حضرت میاں محمد صدیق صاحب بانی آف کلکتہ

حضرت میاں محمد صدیق صاحب بانی آف کلکتہ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے محترم سید نور عالم صاحب امیر جماعت احمدیہ کلکتہ لکھتے ہیں کہ 1964ء کے ہندو مسلم فسادات کے دنوں میں جب احمدیوں کا باہمی رابطہ عملاً منقطع ہوچکا تھا تو بانی صاحب اپنے تینوں بیٹوں میں سے دو کو باری باری کرفیو کے وقفہ کے دوران مسجد بھجوا کر محصور احمدیوں کی خیریت دریافت فرمایا کرتے تھے۔ اس دوران سو افراد پر مشتمل پناہ گزینوں کا ایک قافلہ آپ کے گھر میں مقیم رہا جن کے خور و نوش کا انتظام خود حضرت بانی صاحب ہی فرماتے رہے۔
ایک بار مسجد اقصیٰ قادیان کی تعمیر پر کثیر اخراجات سے متعلق آپ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’’جب بھی میں کسی نیک کام میں حصہ لینے کا ارادہ کرتا ہوں تو اپنے اہل و عیال کو بھی مشورے میں شامل کر لیتا ہوں، وہ سب اس فیصلے پر راضی ہیں‘‘۔ پھر آپ نے نیک بیوی اور نیک اولاد کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا ذکر فرمایا اور کہا ’’حضرت مصلح موعودؓ کا احسان ہے کہ حضورؓ نے میری پیشکش قبول فرمائی‘‘۔
ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ سابق ناظر اعلیٰ و امیر قادیان نے مضمون نگار سے فرمایا ’’مینارۃ المسیح قابل مرمت ہے اور اس پر خرچ کثیر ہے، بانی صاحب سے کہنے میں مجھے تامل ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی بہت سی مالی قربانیاں کی ہوئی ہیں ، اس لئے آپ بانی صاحب کو تحریک کریں‘‘۔ جب بانی صاحب سے اس بارہ میں بات کی گئی تو آپ نے بلاتوقف مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’انشاء اللہ تعالیٰ اسکے تمام اخراجات میں خود ادا کروں گا‘‘۔ چنانچہ آپ نے ایک معین رقم بھی مرکز میں جمع کروادی۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ماہ دسمبر میں جب وہ بانی صاحب کے گھر گئے تو ہر طرف پارچات کے بنڈل بکھرے ہوئے تھے اور بانی صاحب خود زمین پر بیٹھے کپڑے چیک کر رہے تھے۔ استفسار پر فرمایا کہ دو ماہ سے قادیان کی بچیوں کے لئے میری بیوی، بہوئیں اور بیٹی کپڑے سی رہی ہیں اور میں پیکنگ کر رہا ہوں۔ … بانی صاحب ہر سال جلسہ پر درویشان کے لئے کافی سامان لے جایا کرتے تھے۔ آپ کی سیرت کے بارے میں یہ مختصر مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ 22؍اگست 1995ء کی زینت ہے۔
۔ … ٭ … ٭ … ٭ … ۔
مکرم شیخ عبدالحمید عاجز صاحب روزنامہ ’’الفضل‘‘ یکم نومبر 1995ء میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور میں ستمبر 1962ء میں درویش فنڈ کی انفرادی تحریک کے لئے کلکتہ گئے۔ اس فنڈ میں محترم بانی صاحب نے نصف لاکھ کا وعدہ پیش کیا اور جلد ہی ادائیگی کرکے بیان فرمایا کہ ’’میں جلد ادائیگی کے لئے اللہ سے دعا کرتا رہا کہ ایک روز ایک بروکر کا فون آیا کہ فلاں کمپنی کے حصص کی قیمت بڑھ گئی ہے اگر آپ فروخت کریں گے تو چالیس ہزار منافع آئے گا، میں نے خیال کیا کہ میرا وعدہ تو پچاس ہزار کا ہے چنانچہ انکار کردیا۔ چند دن بعد اس نے دوبارہ فون کیا کہ قیمت مزید بڑھ گئی ہے اور اب منافع پچاس ہزار آتا ہے چنانچہ وہ حصص فروخت کرکے منافع اس فنڈ میں پیش کردیا ہے‘‘۔
۔ … ٭ … ٭ … ٭ … ۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ 30؍ اکتوبر و 4؍نومبر1995ء میں حضرت سیٹھ صاحب کی شاندار مالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے صاحبزادے مکرم میاں منیر احمد بانی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت بانی صاحب کا دستور تھا کہ جب بھی کوئی نئی مالی تحریک ہوتی تو گھرانہ کے سارے افراد کو اکٹھا کرلیتے اور باہمی مشورہ سے سب کو شامل کرکے زیادہ سے زیادہ رقم خدمت سلسلہ میں پیش فرماتے۔ تحریک جدید اور وقف جدید کا وعدہ نئے سال کا اعلان ہوتے ہی بذریعہ تار بھجوا دیتے اور بہت جلد ادائیگی بھی کر دیتے تھے۔
تقسیم ملک کے بعد محلہ احمدیہ قادیان کو حکومت ہند نے متروکہ جائیداد قرار دے کر صدر انجمن احمدیہ سے 7 لاکھ روپے سے زائد رقم کا مطالبہ کردیا جس کی ادائیگی انجمن کے بس کی بات نہ تھی چنانچہ خطرہ تھا کہ حکومت اس کو نیلام نہ کردے۔ حضرت سیٹھ صاحب یہ جان کر ازحد مغموم ہوئے اور ارادہ کرلیا کہ اس رقم کی ادائیگی کے لئے اپنی ساری املاک فروخت کردیں گے اور جماعت پر ایسا تکلیف دہ وقت نہ آنے دیں گے، لیکن خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور حکومت اپنا مطالبہ کم کرکے تین اقساط میں اڑھائی لاکھ روپے لینے پر رضامند ہوگئی۔ تب آپ نے حصول ثواب کی خاطر بہشتی مقبرہ اور اس سے ملحقہ جائیداد کی کل قیمت ادا کردی۔
تقسیم ملک سے قبل حضرت مصلح موعودؓ نے سات زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کروانے کی تحریک فرمائی تو آپ نے ڈینش زبان میں ترجمہ کے اخراجات ادا کردیئے۔ بعد ازاں ہندی اور گرومکھی میں ترجمہ کے لئے بھی رقوم قادیان بھجوادیں۔
حضرت سیٹھ صاحب کو درویشان اور دیگر مخلصین کی خدمت کی بھی خاص توفیق ملی۔ ایک مخلص اور مخیر دوست جب انقلاباتِ زمانہ کے باعث مصائب میں مبتلا ہوگئے تو حضرت سیٹھ صاحب نے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ کی تحریک پر ان سے دریافت کیا کہ انہیں کتنی مالی اعانت درکار ہے؟انہوں نے کچھ ہزار قرضہ حسنہ مانگا جو آپ نے ادا کرکے رسید لے لی۔ کافی عرصہ بعد ان کا ایک خط سیٹھ صاحب کو موصول ہوا کہ قرضہ حسنہ کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی اس لئے معاف کردیں۔ اس پر حضرت سیٹھ صاحب پر رقّت طاری ہوگئی اور ان صاحب کی قربانیاں یاد کرکے آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور جس فراخدلی سے آپ نے قرض حسنہ کی رقم دی تھی اسی وسعت قلبی کے ساتھ معاہدہ کی رسید نکال کر اس دوست کو بھجوادی۔
مربی سلسلہ محترم عبدالحق صاحب نے ایک بار بہار کا دورہ کرنے کے بعد اخبار میں ایک مضمون لکھا کہ قحط کی وبا کی وجہ سے بعض دوست امداد کے مستحق ہیں۔ یہ پڑھتے ہی حضرت سیٹھ صاحب نے ان احباب کے کوائف منگوائے اور امدادی سامان اور نقد رقم بھجوانے کا انتظام کیا اور مربی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’میرا تو ایمان ہے کہ ان غرباء کا میرے مال میں حصہ ہے، جب میرا یہ عقیدہ نہیں رہے گا تو خدا مجھے اس قدر مال دے گا بھی نہیں‘‘۔… حضرت سیٹھ صاحب سردیوں کی ایک صبح سیر سے واپس آئے تو بہت دکھی تھے کہ بے شمار مخلوق کھلے آسمان تلے پڑی ہے۔ اسی روز آپ نے درمیانہ درجہ کے کمبل خریدے اور اگلی صبح مونہہ اندھیرے رازداری کے ساتھ سوئے ہوئے لوگوں پر کمبل ڈالتے چلے گئے۔ خدمت خلق کے اخراجات کے لئے آپ نے اپنی ضروریات کو بہت سادہ کر رکھا تھا۔ آپ نے تعلیم الاسلام کالج کے لئے خطیر امداد دی، مسجد مبارک قادیان میں لاؤڈ سپیکر اور حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کو محفوظ کرنے کے لئے ٹیپ ریکارڈر خریدا، بیت البرکات اور مسجد فضل میں پنکھوں کا انتظام کیا، بہشتی مقبرہ کے لئے بجلی کا خرچ، درویش احباب کے لئے وین اور کار کی خرید، ربوہ میں ہسپتال کے کئی کمروں کی تعمیر اور ایمبولینس کی خرید، مسجد کے لئے چنیوٹ میں زمین کی خرید و تعمیر اور کلکتہ کی مسجد کے لئے نمایاں قربانی پیش کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں