایک سال میں دوکلاسیں پاس کرتے گئے۔ آپ سنسکرت کے عالم تو تھے ہی یعنی ’’وشارو‘‘ سنسکرت کی ڈگری پاس کی ہوئی تھی۔ قادیان میں آپ نے مولوی فاضل بھی کرلیا۔
جماعت احمدیہ کی سالانہ مجلس مشاورت 1942ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مہاشہ صاحب کے قبول اسلام کا واقعہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:
’’ ہندو علوم اور لٹریچر سے واقف کئی لوگ ہمارے پاس موجو د ہیں۔ پروفیسر عبداللہ بن سلام صاحب ہیں جو بہت بڑے ماہر ہیں۔ مولوی عبداللہ ناصرالدین صاحب ہیں جو وید بھی پڑھے ہوئے ہیں اور اعلیٰ ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ مہاشہ محمد عمر صاحب نے بھی پنجاب یونیورسٹی سے مولوی عالم کی ڈگری کے برابر ڈگری سنسکرت میں حاصل کی ہوئی ہے ۔ یہ مادر زاد ہندو ہیں اس لیے ان کالہجہ وغیرہ بھی ہندوانہ ہے۔ سکھوں کے متعلق واقفیت رکھنے والے کئی لوگ ہیں۔ گیانی عباد اللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب ہیں۔ ان کے علاوہ Vetermanسپاہی سردار محمد یوسف صاحب ہیں جو سکھوں کی کتب اور لٹریچر کے پرانے ماہر ہیں …۔ غالباً 1922ء کی بات ہے کہ مہاشہ محمد عمر صاحب ہندو طالب علموں کی ایک پارٹی کے ساتھ مجھے ملنے کے لیے آئے تھے۔ گورروکل کانگڑی کے ایک پروفیسر صاحب یہاں ایک جلسہ پر آئے تھے اور اپنی بہادری دکھانے کے لیے کہ دیکھو میں کیسی اچھی تقریر کرتا ہوں طالب علموں کی ایک پارٹی کو بھی ساتھ لے آئے۔ انہوں نے طلباء کو مجھ سے ملنے کو بھی بھیجا۔ اس وقت مہاشہ محمد عمر بھی ان کے ساتھ تھے۔ میں نے طالب علموں سے کہا پروفیسر صاحب سے کہو کہ آپ اپنے چند طالب علم یہاں بھیج دیں۔ میں خود ان کو قرآن پڑھاؤں گا۔ اسی طرح میں چند طالب علم بھیجتا ہوں جن کو وہ وید پڑھائیں۔ خرچ اپنے طالب علموں کا بھی اور ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کا بھی میں ہی دوں گا۔ اگر قرآن کریم میں تاثیر ہوگی تو ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کو میں مسلمان کر لوں گا اور اگر ویدوں میں تاثیر ہوگئی تو ہمارے طالب علموں کو وہ ہندو کر سکیں گے۔ اور یہ ہم دونوں کا انعام ہوگا۔ مگر انہوں نے اس تجویز کو نہ مانا۔ مہاشہ محمد عمر صاحب بھی اس پارٹی میں تھے ان کے دل پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ چند دنوں کے بعد بھاگ کر یہاں آگئے۔ انہوں نے گو جوانی یہاں گزاری ہے مگر بچپن میں وہ ہندوؤں میں رہے ہیں اور وہیں پڑھتے رہے ہیں اس لیے ان کا لہجہ ہندوانہ ہے۔‘‘

محترم مہاشہ محمد عمر صاحب

محترم مہاشہ صاحب احمدی ہونے کے بعد جب پہلی بار اپنے گاؤں گئے اور اپنی والدہ اور بھائیوں کو مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا تو بھائیوں نے آپ کو لوہے کی سلاخ سے بہت مارا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس قدر مارا کہ مَیں بیہوش ہو گیا اور وہ مجھے مُردہ سمجھ کر چھوڑ گئے۔ اُس وقت میری والدہ بھی مجھے بچا نہ سکیں۔ جب بھائیوں نے خوب اچھی طرح مارکر اپنا غصہ نکال لیا تو اُن کا خیال تھا کہ بچہ ہے اس کو سمجھ آجائے گی۔ لیکن اُن کے باہر جاتے ہی مَیں گھر سے نکل کر گاؤں میں ایک مسلمان کے گھر جا کر چھپ گیا اور وہاں تین دن چھپا رہا۔ اس دوران میری والدہ اپنی مامتا سے مجبور ہوکر بڑے بیٹوں سے چوری مجھ کو آکر کھانا دے کر جاتی رہیں۔ تین دن کے بعد مَیں گاؤں سے نکل آیا اور اس کے بعد اپنی والدہ کو کبھی نہیں مل سکا حتی کہ کئی سالوں کے بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔
آپ کی بڑی بہن کی شادی سیالکو ٹ میں ہوئی تھی۔ جب ایک مناظرہ کے سلسلہ میں آپ تحصیل شکر گڑھ گئے تو خون نے جوش مارا تو اپنی بہن سے ملنے بھی چلے گئے۔ بہن آپ کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس قدر روئیں کہ بیہوش ہوگئیں اس پرآپ کے بہنوئی نے کہا اب تم چلے جائو اور آئندہ یہاں نہ ہی آنا تو بہتر ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ میری طبیعت اس قدر خراب ہوئی اور دل پر اس قدر بوجھ تھا کہ اگر مجھے یہ شرح صدر نہ ہوتا کہ اسلام ایک سچا مذہب اور حضرت مسیح موعودؑ اللہ تعالیٰ کے مامور اور امام آخر الزمان ہیں تو مجھے خدا کی قسم ہے کہ اس دن مَیں ہندو ہو جاتا ۔
پھر ایک دفعہ دوبارہ آپ بہن سے ملنے گئے لیکن بہنوئی نے باہر سے ہی کہہ دیا کہ آپ کی بہن اپنے میکے گئی ہوئی ہے (حالانکہ بہن گھر میں ہی موجود تھی) بہن کو جب یہ معلوم ہوا کہ میرا بھائی آیا تھا اور اسے ملنے نہیں دیا گیا تو اس نے اس قدر ماتم کیا کہ دیکھنے سننے والوں کا کلیجہ دہل گیا۔ وہ بھائی کا نام لے کر بار بار بے ہوش ہوجاتی تھی حتیٰ کہ بھائی کے لیے رو رو کر اس کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔
کئی سال بعد قادیان سے ایک دفعہ ایک احمدی خاتون سیالکوٹ جانے لگیں تو محترم مہاشہ صاحب کی اہلیہ نے اُن کو آپ کی بہن کا اتا پتا بتاکر اُسے سلام پہنچانے کو کہا۔ واپس آکر اُس خاتون نے بتایا کہ میں نے اُن کے گھر جاکر جب اپنا مقصد بتایا تو اپنے بھائی کا نام سنتے ہی وہ چیخ مار کر بے ہوش ہوگئیں۔ تب ان کی بیٹیوں نے کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا ہے ہم تو ان کے سامنے ان کے بھائی کا نام نہیں لیتے۔ محترم مہاشہ صاحب یہ سب واقعات سنتے تھے لیکن زبان سے کبھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ ہمیشہ خاموش ہو جاتے۔ آپ کی بہن کسی وقت آپ سے ملنے قادیان بھی آئی تھیں لیکن آپ اُس وقت قادیان سے باہر گئے ہوئے تھے۔
اگرچہ آپ کے بعض رشتہ داروں کو ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید کسی وقت آپ اسلام سے منحرف ہو کر واپس اپنے پرانے مذہب کی طرف آجائیں گے چنانچہ آپ کی ایک خالہ نے آپ کو اس بات کے لیے مجبور کرنا شروع کیا کہ اسلام سے ارتداد اختیار کرلیں۔ آپ بتاتے تھے کہ ماسی (خالہ) سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ مجھے کہتیں: پتر گنگا اشنان لے لو۔ مَیں نے کہا اچھا ماسی میں گنگا اشنان لے لیتا ہوں اس میں کیا ہرج ہے۔ چنانچہ وہ خوشی خوشی پنڈت رام چندر صاحب کے پاس گئیں جن کے ساتھ ایک دن قبل میرا مناظرہ ہوا تھا اور پنڈت صاحب کو کافی خفت اٹھانا پڑی تھی۔ ماسی نے پنڈت صاحب کو یہ خوشخبری سنائی کہ ہمارا بیٹا گنگا اشنان لینے کے لیے راضی ہوگیا ہے۔ پنڈت صاحب نے کہا کہ مائی تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اور پھر انہوں نے گزشتہ روز والے مناظرے کا حال سنایا۔
آپ کے قبولِ اسلام کو ہندوؤں نے اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیا کہ ایک برہمن نوعمر بچہ کہاں پھنس گیا ہے۔ کافی شور مچایا گیا اور طرح طرح کے لالچ دے کر واپس لے جانے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔ ہندو اخبارات میں اس قسم کے مضامین چھپتے رہے کہ ہمارا ایک لعل اسلام کی گود میں جاگرا ہے اس کو ہر صورت واپس لانا چاہیے۔ قادیان کے چند ہندو جو بظاہر آپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے لیکن دل سے دشمن تھے۔ تقسیم ہند کے وقت بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے مشورہ کرنے کا بہانہ بناکر آپ کو کسی ہندو کے گھر شام کے بعد بلایا۔ آپ کی اہلیہ نے کہا کہ اگر جانا ہی ہے تو اکیلے نہ جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے کسی نے بتایا ہے ان کی نیت نیک نہیں اس لیے مَیں جاؤں گا ضرور لیکن احتیاط کروں گا۔ آپ جب وہاں پہنچے تو گھر کی بیٹھک میں سے کئی لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ آپ کھڑکی کی طرف اندھیرے میں کھڑے ہو کر اُن کی باتیں سننے لگے تو اندازہ ہوا کہ قادیاں کے باہر سے بھی کچھ لوگ آئے ہیں جو آپ کو اغوا کرنے اور بات نہ ماننے کی صورت میں قتل کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔ آپ کچھ دیر اُن کی باتیں سنتے رہے اور پھر خاموشی سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہوئے واپس اپنے گھر آگئے۔ تاہم آپ کو اُن کی باتیں سن کر سخت صدمہ ہوا کیونکہ ان میں سے بعض آپ کے بے تکلّف دوست تھے۔
اُنہی دنوں آپ کا ایک بھتیجا قادیان کے ہندوؤں کا وفد لے کر آپ کے پاس آیا اور بہت اصرار کیا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے آپ قادیان سے نہ جائیں۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ مَیں کبھی آپ لوگوں پر اعتبار نہیں کر سکتا آپ نے نہ صرف میرے ساتھ بلکہ قادیان کے احمدیوں کے ساتھ بھی غداری کی ہے جن سے آپ نے ہمیشہ فائدہ اٹھایاہے۔ اسی طرح ایک بار آپ پاکستان سے جب بغرض شمولیت جلسہ سالانہ قادیان تشریف لے گئے تو آپ کی ایک بھتیجی کا خاوند قادیان آکر آپ سے ملا اور اصرار کیا کہ امرتسر چل کر اپنی بھتیجی سے ملا قات کر لیں۔ لیکن اس وقت کے امیر قافلہ نے آپ کو امرتسر جانے کی اجازت نہیں دی۔
٭ حضرت مہاشہ صاحب کے سب سے بڑے بھائی کا نام شمبھوناتھ تھا۔ اس کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ بیٹے کی آگے اولاد نہیں ہوئی۔ دوسرے بھائی کی منگنی کسی جگہ ہوئی لیکن بعد میں لڑکی والوں نے یہ عذر رکھ کر منگنی توڑ دی کہ تمہارا بھائی احمدی ہوگیاہے۔ اس کے بعد اس بھائی کی شادی کہیں بھی نہیں ہوئی۔ چنانچہ آپ کے خاندان کی نسل صرف آپ کے ذریعے ہی آگے چلی۔
٭ آپ کو جماعت اور احمدیت کی بہت غیرت تھی اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ اپنے بچوں سے فرمایا کہ میں نے ا حمدیت کے لیے بڑی قربانی کی ہے۔ ہر چیز چھوڑدی۔ اپنا مذہب، ماں باپ، بہن بھائی، اپنا وطن، زمین، جائیداد۔ اگر کل کو تمہاری کسی حرکت کی وجہ سے مجھے تم لوگوں میں اور جماعت میں سے کسی ایک کو چننا پڑ اتو تم لوگ جان لو کہ میرا فیصلہ کیا ہوگا اس لیے مجھے ا س مقام پر نہ جانے دینا کہ مجھے تم کو چھوڑنا پڑے۔
آپ نے اپنی اولاد کو ہمیشہ یہ احساس دلایا کہ خلافت اور نظام جماعت سب سے اول ہیں اور باقی رشتے ناطے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ آپ کی پہلی محبت اورعشق حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ذات تھی۔ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی وفات کے بعد کون خلیفہ ہوگا؟ آپ کو یہ سوال اس قدر ناگوار گزرا کہ آپ نے اس شخص کے ساتھ کئی سال بات نہ کی۔
آپ کی بیٹی ثریا غازی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اباجان کافی عرصہ بنگال میں مقیم رہے۔ اس وقت قدم قدم پر آپ کی کمی بہت محسوس ہوتی۔ ایک دن میں نے بےچارگی کے عالم میں رو رو کر اباجان کوکسی صورت حال کے متعلق خط لکھا کہ اَور لوگوں کے تو باپ یہاں موجود ہیں وہ ان کی سفارش کردیں گے تواُن کاکام ہو جائے گا مگر میری سفارش کون کرے گا؟ آپ نے جواب میں لکھا کہ میری بیٹی کو شائد یہ معلو م نہیں کہ مربیان کی اولادوں کا باپ خلیفہ وقت ہو تا ہے، تم حضرت مصلح موعود کے پاس چلی جاؤ اور ان سے مشورہ کر و اور آئندہ بھی جب کبھی تمہیں میری کمی محسوس ہو تو فوراً حضور انور کے پاس چلی جایا کرو۔ میں نے آپ کے مشورہ پر عمل کیا۔ حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوگئی تو حضور نے مجھے تسلی دی، مشورہ بھی دیا اور دعا بھی کی۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ایسی فضل کیا کہ میرا کام میری توقعات سے بڑھ کر احسن طریق پر ہوا۔
٭ مکرم رانا فضل الرحمان صاحب لکھتے ہیں کہ محترم مہاشہ صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی خوشیوں میں سب کو شریک کرتے مگر اپنے دکھ اور غم اکثر دوستوں سے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ تبلیغی دوروں میں کئی بار بھوک اور پیاس کی آزمائشوں اور غیروں کی سختیوں کا انہیں سامنا کرنا پڑا مگر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لاتے۔ احمدیت کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت قرار دیتے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو اپنا محسن اور نجات دہندہ قرار دیتے جن کے طفیل محسن انسانیت سرور کائنات نبی کریم ﷺ کی غلامی کا شرف ہمیں نصیب ہوا۔ خاندان مسیح موعودؑ کا عملاً بہت احترام کرتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ :عشق کا سبق مجنوں سے لینا چاہئے جسے سگِ لیلیٰ سے بھی پیار تھا۔ معشوق اور محبوب کی ہر چیز سے، ہر ادا سے عشق ہونا چاہئے۔ ورنہ عشق کا دعویٰ خام رہ جاتا ہے۔
٭ 1937ء میں میاں فخر الدین ملتانی صاحب کی فتنہ پردازیوں اور جماعت کے خلاف بغض و کینہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مسجد اقصیٰ قادیان میں محترم مہاشہ صاحب کے حوالے سے فرمایا:
’’…جب میں سندھ سے واپس آیا ہوں اور کمیشن کی رپورٹ میں نے پڑھی ان دنوں مہاشہ محمد عمر صاحب … کہیں باہر تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے راستہ سے مجھے خط لکھا کہ بعض اہم باتیں سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں۔ میں بوجہ شرم پہلے بیان نہیں کر سکا۔ مگر اب مجھے خیال آیا ہے کہ ان کا بیان کردینا زیادہ مناسب ہے۔ جب وہ واپس آئے تو مجھ سے ملے اور انہوں نے بعض باتیں مجھ سے بیان کیں جن میں سے بعض میاں فخر الدین صاحب کے متعلق تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ان امور کو وہ لکھ دیں چنانچہ انہوں نے حلفیہ شہادت لکھ دی۔‘‘
اس کے بعد محترم مہاشہ صاحب کا وہ خط شامل اشاعت کیا گیا ہے جو آپ نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے تحریر فرمایا۔ ( انوار العلوم جلد 14صفحہ466-468)
٭ دہلی کے اُس جلسہ مصلح موعود میں بھی محترم مہاشہ صاحب شامل تھے جس میں احراریوں نے فساد کیا اور پتھراؤ وغیرہ کرتے رہے لیکن جب فسادیوں نے عورتوں کے جلسہ گاہ کی طرف رُخ کیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے پکارا کہ دشمن ہماری عورتوں کی طرف بڑھ رہا ہے اس لیے ایک سو ایسے نوجوان کھڑے ہوجائیں جو مرنا جانتے ہوں۔ اس موقع پر آپ بھی اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہنے والوں میں شامل تھے اور فسادیوں کے پتھراؤ سے شدید زخمی بھی ہوئے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ساتھ دیوانگی کی حد تک عشق تھا جب حضور کی وفات کا اعلان ہوا تو اس وقت آپ بدین (سندھ )میں تھے۔ دل کی تکلیف تھی اور ’’کورامین ‘‘کے ٹیکے لگوایا کرتے تھے۔ آپ جب ربوہ تشریف لائے تو آپ نے بتایا کہ آپ نے کورامین کے دو ٹیکے لگوائے تھے تب سفر کے قابل ہوسکے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ دھنی رام کے بیٹے یوگندر پال کومہاشہ محمدعمر بنانے میں اللہ کے فضل کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کی شفقت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ کیونکہ جب 15سال کی عمر میں اپنا گھر چھوڑ کر قادیان آگیا تھا تو حضور ؓنے اتنی شفقت دی کہ شاید اپنا باپ بھی نہ دے سکتا۔

آپ کے اسلام کی آغوش میں آنے کے بعد حضرت مصلح موعود ؓنے آپ سے بے حد شفقت کا برتاؤ کیا تھا۔ آپ کا سار ا خرچ ذاتی طور پر اٹھایا اور کبھی خرچ کی تنگی نہیں ہونے دی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ سستے زمانوں میں حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو پانچ چھ روپے گز والا قمیص کا کپڑا خرید کر بھجوایا۔ قادیان کے زمانے میں آپ کے پاس کتابوں کی ایک بہت بڑی لائبریری بھی تھی۔
حضورؓ کی شفقت کا ایک واقعہ باربار سنا کر رویا کرتے تھے کہ دورانِ تعلیم آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور حضورؓہی اخراجات اٹھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مَیں نے حضورؓ کی خدمت میں خط لکھا کہ مجھے اتنے پیسوں کی فوری ضرورت ہے۔ جب چند دن تک کوئی جواب نہ آیا تو سخت پریشان ہوا لیکن مجبوری تھی کچھ کر بھی نہ سکتا تھا۔ طبیعت میں کچھ ملال اور تردّد بھی پیدا ہوا کہ حضور کو اچھی طرح میری حالت کا علم ہے پھر بھی اتنے دن ہوگئے ہیں اور کوئی جواب نہیں آیا۔ اسی دوران ایک دن حضرت مصلح موعودؓ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے اور مَیں راستے سے ذرا ہٹ کر نیچے ڈھلوان کی طرف کھڑا تھا۔ جب حضورؓ کو آتے دیکھا تو منہ دوسری طرف پھیر کر ایک پتھر پر بیٹھ گیا کہ کہیں حضورؓ سے سامنا نہ ہوجائے۔ لیکن حضورؓ نے دیکھ لیا اور اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر میرے پاس تشریف لائے اور سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: مجھے تمہار اخط آج ہی ملا ہے اور مَیں تمہیں پیسے بھجوا آیا ہوں۔ حضور کی شفقت اور محبت کا انداز دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسوبہ نکلے او ر مَیں بیٹھے بیٹھے حضور کی طرف منہ پھیر کر روتا ہوا حضور کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ حضورؓ نے تسلی دی اور نہایت شفقت سے حال احوال پوچھ کر واپس تشریف لے گئے۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ کا آپ کے بچوں کے ساتھ سلوک بھی نہایت مشفقانہ ہوتا تھا۔ آپ کے بیٹے مکرم نصیر احمد ظفر صاحب (حال ریجنل امیر ’ساؤتھ ریجن‘ یوکے) بیان کرتے ہیں کہ

نصیر احمد ظفر صاحب

میٹرک کے امتحان کے بعد مَیں بھی تربیتی کلاس میں شامل ہوا تو کلاس کے شرکاء کی حضورؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضورؓ کی طبیعت کی خرابی کے باعث حکم تھا کہ کمرے میں سے گزرتے ہوئے صرف دُور سے سلام کرنا ہے، مصافحہ نہیں کرنا۔ مَیں جب داخل ہوا توحضور ؓ اپنی دائیں طرف لیٹے ہوئے تھے۔ گھٹنوں میں تکلیف کے باعث حضور ؓنے اپنی ٹانگیں دُہری کر کے پیٹ کے ساتھ لگائی ہوئی تھیں۔جب محترم مولانا عبدالرحمان انور صاحب (پرائیویٹ سیکرٹری) نے میرے تعارف کے طور پر عرض کیا کہ حضور! یہ مہاشہ صاحب کا بیٹا ہے تو حضورؓ نے اپنا ہاتھ مصافحہ کے لیے آگے بڑھایا۔ مَیں نے حضورؓ کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر بوسہ لیا اور باہر آگیا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے دعا کی کہ خدا تعالیٰ ہمارے آقا کو لمبی زندگی عطا فرمائے جس کو اپنی بیماری کی حالت میں بھی اپنے غلاموں کے جذبات کا کس قدر خیال رہتا ہے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کے بیان کردہ ایک واقعہ سے حضرت مصلح موعودؓ کے اخلاق عالیہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پاک وجود کو کس قدر وسیع ظرف عطاکیا ہوا تھا۔ اور کس قدر بلند کردار کا انسان تھا جو اپنے دشمنوں سے بھی احسان کا سلوک کرتا تھا۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے بتایا کہ لاہوری جماعت کی فلاں مقتدر شخصیت کی بیٹی کے کچھ ذاتی خطوط کسی شخص کے پاس موجود ہیں، اگر اس شخص کو کچھ پیسے دے دیے جائیں تو وہ خطوط جماعت کو مل سکتے ہیں۔ اس واقعہ کی اہمیت کچھ اَور بھی بڑھ جاتی تھی جبکہ ذاتی طور پر اُن صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی ذات مبارک پر نہایت گندے الزامات لگائے تھے۔ چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں کہ مَیں خوش خوش حضورؓ کی خدمت میں حاضرہوا اور سارا واقعہ سنایا۔ حضور ؓنے فرمایا کہ ہمارا اختلاف تو اُن صاحب سے ہے اس بے چاری کا کیا قصور؟ حضور کی بات سن کر مَیں شرمندہ ہو کر باہر آنے لگا توفرمایا: ’’ٹھہریں! اگر یہ بات کسی کو معلوم ہوئی تو مَیں آپ کو جماعت سے نکال دوں گا۔ ‘‘
٭ راج پال جو کہ شدید معاند اسلام تھا اور نہایت گندی زبان استعمال کرتے تھا جب اس نے کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ لکھی تو مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی لیکن اُن کا ردّعمل جلسے جلوس، مار دھاڑ اور دھمکیاں تھا۔

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود

حضرت مصلح موعود ؓ نے اس کتاب کا جواب لکھنے کے لیے احمدی علماء کا پینل مقرر فرمایا جس میں محترم مہاشہ صاحب بھی شامل تھے۔ پینل میں شامل ہر عالم کو کتاب کے ایک باب کا جواب لکھنا تھا۔ آپ بتاتے ہیں کہ جب مَیں اپنا مسودہ لے کر حضرت مصلح موعود ؓکی خدمت میں حاضر ہوا تو حضورؓ نے مسودہ پر اپنے قلم سے بعض جگہ پر ریمارکس دیے۔ ایک جگہ پر مَیں نے ’پنڈت دیانند‘ لکھا ہوا تھا جس کے آگے حضورؓ نے اپنے ہاتھ سے ’صاحب‘ کا اضافہ کر دیا اور حاشیہ میں تحریر فرمایا کہ ’’ دیانند صاحب لکھیں۔ ایک احمدی مبلغ کی زبان ایسی نہیں ہونی چاہیے۔ ‘‘
٭ محترم مہاشہ صاحب بہت صابر اور راضی برضا انسان تھے جس حد تک ممکن ہوتا اپنی تکلیف چھپانے کی کوشش کرتے۔ آپ کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ 1937ء میں آپ کو گردے کی شدید تکلیف ہوئی۔ درد اتنی شدیدتھی کہ آپ زبان کو دانتوں میں اس قدر دباتے کہ خون نکلنے لگتالیکن اُف نہ کرتے۔ ایک ماہ تک سخت تکلیف میں مبتلا رہے اس کے بعد حضرت مصلح موعود ؓ نے بغرض علاج آپ کو مکرم حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب کے ہمراہ کشمیر بھجوایا۔ وہاں پر علاج کے سلسلے میں سونے کا کشتہ اور کچے باداموں کا شربت استعمال کروایا گیا اس کے علاوہ دال کی طرز کی ایک چیز جس کانا م کلتھ تھا، ابال کر دی جاتی تھی۔ اس علاج سے بفضل تعالیٰ گردے کی درد بالکل ختم ہوگئی اور آپ تین ماہ کے قیام کے بعد صحت یاب ہو کر وا پس تشریف لائے اور پھر زندگی میں کبھی گردے کی تکلیف نہیں ہوئی۔ الغرض زندگی بھر آپ اپنے آقا حضرت مصلح موعودؓ کی دعاؤں اور شفقتوں کے مورد بنے رہے۔
٭ ایک واقعہ جس سے حضرت مصلح موعودؓ کے اخلاق فاضلہ پر روشنی پڑتی ہے محترم مہاشہ صاحب کے بیٹے مکرم نصیر احمد ظفر صاحب یوں بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نانا جان (حضرت منشی کرم علی صاحبؓ (کاتب حضرت مسیح موعودؑ) جب قادیان سے نکلے تو اُن کی آمدنی بالکل ختم ہوگئی۔ ہجرت کے بعد چند سال جو وہ زندہ رہے تو کبھی بیٹی کے پاس اور کبھی بیٹے کے پاس رہ کر گزارے جس کی وجہ سے وہ چندہ وصیت ادا نہ کرسکے۔ اس پر اُن کی وصیت منسوخ ہوگئی۔ 15؍دسمبر 1952ء کو جب اُن کی وفات ہوئی تو وہ اپنے بیٹے کے پاس سرگودھا میں مقیم تھے۔ جناز ہ ربوہ لانے سے پہلے ہمارے ماموں نے ایک دستی خط اباجان کو بھجوایا کہ مَیں جنازہ لے کر ربوہ آرہا ہوں، وصیت چونکہ منسوخ ہوچکی ہے لہٰذا عام قبرستان میں قبر کھدوا دیں۔ اباجان کو یہ اطلاع ملی تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمایا کہ میرا دل نہیں مانتا کہ جس شخص کی ساری زندگی قادیان میں اپنے آقاؤں کے قدموں میں اُن کی خدمت کرتے گزری ہے ان کو دوسرے قبرستان میں دفن کیا جائے صرف اس لیے کہ ان کی آمدنی ختم ہوچکی تھی۔ پھر آپ نے ایک خط اسی مضمون کا لکھ کر میرے ہاتھ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بھجوادیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ حضور آرام فرما رہے تھے۔ مَیں نے خط اندر بھجوا دیا تو تھوڑی دیر بعد حضور نے مجھے بلاکر فرمایا کہ مَیں یہ خط مولوی عطا محمد صاحب کو بھجوارہا ہوں جو دفتر وصایاکے انچارج ہیں، آپ جواب کا انتظار کریں۔ تھوڑی دیر بعد وہ آدمی جس کو خط دے کر بھجوایا تھا جواب لے کر آیا۔ مولوی صاحب نے لکھا تھا کہ جب تک منشی صاحب کام کرتے رہے بہت باقاعدگی سے چندہ وصیت دیتے رہے، جب اُن کا کام چھٹ گیا تو چندہ وصیت ادا نہ کر سکے۔ اس پر حضورؓ نے خط پر نوٹ دیا کہ اگر آمدنی نہیں تو پھر وہ وصیت کہاں سے دیں گے! اس صورت میں وصیت منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ منشی صاحب کی وصیت بحال کی جائے اور ان کو قطعہ صحابہ میں دفن کیا جائے۔ حضورؓ کا یہ جواب اباجان کو ملا تو آپ نے سجدۂ شکر ادا کیا اور غم کے باوجود خوش ہوگئے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب ابھی زیرتعلیم ہی تھے کہ ایک دن حضرت منشی صاحبؓ کی اہلیہ حضرت حاکم بی بی صاحبہؓ دعا کی غرض سے حضرت مولوی بقاپوری صاحبؓ کے گھر گئیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ مولوی صاحب نے مجھے اپنی بیٹی امیر بیگم کا رشتہ مہاشہ محمد عمر صاحب کے ساتھ کرنے کی تحریک کی۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ مجھے لکھ کر دے دیں میں یہ رقعہ منشی صاحب کو دے دوں گی۔ اس پر مولوی صاحب نے رقعہ لکھ دیا اور مَیں نے وہ رقعہ منشی صاحب کو دیا جو انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کو یہ لکھ کر بھجوا دیا کہ حضور! میری جان مال اولاد آپ پر قربان ، آپ خود ہی فیصلہ کردیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اسی رقعے پر ’’مبارکباد‘‘ لکھ کر واپس بھجوا دیا ۔ تین دن کے بعد محترم مہاشہ صاحب کو حضورؓ کا یہ پیغام ملا کہ آج آپ کا نکاح ہوگا۔ مغرب کے بعد نکاح پڑھا گیا۔ لڑکے اور لڑکی، دونوں کی طرف سے حضورؓ ہی ولی تھے۔ نکاح کے خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ مَیں ہمیشہ واقف زندگی کی بیویوں کا حق مہر 300روپے مقرر کرتا ہوں لیکن چونکہ منشی صاحب کی بیٹی کا ولی مَیں ہوں اس لیے 500 روپے مقرر کرتا ہوں۔
محترم مہاشہ صاحب جب ایک سال بعد پڑھائی مکمل کر کے مربی بن گئے تو پھر رختصانہ عمل میں آیا۔
محترم مہاشہ محمد عمر صاحب کی اہلیہ محترمہ امیر بیگم صاحبہ کی ولادت اوائل 1908ء میں حضرت منشی کرم علی صاحب ؓ کے ہاں ہوئی تھی۔ اُن کی والدہ حضرت حاکم بی بی صاحبہ ؓ فرمایاکرتی تھیں کہ مَیں نومولود بچی کو اٹھاکر حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نام تجویز کرنے کی درخواست کی تو حضور اقدس نے امیربیگم نام تجویز فرمایا اور فرمایا میں نے اس بچی کے لیے لمبی عمر کی دعا کی ہے۔
محترمہ امیر بیگم صاحبہ کو دعا پر بے حد یقین تھا۔ کوئی بھی مشکل کا وقت آجاتا تو دعا کی طرف متوجہ ہوتیں۔ وہ خواہ بیماری ہوتی یا مالی پریشانی آپ وضو کر کے مصلیٰ پر کھڑی ہو جاتیں۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا اور پریشانی دُور ہوجاتی۔ خلافت و احمدیت کی محبت اور اطاعت کے لیے کوشاں رہتیں۔ نظام جماعت کی بے حد پابند تھیں اور مالی قربانی میں ہمیشہ اپنی بساط سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔ اپنی اولاد کو بھی نہایت سختی سے تلقین فرماتیں کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تساہل سے کام نہ لیا کریں۔ چونکہ مہاشہ صاحب مربی سلسلہ تھے اور اکثر اوقات گھر سے باہر ہی رہتے تھے، اُن کی غیرموجودگی میں آپ نے نہایت جرأت اور استقلال سے تمام تکالیف و پریشانیوں کا نہایت جواں مردی سے مقابلہ کیا اور انہیں ہمیشہ تسلی دیتی رہیں کہ آپ ہماری فکر نہ کریں اور اپنے کام کی طرف دل جمعی سے توجہ رکھیں۔ آپ نے بچوں کی تربیت پر ہمیشہ نظر رکھی اور کوشش کی کہ بچے نظام جماعت کی پابندی کریں۔ خود بھی جماعت کے مالی نظام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بچوں کو بھی ہمیشہ تاکید کی۔ فرماتی تھیں کہ جو کوئی بھی چندہ کی وصولی کے لیے آتا ہے وہ تمہارا نوکر نہیں۔ اس کا یہ احسان ہے کہ وہ آیا ہے ورنہ یہ تمہارا فرض ہے کہ تم چندہ خود جاکر دو۔
محترمہ امیربی بی صاحبہ انتہائی صابر و شاکر عورت تھیں۔ جب آپ راہوالی میں مقیم تھیں تو آپ کا ایک بیٹا عزیز احمد گاڑی کی نیچے آکر وفات پاگیا۔ اس سانحہ کی خبر سن کر آپ دو نفل نماز پڑھ کر دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور روتی رہیں، پھر سلام پھیر کر فرمانے لگیں کہ میں نے اپنے اللہ سے اپنے لیے صبر مانگا ہے۔ وہ تو اللہ کی امانت ہمارے پاس تھی، وہ اپنی امانت لے گیا ہے، میرا اُس پر کوئی حق نہ تھا۔ بعد ازاں آپ حضرت لمصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ بیٹے کی وفات کے بعد میرا دل راہو الی میں نہیں لگتا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ آپ ربوہ آجائیں۔ چنانچہ حضور کی ہدایت پر انجمن احمدیہ نے محترم مہاشہ صاحب کے نام کوارٹر الاٹ کردیا اور اس طرح یہ فیملی ربوہ منتقل ہوگئی۔ 1968ء میں محترم مہاشہ صاحب کی وفات ہوگئی تو آپ کے لیے یہ وقت بھی انتہائی مشکل کا تھا۔ مگر آپ نے انتہائی صبر اور بلند حوصلگی سے یہ وقت گزارا۔ آپ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی انگلستان میں تھے چنانچہ آپ 1979ء میں انگلستان منتقل ہوگئیں۔ اگرچہ اس دوران کئی دفعہ پاکستان گئیں لیکن مستقل رہائش انگلستان میں ہی رکھی اور یہیں 28 اپریل 2003ء کو بقضائے الٰہی مختصر علالت کے بعد وفات پاگئیں۔ مرحومہ 1/8 حصے کی موصیہ تھیں۔ لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت دورِ خلافت کا یہ پہلا جنازہ تھا۔ بعدازاں جنازہ پاکستان لے جایا گیا اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔
محترم مہاشہ محمد عمر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی مکرمہ امۃالحفیظ ثریا غازی صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالحمید غازی صاحب اور چار بیٹوں مکرم شیخ محمد احمد صاحب، مکرم شیخ نصیر احمد ظفر صاحب (ریجنل امیر، ساؤتھ ریجن یوکے) ،مکرم شیخ منیر احمد ناصر صاحب اور عزیز احمد صاحب سے نوازا۔ عزیز احمد صاحب 19؍مارچ 1952ء کو بارہ تیرہ سال کی عمر میں ریل گاڑی کے ایک حادثے میں وفات پاگئے۔ محترم مہاشہ محمد عمر صاحب اس وقت سانگلہ ہل میں متعین تھے۔ آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ تشریف لائے اور خدا تعالیٰ کی تقدیر پرصبر کا وہ مظاہرہ کیا کہ خاموشی سے آنسو بہائے اور اپنے جوان بیٹے کو اپنے ہاتھ سے سپرد خاک کر دیا۔ آپ کے لیے یہ صدمہ بڑا سخت ثابت ہوا۔ اگرچہ آپ نے بہت ضبط سے کام لیا مگر اس کااثر دل پر پڑا۔ اس کے فوراً بعد آپ کو بنگال بھجوادیا گیا جہاں پہلی دفعہ آپ کو دل کادورہ پڑا۔
دراصل 1953ء میں مغربی پاکستان (خاص طور پر پنجا ب) میں جماعت احمدیہ کے خلاف جو فسادات ہوئے تھے وہ نہ صرف احرار ، جماعت اسلامی اور دیگر تمام فرقوں کی طرف سے اجتماعی طور پر تھے بلکہ پنجاب کی صوبائی حکومت کی بھی فسادیوں کو مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ خداتعالیٰ نے اس نازک موقع پر جماعت کو معجزانہ طور پر محفوظ رکھا اور دشمن اپنے مذموم عزائم میں بر ی طرح ناکام رہا ۔ ایک نہایت خوش آئند بات یہ تھی کہ اس بد نام زمانہ تحریک کو مشرقی پاکستان کی حمایت حاصل نہ تھی ۔ دشمن نے بھی ناکامی کی اس بڑی وجہ کو شدت سے محسوس کیا اور بنگالیوں کو اس سلسلہ میں اپنا ہمنوا بنانے کے لیے کوشش تیزتر کردی۔ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی دُور بین نگاہ نے اس خطرہ کو محسوس کیا اور جماعت کا ایک نمائندہ وفد وہاں بھجوانے کا فیصلہ فرمایا تاکہ اس خطرے کا سد باب کیا جائے۔ اس وفد میں مکرم مہاشہ محمد عمر صاحب بھی شامل تھے۔
روانگی سے قبل حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خصوصی ملاقات میں وفد کو ہدایات دیں ۔ جن میں خاص طور پر دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ۔
اوّل۔ جماعت احمدیہ کے خلاف حالیہ فسادات میں اہل بنگال نے حصہ نہیں لیا بلکہ مشرقی پاکستان کے پریس نے اس تحریک کی مذمت کی اور اس رحجان کو ملک کے لیے خطر ناک قرار دیا۔ اس لحاظ سے اہل بنگال ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ خاص طور پر وہاں کے اخبارات کے ایڈیٹروں سے مل کر ان کا شکریہ اداکیا جائے اور جماعت کا لٹریچر ان کو مطالعہ کے لیے دیا جائے ۔
دوم۔ بنگال کے مسلمانوں پر ہندو بنگالیوں کا بہت اثر ہے ۔ اگرچہ ہندو تعداد میں کم ہیں تاہم ان کا اثر و رسوخ بہت ہے اور وہاں کی سیاست پر بھی ان کا بہت دخل ہے ۔ مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اور زبان بھی ہندو کلچر سے متاثر ہے ۔ اس سلسلہ میں خاص طور ہندوؤں میں اسلام کی تبلیغ کے لیے کوشش کی جائے ۔

اس وفد کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حضورؓ نے مکرم مہاشہ صاحب کی باقاعدہ تقرری مشرقی پاکستان میں کردی۔ بنگال میں تعیناتی کے دوران ایک بار جب آپ رخصت پر ربوہ آئے ہوئے تھے تو آدھی رات کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے پیغام آیا کہ آپ کو حضورؓ نے بلایا ہے۔ آپ حاضرِ خدمت ہوئے تو حضورؓ نے فرمایا کہ خبر ملی ہے کہ مودودی صاحب مشرقی پاکستان کے دورہ پر جارہے ہیں اس لیے آپ فوری طور پر ڈھاکہ چلے جائیں اور اُن کے دورہ کے اثرات زائل کرنے کی کوشش کریں۔ حضوؓر نے دو سو روپے سے کچھ زاید ہوائی جہاز کے کرایہ کے لیے بھی دیے۔ آپ نے گھر آکر فوری طور پر جانے کی تیاری شروع کر دی۔ صبح تین چار بجے بذریعہ بس لاہور پہنچے اور وہاں سے بذریعہ جہاز ڈھاکہ پہنچ گئے۔
آپ فرماتے ہیں کہ ڈھاکہ کے احمدیہ مرکز کے قریب ہی ایک کھلے میدان میں مودودی صاحب کا پہلا جلسہ تھا۔ جلسہ گاہ میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ جب مَیں نے یہ نظارہ دیکھا تو واپس مسجد میں جاکر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں سر رکھ دیا اوردعا کی کہ اے مولا کریم تیرے خلیفہ نے تو مجھے اس دورہ کے اثرات زائل کرنے کے لیے یہاں بھجوایا ہے اور میرے بس سے تو یہ بات باہر ہے۔ مَیں ابھی سجدہ میں ہی تھا کہ میرے معاون دوست بھاگتے ہوئے آئے اور بتایا کہ جلسے میں فساد ہو گیا ہے۔ جب ہم جلسہ گاہ میں پہنچے تو لوگ ’’شالہ مودودی شالہ مودودی ‘‘کے نعرے لگا رہے تھے اور اپنی دھوتیاں اٹھا اٹھاکر سٹیج کے سامنے ناچ رہے تھے۔ حتی کے مودودی صاحب کو جوتیوں کا ہار پہنایا گیا ۔ پولیس نے مودودی صاحب کو ان کی حفاظت کے پیش نظر اپنے حلقہ میں لے لیا اور جلسہ بند کروادیا۔ اُن کا دوسرا جلسہ چٹاگانگ میں تھا وہاں بھی یہی حشر ہوا۔ بالآخر انتظامیہ نے مودودی صاحب کو کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سے قاصر ہیں آپ برائے مہربانی بنگال سے تشریف لے جائیں۔چنانچہ جس مقصد کے لیے حضرت مصلح موعودؓ نے مجھے ارشاد فرمایا تھا وہ بغیر میری کسی کوشش کے اللہ تعالیٰ نے بطریق احسن پورا فرمادیا۔ الحمدللہ
محترم مہاشہ صاحب 1958ء میں بنگال سے واپس تشریف لا چکے تھے۔ بہت مدت تک اپنی بیماری کو گھر والوں سے چھپاتے رہے۔ ایک بار گولبازار ربوہ میں سودا سلف لیتے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ لوگوں نے اٹھاکر چارپائی پر ڈالا اور ڈاکٹر وغیرہ بلایا۔ کافی دیر کے بعد جب طبیعت سنبھلی تو سودا سلف لے کر گھر واپس آگئے۔ جب کسی ہمسائی کے بتانے پر آپ کی اہلیہ نے آپ سے بازار میں اچانک ہونے والی اس تکلیف کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ اس کے متعلق بتاکر آپ کو خواہ مخواہ پریشان کرنے کا کیافائدہ تھا۔
کئی سال تک بہاولپور اور سندھ میں کام کیا لیکن آہستہ آہستہ صحت گر رہی تھی۔ پھر دل کی تکلیف کی وجہ سے آپ کو دوالمیال ضلع جہلم میں متعین کر دیا گیا۔ یکم ستمبر 1968ء کی دوپہر آپ اچانک ربو ہ تشریف لے آئے تو آپ کی اہلیہ کو حیرت ہوئی۔ اہلیہ صاحبہ کے استفسار پر صرف اتنا کہا کہ کوئی خاص بات نہیں، دوائی ختم ہوگئی تھی۔ لیکن اگلے ہی روز یعنی 2؍ ستمبر کی صبح آپ کو دل کا شدید دورہ ہوا جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے۔ اسی شام بعد جنازہ آپ کو بہشتی مقبرہ کے قطعہ مربیان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس دن کا الفضل اخبار تیار ہوچکا تھا پھر بھی اس میں مختصر سی خبر دے دی گئی۔ اگلے روز تفصیلی خبر شائع ہوئی جس میں یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ ’’محترم مہاشہ صاحب مرحوم1922ء میں جبکہ آپ کی عمر 15سال تھی، ہندودھرم ترک کرکے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔… قادیان میں ہی مستقل سکونت اختیار کرکے 1922ء سے1930ء تک عربی اور دینی علوم کی تحصیل مکمل کی آپ جامعہ احمدیہ قادیان کے فارغ التحصیل اور مولوی فاضل تھے مزید براں آپ کو سنسکرت پر بھی عبور حاصل تھا۔ دینی علوم کی تحصیل کے بعد 1931ء میں آپ نے مربی سلسلہ احمدیہ کے طور پرکام شروع کیا اور مسلسل 36سال تک گرانقدر خدمات بجا لانے کے بعد آپ 17نومبر1967ء کو بعمر 60سال صدرانجمن احمدیہ کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد بھی بطور مربی سلسلہ خدمات بجالارہے تھے۔…۔‘‘
(روزنامہ ’’الفضل ‘‘ ربوہ4؍ستمبر 1968ء)
اخبار بدر یکم ستمبر اور 12ستمبر 1968ء میں بھی تفصیلی خبریں شائع ہوئیں۔
مکرمہ ثریا غازی صاحبہ لکھتی ہیں کہ مَیں جولائی 1966ء میں سات سال بعد پاکستان گئی تو میرے ساتھ میری بیٹیاں اور میرا بھائی بھی تھا۔ اس وقت اباجان سکھر میں مقیم تھے۔ آدھی رات کے بعد جب گاڑی حیدر آباد کے اسٹیشن پر پہنچی تو آپ کو وہاں موجود پایا۔ آپ کے ساتھ بابوعبدالغفار صاحب صدر جماعت حیدر آباد بھی تھے۔ آپ میرے بچوں کو پہلی دفعہ ملے۔ ہمارا خیال تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہی ربوہ آئیں گے لیکن آپ نے مجھے فرمایا کہ اگرچہ مَیں تمہارے آنے کے موقع پر رخصت لے چکا تھا لیکن بابو صاحب نے 15دن کے لیے وقف عارضی کی ہے اور مجھے ساتھ چلنے کے لیے کہا تو میں انکار نہ کر سکا ۔ آپ لوگ ربوہ جائیں میں چند دن بعد آجاؤں گا۔ ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ آپ کو ساتھ چلنے پر اصرار کیا حتی کہ بابو صاحب نے بھی فرمایا کہ آپ کے بچے اتنی مدت بعد آئے ہیں آپ ان کے ساتھ چلے جائیں۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ میں آپ کو درمیان میں چھوڑ کر کیسے چلاجاؤں! چنانچہ ہم اکیلے ربوہ پہنچے اور اباجان چند روز بعد تشریف لائے۔ لیکن چونکہ زیادہ چھٹیاں وقف عارضی میں ہی گزار آئے تھے اس لیے چند دن رہ کر واپس اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے۔ بعد میں بابو عبدالغفار صاحب سے معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی چلنے کے بعد اباجان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ کافی دیر تک پلیٹ فارم کے بنچ پر لیٹے رہے۔
ہمارے واپس آنے سے پیشتر ایک دفعہ اباجان پھر ربوہ تشریف لائے اور خواہش کی کہ ہم کچھ عرصہ کے لیے اَور رُک جائیں لیکن ہمارا پروگرام بن چکا تھا۔ اباجان نے جلدی واپس ڈیوٹی پر جانا تھا۔ فرمایا: میں تمہیں روہڑی کے اسٹیشن پر ملوں گا۔ صبح کا وقت تھا جب گاڑی روہڑی پہنچی تو اباجان حسب وعدہ وہاں موجود تھے۔ یہ آخری ملاقات نہایت مختصر اور دلگداز تھی۔ وہ اچکن میں ملبوس تھے گلے میں مفلر لپیٹا ہوا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ اسٹیشن بالکل سنسان تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ اباجان دیر تک اسٹیشن پر کھڑے ہاتھ ہلاتے رہے۔ میں بھی گاڑی سے سر نکالے اباجان کو دیکھتی رہی۔ حضرت اباجان کی یہ آخری تصویر میرے ذہن میں ہے ، ان منٹ جیسے پتھر پر کندہ نقش۔ اس کے بعد میں اپنے پیارے اباجان سے پھر کبھی نہیں مل سکی وہ ہمیں ہمارے اور اپنے خالق و مالک کے سپرد کرکے منزل مقصود پر پہنچ گئے۔

؎ آسماں تیری لحد پر شبنم افسانی کرے

اباجان نے 61سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کی وفات سے دو تین دن قبل مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مکان کی چھت پر حضرت مصلح موعود ؓ چند احباب کے ساتھ کھڑے ہیں اور اباجان کا انتظار کر رہے ہیں۔ میرے دیکھتے دیکھتے اباجان سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی خوابیں دیکھیں جن میں سے بعض ذاتی طور پر آپ کو جانتے بھی نہیں تھے۔ ان خوابوں میں آپ کی وفات اور بلند روحانی مقام کی طرف اشارہ تھا۔
(آئندہ شمارہ میں جاری ہے۔ انشاء اللہ)
—————————————————-
(قسط دوم۔ آخر)

٭ قادیان سے ہجرت کے بعد جماعت کی مالی حالت مضبوط نہ تھی۔ کارکنان کو ایک واجبی سی رقم خرچ کے لیے ملتی تھی اور بعض اوقات اس میں بھی تسلسل ٹوٹ جاتا تھا۔ ان حالات میں بعض اوقات مہاشہ صاحب کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ اگر بیمار ہوں تو دوائی ہی لے سکیں۔ بس کا کرایہ نہ ہونے کے باعث بعض اوقات پیدل سفر کرنا پڑتا۔ ایک دفعہ آپ نے اہلیہ کو خط میں لکھا کہ بیمار ہوں اور دوائی کے پیسے نہیں ہیں۔ لیکن اس تنگی کے زمانے میں بھی آپ نے جماعت کے وقار اور اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھا اور کبھی شکایت کے رنگ میں ذکر نہ کیا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے یہ توفیق بخشی ہے کہ حتی المقدور جماعت اور اسلام کی خدمت کر سکیں۔ بارہا آپ کی اہلیہ کوربوہ سے کپڑے بنوا کر آپ کو بھجوانے پڑتے۔ لیکن جماعت کا وقار اور عزت ان کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی۔
٭ ایک دفعہ آپ کو مشرقی پاکستان واپس ڈیوٹی پر جانا تھا۔ روانگی سے قبل حضرت مصلح موعود ؓ سے ملاقات کر کے آگئے لیکن سفر پر روانہ نہ ہوئے۔ مغرب کی نماز میں حضورؓ نے آپ کو دیکھا تو نماز کے فوراً بعد پیغام بھجوایا کہ آپ گئے کیوں نہیں فوراً چلے جائیں۔ آپ اپنی اہلیہ سے کچھ پیسے لے کر اسی وقت لاہور روانہ ہوگئے۔ وہاں سے کسی طرح کراچی بھی پہنچ گئے لیکن وہاں سے روانگی نہ ہوسکی۔ حضورؓ کو علم ہوا تو حضورؓ نے پیغام بھیجا کہ کراچی میں کیوں ٹھہرگئے ہیں فوراً بنگال چلے جائیں۔ اس پر آپ کے بے تکلّف دوست محترم چودھری محمد عبداللہ صاحب امیر جماعت کراچی نے پوچھا کہ آپ کیوں ٹال مٹول کر رہے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ حضور کو مجھے کرایہ کے پیسے دینے یا د نہیں رہے اور میں حضور سے مانگ نہیں سکتا۔ اس پر انہوں نے آپ کو ٹکٹ لے کر دیا اور کچھ سفر خرچ بھی دیا تو آپ روانہ ہوگئے۔

محترم مہاشہ محمد عمر صاحب

٭ محترم مہاشہ صاحب نے دین کو دنیاپر مقدّم رکھنے کا عہد ہمیشہ نبھایا۔ ایک دفعہ گرمیوں میں آپ کو بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر نے کسی ٹھنڈے مقام پر جانے کا مشورہ دیا۔ آپ نے دفتر کو اس کی اطلاع کردی لیکن کسی مصلحت کی بِنا پر آپ کو جیکب آباد جانے کا حکم ہوا (جو گرم ترین مقام ہے)آپ بغیر کوئی شکوہ کیے وہاں چلے گئے۔ بعد میں دفتر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو آپ کو سکھر جانے کا حکم ہوا۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کا سلوک اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ نہایت معززانہ تھا۔ ہمیشہ ’آپ‘کہہ کر مخاطب کرتے۔ کبھی درشت لہجہ یا سخت الفاظ استعمال نہ کیے۔ بچوں کے کسی عمل سے اگر والدہ کو کوئی تکلیف پہنچتی یا کوئی بچہ والدہ کے ساتھ اُس احترام سے پیش نہ آتاجو ماں کاحق ہوتاہے تو اُس بچے کے رویے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور یہ اظہار آپ کے چہرے سے عیاں ہوجاتا۔ لیکن دوسری طرف گھر میں خواہ کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے اس پر کبھی سرزنش نہ کرتے۔
٭ آپ کا سلو ک اپنے سسرال سے بھی نہایت اچھا تھا۔ سسر کی وفات کے بعد آپ کی ساس صاحبہ اپنی وفات یعنی 15سال تک آپ کے ہاں مقیم رہیں۔ آپ ان کی بے حد عزت وتکریم کرتے اور خود حضرت اماں جی کہہ کر مخاطب کرتے اور بچوں کو بھی بار بار تاکید کرتے کہ اماں جی کی دلجوئی اور آرام کا خاص خیال رکھیں۔ ایک دن اماں جی کو یہ کہتے سن لیا کہ منشی صاحب کی وفات کے بعد میرے پاس کان میں پہننے کے لیے کوئی زیور نہیں تو باوجود اپنی محدود آمدنی کے آپ نے اُن کو سونے کی بالیاں بنوا کر دیں۔ اماں جی بھی آپ کی بہت عزت کرتیں اور وفات کے وقت بھی آپ کا نام ہی ان کی زبان پہ تھا۔ لیکن افسوس کہ آپ اُن کی وفات کے پانچ منٹ بعد لاہور سے ربوہ پہنچے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کی بیٹی مکرمہ ثریا غازی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اباجان کو صدقے پر بہت یقین تھا۔ خود بھی بہت صدقہ دیتے تھے اور ہمیں بھی یہی تلقین کرتے تھے کہ صدقہ دینے میں بہت برکت ہے۔ جب میری عمر 5سال کی تھی تو امی جان نے میری ممانی کے ساتھ اُن کے گائوں جانے کا پروگرام بنایا جو بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ سفر تانگے پر کرنا پڑتا تھا۔ اباجان ویسے بھی سفر پر جانے سے پہلے صدقہ دینے کی تلقین کرتے تھے۔ لیکن اُس سفر سے ایک رات پہلے مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں اور میرا ماموںزاد بھائی گاڑی سے نیچے گر گئے ہیں۔ مَیں نے اباجان کو اپنا خواب بتایا تو انہوں نے مجھے اسی وقت 16آنے کی ریزگاری دی کہ جاؤ یہ فلاں بیوہ عورت کو دے آؤ اور امی جان کو تاکید کی کہ بھابھی صاحبہ کو بھی صدقہ دینے کی تاکید کردیں۔ لیکن ممانی نے ایک بچی کی خواب کو اہمیت نہ دی۔ بہرحال جب ہم منزل پر پہنچے تو گھوڑا اچانک بدک گیا اور تانگہ اُلٹ گیا۔ باقی لوگ تو محفوظ رہے لیکن میرے ماموں زاد بھائی کی ٹھوڑی میں لوہے کی راڈ ایک انچ تک کھب گئی۔ بڑی مشکل سے خون بند کیا اور اس کو چارپائی پر ڈال کر ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ بعض لوگ شاید بچوں کی خوابوں کو اتنی اہمیت نہ دیں لیکن اباجان ہمیشہ بہت اہمیت دیتے اور صدقہ کرنے پر بہت زور دیتے تھے۔
اباجان کو اپنے بچے بہت عزیز تھے اور بچپن میں بعض اوقات ہماری ذہنی سطح پر آکر ہم سے سلوک فرماتے اور ہمیں احساس تک نہ ہونے دیتے۔ قادیان میں رمضان کے مہینے میں جب اباجان اور امی جان روزہ رکھنے کے لیے اٹھتے توہم بہن بھائی بھی صبح اٹھ کر روزہ رکھنے کی خواہش کرتے۔ رات کو اباجان کو تاکید کرتے کہ ہم نے روزہ رکھنا ہے صبح ہمیں جگا دیں۔ آپ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتے کہ ہاں کیوں نہیں۔ چنانچہ ہم صبح اٹھ کر سحری کھا کر روزہ رکھ لیتے۔ لیکن بچپن تھا روزہ رکھنے کی خواہش اپنی جگہ کافی شدید ہوتی لیکن دوپہر کو بھوک برداشت نہ کرسکتے اور بُری حالت ہوجانے کے باوجود روزہ کھولنے پر تیار نہ ہوتے۔ اس پر اباجان نے ایک ایسا حل ڈھونڈا کہ ہماری عزت نفس بھی قائم رہے اور ہم کھانا بھی کھالیں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ لوگ اپنا روزہ میرے پاس رکھوادیں اور کھانا کھا کر آکر واپس لے لیں۔ چنانچہ ہم ایسا ہی کرتے اور خوش ہوتے کہ ہمارا روزہ ٹوٹا نہیں اور شام کو سب کے ساتھ مل کر روزہ کھولتے۔
آپ کوشش کرتے کہ ہر کام اپنے ہاتھ سے کریں، کسی کو کام کہنا ان کی طبیعت کو گوارہ نہیں تھا۔ بہت کم کوئی فرمائش کرتے اور جو کام ان کے لیے کیا جاتا اس کے لیے اس قدر احسان مندی کا اظہار فرماتے کہ ندامت محسوس ہونے لگتی۔
اباجان جب بھی باہر سے آتے تو اکثر اچانک ہی پہنچا کرتے۔ آپ کے آنے سے گھر میں ہمیشہ خوشی کی لہر دوڑ جاتی کیونکہ کبھی خالی ہاتھ گھر نہ آتے تھے اور ضرور کچھ تحائف لے کر آتے۔ اگر بازار تک بھی جاتے تو آتی دفعہ کوئی پھل مٹھائی وغیرہ ضرور لے کر آتے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی خالی ہاتھ گھر لَوٹے ہوں۔
مَیں نے جب لاہور جا کر C.T. ٹریننگ لینے کا ارادہ کیا تو آپ نے اجازت دینے سے صاف انکار کردیا۔ آپ لڑکیوں کے ملازمت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اس لیے بار بار لکھنے کے باوجود اجازت نہ دی۔ بالآخر مَیں نے آپ کو لکھا کہ مجھے ربوہ کا پانی موافق نہیں آتا جس کی وجہ سے میری صحت کافی گر گئی ہے اس لیے مجھے ایک سال کے لیے لاہور جا کر پڑھنے کی اجازت دے دیں تاکہ آب و ہوا بدلنے سے میری صحت بحال ہو جائے۔ اس پر آپ نے اجازت تو دے دی لیکن خطوط کے ذریعے ہمیشہ اس بات کا احساس دلاتے رہے کہ تمہارا کوئی قدم ایسا نہ اٹھے جو کسی بھی رنگ میں جماعت یا خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔ اپنے ایک خط میں آپ نے لکھا: میری بچی یہ خدائی فضل ہے کہ اس نے تمہیں موقع دیا ہے کہ تم آئندہ ترقی کے راستہ پر چل سکو۔ معلوم ہوا ہے کہ تم ہوسٹل میں ہی رہوگی لیکن اس موقع پر میں ایک نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مَیں تم سے کئی سو میل دُور ہوں اور تمہاری امی جان بھی تمہارے پاس نہیں ہیں۔ مجھے تم سے امید ہے کہ تم ایک احمدی لڑکی کی طرح تعلیم حاصل کروگی اور اپنی اس دُوری کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کروگی۔ لاہور کی فضا بہت گندی اور خراب ہے کہ جب تک خداتعالیٰ کا خاص فضل وکرم نہ ہو اس سے محفوظ رہنا مشکل ہے۔ لیکن میں تمہیں ان بچوں سا نہیں سمجھتا جو ماں باپ کی سنت کے خلاف کوئی ایسا کام کریں جو اُن کو دکھ دینے والا ہو۔ تم نے لاہور جا کر میری پریشانی کو زیادہ بڑھادیا ہے اور میرے تفکّرات میں قدرے اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن اگر تم نے ایک احمدی بچی کی طرح اپنے تعلیمی ایام گزارے تو میں سمجھوں گا کہ تم نے ماں باپ کی عزت اور وقار کو رکھ لیا۔ یہ صحیح ہے کہ میں بظاہر تمہاری نگرانی نہیں کرسکتا کیونکہ میں تم سے دُور ہوں لیکن یہ بھی خیال رہے کہ باپ کو اپنی اولاد سے ایسی محبت اور اُنس ہوتا ہے کہ جس سے وہ اپنی اولاد کے اعمال سے بہت حد تک مطلع رہتا ہے اس لیے میری پیاری بچی تم کو کوئی تمہاری سہیلی ایسی بات پر مجبور نہ کرے جو احمدیت کے وقار کے خلاف ہو اور اس کا علم مجھے ہونے پر تم کو ندامت ہو۔ مجھے یقین ہے کہ تم ان تمام باتوں کا خیال رکھو گی لیکن باپ ہونے کی حیثیت سے جو فرض تھا کہ مَیں تم کو نصیحت کروں تاکہ خدا نخواستہ بعض سہیلیوں کے مجبور کرنے پر ایسا قدم نہ اٹھاؤ جس سے مجھے تکلیف ہو۔ احمدیت نے جس سے روکا ہے اس کو کبھی نہ دیکھو خواہ کچھ ہو۔ یہ میرا حکم ہے۔ اور نہ ہی ہوسٹل سے باہر کسی کے مکان پر جاؤ خواہ کوئی ہو۔ اپنی اس جان کو اپنی خیریت سے اطلاع دیتی رہا کرو۔ نیز حضرت صاحب کو بھی کبھی کبھی خط لکھتی رہا کریں۔ اس میں تمہارا بھلا ہوگا۔ امید ہے کہ تم میری نصائح پر عمل کروگی اور خدا وہ دن نہ لائے کہ تم سے مجھے کوئی تکلیف ہو۔ اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو اور تمہارا نگہبان اور حافظ ہو۔
شادی کے بعد میری 5 بیٹیاں اُن کی زندگی میں پیدا ہوئیں۔ ہر بچی کی پیدائش پر اباجان کا اس قدر تسلی سے لبریز خط آجاتا کہ یوں لگتا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا سے بڑھ کر ہمیں ہی عزت دی ہے اور اپنی راحت کو ہمارے گھر بھیجا ہے مگر افسوس کہ آپ میرے بیٹے کی پیدائش سے قبل وفات پا گئے۔
مَیں نے جب سے ہوش سنبھالی اپنی بیٹھک میں کسی نہ کسی مہمان کو رہتے دیکھا جس کے کھانے اور دیگر ضروریات کا خرچ اباجان نے اٹھایا۔ مکرم قاضی غلام نبی صاحب مر حوم جو اباجان کے گاؤں کے رہنے والے تھے اور یتیم تھے، ہماری بیٹھک میں رہے۔ اباجان نے 10روپے ماہوار پر اُن کو نوکری دلوادی۔ یہ رقم وہ اپنی بیوہ ماں اور بھائی بہنوں کے لیے بھجوادیتے اور اُن کا خرچ اباجان خود برداشت کرتے رہے۔ بعد میں اُن کے اہل وعیال کو بھی بلوا لیا اور وہ ہمارے ہاں کافی دیر تک مقیم رہے۔ مکرم خورشید احمد صاحب سیالکوٹی بھی کافی عرصہ ہمارے ہاں مقیم رہ کر اپنی تعلیم مکمل کرتے رہے۔ اسی طرح ایک ریاض صاحب بھی تھے جو تقریباً تین سال ہمارے پاس مقیم رہے۔ جلسہ سالانہ پر تو بڑی باقاعدگی سے کئی فیملیاں ہمارے ہاں ٹھہرا کرتی تھیں۔
ایک دفعہ اباجان دورے سے واپس تشریف لائے تو اُن کے ساتھ ایک لڑکا تھا۔ آپ نے بتایا کہ یہ نومسلم ہے اور قادیان میں رہ کر اسلامی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہماری بیٹھک میں رہنے لگا اور ہمارے گھر سے کھانا کھاتا تھا۔ اُس کا اسلامی نام نصراللہ رکھا گیا۔ بظاہر وہ بہت اخلاص کا اظہار کرتا اور اُس نے بہت جلد محلے میں اپنا اعتبار قائم کر لیا۔ قریباً چھ ماہ بعد جب امی جان کو دو تین دن کے لیے نانی جان کے گھر جانا پڑا اور اباجان دورے پر تھے تو نصراللہ نے پیٹی کا تالہ کھولا اور اس میں سے 140روپے نکال لیے، بعض قیمتی چیزیں بھی اٹھالیں اور بازار سے اباجان کے نام پر ایک سائیکل لے کر بھاگ گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ لاہوری جماعت کے پاس چلا گیا اور کہا کہ میں قادیان سے آیا ہوں لیکن مرزا صاحب کو نبی ماننے کو میرا دل نہیں مانتا۔ اس پر انہوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے وہاں سے تین سو روپے چوری کیے اور بھاگ گیا۔ اباجان نے تو افسوس ہی کیا لیکن امی جان سخت ناراض ہوئیں کہ ہر ایک پر اعتبار کرلیتے ہیں۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کے بیٹے مکرم نصیر احمد ظفر صاحب (ریجنل امیر، ساؤتھ ریجن یوکے) بیان کرتے ہیں کہ اباجان نے بچپن سے ہی ہمیں نماز کی عادت ڈالنے کی کوشش کی۔ جب بھی ربوہ میں ہوتے تو نمازفجر کے لیے ہمیں بڑے پیار سے جگاتے۔ تہجد اور نماز فجر کے بعد بڑی دیر تک دعاؤں میں مشغول رہتے۔ درثمین کے اشعار بڑے ذوق سے پڑھتے۔ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ہمارے محلہ میں ہی رہتے تھے اور اکثر نماز عصر یا مغرب کے بعدمجھے اور میرے برادر اکبر منیر احمد صاحب کو مسجد سے نکلتے ہوئے اپنے ساتھ ہی لے کر چلتے اور اپنا گھر آنے تک ہم دونوں سے مختلف دعائیں اور قرآنی آیات سنتے جاتے۔ ایک دن اباجان گھر آئے تو بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ فرمایا کہ آج حضرت شاہ صاحب نے بچوں کی تعریف کرکے مجھے خوش کر دیا۔… اباجان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔آپ نے ہم دونوں بھائیوں کو انعام کے طور پر کچھ پیسے بھی دیے۔
اباجان نے اپنے بچوں کو کبھی بدنی سزا نہیں دی سوائے ایک بیٹے کو غالباً زندگی میں پہلی اور آخری بار مارا جب آپ کو معلوم ہوا کہ اُس نے سگریٹ نوشی شروع کردی ہے۔ ورنہ اگر کبھی غصہ آیا بھی تو گھر سے باہر چلے جاتے اور جب ناراضگی دُور ہوجاتی تو واپس تشریف لے آتے۔ مجھے بچپن میں مٹی کھانے کی عادت تھی۔ ایک دن اباجان نے مجھے ڈرانے کے لیے ڈنڈا پکڑا کہ خبردار آئندہ مٹی نہ کھانا۔ وہ ڈنڈا صرف پکڑنے اور ڈرانے کی حد تک ہی تھا۔
اباجان کو جانوروں سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ لیکن ہم نے اپنے گھر ربو ہ میں ایک کتا اور ایک بلی پال رکھی تھی۔ آپ اگرچہ کتے کو پسند نہ کرتے تھے مگر جب ہم سے کبھی اس کو کھانا یا پانی دینے میں کوتاہی ہو جاتی تو ناراضگی کا اظہار فرماتے اور پھر اپنے ہاتھ سے اس کو پانی اور خوراک وغیرہ دیتے اور کہتے کہ یہ معصوم جانور تم نے رکھا ہوا ہے تو اس کی ضروریات کا بھی خیال رکھا کرو۔
ابا جان اپنی ذات کے لیے کوئی تکلّف نہ کرنے دیتے اور نہ ہی کوئی توقع رکھتے۔ اگر کوئی چیز دستیاب ہو گئی تو ٹھیک ورنہ کوئی تردّد نہ کرتے۔ کسی پکی ہوئی چیز میں نقص نہیں نکالا۔ جو مل گیا جیسا مل گیا کھا لیا۔ میری والدہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ رمضان کے دوران وہ سالن میں نمک ڈالنا بھول گئیں۔ روزے کی وجہ سے سالن چکھ نہ سکیں۔ روزہ کھول کر اباجان نے بڑے اطمینان سے وہ پھیکا سالن کھالیا۔ بعد میں امی جان کو علم ہوا تو پوچھا کہ بالکل پھیکا اور بدمزہ کھانا کیوں کھالیا؟ فرمایا کہ مجھے آ پ کے پکائے ہوئے پر اعتراض کرنا مناسب نہیں معلوم ہوا۔
ہمار ے بچپن میں اباجان کا زیادہ وقت باہر ہی گزرتا لیکن جب کبھی واپس آتے تو ہماری عید ہو جاتی۔ آپ ہماری با ت نہیں ٹالتے تھے۔ سکول جاتے وقت امی جان سے پیسے مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی لیکن جب آپ گھر میں ہوتے تو ہم دروازے کی اوٹ میں کھڑے ہو کر آپ کو اشارے سے باہر بلاتے۔ آپ خاموشی سے باہر آتے اور ہمارے ہاتھ پر پیسے رکھ کر واپس چلے جاتے۔ آپ کو اپنی اولاد سے بے حد محبت تھی لیکن اس کے باوجود ہمیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اباجان کس بات کو برداشت کریں گے اور کس کو نہیں۔ ہماری کوئی حرکت احمدیت کے وقار کے خلاف برداشت نہیں کرتے تھے خواہ وہ کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں جماعت اور خلافت کا معاملہ آتا تو فوراً کہہ دیتے کہ اگر تم نظام جماعت کی پابندی کرو گے اور خلافت کی مکمل غیر مشروط اطاعت کروگے تو میرے ہو ورنہ مَیں نے اس دین کی خاطر اپنے ماں باپ اور دوسرے عزیز چھوڑدیے، تم کیا چیز ہو۔
مجھے بعض اوقات تعجب ہوتا تھا کہ ایک شخص جو ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور اسی ماحول میں پلا بڑھا اس کو اسلام کی کس قدر غیرت تھی۔ اپنے بچپن میں جب ہم ربوہ میں صدر انجمن کے کوارٹرز میں رہتے تھے۔ مَیں ایک دن اپنی طرح میں ایک اردو گانے کے بول گانے کی کوشش کر رہا تھا کہ رام رحیم ایک ہیں۔ اس پر اباجان نے سن کر فرمایا کہ مَیں تو رام کو چھوڑ کر ادھر آیا تھا تم نے اس کو کہا ں سے پھر پکڑ لیا ہے۔ پھر بڑے جلال سے فرمایا کہ رام اور رحیم ایک کیسے ہو سکتے ہیں!
٭ مکرم محمد عبدالرشید صاحب حیدر آبادی بیان فرماتے ہیں: مولا نا مہاشہ محمد عمر صاحب سے خاکسار کی پہلی ملاقات مسجد احمدیہ ڈھاکہ میں ہوئی جہاں مسجد سے ملحقہ ایک کمرے میں خاکسار 1957ء میں مقیم رہا۔آپ بھی وہیں رہتے تھے۔ رات کبھی آنکھ کھل جاتی تو مولانا کے رونے کی آواز آتی۔ وہ تہجد میں گڑگڑا کر دعائیں مانگتے۔ نماز فجر کے لیے خاکسار کو بہت ہی پیار سے جگاتے۔ ہمیشہ نصیحت فرماتے کہ نماز کو کسی حالت میں ترک نہ کرنا، نماز ہی نجات کا ذریعہ ہے۔
آپ بہت بلند پایہ عالم دین، دعاگو اور بااخلاق مبلغ سلسلہ تھے۔ نہایت پُرمغز گفتگو کرتے اور ہر کسی کا دُکھ اتنے غور سے سنتے کہ سنانے والے کو اُن کی ہمدردی کا یقین ہوجاتا۔ بہت ہی سادہ زندگی گزارتے۔ خاکسار نیا نیا ڈھاکہ میں وارد ہوا تو بہت کوشش کرکے بھی ملازمت نہ ملی۔ آپ نے ایک دن خود پوچھا اور مجھے شاہنواز لمیٹڈ لے گئے اور کام پر رکھوادیا۔ احمدیوں کے علاوہ غیروں سے بھی ان کے خاص تعلقات تھے۔ اس زمانہ میں پاکستانی سیاست میں بہت ہیجان تھا۔ بڑے بڑے سیاسی رہنما آپ سے ملتے اور مشورہ لیتے۔ ان رہنماؤں میں مسلم لیگ اور عوامی لیگ (دونوں جماعتوں) کے لیڈر ہوا کرتے تھے۔ یہ سب مولانا کے مشورے کو بہت اہمیت دیتے۔
٭ مکرم مبشر احمد گوند ل صاحب بیان کرتے ہیں کہ محترم مہاشہ صاحب کی حیدرآباد میں تعیناتی کے دوران آپ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ آپ کی علمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا جب آپ تقریر کررہے ہوتے یا کسی اعتراض کاجواب دے رہے ہوتے۔ ایک جماعت میں خاکسار کو آپ کے ساتھ جانے کا موقع ملا جہاں دو بھائیوں کی اولاد آباد تھی جن کی آپس میں کشیدگی تھی۔ آپ نے فریقین کو بٹھا کر کافی سمجھایا۔ گرمیوں کے دن تھے، مسجد سے باہر ہماری دو چارپائیاں بچھائی گئیں۔جب لوگ چلے گئے تو آپ نے مجھے کہا کہ چلو مسجد میں جاکر ان لوگوں کے لیے دعا کریں۔ ہم دونوں مسجد میں جاکر نفل اداکرنے لگے۔ خاکسار کچھ وقت میں چار نفل ادا کر کے چارپائی پر آکر سوگیا۔ کافی دیر کے بعد مجھے کسی کی سسکیوں کی آواز آئی۔ ساتھ والی چا ر پائی خالی تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ مربی صاحب بدستور دعا میں مصروف ہیں۔ مجھے تو پھر نیند نے آلیا۔ صبح فجر کی نماز کے لیے جب بیدار ہوا تب بھی آپ مسجد میں موجود تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ آپ ساری رات بستر پر نہیں آئے۔ صبح ناشتے کے دوران مَیں نے پوچھ ہی لیا تو کہنے لگے ان دونوں بھائیوں کے آپس میں حالات دیکھ کر ان کے لیے دعا کا موقع مل گیا تھا اور تھوڑی دیر صف پر لیٹ کر کمر سیدھی کر لی تھی۔
٭ حضرت مہاشہ صاحب بتایا کرتے تھے کہ 1943ء میں ایک تبلیغی دورہ کے دوران محترم گیانی عباداللہ صاحب اور مولوی عبدالمالک خان صاحب کے ساتھ مَیں ایک ایسے شہر میں پہنچا جہاں جنگ عظیم کی وجہ سے پٹرول کا ایک بہت بڑا سرکاری ذخیرہ رکھا گیا تھا۔ جب ہم اس شہر میں وارد ہوئے تو پولیس نے روک لیا اور نام پوچھے۔ میرا نام مسلمانوں والا اور ساتھ مہاشہ اور اسی طرح گیانی صاحب کا نام مسلمانوں والا اور ساتھ گیانی کا لقب دیکھ کر پولیس نے کہا کہ اسی وقت یہ شہر چھوڑ دو کیونکہ ہم تمہاری حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ اس پر ہم وہاں سے گجرات کاٹھیاواڑ آگئے اور ایک مسجد میں ورود کیا۔ امام مسجد کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم احمدی ہیں تو ہم کو مسجدسے نکل جانے کو کہا۔ ہم نکل کر وہاں کے راجہ صاحب کے محل پر پہنچے۔ جب اُن تک رسائی ہوئی اور ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے ہمیں سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا اور اپنی ایک کار ڈرائیور کے ساتھ ہمارے استعمال کے لیے دی۔ نیز شام کا کھانا اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ ہم اس کار میں سوار ہوکر شہر کی سیر کے لیے نکلے تو اس مسجد کی طرف بھی گئے جہاں سے ہمیں نکالا گیا تھا۔ مولوی صاحب سرکاری جھنڈے والی کار دیکھ کر بھاگتے ہوئے مسجد سے باہر آئے لیکن کار میں ہمیں دیکھ کر گھبراگئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ تو بلاوجہ چلے گئے، مَیں تو مذاق کررہا تھا، آپ جب تک چاہیں مسجد میں قیام کرسکتے ہیں۔ اس پر ہم نے کہا کہ مولانا! ہم یہاں قیام کرنے نہیں آئے، راجہ صاحب نے ہمیں کھانے کی دعوت دی ہے اور کیونکہ آپ نے ہمارے ساتھ بہت شفقت کا سلوک فرمایا تھا اس لیے ہم آپ کو بھی لینے آئے ہیں۔ اس پر وہ شرمندہ ہوئے اور ساتھ ہی اطمینان کا سانس لیا کہ ہم نے راجہ صاحب کے پاس اُن کی شکایت نہیں کی۔
٭ محترم ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1923ء میں آریہ قوم نے ہندوستان کے صوبہ یوپی میں بے خبر اور غریب مسلمانوں کو شدھ (مرتد ) کرنا شروع کردیا تھا اور تھوڑے سے عرصہ میں تیرہ ہزار مسلمانوں کو مرتد کر لیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے سینکڑوں آنریری مجاہد بیک وقت میدان شدھی میں بھیج دیے جنہوں نے چند ماہ میں اس کا نقشہ ہی بدل دیا اور ایک سال کے اندر اندر گیارہ ہزار مُرتد دوبارہ مسلمان بنالیے۔ خاکسار نے مستقل طور پر کئی سال اس میدان میں سادھو بن کر کام کیا۔ مہاشہ صاحب کو ابھی تھوڑا عرصہ ہی اسلام لا ئے ہوا تھا مگر آپ نے وہاں بڑے بڑے پنڈتوں سے کامیاب مناظرے کیے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب کیونکہ فاضل سنسکرت تھے اس لیے ہندوؤں سے مناظرہ میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ظہور احمد صاحب ’’کشمیر کی کہانی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ گھرکا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق ہندو مہاشہ کے مقابلہ پر مسلم مہاشہ پر نظر پڑی اور پنجاب سے مہاشہ محمد عمر نامی ایک مستعد فاضل سنسکرت مسلم مبلغ کو وہاں بھجوایا گیا۔ جس نے اس حوالہ اور جرأت سے ہندو مہاشوں کو للکار اور ہر مقام پر انہیں دلائل کے واروں سے ایسا عاجز کیا کہ انہیں یہ میدان چھوڑتے ہی بنی۔ ‘‘ (صفحہ30)
٭ محترم مہاشہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ شدّھی تحریک کے دوران ایک دن ہمارا وفد نگر یا جواہر پہنچا جہاں کے تمام مسلمان مُرتد ہوگئے تھے۔ گاؤں والوں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں سے نکل جائیں ورنہ جبراً نکال دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم وہاں سے رات گیارہ بجے کے قریب نکلے۔ راستہ دریائے گنگا کے کنارے کنارے تھا۔ رات اندھیری تھی جس کی وجہ سے کافی دِقّت ہوتی تھی۔ چوہدری وزیرمحمد صاحب آگے آگے چلتے اور پھر کھڑے ہوکر آواز دیتے کہ آجاؤ راستہ ٹھیک ہے تو ہم سب آگے چل دیتے۔ ایک مقام پر راستہ نہایت خطر ناک تھا کیونکہ وہاں پر ایک نالہ گنگا میں آکر گرتا تھا۔ اسی اثنا میں دریائے گنگا سے ایک چراغ نمودار ہوا جو بڑھتے بڑھتے اونچے منارے کے برابر ہوگیا اور ہمارے بالکل قریب آگیا جس کی وجہ سے ہم نے وہ خطر ناک راستہ آسانی کے ساتھ طے کرلیا۔ مَیں چونکہ نیا نیا مسلمان ہوا تھا اس لیے مَیں ڈر کر میاں محمد یامین صاحب مرحوم کے ساتھ چمٹ گیا کہ شاید کوئی بھوت چڑیل نہ ہو۔ میری گھبراہٹ کو دیکھ کر انہوں نے کہا: ’’میاں فکر نہ کرو یہ خدائی آگ ہے جو تمہاری راہنمائی کے لیے خدا تعالیٰ نے بھیجی ہے۔ ‘‘
یہ پہلا نشان تھا کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے صداقتِ اسلام کا دکھایا۔

محترم مہاشہ محمد عمر صاحب

٭ کشمیر کے مسلمانوں کی خدمت کی توفیق بھی آپ کو ملی۔ آپ کو حضورؓ نے خاص طور پر کشمیر بھجوایا تاکہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت دلائیں۔ آپ بتاتے تھے کہ ایک دفعہ ایک جلسہ میں مجھے تقریر کرنی تھی اور مجھے یقین نہیں تھا کہ زندہ بچ کر وہاں سے نکل آؤں گا۔ اس دن مَیں نے سرپر کفن باندھ کر تقریرکی۔ اورمحض اللہ تعالیٰ نے وہاں سے بچ کر نکل آنے کی راہ نکال دی۔
٭ محترم مہاشہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر میں گائے کا مارنا جرم تھا اور جو کوئی گائے کو ذبح کرتا حکومت کی طرف سے اس کو دس سال قید کی سزا تھی۔ چنانچہ انہی ایام میںایک گائوں میں بعض مسلمانوں نے ایک گائے کو ذبح کیا۔ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کی سزا کم کرکے تین سال کر دی۔ اس پر تمام ریاست میں خطرناک احتجاج شروع ہوگیا۔ ہندئوں نے گائے کی حرمت ثابت کرنے کے لیے ہندوستان کے بڑے بڑے وِدْوان پنڈتوں کو بلوایا اور مسلمانوں کو اخبارات اور اشتہارات کے ذریعے بحث کرنے کا چیلنج دیا کہ کیا ہندودھرم کی تعلیم کے مطابق گائے مارنا پاپ ہے یا نہیں۔ مکرم چوہدری عبدالواحد صاحب امیر جماعت کشمیر کی درخواست پر حضورؓ نے مجھے ہدایات دے کر وہاں بھیجا۔ میں نے جاتے ہی اخبار ’’اصلاح‘‘ سرینگر میں ہندوؤں کے چیلنج کو منظور کرتے ہوئے متواتر مضامین لکھے اور اپنے حوالوں کا جواب دینے پر ہزار روپیہ انعام مقرر کیا۔ اسی طرح اشتہارات میں مناظروں کا چیلنج دیا۔ اس پر حکومت اور ہندو اتنے گھبرائے کہ مہاراجہ کے پولیٹیکل سیکرٹری نے مکرم چوہدری صاحب اور خاکسار کو بلوایا اور کہا کہ اس وقت ریاست میں سخت بد امنی ہے۔ ہندو اور مسلمانوں کے جذبات ابھرے ہوئے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اس وقت آپ گائے کے کھانے پر مضامین نہ لکھیں۔ ہم ہندوؤں کو بھی منع کر دیں گے۔چوہدری صاحب نے فرمایاکہ چیلنج تو ہندوؤں نے دیا ہے۔ وہ اپنا چیلنج واپس لے کر معذرت کریں تو ہم بھی کچھ نہیں لکھیں گے۔ لیکن جب تک وہ اپنا چیلنج واپس نہیں لیں گے ہم اس مضمون پر لکھتے رہیں گے۔
آخر جب ہمارے بار بار ہندوؤں کو مناظرہ کے لیے بلانے کے ان کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ سامنے آتے تو تحریری طور پر انہوں نے لکھ کر دیا کہ بدامنی سے چونکہ حکومت بھی پریشان ہے اس لیے ہم نے حکومت کے مشورے سے چیلنج کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ہمارے لیے کٹھن اور بے عزتی ہے لیکن امن کی خاطر اس کو واپس لیتے ہیں۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ احمدی جماعت کو بھی پابند کرے کہ وہ آئندہ اس مضمون پر نہ تو اخبارات میں کچھ لکھے اور نہ ہی اشتہارات کے ذریعہ اس کی اشاعت کرے۔ چنانچہ پولیٹیکل سیکرٹری نے ہمیں بلاکر ہندوؤں کی یہ تحریر ہمارے سامنے رکھ کر کہا کہ انہوں نے اپنا چیلنج واپس لے لیا ہے۔
٭ محترم مہاشہ صاحب نے کئی سال جلسہ سالانہ کے مواقع پر تقاریر بھی کیں۔ نیز حکومت پاکستان کے کہنے پر ریڈیو پاکستان سے بلامعاوضہ متعدد تقاریر فرمائیں تاکہ اس پروپیگنڈا کا اثر زائل کیا جائے جو بھارتی ریڈیو آکاش وانی سے پاکستانی ہندوؤں کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
٭ آپ نے سندھ میں اچھوتوں میں تبلیغ اسلام کا کافی کام کیا۔ دل کی تکلیف کے باوجود سارے تھر کا دورہ اونٹوں پر بیٹھ کر کیا کرتے تھے ۔
٭ محترم مہاشہ صاحب اپنے وقت کے ایک عظیم الشان مناظر تھے۔ ہندوستان کے طول و عرض میں کوئی ہندو عالم یا پنڈت ایسا نہیں تھا جو آپ کے مقابل پر آنے کی جرأت کرتا۔ ہندی اور سنسکرت کے علاوہ عربی اور قرآن کریم کے علم نے ان کو دودھاری تلوار بنا دیا تھا۔ آپ توکّل کے اعلیٰ مقام پر بھی فائز تھے۔ چنانچہ ایک بار آپ کا مناظرہ کسی غیراحمدی عالم سے تھا۔ دوران مناظرہ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو سچا سمجھ کر مامور زمانہ مانا ہے۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ آپ حلف اٹھائیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں پورے شرح صدر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو سچا سمجھ کر ماناہے۔ اگر نعوذباللہ آپؑ جھوٹے ہیں تو اس کا عذاب اللہ تعالیٰ مجھ پر اور میری اولاد پر نازل فرمائے۔ اور ساتھ ہی مولوی صاحب کو چیلنج کیا کہ آپ کے ایمان کے مطابق حضرت مرزا صاحب جھوٹے ہیں اور اپنے دعویٔ نبوت میں سچے نہیں۔ آپ یہ حلف اٹھائیں کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو آپ پر اور آپ کی اولاد پر عذاب نازل ہو۔ مولوی صاحب کی بیوی بھی سامعین میں شامل تھی۔ اس نے فورًا اپنے شوہر کو پیغام بھجوایا کہ خبر دار میری اور میرے بچوں کی قسم نہ کھانا۔
٭ ایک مناظرہ ہندو آریہ مت کے ایک پنڈت سے مسئلہ نیوگ پر ہورہا تھا ۔ پنڈت صاحب نیوگ کے حق میں دلائل دے رہے تھے اور اس کے فوائد گنوا رہے تھے۔ جب مکرم مہاشہ صاحب کی باری آئی تو آپ نے پنڈت صاحب سے کہا کہ آپ کے دلائل اپنی جگہ، مَیں آپ کی بات پر تب یقین کروں گا جب ان عورتوں میں سے کوئی ایک اُٹھ کر یہ کہہ دے کہ وہ نیوگ کرواتی رہی ہے۔ اس وقت پنڈال میں درجنوں عورتیں موجود تھیں۔ آپ کی بات سن کر عورتیں وہاں سے اٹھ کر بھاگیں اور چند منٹ کے اندر پنڈال عورتوں سے خالی ہوگیا۔
٭ ایک بار محترم مہاشہ صاحب اور محترم گیانی واحد حسین صاحب کا سکھوں کے ساتھ مناظرہ ہوا تو سکھ مناظر نے کوئی جھوٹا حوالہ پڑھ دیا۔ آپ کے پوچھنے پر گیانی صاحب نے بتایاکہ ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ اس پر آپ نے بھی خود ہی ایک تحریر بنائی اور جواب میں پڑھ دی جسے سن کر سکھ حضرات بہت تلملائے اور آپ سے حوالہ مانگا۔ آپ نے جواباً کہا کہ جس صفحے پر آپ والا حوالہ لکھا ہوا ہے اُس سے اگلے صفحے پر یہ حوالہ موجود ہے۔ اس پر سکھ مناظر نے سٹیج پر آکر اپنی بددیانتی کا اقرار کیا۔ جس پر سکھ شرفاء نے اُس پر بہت طعن کیا۔
٭ اکتوبر 1938ء میں بدو ملہی میں آریہ سماج کے پنڈت رام چندر دھوری کے ساتھ مکرم مہاشہ صاحب کامناظر ہوا۔ آپ نے اپنی تقریر میں ایک حوالہ پیش کیا لیکن یہ کتاب آپ کے پاس نہیں تھی۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ پنڈت رام چندر اس حوالہ کے دکھانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ آخر ان کو معلوم ہو گیا کہ اصل کتاب ان کے پاس نہیں ہے۔ اس اثنا میں ایک شخص سیٹھ ہاڑی مل میز پر کھڑا ہو کر زور زور سے بولنے لگا اور مطالبہ کیا کہ یہ حوالہ دکھادو تو میں مع اپنے خاندان کے مسلمان ہو جاؤ ں گا اور پچاس ہزار کی جائیدا د بھی دے دوں گا۔ اس کے اس مطالبہ سے عوام میں ایک ہیجان سا پیدا ہو گیا اور خود احمدی بھی اس سے بہت بری طرح متاثر ہوئے۔ حضرت مولوی راجیکی صاحب میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ فرمانے لگے: کیا بات ہے؟ مَیں نے عرض کیا حوالہ تو درست ہے لیکن میرے پاس کتاب موجود نہیں۔ اس پر آپؓ وضو کر کے نماز کے لیے تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ! تُو نے مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہاماً فرمایا ہے کہ

انی معین من اراد اعانتک وانی مھین من اراد اھانتک،

اس وقت تیرے مسیح کی اہانت ہورہی ہے۔ اسی وقت محترم مولوی غلام مصطفی صاحب مرحوم میرے پاس آئے اور کہا کہ کون سی کتاب ہے، شاید ہمارے گھر ہو۔ مَیں نے غصہ میں کہا کہ آپ کے پاس وہ کتاب کیسے ہو سکتی ہے؟ لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ آپ کتاب کا نام لیں۔ مَیں نے جب کتاب کا نام لیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر میں ایک بہت بڑی کتاب ہے شاید وہ ہو۔ وہ دوڑ کر لائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہی کتاب تھی اور حوالہ موجود تھا۔ میں کتاب کو لے کر میز پر چڑھ گیا اور سیٹھ ہاڑی مل سے کہا کہ اب چوٹی کٹوانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ پھر مَیں نے جب اونچی آواز سے وہ حوالہ پڑھا تو مجمع میں سناٹا چھاگیا اور آریہ سماجی پنڈت مع سیٹھ ہاڑی مل اور دیگر ہندو بھاگ گئے۔ مسلمانوں نے خوشی میں ڈھول لے کر تمام گائوں میں اعلان کیا کہ سیٹھ ہاڑی مل مسلمان ہو گیا، اب وہ مسجد میں آکر کلمہ پڑھے۔ لیکن سیٹھ ہاڑی مل ایک ہفتہ تک اپنے گھر سے باہر نہیں نکلا اور اسی دوران میں وہ مر گیا۔
٭ مکرم مہاشہ صاحب بیان فرماتے ہیںکہ جون 1939ء میں آریہ سماج دہلی نے اپنی گولڈن جوبلی منائی اور تمام مذاہب کے علماء کو آریہ سماج کے سٹیج پر آکر اختلافی مسائل پر بات چیت کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ اہل حدیث کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری پیش ہوئے اور آریہ سماج کی طرف سے پنڈت دھرم بھکشو صاحب پیش ہوئے۔ جس مسئلہ پر گفتگو ہونی قرار پائی وہ ’’حدوث روح ومادہ‘‘تھا۔ آریہ سماج کا یہ عقیدہ ہے کہ روح و مادہ قدیم ہیں جو ازل سے چلے آتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کا خالق نہیں ہے۔ حالانکہ اسلام کی رُو سے یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کر دہ ہیں۔
دوران مناظرہ دھرم بھکشو صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط طریقے پر پڑھا تو مولوی صاحب نے فورًا اس پر استہزاء کرتے ہوئے ٹوکا کہ آریہ سماج کے مشہور ترین مناظر کو عربی کی آیت صحیح نہیں پڑھنی آتی۔ اس پر پنڈت جی نے کہاکہ بیشک میں عربی کے الفاظ غلط پڑھتا ہوں مگر پڑھ ضرور لیتا ہوں۔ لیکن آپ تو ہندی زبان کا ایک لفظ غلط بھی نہیں پڑھ سکتے۔ میں کتاب پر نشان لگا کر دیتا ہوں آپ اس کو پڑھ دیں اور یہ دس روپے انعام لے لیں ۔ ساتھ ہی پنڈت جی نے دس روپے کا نوٹ نکال کر رکھ دیا۔ اس پر مجمع میں سناٹا چھا گیا۔ مولوی صاحب اس چیلنج کومنظور نہ کرسکے اور اسی حال میں مناظرہ تتر بتر ہو گیا۔ مسلمانوں کا شرم سے برا حال تھا۔
اسی دن شام کو مسلمانوں کا ایک وفد بابو نذیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ دہلی کے پاس گیا اور درخواست کی کہ ہندو مناظر سے مناظرہ کرنے کے لیے جماعت احمدیہ اپنا کوئی مناظر بھیجے۔ جماعت احمدیہ نے پنڈت جی سے مناظرہ کرنے کے لیے مجھے بھیجا۔ مہاشہ فضل حسین صاحب میرے معاون تھے۔ اگلے روز مناظرہ ہونا قرار پایا اور گفتگو کا موضوع ’’کیا وید کامل الہامی کتاب ہے یا قرآن شریف ‘‘ مقرر کیا گیا۔ دوران مناظرہ میں نے وید کی رُو سے خدا تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے دو منتر پیش کیے۔ ایک منتر کی رُو سے خدا تعالیٰ کھانے پینے والی ہستی ثابت کی گئی ہے اور دوسرے منتر میں یہ پرارتھنا تھی کہ ’خدا ہماری چیزیں مت چرا اور مت چروا‘۔ اس پر دھرم بھکشو نے یہ چیلنج کیا کہ اس منتر کے یہ معنی نہیں ہیں بلکہ اس منتر سے خدا تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ ہمارے سامان کی حفاظت کرے۔ جب میری باری آئی تو میں نے جان بوجھ کر اس مسئلہ کے متعلق خاموشی اختیار کی۔ پنڈت جی نے سمجھا کہ مجھ سے کوئی جواب نہیں بن آیا لہٰذا وہ شیر ہو گئے اور نہایت زور دار آواز میں للکارتے ہوئے کہا کہ مرزائی مبلغ نے نہایت کذب و افترا اور دیدہ دلیری سے کام لیا ہے۔ اگر یہ ثابت کر دے کہ ان منتروں کے معانی وہی ہیں جو اس نے بیان کیے ہیں تو میں ابھی اپنی چوٹی کٹوا دوں گایعنی میں اپنی ہار مان لوں گا ۔ اور اگر وہ یہ ثابت نہ کرسکے تو وہ آریہ سماجی ہوجائیں۔ مَیں نے اس بات کے جواب میں کہا کہ اصولاً یہ بات صحیح نہیں کہ اگر میں یہ بات ثابت نہ کر سکوں تو اپنے مذہب کا جھوٹا ہونا تسلیم کرلوں اور غیر مذہب میں شامل ہوجاؤں۔ یہ میری غلطی ہوگی نہ کہ اسلام کی۔ لیکن میں نے جو کہا ہے وہ صحیح ہے اور میں پنڈت بھکشو رام کا چیلنج بخوشی منظور کرتا ہوں۔ اور اگر میں ثابت نہ کر سکا تو میں لکھ کر دے دوں گا کہ میں پنڈت جی سے ہار گیا اور آئندہ کبھی ان سے مناظرہ نہیں کروں گا۔ پھر میں نے حضرت مسیح موعودؑ کا یہ شعر پڑھا

جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبۂ زارونزار

پھر میں نے منتروں کے معانی لغت اور سوامی دیانند کے اپنے کیے ہوئے معانی کی رُو سے ثابت کیے اور زور سے پکارا کہ ہے کوئی نائی جو پنڈت جی کی چوٹی کاٹے!۔ اس پر تمام مسلمان مارے خوشی کے اٹھ کھڑے ہوئے اور آریہ سماج سٹیج کی طرف بڑھے تاکہ پنڈت جی کو پکڑ کر ان کی چوٹی کاٹ ڈالیں۔ مگر فوراً پولیس کے ایک جتھے نے آکر پنڈت جی کو سنبھال لیا اور محفوظ جگہ پر پہنچا دیا۔ مسلمانوں نے خوب نعرے لگائے اور فضا اسلام زندہ باد، نعرہ ہائے تکبیر اور مہاشہ محمد عمر زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ۔
٭ مکرم مہاشہ صاحب فرماتے ہیں: 1942ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشاد کے ماتحت خاکسار حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکیؓ کے ساتھ ہندوستان کے دورہ پر گیا۔ ہمارا وفدجب جگن ناتھ پوری پہنچا تو وہاں کے مہنت نے خواہش ظاہر کی کہ ُان کے مندر میں جلسہ ہو اور اس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ چنانچہ جلسہ کا تمام انتظام خود مہنت جی نے کیا اور خود جلسہ کی صدارت کی ۔ جب جلسہ شروع ہوا اور مہنت جی مہاراج کرسی صدارت پر آکر بیٹھ گئے تو ایک گہرا بادل آناً فاناً آسمان پر چھا گیا اور بڑی بڑی موٹی بوندیں گرنی شروع ہوگئیں۔ لوگ جو کئی ہزار تھے، اٹھنے شروع ہوگئے۔ مہنت جی نے اُٹھنے سے منع فرمایا۔ ادھر حضرت مولانا راجیکی صاحب ؓ زور زور سے کچھ پڑھنے لگے جس کی وجہ سے مجھے تکلیف ہورہی تھی کہ ایک تو لوگ جلسہ گاہ سے اٹھ رہے تھے اور دوسری طرف حضرت مولوی صاحب نے اپنا جلسہ شروع کیا ہے۔ آخر چندمنٹ کے بعد بادل ہٹ گئے اور مولوی صاحب بھی خاموش ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلسہ بہت ہی کامیاب رہا۔ جلسہ کے اختتام پر مَیں نے حضرت مولوی راجیکی صاحب سے عرض کیا کہ آپ اونچی اونچی کیا لیکچر دے رہے تھے؟ فرما نے لگے کہ جب جلسہ شروع ہوا تو مَیں نے دیکھا کہ فرشتے بادلوں کو اٹھا کر لارہے ہیں۔ تو مَیں نے ان سے کہا کہ یہ احراریوں والا کام کب سے تم نے شروع کیا ہے کہ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جلسہ ہو اور تم اس کو خراب کرو۔ تم یا تو رُک جاؤ ورنہ میں ابھی اللہ تعالیٰ سے تمہاری شکایت کروں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کر م سے فرشتے فوری طورپر بادلوں کو دُور لے گئے اور اس زبردست نشان کا نہ صرف عوام پر بلکہ مہنت صاحب پر بھی بہت اثر ہوا۔ اور میرے لیے یہ ایمان میں زیادتی کا باعث ہوا۔
٭ ایک بار خاکسار تبلیغی دورہ پر جالندھر چھاؤنی گیا اور صدر جماعت محترم بابوفضل دین صاحب اوور سیئر کے ہاں مقیم ہوا کہ تین آدمی وہاں آئے جن میں سے ایک رو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس آدمی کا لڑکا علاولپور میں پولیٹیکل کلرک ہے اور وہ آریہ سماجی ہورہا ہے۔ علاولپور کے کسی عالم کو پنڈت سے مناظرہ کی جرأت نہیں ہوئی۔ جبکہ امرتسر کا ایک مولوی اتنے پیسے مانگتا ہے کہ مَیں اپنا گھر بیچ کر بھی ادا نہیں کر سکتا۔ ان کی یہ دردناک داستان سن کر بابو صاحب نے اُن کو فرمایا ہم چلتے ہیں، اپنا کرایہ دیں گے، اپنا کھانا کھائیں گے اور آپ کا بھی جانے کا کرایہ ہمارے ہی ذمہ ہے۔ پھر ہم چار بجے کے قریب علاولپور پہنچے تو دیکھا کہ آریہ سماج میں پنڈت رام چندر دھوری تقریر کر رہے ہیں اور وہ لڑکا ان کے پاس کرسی پر بیٹھا ہے۔ پنڈت جی نے لیکچر ختم کر دیا تو اُس لڑکے نے اُٹھ کر کہا کہ مجھے اسلام کے بارے میں یہ یہ اعتراض ہیں۔ اگر کوئی مسلمان مولوی میری تسلی کردے تو اچھا ہے ورنہ میں آریہ سماجی ہو جاؤں گا۔ اس پر مجمع میں کئی منٹ تک برابر سکون رہا۔ جلسہ میں علاوہ اَور علماء کے مولوی محمد علی صاحب جالندھری بھی موجود تھے۔ آخر خاکسار کھڑا ہوااور پنڈت جی سے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ آج کا دن تو ہم نے مسلمانوں کے لیے رکھا ہے، آپ کو کل وقت دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ وہ بولے کہ دوسرے مسلمان آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ میں نے کہا آپ اپنے آپ کو آریہ سما جی کہتے ہیں حالانکہ گوروکل پارٹی آپ کو غیرآریہ سمجھتی ہے لیکن میرا کوئی حق نہیں کہ میں آپ کو غیر آریہ سماجی سمجھوں۔ پھر مَیں نے اونچی آواز سے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ ہمیں خوشی ہوگی اگر آپ تمام مسلمانوں کی طرف سے آریہ سماج کے مناظر سے گفتگو کریں۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ مقابلہ کفر اور اسلام کا ہے، اسلام کی طرف سے مہاشہ محمد عمر صاحب پیش ہوں گے جو کہ مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔ آخر میں نے پنڈت جی کے ساتھ مناظرہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُس نوجوان نے اعلان کیا کہ میرے شکوک رفع ہوگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کے ایک بہت بڑے مجمع نے جلوس نکالا۔
٭ 1924ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکے ارشاد پر جب ہمارا وفد دورہ کرتے ہوئے نیپال کی سرحد پر واقع مولوی فضل محمود صاحب (کراچی والے )کے گاؤں پہنچا تو وہاں کے مسلمان اکٹھے ہو کر ایک مولوی صاحب کی معیت میں ہم سے گفتگو کرنے کے لیے آئے۔ یہ مولوی صاحب د شنام طرازی میں حد سے بڑھے ہوئے تھے اور گندے اعتراضات کرنے لگے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ ہمارے خلاف بھڑک اٹھے۔ دوسرے دن پھر مسلمانوں کا ایک جم غفیر اسی مولوی صاحب کی معیت میں پہنچا اور مولوی صاحب نے ہمارے قریب آکر حضرت مسیح موعودؑ کو گندی گالیاں دیتے ہوئے اعتراضات کرنے شروع کر دیے۔ اس پر میرا دل خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھک گیا اور میں نے خداتعالیٰ سے نشان مانگا۔ یہ مولوی صاحب شدت جذبات میں آکر اپنا بازو فضا میں لہراتے تھے۔ جونہی انہوں نے اپنا بازو اٹھایا تو آستین اوپر چڑھ گئی اور جو حصہ ننگا ہوا وہاں ہندی میں ’’دھرم سیوک‘‘ کنند ہ تھا۔ میری نظر فورًا اس پر پڑی اور مجھے یاد آگیا کہ اس شخص ’’دھرم سیوک‘‘ نامی سے میرا مناظرہ چند سال پہلے گجرات میں ہوچکا ہے ۔ یہ شخص مسلمان تھالیکن بعد میں مرتد ہو کر آریہ سماجی بن گیا تھا۔ مَیں نے مسلمانوں کو کہا کہ یہ شخص جو آج اسلام کا ہمدرد بنا پھرتا ہے مُرتد ہو گیا تھا اور کہ اس نے میرے ساتھ مناظرہ کے دوران آنحضرت ﷺ کو گندی گالیاں دی تھیں۔ یہ سننا تھا کہ مسلمانوں میں ایک ہیجان برپا ہوگیا اور وہ اُلٹا اسی کو گالیاں دینے لگے اور قریب تھا کہ وہ اسے جسمانی ایذا پہنچاتے مگر ہم نے مداخلت کی اور کہا کہ اگرچہ وہ مُرتد ہو گیا تھا لیکن چونکہ اب وہ پھر مسلمان ہوگیا ہے اس لیے ہمارا بھائی ہے ۔ لیکن اس پر بھی فرض ہے کہ وہ اسلامی اخلاق و آداب کا لحاظ رکھے اور جھوٹے الزام نہ لگائے۔ اس طرح ہم محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس شر سے محفوظ رہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

حضرت مہاشہ محمد عمر صاحب مرحوم (سابق یوگندر پال)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X