حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحب رضی اللہ عنہ

تعارف کتاب۔ فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جولائی اگست 2014ء)

جو دلچسپ کتاب آج ہمارے پیش نظر ہے اس کے بارہ میں کچھ عرض کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ جیسی نابغۂ روزگار ہستی کی سیرت کا احوال اس میں شامل ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ آپؓ کی زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا جب آپؓ کا ہاتھ حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک میں اطاعت و غلامی کا اقرار کرنے کی سعادت حاصل کررہا تھا۔ پس یہی وہ شرف تھا کہ عاجزی کے اِس پیکر کو خلافتِ احمدیہ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی طور پر ایسے عظیم الشان مناصب عطا فرمائے جن کے ذریعے نہ صرف بین الاقوامی اور قومی سطح پر بلکہ انفرادی حیثیت میں بھی آپؓ کو بنی نوع انسان کے لئے غیرمعمولی خدمات بجالانے کی توفیق عطا ہوئی۔ اور انہی خدمات کی وجہ سے آپؓ کا اسم گرامی تاریخ احمدیت میں ہی نہیں بلکہ تاریخ انسانیت میں بھی ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ پس جہاں یہ کتاب جماعت احمدیہ کے اِس قابل فخر سپوت کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے وہاں اس کی اشاعت کا بنیادی مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ غور طلب ارشاد بھی ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں ان لوگوں کے واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یازہد و تقویٰ یا علم و معرفت یا تائید دین یا ہمدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولوالعزم لوگوں کے حالات معلوم کرکے اس شوکت اور شان کے قائل ہو جائیں جو اسلام کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے تا اس کو حمایتِ قوم میں مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کرسکیں‘‘۔
یقینا حضرت چودھری صاحبؓ کی مبارک حیات کے بے شمار زاویے ایسے ہیں جو احمدیت کی صداقت کا بیّن ثبوت ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس خوبی کا اظہار زیرنظر کتاب کے ہر صفحہ سے عیاں ہوتا ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ کی عظیم المرتبت شخصیت، غیرمعمولی خدمات اور ارفع مقام پر اگرچہ بے شمار مضامین اور کتب شائع ہوچکی ہیں تاہم محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب کا اسم گرامی اگر کسی کتاب یا مضمون کے محرّر کے طور پر نظر آئے تو مطالعہ کا شوق رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی تحریر کو نظرانداز کرکے آگے گزر جانا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔ محترم خانصاحب کا انداز بیان سادہ اور بے تکلّفانہ ہونے کے باوجود تحریر اتنی پختہ، دلچسپ نیز افادیت اور تصویرکشی سے بھرپور ہوتی ہے کہ قاری ہر ہر سطر پر لکھاری کے ساتھ اُن نظاروں کے سحر میں کھوتا چلا جاتا ہے جو قرطاس پر دیدۂ زیب رنگوں میں بکھرے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے گویا حضرت چودھری صاحبؓ کی صالح صحبت اور پاکیزہ قربت کا لطف بخوبی اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس کتاب کا مطالعہ جہاں ایک عظیم شخصیت کی سیرت کا مطالعہ ہے وہاں تاریخ کے ایک بھرپور دَور کا ادراک بھی ہے اور اعلیٰ اخلاق کا ایسا جامع اظہار بھی ہے جسے ہر احمدی کو اپنی زندگی میں جاری کرنا چاہئے۔
مذکورہ کتاب کی اہمیت و افادیت اس لحاظ سے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ محترم خان صاحب اور آپ کی فیملی کو ایک لمبا عرصہ حضرت چودھری صاحبؓ کی خدمت کی سعادت عطا ہوئی اور اس طرح آپ پر حضرت چودھری صاحبؓ کی وہ خوبیاں بھی آشکار ہوئیں جنہیں انکساری اور عاجزی کا وہ پیکر شاید کبھی بھی ظاہر ہونے نہ دیتا۔ بلاشبہ یہ شاندار قلمی و ادبی کاوش محترم خانصاحب کے گہرے مشاہدات اور بعد ازاں آپ کے منفرد اندازِ بیان کی ہی مرہون منت ہے جس نے منظر عام پر آکر افادۂ عام کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پس یہ دونوں وجود ہی ہماری دعاؤں اور شکریہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
A5 سائز کے ڈیڑھ صد سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب پہلی بار اپریل1987ء میں ربوہ سے شائع کی گئی تھی جسے حکومت پاکستان نے (از راہ تعصّب) ضبط کرلیا۔ پھر اس کا دوسرا ایڈیشن لندن سے شائع کیا گیا اور تیسرا ایڈیشن چند اضافوں کے ساتھ طباعت کے لئے تیاری کے مراحل میں ہے۔ کتاب کا سرورق حضرت چودھری صاحبؓ کی تصویر سے مزیّن ہے۔ کتاب کے آغاز میں آپؓ کا تفصیلی سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے جو دراصل شاندار قابلیت کے حامل اس بابرکت وجود کی عظیم الشان ترقیات اور بعض اقوامِ عالم اور
بین الاقوامی اداروں کی طرف سے آپؓ کی خدمات کے اعتراف میں پیش کئے جانے والے اعزازات کا مختصر بیان ہے۔ پھر مشاہدات کی روشنی میں آپؓ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا دلنشیں انداز میں بیان ہے۔ چند اہم تاریخی تصاویر کے علاوہ کتاب کے آخر میں حضرت چودھری صاحبؓ کے 27؍ ایسے منتخب خطوط بھی شامل ہیں اور ان سے بھی آپؓ کی سیرت کے کئی پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ پس یہ کتاب تربیتی ہی نہیں بلکہ تبلیغی نکتہ نظر سے بھی پڑھے جانے کے لائق ہے۔
اس کتاب میں شامل چند واقعات ذیل میں اپنے قارئین کی نذر ہیں جو اس کتاب کا مکمل مطالعہ کرنے کیلئے آپ کی تشنگی کے احساس میں اضافہ کردیں گے۔
* محترم بشیر رفیق خانصاحب رقمطراز ہیں کہ مَیں گاڑی چلا رہا تھا۔ حضرت چوہدری ظفر اللہ خانصاحبؓ میرے ساتھ اگلی سیٹ پر تشریف فرما تھے۔ آپؓ کی عادت تھی کہ ڈرائیور کو کار چلانے کے سلسلہ میںنہ تو کو ئی مشورہ دیتے اور نہ ہی ٹوکتے۔ ایک کار میرے آگے جا رہی تھی۔ میں نے تین چار مرتبہ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن جونہی میںاس کار سے آگے نکلنے کیلئے اپنی رفتار تیز کرتا اس کار کا ڈرائیور بھی اپنی رفتار تیز کر کے مجھے آگے نکلنے سے روک دیتا۔ یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہا حتّٰی کہ وہ کار ایک طرف کو مْڑ گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ جب تک وہ کار نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی، حضرت چوہدری صاحبؓ کی نظریں مسلسل اُس کا تعاقب کرتی رہیں۔ پھر آپؓ فرمانے لگے:امام صاحب! جب تک آپ اس کار سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے رہے میں یہ دعا کرتا رہا کہ آپ اس سے آگے نہ نکل سکیں۔ اُس کار کی نمبر پلیٹ پر ALHکے الفاظ نمایاں تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ الفاظ اللہ (ALLAH)کا مخفف ہیں۔ میرے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایسی کار جس کی نمبر پلیٹ پر ایسے الفاظ درج ہوں آپ اس کار سے آگے نکل جائیں۔ چنانچہ میں یہی دعا کرتا رہا کہ آپ اس کار سے آگے نہ نکل سکیں۔
* 1964ء میں خاکسار امام مسجد فضل لندن مقرر کیا گیاتو حضرت چوہدری صاحبؓ سے تعلق بہت بڑھ گیا۔ جب آپؓ لندن تشریف لاتے تو میرے ہاں قیام فرما ہوتے۔ پھر ریٹائرمنٹ کے بعد آپؓ نے اپنی باقی ماندہ زندگی کاملاً خدمت دین کیلئے وقف کر دی اور لندن مشن کی عمارت کے ایک حصہ میں رہائش اختیار فرمائی۔ دونوں وقت کا کھانا ہم ساتھ کھاتے۔ سفر و حضر میں ساتھ رہتے اور میری زندگی کا یہ قیمتی ترین عرصہ قریباً دس سال پر محیط رہا۔ آپؓ کا معمول تھا کہ روزانہ صبح نماز کے بعد لمبی سیر کیا کرتے تھے۔ ایک روز آپؓ سیر سے واپس تشریف لائے تو مَیں نے محسوس کیا کہ آپ کی آنکھوں میںنمی ہے اور طبیعت گداز ہے۔ وجہ دریافت کرنے پرپہلے تو ٹالتے رہے۔ میرے اصرار پر فرمایا:جب میں سیر کو نکلاتو تسبیح و تحمید اور درود شریف کے ورد سے فارغ ہونے کے بعد میری طبیعت حمد الٰہی کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے اللہ تعالیٰ کے جو مجھ پر بے شمار احسانات ہیں ان کو دیکھ کر اور اپنی کمزوریوں پر نظر کر کے سوچنا شروع کیا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا میرے مولیٰ تونے مجھ پر جو احسانات کئے ہیں اور جس طرح اپنے ہاتھ سے میری پرورش کی اوراپنی نعمتوں سے مجھے جس قدر نوازا ہے اس کا عشر عشیر بھی کوئی باپ اپنے بیٹے کیلئے نہیں کر سکتا۔ …۔ ان خیالات میں میں جتنا جتنا غرق ہوتا گیا اتنا اتنا اظہار تشکرسے میرے آنسوؤں کی جھڑی تیز ہوتی گئی۔ یہ کہتے ہوئے آپؓ کی آواز پھر بھرّا گئی اور آپ بغیر بات پوری کئے اپنے کمرہ میں چلے گئے۔
* حضرت نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات سے محبت کا وہ عالم تھا کہ جس کے اظہار پر ہندوستان کی گلی گلی میں آپ کی دھوم مچ گئی۔ جب توہین عدالت کے ایک مقدمہ میں آپؓ نے عدالت کے سامنے ببانگ دہل کہا تھا کہ آنحضرتﷺ کی عزت کے تحفظ کیلئے اگر ہائی کورٹ کے ججوں کی بے عزتی بھی کرنی پڑے تو ہم اس کیلئے ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔ اور اس واقعہ کا تو مَیں عینی شاہد ہوں کہ ایک دفعہ پاکستان کے ایک مشہور مؤرخ آپ کو ملنے آئے جو آپؓ کے بڑے مداح اور عقیدتمند بھی تھے۔ باتوں باتوں میں وہ ایک ایسی بات کہہ گئے جس سے آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کا پہلو نکلتا تھا۔ آپؓ فوراً غصہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو مخاطب ہو کر کہا آپ ابھی یہاں سے نکل جائیں اور آئندہ مجھے نہ ملا کریں، مَیںکسی ایسے شخص سے ہرگز ملنے کو تیار نہیں جو مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ یہ کہہ کر آپؓ چلے گئے۔ پھر ایک لمبے عرصے تک اُن سے نہ ملے۔ بالآخر بار بار معافی مانگنے پر آپؓ نے معاف کردیا۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ کا خلفاء کرام کے ساتھ غیرمعمولی تعلق تھا۔ چنانچہ حضرت مولوی نور الدین خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی خدمت میں بار بار حاضر ہونے اور حضورؓ کے خصوصی الطاف کا مورد بننے اور دعائیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی آپؓ کے حصے میں آیا۔ حضرت مصلح موعودؓ سے بھی آپ کا تعلق خصوصی اور نمایاں تھا۔ آپؓ کو ابتداء سے ہی حضورؓ کے خصوصی معاون اور مشیر کی حیثیت حاصل تھی۔ حضورؓ نے آپؓ کو (یورپ میں زیرتعلیم) اپنے صاحبزادگان کانگران اور سرپرست مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے بھی آپؓ کو تب سے خصوصی تعلق تھا جب حضورؒ بطور طالب علم آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل فرمارہے تھے۔ اس کے بعد زندگی بھر حضورؒ سے خصوصی تعلق رہا۔ حتیٰ کہ دورِ ثالثہ کی پہلی بابرکت تحریک فضلِ عمر فاؤنڈیشن کااعلان کرنے کی غیرمعمولی سعادت بھی حضورؒ نے آپ کی جھولی میں ڈال دی۔ 1978ء میں لندن میں کسر صلیب کانفرنس میں حضورؒنے اپنے بارہ حواریوں کا اعلان فرمایا جن میں آپؓ کو بھی شامل فرمایا۔ حضورؒ کے ساتھ اطاعت و وفاداری کا آپؓ کا تعلق آپؓ کی کامل وفاداری اور اطاعت کی اعلیٰ مثال ہے۔ جب بھی امام وقت کی طرف سے کوئی حکم موصول ہوتا آپ اس کی فوری تعمیل کرتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی طرف سے حکم موصول ہوا کہ فلاں مضمون کا انگریزی میں ترجمہ کردیں یا فلاں صاحب کو خط لکھیں تو آپ حکم ملتے ہی کاغذ قلم لیکر بیٹھ جاتے۔ دو ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ کل صبح اس کا ترجمہ شروع کردیں تو فرمایا نہیں! کام ابھی شروع کردیتے ہیں خواہ ختم کل ہی ہو۔
* ایک مرتبہ حضورؒ نے انگلستان میں قیام کے دوران رات کے دس بجے خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ اگر چوہدری صاحب جاگ رہے ہوں تو انہیں بلاؤ لیکن اگر سوئے ہوئے ہوں تو ہرگز انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ مَیں دبے پاؤں حضرت چوہدری صاحبؓ کے فلیٹ میں گیا۔ ہماری یہ انڈر سٹینڈنگ تھی کہ حضرت چوہدری صاحبؓ اپنے کمرہ کا دروازہ بند نہیں کیا کریں گے۔ آپؓ ہمیشہ اس کی پابندی کرتے تھے۔ چنانچہ مَیں آہستگی سے کمرے میں داخل ہوا کہ دیکھوں آپؓ جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں۔ دیکھا کہ آپؓ سورہے تھے۔ میں واپس مُڑنے کو ہی تھا کہ آہٹ سے آپؓ کی آنکھ کْھل گئی۔ پوچھا: کیسے آئے ہو؟۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضورؒ کا ارشاد ہے کہ ا گر آپ سو رہے ہوں تو آپ کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ اس لئے میں جاکر عرض کردوں گا کہ آپ بستر پر تشریف لے جا چکے ہیں۔ میری بات سنتے ہی آپؓ تیزی سے بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی جلدی ڈریسنگ گاؤن پہننے لگے اور فرمایا کہ اگر حضورؒ نے یاد فرمایا ہے تو پھر سونے کا کیا سوال۔ مَیں نے دوبارہ عرض کرنے کی کوشش کی مگر آپ میری بات کی طرف توجہ دینے سے کاملاً بے نیاز ہوچکے تھے۔ چنانچہ فوری طور پر حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
* حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے بھی آپ نے خصوصی عقیدت کا تعلق برقرار رکھا۔ اکثر مسائل کے بارہ میں حضورؒ کو لکھا کرتے۔ ایک بار کہنے لگے کہ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس منصبِ جلیلہ پر فائز کرنے کے بعد حضورؒ کو کس قدر تبحر علمی عطا کردیا ہے کہ بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کو آپ یوں حل کرتے چلے جاتے ہیں کہ گویا اُن میں کوئی مشکل تھی ہی نہیں۔ پھر حضورؒ کی انگریزی زبان کی قابلیت انگریزی زبان بولنے میں حضورؒ کی مہارت اور روانی کا بالخصوص تذکرہ فرمایا۔
ژ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ حضرت چوہدری صاحبؓ کی طویل زندگی کا راز کیا ہے تو میں بلا تامّل سورۃالرعد کی یہ آیت پیش کروں گا: جو زیادہ نافع الناس ہوتا ہے وہ دنیا میں زیادہ عرصہ رہتا ہے۔ آپؓ ہزاروں روپے کی ماہوار آمد میں سے صرف چند سور وپے اپنے لئے رکھتے۔ باقی رقم یا تو جماعتی چندوں میں چلی جاتی تھی یا غرباء اور مستحقین کی امداد میں خرچ ہوتی تھی۔ ؓ اپنی روز مرّہ زندگی میں کس قدر مشقت اور تکلیف اْٹھاکر مستحقین کے دکھوں کو دُور اور ان کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے۔ اس کا راز آپ کی حد تک پہنچی ہوئی کفایت شعاری میں تھا۔ آپ ایک کروڑ پتی امریکن کا یہ واقعہ سنایا کرتے تھے جسے ایک دفعہ دو خواتین نے فون کیا اور رفاہِ عامہ کے ایک کام کے سلسلہ میں مالی تعاون کی تحریک کی۔ کروڑپتی شخص نے اُن خواتین کو دس منٹ کا وقت دیا اور تاکید کی کہ میرا وقت قیمتی ہے اس لئے وقت پرآنا۔ دونوں خواتین عین وقت پر حاضر ہوگئیں۔ اس کروڑپتی نے جونہی ان خواتین کو اپنے کمرہ میں داخل ہوتے دیکھا تو فوراً اپنے دفتر کی ایک کے سوا باقی سب بتیاں گْل کردیں۔ ان خواتین نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ جو شخص اس قدر کنجوس ہے وہ ہمیں کیا دے گا۔ کروڑپتی دونوں خواتین کے انداز کو بھانپ گیا لیکن خاموش رہا۔ خواتین نے جب مالی تعاون کی تحریک کی تو کروڑپتی نے ایک خطیر رقم کا چیک کاٹ کر ان کے حوالے کردیا۔ یہ رقم ان دونوں خواتین کے اندازے سے اس قدر زیادہ تھی کہ دونوں حیران رہ گئیں اور سراپا سپاسِ تشکر بن گئیں۔ جب وہ اٹھنے لگیں تو کروڑپتی نے پوچھا کہ آپ نے میرے بتیاں بجھانے پر کیا سوچا تھا؟ دونوں پہلے تو جھجکیں پھر صاف بتایا کہ آپ کی اس حد درجہ کفایت شعاری کو دیکھ کر ہمیں آپ سے کوئی امید نہ رہی تھی۔ اُس نے کہا دیکھو اسی طرح روشنیاں بْجھاتے بْجھاتے میں اِس قابل ہوا ہوں کہ تمہیں اتنا بڑا چیک خیرات کے طور پر دے سکوں۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ دوسروں کی مدد کرنے کیلئے اپنی ذات پر کس کس رنگ میں ظلم کرتے تھے اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ ایک دفعہ جب آپ امریکہ تشریف لے جارہے تھے تو میں نے آپ سے عرض کی کہ فلاں کمپنی کی بنی ہوئی دو قمیضیں جن کی قیمت دس پونڈ فی قمیض تھی میرے لئے لیتے آئیں۔ فرمایا میں تو اپنے دوستوں کیلئے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ فضول خرچی کریں۔ دس پونڈ میں تو کم از کم چار قمیضیں آنی چاہئیں۔ میں نے عرض کیا چوہدری صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں ڈھائی پونڈ کی ایک قمیض کہاں سے ملے گی۔ فرمانے لگے: مَیں تو سالہا سال سے اسی قیمت کی قمیض امریکہ سے خریدتا ہوں اور پہنتا ہوں، مجھے تو کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم نے سستی قمیض پہن رکھی ہے۔ اس لئے اگر تو میری طرح کی سستی قمیض پسند ہو تو میں لیتا آؤں گا لیکن اس سے مہنگی قمیض میں نہیں لاؤں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ فضول خرچی کریں۔ اب میں پھنس چکا تھا۔ پیسے واپس مانگتا تو ناراضگی کا خدشہ تھا۔ لہٰذا نیم دلی سے کہا آپ جو چاہیں قمیض لے آئیں۔
* ایک دفعہ آپ کے غسلخانے میں ایک عجیب قسم کا صابن دیکھا جس کی کئی تہیں تھیں۔ میں نے پوچھا یہ عجیب قسم کا صابن آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟ مسکرا کر فرمانے لگے جب صابن استعمال کرتے کرتے باریک سا رہ جاتا ہے اور مزید استعمال کرنا مشکل ہوجاتا ہے تومیں نئے صابن کے ساتھ اس کو جوڑ دیتا ہوں اس طرح بہت سے صابن جْڑتے جْڑتے یہ شکل بن گئی ہے۔
* ایک بار مَیں نے کہا چوہدری صاحب کفایت شعاری بجا! لیکن یہ معمولی دو اڑھائی پونڈ کی بچت سے کیا بن جاتا ہے۔ فرمانے لگے تم جانتے ہو یہ پاکستان پہنچ کر کتنی رقم بن جاتی ہے؟ جانتے ہو اس رقم سے ایک غریب خاندان کا بچہ پاکستان میں ایک ماہ پڑھائی جاری رکھ سکتا ہے۔ میرے ذرا سی تکلیف اْٹھانے سے پاکستان میں کسی غریب بچے کا مستقبل سنور جائے تو مجھے اَور کیا چاہئے۔ پھر فرمایا کہ زندگی میں عام آسائشیں حاصل نہ کرنے سے ایک اور بڑا اہم فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کا نفس اس کے تابع رہتا ہے اور دْنیا میں کچھ کر گزرنے اور خصوصًا خدمتِ دین کے معاملے میں اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
* ایک بار آپؓ کسی کو ساتھ لے کر جوتا خریدنے نکلے۔ آ پ کو اپنی مرضی کا سستا جوتا نہ مل سکا تو آخر واپس آگئے۔ اُس شخص نے تنگ آکر کہا چوہدری صاحب ! آپ اپنی پوزیشن کو بھی دیکھا کریں، جتنا سستا جوتا آپ چاہتے ہیں اس کو دیکھ کر لوگ آپ کے بارہ میں کیا سوچیں گے؟ آپ نے فرمایا ’’ جو شخص مجھے جانتا ہے کہ میرا نام ظفر اللہ ہے اس کی نظر کبھی میرے جوتے پرنہیں جائے گی اور جو شخص نہیں جانتا کہ میں کون ہوں اس کو میں قیمتی جوتا پہن کر یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میرا نام ظفر اللہ ہے‘‘۔ اس شخص نے ہار کرکہا آپ اپنی عمر کو بھی تو دیکھیں اس عمر میں آپ کو نرم اور آرام دہ جوتا چاہئے۔ فرمانے لگے مجھے تو کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میرے پیر کو بے آرامی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ میں نے اپنے پاؤں کو نرم جوتے کا عادی ہی نہیں بنایا۔ اور آپ جتنا مہنگا جوتا میرے لئے تجویز کررہے ہیں اس رقم کو بچاکر تو پاکستان میں کئی طالب علموں کی پڑھائی کا خرچہ پورا ہوسکتا ہے۔
* میں کبھی سوچتا ہوں تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ کسی اَن دیکھے طالب علم ، کسی ناواقف اور انجان بیوہ یا مستحق کیلئے آپ کے دل میں کس قدر درد تھا!۔
شاید کوئی پڑھنے والا سوچے کہ جس طرح حضرت چوہدری صاحبؓ خود کفایت کی زندگی گزارتے تھے اسی طرح کفایت سے وظائف بھی دیتے ہوںگے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ قرض مانگنے والوں کی ضرورت سے بڑھ کر اُن کو دیتے کہ شاید کوئی اَور ضرورت بھی ہو۔
ژ کھانے میں سادگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ عالمی عدالتِ انصاف میں بطور جج مقیم تھے تو آپ عمومًا جمعہ کے دن ہیگ سے لندن تشریف لاتے اور سوموار کی صبح کو ہیگ پرواز کرجاتے۔ سوموار کی صبح کو ناشتہ پر جو ٹوسٹ اور انڈہ بچ جاتا اسے پیک کرکے ساتھ لے جاتے اور فرمایا کرتے کہ چونکہ مَیں ایئرپورٹ سے سیدھا کورٹ چلا جاتا ہوں اس لئے دوپہر کے کھانے کیلئے یہ ٹوسٹ اور ایک گلاس دودھ کفایت کر جاتا ہے۔ میں اصرارکرتا کہ باقاعدہ لنچ پیک کرکے ساتھ دیتا ہوں لیکن آپ نہ مانتے اور فرماتے کہ کھانے میں تکلّف مجھے پسند نہیں ہے۔ مجھے متواتر دس سال تک آپ کی خدمت کی توفیق ملی۔ ان دس سالوں میں جو کھانا بھی سامنے رکھا، کھالیا۔ ایک بار بھی کوئی نقص نہیں نکالا۔ سبزیوں میں اروی بہت رغبت سے کھاتے تھے۔ کھانا بہت کم کھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ صوفیا ء نے جو لکھا ہے کہ روحانیت کیلئے کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا ضروری ہے تومیں کم کھانے اور کم سونے پر تو عمل کرتا ہوں البتہ کم بولنے پر ابھی میں عمل نہیں کرسکا۔
کھانے میں شہد آپ کو بہت پسند تھا۔ آپ کے دوستوں اور جاننے والوں کو اس کا علم تھا چنانچہ دُور دُور سے مختلف قسم کے پھولوں سے کشید کردہ شہد آپ کو تحفۃً بھجوایا کرتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ حالانکہ میں شوگر کا مریض ہوں لیکن مجھے شہد نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا اور یہ قرآن کریم کی سچائی کی دلیل ہے کہ اس میں انسانوں کیلئے شفا موجود ہے۔
* آپؓ یادداشت کے معاملے میں طلسماتی اور مافوق البشرخصوصیات کے مالک تھے۔ قائد اعظم کی اِس بات پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ: ’’ ظفر اللہ خان کا دماغ خداوند کریم کا زبردست انعام ہے ‘‘۔ آپؓ کا حلقۂ احباب سینکڑوں یا ہزاروں احباب تک وسیع تھا لیکن کبھی کسی کا ٹیلیفون نمبر نوٹ نہیں کیا۔ یہ سارے نمبر آپ کے ذہن کے کمپیوٹر میں محفوظ رہتے تھے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اپنے کسی جاننے والے کا ٹیلیفون نمبر کسی دوسرے سے پوچھا ہو۔ لوگ ملنے آتے ، آپ ان کا ٹیلیفون نمبر پوچھتے۔ یہ نمبر چند بار دہراتے اور بس۔ پھر یہ آپ کی طلسماتی یادداشت کا حصہ بن جاتا۔
* ایک دفعہ دورانِ سفر حضرت چوہدری صاحبؓ نے فارسی اور اردو کے اشعار سنانے شروع کئے اور عالم یہ تھا کہ ایک کے بعد دوسرا شعر روانی سے ادا ہو رہا تھا۔ اس حد تک تو شاید لوگ کسی کی ہمسری کادعویٰ کرسکیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ آپؓ فرمانے لگے اگر ہم جس راستے سے آئے ہیں اسی راستے سے واپس روانہ ہوں تو میں آپ کو یہ بھی بتاسکتا ہو ں کہ کس موڑ پر اور کس جگہ میں نے کون سا شعر سنایا تھا۔
* آپؓ کی خود نوشت سوانح عمری کا پہلا ایڈیشن 1971ء میں شائع ہوا۔ جب آپ نے اپنی کتاب کا ضخیم مسودہ لکھا تو مجھ سے بھی رائے مانگی۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ ساٹھ ستّر سال پرانے واقعات صرف اپنی یادداشت کے سہارے لکھے ہیں۔ ان میں جابجا معین تاریخیں ، سن اور وقت بھی لکھا ہے اگر ان کی کسی طرح سے پڑتال ہو جائے تو بہتر ہے۔ آپؓ نے فرمایا: نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ مَیں نے اصرار کیا تو فرمانے لگے اچھا یوں کریں کہ ایک دو واقعات بطور ٹیسٹ نکال لیں اور ان کی پڑتال کریں۔ چنانچہ مَیں نے ایک مشہور شخصیت سے آپ کی ملاقات کے حصے کو اس مقصد کیلئے چنا۔ اس ملاقات کے ذکر میں حضرت چوہدری صاحبؓ نے یہ بھی بیان فرمایا تھا کہ اس وقت ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ مجھے اُمید تھی کہ اس روز کی موسم کی خبر میں اس کا پتہ چل جائے گا۔ چنانچہ میں نے بڑی کوشش کرکے سالہا سال پرانے اخبارات کے فائل نکلوائے اور میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب مجھے اس روز کی خبروں میں چوہدری صاحب کی ملاقات کی تفصیلات کے علاوہ موسم کی خبر سے یہ پتہ بھی لگ گیا کہ اس ملاقات کے وقت بوندا بوندی ہو رہی تھی۔
اپنی تصانیف کیلئے آپ بہت کم حوالہ جات کی تلاش کرواتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر حوالے آپ کو زبانی یاد ہوتے تھے۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ ان خدا رسیدہ لوگوں میں شامل تھے جن کی دعاؤں کے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔ جن کی خاطر خدا تعالیٰ اپنی تقدیریں بھی ٹال دیتا ہے۔ جب آپ سے دعا کیلئے کہا جاتا تو آپ فوراً بالالتزام دْعا شروع کر دیتے اور فرمایا کرتے۔ بارہا یوں بھی ہوا کہ کسی نے مجھے کہا کہ میرے ہاں زچگی متوقع ہے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکے سے نوازے۔ میں دعا میں لگ جاتا ہوں اور عرصہ بعد جب اسی شخص سے پوچھتا ہوں کہ بھئی میں تمہارے لئے دعا کررہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لڑکا دے تو وہ شخص جواب دیتا کہ میرے ہاں تو لڑکا پیدا ہوئے اب ایک سال ہونے کو ہے۔
آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ دعا تو کرتے ہیں لیکن دعا کیلئے جو شرائط ہیں ان پر عمل نہیں کرتے اسلئے قبولیت دعا سے مستفید نہیں ہوپاتے۔ اپنے ایک بزرگ کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ ان کی دعائیں بہت قبول ہوتی تھیں۔ قبولیت دعا کاراز انہوں نے یہ بیان فرمایا کہ میں دعا کیلئے اندھیری کوٹھڑی میں چلا جاتا ہوں ، دروازہ بند کرلیتا ہوں اور اللہ میاں کو جپھی ڈال لیتا ہوں کہ جب تک میری دعا کو قبول نہیں کرو گے میں نہیں چھوڑوں گا۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ دعا تبھی پایۂ قبولیت کو پہنچتی ہے جب انسان اپنے اُوپر یہی کیفیت طاری کرے اور آستانہ الٰہی سے اس وقت تک چمٹا رہے جب تک قبولیتِ دعا کانشان نہ دیکھ لے۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ اپنی قبولیت دعا کے واقعات بھی سنایا کرتے تھے۔ ایک بار فرمایا کہ جب میں اقوام متحدہ کے سترھویں سیشن کا صدر منتخب ہوا تو میرے دل میں اس بات پر تشویش پیدا ہوئی کہ میں نے تو اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا مطالعہ بھی نہیں کیا جبکہ افغانستان کے سفیر دن میں کئی کئی بار پوائنٹ آف آرڈر اُٹھانے میں مشہور تھے اور بار بار صدر کو قواعد کی طرف متوجہ کرکے ان کو آگے نہیں چلنے دیتے تھے۔ مَیں نے بڑی تضرّع سے اپنے مولیٰ سے دعا کی اور میرے مولیٰ نے میری تضرّعات کو یوں شرفِ قبولیت بخشا کہ میری صدارت کے دوران ایک سال کے عرصہ میں ایک بھی پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا گیا اور یوں یہ سیشن اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی حیثیت اختیار کرگیا۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ صحیح معنوں میں ایک عارف باللہ وجود تھے۔ عبادت آپ کی روح کی غذا تھی۔ اعلیٰ ترین سطحوں کے اجتماعات ، میٹنگز ملاقاتوں میں کبھی آپ نے نماز قضاء نہیں ہونے دی۔ دیکھنے اور جاننے والوں نے ہمیشہ آپ کو تہجد کا پابند پایا۔ آپ کا قیام لندن مشن کی تیسری منزل پر واقع ایک فلیٹ میں تھا۔ آپ ہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور باوجود پیرانہ سالی اور کمزوری کے اتنی ساری سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے۔ نماز جمعہ کے لئے اوّل وقت تشریف لاتے اور ہمیشہ پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ نے اپنے نفس کو اس قدر مطیع کیا ہوا تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ مَیں اکیلے میں اپنے نفس کو خوب جھاڑتا ہوں کہ دیکھ تجھ میں یہ کمزوریاں ہیں انہیں دُور کرنے کی طرف توجہ دے۔ ایسا کرنے سے میری طبیعت اس بات کی طرف شدّت سے مائل ہو جاتی ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرسکوں۔ اسی بات نے آپ کو انکساری اور تواضع میں ایک خاص مقام پر پہنچا دیا۔
آپ اپنے نفس کیلئے اتنے سخت الفاظ استعمال فرماتے کہ اب آپ کی وفات کے بعد دل بھی نہیں چاہتا کہ ان الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کیا جائے مگر حضرت چوہدری صاحبؓ کی عظمت کی بلندیوں کا صحیح اظہار کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہ سخت ترین الفاظ بھی بجنسہٖ درج کئے جائیں۔ ایک مرتبہ یورپ کے ایک صاحب نے آپ کو خط میں شکوہ کیا کہ شاید آپ اس وجہ سے ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ آپ بڑے آدمی ہیں اور ہم کم حیثیت کے ہیں وغیرہ۔ حضرت چوہدری صاحبؓ کو خط کے اس آخری فقرے سے سخت تکلیف ہوئی۔ اگلے دن آپ نے ان صاحب کے نام ایک خط لکھا اور فرمایابے شک آپ اسے پڑھ بھی لیں۔ مَیں یہ خط پڑھ کر سرسے پاؤں تک کانپ گیا۔ آج بھی اس خط کے مضمون کے تصوّر سے میرے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ چوہدری صاحب نے ان کے پاس نہ جانے کی معذرت کرنے کے بعد تحریر فرمایا کہ جب میں آپ کے خط کے اس فقرے پر پہنچا کہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ ظفراللہ خان تم اپنے نفس کو اچھی طرح ٹٹول کرجواب دو کہ تمہاری حیثیت کیا ہے۔ چنانچہ میں نے اس وقت خط کا جواب فوری طور پر دینا ملتوی کردیا اور اس سوال پر پورا ایک دن اور ایک رات غور کرتا رہا۔ اب مَیں آپ کے اس سوال کا جواب دے رہا ہوں جبکہ میرے نفس نے مجھے جواب دیا ہے کہ میر ی حیثیت درحقیقت کیا ہے۔ اور وہ جواب یہ ہے کہ میرے نفس نے مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ظفراللہ خان تیری حیثیت ایک مرے ہوئے کتّے سے بھی بدتر ہے۔ تم میں کوئی بڑائی نہیں جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ محض فضلِ خداوندی ہے۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ جہاں بھی رہے وہاں آپ نے مربیانِ سلسلہ سے احترام کا خصوصی تعلق قائم رکھا۔ ایک بار آپ کے دہلی میں قیام کے زمانہ کے ایک باورچی نے (جو لندن میں مقیم ہے) آپ کو کھانے کی دعوت دی جو آپ نے قبول فرمالی۔ خاکسار بھی اس دعوت میں شریک تھا۔ غریب باورچی خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد باورچی نے ایک تھیلا خاکسار کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ اس میں حضرت چوہدری صاحبؓ کیلئے مرغ مسلّم ہے۔ حضرت چوہدری صاحبؓ نے یہ بات سن کر تھیلا جھپٹ کر میرے ہاتھ سے لے لیا اور باورچی سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم نے بڑی گستاخی کی ہے۔ امام صاحب برطانیہ میں جماعت احمدیہ کے نمائندہ ہیں۔ اس لحاظ سے میں ہر وقت ان کے ماتحت ہوں۔ تمہیں یہ تھیلا اِنہیں نہیں پکڑانا چاہئے تھا۔ ان کا احترام لازم ہے۔ حضرت چوہدری صاحبؓ باورچی کو یہ نصیحت فرما رہے تھے اور مَیں شرم سے زمین میں گڑا جارہا تھا۔ بھلا حضرت چوہدری صاحبؓ کے سامنے میری کیا حیثیت!
* جب بھی کوئی شخص آپؓ کی دعوت کرتا تو آپؓ فرماتے امام صاحب سے پوچھ لیں اگر انہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو میں ان کے ساتھ آجاؤں گا۔ ضمنًا یہ عرض کردوں کہ آپ دعوت کبھی ردّ نہ کرتے حالانکہ بوجہ ذیابیطس پرہیزی کھانا کھانے کی وجہ سے دعوتوں میں جانا آپ کی صحت کیلئے مناسب نہ تھا۔ فرماتے حدیث میں آیا ہے کہ دعوت کو ردّ نہ کرو۔
* آپ نے سالہا سال تک قرآن کلاس میں فضائل قرآن پر لیکچرز دیئے اور قرآنی علوم و معارف بیان فرماتے رہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غضب کا حافظہ دیا تھااس لئے جس حصہ قرآن پر درس دینا ہوتا تھا وہ حفظ فرما لیا کرتے تھے۔ اس طرح سے آپ کو قرآن کریم کا بہت سارا حصہ حفظ ہوچکا تھا۔
* ایک بار میں نے حضرت چوہدری صاحبؓ سے عرض کیا کہ جماعت کو نصیحت اورتنبیہ کیلئے اپنا ایک مقام ہونا ضروری ہے جبکہ میری عمر اور ذاتی حیثیت ایسی نہیں کہ سامنے بیٹھے ہوئے بزرگان کو کسی قسم کی تنبیہ کروں اس لئے طبیعت میں حجاب رہتا ہے۔ فرمانے لگے دین کی خاطر کام کرتے وقت طبیعت میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہئے۔ آئندہ جب ایسی کوئی ضرورت محسوس کریں مجھے کہہ دیا کریں۔ میں جماعت کو توجہ دلا دیا کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد جب بھی میں ضرورت محسوس کرتا کہ جماعت کو کسی تربیتی امر کے سلسلہ میں خصوصی توجہ دلانے کی ضرورت ہے تو حضرت چوہدری صاحبؓ کی خدمت میں عرض کردیتا اور آپ نہایت مؤثر رنگ میں خطبہ یا تقریر ارشاد فرما دیا کرتے تھے۔ بعد میں آپ مزاحًا فرمایا کرتے تھے کہ امام صاحب مجھے اس وقت خطبہ دینے یا تقریر کرنے کیلئے کہتے ہیں جب جماعت کو ڈانٹ پلانا چاہتے ہوں۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ نے جس طرح نظم و ضبط سے ساری زندگی گزاری ہے۔ اس کا ایک اہم پہلو وقت کی انتہائی پابندی ہے۔ اس پر آپ نہ صرف خود عمل پیرا ہوتے بلکہ احباب جماعت کی تربیت اس رنگ میں بھی فرماتے کہ انہیں بھی پابندیٔ وقت کی عادت پڑ جاتی تھی۔ ایک دفعہ کسی کو ملنے تشریف لے گئے۔ جب ہم اس شخص کے مکان پر پہنچے تو مقررہ وقت میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ آپ نے فرمایا پابندیٔ وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ کسی کے ہاں مقررّہ وقت سے پہلے بھی نہ جایا جائے۔ اس لئے آیئے تھوڑی دیر سڑک پر ٹہلتے ہیں۔ عین وقت پر فرمایا اب چلیں۔
* پابندیٔ وقت کے ضمن میں آپ کو اپنے آرام و آسائش کی قربانی بھی دینا پڑتی تھی۔ آپؓ نے بتایا کہ گول میز کانفرنسوں کے دنوں میں دوپہر کے کھانے کیلئے بڑا مختصر سا وقت ملتا تھا۔ ہندوستانی وفد کے اراکین اکثر کھانے کے وقفہ کے بعد دیر سے آتے جبکہ مَیں عین وقت پر کانفرنس ہال میں داخل ہوا کرتا۔ ایک دن علامہ اقبال نے مجھ سے پوچھا کہ کھانا آپ بھی ہوٹل سے کھاتے ہیں اور ہم بھی۔ پھر آپ بروقت کھانے سے فارغ ہوکر کس طرح کانفرنس میں شامل ہوجاتے ہیں؟ مَیں نے کہا کل میرے ساتھ چلے چلیں۔ چنانچہ اگلے دن میں وفد کے ممبران کو بکنگھم پیلس کے قریب ہی ایک سیلف سروس ریستوران میں لے گیا۔ وہاںقطار میں کھڑے ہوکر کھانا حاصل کیا اور وقت کے اندر اندر کھانے سے فارغ ہوکرعین وقت پر سب لوگ کانفرنس ہال میں پہنچ گئے۔ وفد کے ممبران کو جب اگلے روز مَیں نے ساتھ چلنے کو کہا تو اُن میں سے بعض نے کہا کہ آپ جائیں، ہم سے تو قطار میں کھڑے ہوکر کھانا حاصل نہیں کیا جاتا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ! تو پھر آپ کو وقت پر آنا بھی ممکن نہ ہوگا۔
* حضرت چودھری صاحبؓ کی اس پابندیٔ وقت کا یہ نتیجہ تھا کہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آپ کی صدارت کے دوران اقوامِ متحدہ کا اجلاس کرسمس کی تعطیلات سے پہلے پہلے حسبِ پروگرام ختم ہوگیااور اس اعتبار سے بھی یہ سیشن ایک تاریخی اہمیت اختیار کرگیا۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ نے اپنی ساری زندگی اتنی بھرپور گزاری ہے کہ ان کے کام کرنے کی قوّت اور صلاحیت کو دیکھ کر رشک آتا تھا۔ آپ کی زندگی کا ماٹو یہ معلوم ہوتا تھا کہ کام کام اور صرف کام۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب چالیس سال کی عمر میں مجھے ذیابیطس کی تکلیف شروع ہوئی تو ڈاکٹروں نے بہت سی احتیاطیں بتائیں۔ ان دنوںمیں مَیں سوچا کرتا تھا کہ اگر میری عمر ساٹھ سال بھی ہوگئی تو بہت ہوگی۔ اب جب اللہ تعالیٰ نے عمر میں اضافہ فرمادیا ہے تو یہ مہلت اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں بسر کرنا چاہتا ہوں چنانچہ آپ اسّی پچاسی سال کی عمر میں بھی روزانہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے میز کرسی پر بیٹھ کر تصانیف میں مشغول رہتے تھے۔ دن کو سونے کی عادت نہ تھی۔ آرام کرسی پر بیٹھے بیٹھے کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کرکے استراحت فرما لیا کرتے تھے۔ اکثر تصانیف کے ابتدائی مسودے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مجھے دیا کرتے تھے۔ بعد میں جب ڈاکٹروں نے ہاتھ سے لکھنے سے منع کردیا تو پھر تصانیف کو املاء کرنا شروع کیا۔
* سلسلہ کے اخبارات ورسائل کو دلچسپی سے پڑھنا آپ کا خاص شوق تھا۔ الفضل کے مطالعہ میں کبھی ناغہ نہ کرتے۔ جب بھی لندن تشریف لاتے تو فرماتے فلاں تاریخ تک کے الفضل میں پڑھ چکا ہوں اس کے بعد کے مجھے دیدیں۔ انگریزی رسالہ ’مسلم ہیرلڈ‘، ’الفرقان‘ اور ’ لاہور‘ بہت شوق اور باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔
* 1965ء میں آپ عالمی عدالت انصاف میں بطور جج متعین تھے۔ خاکسار نے لندن مشن ہاؤس کی توسیع کے سلسلہ میں مرکز سے اجازت حاصل کرلی تھی کہ اگر انگلستان کی کسی فرم سے قرضہ مل جائے جس کی ادائیگی بذریعہ اقساط ہوسکے تو یہ توسیع کرلی جائے۔ ایک بڑی فنانس کمپنی سے ایک سال سے زائد عرصہ میں جب سب باتیں طے ہوگئیں اور معاہدوں پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو مذکورہ کارپوریشن نے بغیر کوئی وجہ بتائے قرضہ دینے سے انکار کردیا جس سے مجھے سخت پریشانی ہوئی۔ آپؓ کے دریافت فرمانے پر مَیں نے تفصیل سے سارے حالات بتائے، آپؓ خاموش رہے۔ اگلے دن فرمایا کہ جن شرائط پر فنانس کمپنی آپ کو قرضہ دے رہی تھی اُنہی شرائط پر میں آپ کیلئے ذاتی طور پر قرضہ کا انتظام کر دوں تو کیسا رہے گا۔ خاکسار نے حضورؒ کی خدمت میں لکھ دیا کہ حضرت چوہدری صاحبؓ رقم مہیا کرنے کو تیار ہیں۔ حضورؒ نے منظوری عطا فرمائی اورہم ایک نئے مشن ہائوس کی تعمیر میں لگ گئے۔ یہ مشن ہائوس ایک بڑے (محمود) ہال کے علاوہ تین فلیٹ اور دفاتر وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تعمیر کے کام کو ایک سال کا عرصہ لگا اور بالآخر سوا لاکھ پونڈ کے خرچ سے یہ کام مکمل ہو گیا۔ مشن ہائوس کی تکمیل کے بعد ایک معاہدہ مابین تحریک جدید اور چوہدری صاحب تیار ہوا۔ جس دن معاہدہ پر دستخط ہونے تھے اُس دن ناشتہ پر آپؓ نے فرمایا کہ ’’میں نے رات کو اس معاہدہ کا مطالعہ کیا ہے ۔ مجھے جو کچھ بھی ملاہے وہ محض فضل خدا وندی ہے ورنہ گھر سے تو کچھ نہ لائے تھے۔ میرے ضمیر نے اس بات پر مجھے ملامت کی کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی معاہدہ کی ضرورت کیوں پیش آئے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں یہ رقم واپس نہیں لوں گا‘‘۔ اور یہ کہہ کر معاہدہ کو پھاڑ دیا۔ نیز فرمایا کہ حضورؒ کے علاوہ میری زندگی میں کسی اَور کو اس بات کا علم نہ ہونے پائے کہ اس مشن ہائوس کی تعمیر کا سارا خرچ میں نے دیا ہے۔
* ایک بار جب خاکسار آپؓ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا تو فرمانے لگے کہ میں نے رات کو ایک منذر خواب دیکھا ہے۔ آپ ڈرائیونگ بھی کریں اور ساتھ ساتھ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس خواب کے منذر حصہ سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آپؓ ہمیشہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر تشریف فرما ہوتے۔ سفر کے ابتداء میں پون گھنٹہ کے لگ بھگ آپ خاموشی سے دعاؤں اور ذکر الٰہی میں گزارتے اور اس دوران کسی قسم کی بات چیت پسند نہ فرماتے تھے۔ اس کے بعد یا تو سو جاتے یا ڈرائیو کرنے والے سے سلسلۂ گفتگو جاری فرماتے۔ کبھی ڈرائیور کو ڈرائیونگ کے سلسلہ میں نہ ٹوکتے۔ آپ کو انگلستان کی اکثر بڑی سڑکوں بلکہ دیہاتی سڑکوں کا بھی علم تھا اور بغیر کسی نقشہ یا یادداشت کے منزل مقصود تک راہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ اس سفر کے دوران ہم نے ایک رات ہوٹل میں ٹھہرنا تھا۔ شام کے کھانے بعد آپؓ نے فرمایا کہ ناشتہ صبح ساڑھے سات بجے ڈائیننگ ہال میں کریں گے۔ میں ڈائیننگ ہال میں پہنچ گیا لیکن آپؓ کو وہاں نہ پایا۔ آپ وقت کی پابندی کا جس قدر خیال رکھتے تھے اس نے مجھے پریشان کر دیا۔ مزید پندرہ بیس منٹ بھی جب حضرت چوہدری صاحبؓ تشریف نہ لائے تو میں پریشانی میں آپؓ کے کمرہ میں حاضر ہوا۔ آپ چارپائی پر دراز تھے اور بہت کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ فرمایا کہ رات کو میں نماز تہجد کی ادائیگی کے لئے اْٹھ کر غسل خانہ میں وضو کے لئے گیا تھا۔ پائوں دھونے کے لئے سنک Sinkمیں رکھا تو توازن قائم نہ رہ سکا اور گر گیا۔ سر نہانے کے ٹب سے ٹکرایا اور میں بیہوش ہوگیا۔ نہ جانے کتنی دیر بیہوش رہا۔ جب ہوش آیا تو چند منٹ تک یہ احساس نہ رہا کہ میں کہاں ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد اتنا یاد آیا کہ تم میرے ہمسفر ہو۔ پھر میں نے دس تک گنتی کی تو ٹھیک گنتی ہوگئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میرا حافظہ درست ہے۔ اس کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور بستر پر ہی نماز تہجد اور نماز فجر ادا کی۔ میں نے شکوہ کے رنگ میں عرض کیا کہ مجھے کیوں نہ بلایا، میرا آپ کے ساتھ ہونے کا کیا فائدہ ؟ فرمانے لگے خیال تو دو تین دفعہ آیا تھا لیکن پھر یہ خیال آتا رہا کہ تم نے ڈرائیونگ کی ہے اور تھکے ہوئے ہو۔ میں نے آپ کی کیفیت دیکھ کر عرض کیا کہ میں ڈاکٹر کو بلا لیتا ہوں اور آگے کا سفر ایک دِن کے لئے ملتوی کر دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے گلاسگو کی جماعت کو شام کا وقت دیا ہے، اس لئے ہمیں ضرور وہاں پہنچنا چاہئے۔ مجھے کار کی سیٹ پر بٹھا دوگلاسگو پہنچ کر ڈاکٹر کو دکھا دیں گے۔ میری بار بار کی درخواستوں کے باوجود مُصر رہے چنانچہ ہم گلاسگو کے لئے روانہ ہوئے۔ گلاسگو پہنچ کر ہمارے اصرار سے روکنے کے باوجود آپ نے میٹنگ کو خطاب فرمایا۔
* اگر کبھی موت آپ کے در پر دستک دے تو آپ کا رویہ کیا ہوگا؟ یہ سوال حضرت چوہدری صاحبؓ نے بھی خود سے کئی بار کیا تھااور اس کا جواب بھی ان کو ملا۔ مشن ہائوس کے جس فلیٹ میں آپؓ مقیم تھے وہاں میں نے بااصرار ٹیلیفون لگوا دیا تھا تا کسی ہنگامی صورت میں ہم کو اطلاع کر سکیں۔ آپ عموماً ٹیلیفون کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک دن صبح کے ناشتے پر تشریف نہ لائے تو مجھے فکر ہوئی۔ آپ کے فلیٹ میں حاضر ہوا تو آپ بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ بڑی نحیف اور کمزور آواز میں فرمانے لگے جب رات میں تہجد کیلئے اُٹھا تو مجھے شدید ضعف کا دورہ پڑا اور سارا جسم پسینہ سے تر بتر ہو گیا۔ سینہ میں بھی شدید درد محسوس ہوتا رہا۔ اس دوران کمزوری اتنی بڑھ گئی کہ دو تین مرتبہ مجھ پر غشی طاری ہوتی رہی۔ میں نے عرض کیا آپ کے سرہانے فون رکھا ہوا ہے اور یہ لگایا بھی اسی لئے گیا تھا کہ آپ کسی فوری ضرورت کے وقت مجھے بلواسکیں۔ آپ نے مجھے کیوں نہیں بلایا؟ فرمایادو تین دفعہ مجھے خیال آیا کہ تمہیں فون کروں لیکن ہر بار یہ خیال تم کو بلانے سے مانع رہا کہ تم تھکے ہوئے ہوگے۔ رات کو نیند سے اُٹھانا مناسب نہ ہوگا۔ پھر فرمایا مجھے خوشی ہے کہ اس بیماری میں میری ایک خواہش پوری ہو گئی۔ میری ہمیشہ سے یہ دعا رہی ہے کہ جب میری موت کا وقت قریب آئے تو میری زبان پر جزع فزع کی بجائے حمدالٰہی اور درود کا ورد ہو۔ رات کو بھی جب مجھ پر غشی طاری ہوتی اور میں غشی کی کیفیت سے باہر آتا تو میری زبان پر حمد اور درود ہوتا۔ اس لئے مجھے اب یہ اطمینان ہو گیا ہے کہ جب بھی موت آئی تو انشاء اللہ میری زبان حمد اور درود سے تر ہوگی۔ فرمایا کرتے تھے مجھے موت سے ہرگز کوئی خوف نہیں ہے اور میں کبھی اس بارہ میں سوچتا بھی نہیں کہ موت کوئی ڈرنے والی چیز ہے۔
یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آپ کو لمحہ بہ لمحہ اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کا نہ صرف احساس تھا بلکہ آپ اس سے ایک گونہ خوشی و مسرت محسوس کرتے تھے اور سفر آخرت کا یوں ذکر فرماتے جیسے کوئی معمول کے سفر پر روانہ ہو رہا ہو۔ ایک بار آپ کی بیماری کے دوران ملاقات کیلئے لاہور حاضر ہوا تو فرمایا: دعا کریں سفر بخیریت گزر جائے۔ مَیں حیران ہوا کہ آپ تو مستقلاً پاکستان تشریف لے آئے ہیں اَب کونسا سفر درپیش ہے۔ میری حیرانی دیکھ کر آپؓ خفیف سے مسکرائے اور فرمایا میں اُس سفر کا ذکر کر رہا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے۔ آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں؟ فرمایا: نہیں اب اللہ تعالیٰ نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ اب سفر جلد درپیش ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ ایک چار منزلہ مکان ہے جس کے نیچے بیٹھ کر میں الفضل پڑھ رہا ہوں۔ اوپر چوتھی منزل سے میری والدہ محترمہ مجھے آواز دیتی ہیں: اب آجائو۔ مَیں عرض کرتاہوں کہ بس یہ الفضل تھوڑا سا رہ گیا ہے اسے ختم کر کے حاضر ہوتا ہوں۔
اسی طرح ایک دو اور خوابیں بھی سنائیں جنہیں بیان کرتے وقت چہرے پر موت کے خوف یا ڈر کا توخیر ذکر ہی کیا، اس کے بالکل اُلٹ نہایت درجہ شادمانی اور اطمینان کا تأثر تھا۔
(باقی آئندہ شمارہ میں)
…………………………………….

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین ستمبر اکتوبر 2014ء)
مرتّبہ: ناصر محمود پاشا
دوسری اور آخری قسط

حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی سیرت پر مشتمل محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب (سابق امیر و مبلغ انچارج برطانیہ) کی مرتّبہ کتاب پر تبصرہ اور کتاب میں شامل چند مضامین کا انتخاب گزشتہ شمارہ میں پیش کیا گیا تھا۔ ذیل میں اس انتخاب کی دوسری اور آخری قسط ہدیۂ قارئین کی جارہی ہے:
* 1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف طوفان اٹھایا گیا تو ایک پاکستانی روزنامہ کے نمائندہ نے لندن میں حضرت چودھری صاحبؓ سے انٹرویو میں پوچھا کہ اب تو پاکستان میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ و اشاعت پر قانوناً پابندی لاگو کر دی جائے گی اور تبلیغ بند ہو جانے کے بعد جماعت کی وسعت پذیری کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بات کہہ کر اس نے حضرت چوہدری صاحبؓکا عندیہ معلوم کرنا چاہا۔ آپؓ نے فرمایا کہ احمدیت کی ترقی و اشاعت بہرحال جاری رہے گی۔ نمائندہ نے کہاکہ جب آپ عوام سے تبلیغی رابطہ ہی قائم نہیں کر سکیں گے تو عوام آپ کی جماعت میں کیسے شامل ہوں گے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’جو تحریکات اللہ تعالیٰ خود پیدا کرتا ہے ، ان کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیتا ہے۔ اگر ہماری تبلیغ کو کلیۃً روک بھی دیا گیا تب بھی اللہ تعالیٰ رؤیائے صادقہ کے ذریعہ لوگوں کو مسیح و مہدی کے آنے کی اطلاع دے گا۔ خود میری والدہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک رؤیا کے ذریعہ قبول کیا تھا۔ اُنہیں کسی نے کوئی تبلیغ نہیں کی تھی۔ جماعت احمدیہ میں ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں خوابوں کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے کی ہدایت ملی۔ احمدیت خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ یہ پھلے گا اور پھولے گا اور ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ انشاء اللہ‘‘۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ مرحوم و مغفور کو اپنے والدین سے بے حد محبت تھی۔ خصوصاً اپنی والدہ صاحبہ مرحومہ سے تو عشق کی کیفیت تھی۔ 1976ء میں خاکسار کو آپؓکی معیت میں قادیا ن جانے کا موقعہ ملا۔ وہاں ایک دن آپؓ مجھے اپنی کوٹھی ’’بیت الظفر‘‘ دکھانے لے گئے۔ وہاں حکومت کے دو وزیر بھی موجود تھے۔ آپؓہر کمرہ کے بارہ میں تفصیل سے بتاتے۔ ایک جگہ ٹھہر گئے اور آپؓ پر رقّت کی کیفیت طاری ہو گئی، آواز بھی بھرّا گئی۔ چند منٹ بعد رقّت آمیز لہجہ میں فرمایا: ’’اس جگہ میری والدہ صاحبہ کو آخری غسل دیا گیا تھا‘‘۔ اور پھر اپنی والدہ صاحبہ مرحومہ کی یادوں میں کھو گئے اور ان کے چند ایمان افروز واقعات سنائے۔ پھر جب آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کے لئے کھڑے ہوئے۔ اُس وقت آپ کی حالت اس قدر غیر تھی کہ یوں لگتا تھا گویا آپ کسی اَور جہان میں ہیں۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی اور سینہ یو ں شدّت غم سے اُبل رہا تھا جیسے ہانڈی چولہے پر اُبل رہی ہو۔ دیر تک آپؓ کی یہ کیفیت رہی۔ پھر فرمایا:میں اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر ایسے وقت میں جانا چاہتا ہوں جب مَیں اکیلا ہوں۔ چنانچہ اگلے روز بہت ہی منہ اندھیرے آپؓ ان کی قبر پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔
* حضرت چودھری صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کبھی اپنے والد صاحب کے حکم کی سرتابی نہیں کی۔ ایک دن والد صاحب نے مجھے ڈانٹا کہ تم سکول کیوں نہیں گئے اور حکم دیا کہ ابھی بستہ اٹھائو اور سکول جائو۔ میں فوراً تعمیلِ حکم میں سکول چل دیا حالانکہ سکول بند تھا۔ سکول سے واپس آیا تو والد صاحب کے دریافت کرنے پر مَیں نے عرض کیا کہ آج سکول میں تعطیل ہے۔
* ریٹائرمنٹ کے بعد آپؓ کھانے پر میرے ہاں تشریف لاتے تو اگرچہ آپؓ کو بلڈنگ سے باہر نہیں جانا پڑتا تھا لیکن آپؓ پورا لباس زیب تن کئے بغیر کھانے کی میز پر تشریف نہیں لاتے تھے۔ مَیں عرض کرتا کہ آپ کیوں پورے لباس کا تکلّف کرتے ہیں۔ تو فرماتے کہ مَیںنے زندگی کا ایک اصول مقرر کر رکھا ہے کہ صبح اٹھ کر پورا لباس پہن کر ہی کام کرنا ہے۔ خواہ کہیں باہر جانا ہو یا نہ جانا ہو۔ اس سے طبیعت میں کام کی رغبت بھی پیدا ہوتی ہے اور چستی بھی آجاتی ہے۔
* ایک مرتبہ میرے داماد کی قمیص کے بٹن کھلے دیکھ کر حضرت چوہدری صاحبؓنے فرمایا: ’’قمیص کے بٹن بند کر لو۔ علاوہ اس کے کہ بٹن کھلے رکھنا مناسب نہیں،بٹن ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ بند رکھے جائیں‘‘۔
فرمایا کرتے تھے کہ لباس ایسا ہونا چاہئے جو سترپوشی کے علاوہ ملک کے شرفاء کا لباس ہو۔
* آپؓ تربیت اس رنگ میں فرماتے تھے کہ کسی کی طبیعت پر بوجھ نہ ہو۔ ایک نوجوان نے آپؓ کی چند تصاویر بنانے کی اجازت چاہی۔ ساتھ ہی اس نے اپنے کیمرہ کی تعریفیں شروع کر دیں اور بتایا کہ اس نے وہ کیمرہ دو صد پونڈ میں خریدا ہے۔ یہ سن کر حضرت چوہدری صاحبؓ کو بہت صدمہ ہوا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں! اتنی بڑی رقم سے تم کئی ایسے کام کر سکتے تھے جن سے خدا تعالیٰ بھی راضی ہوتا اور تمہیں بھی دلی تسکین ملتی۔ تم چندہ دیتے تو سلسلہ کی خدمت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہارے اموال میں برکت ڈالتا۔ کسی غریب کی مدد کرتے تو اللہ تعالیٰ کی رضا تمہیں نصیب ہوتی۔ کیمرہ خرید کر تم نے یہ رقم ضائع کردی ہے۔ تمہاری حیثیت کے مطابق اتنی بڑی رقم فضول خرچی کے دائرہ میں آتی ہے۔ ہاں چندے ادا کرنے اور غرباء کی خدمت کرنے کے بعد کچھ رقم بچ جاتی اور تم سستا سا کیمرہ خرید لیتے اور یہ بھی شوق پورا کرلیتے تو ہم خرما وہم ثواب والی بات ہو جاتی۔
* ایک نوجوان کو اس کی ہیئت کذائی پر نصیحت فرمائی کہ اپنے بالوں کو سنوار کر ٹھیک رکھا کرو۔ مغرب کی تقلیدمیں لمبے بال رکھنا احمدی نوجوان کے شایان شان نہیں۔ اُس نوجوان نے جواب دیا کہ یورپ میں رہ کر یورپین معاشرہ کی تقلید نہ کرنا ممکن نہیں۔ آپؓ فرمانے لگے: میاں! تمہارے باپ کی پیدائش سے بھی قبل مَیں یورپ آیا تھا اور تقریباً آدھی صدی اِن ممالک میں رہنے کا موقع ملا ہے۔ مَیں نے تو کبھی یورپین معاشرہ کے بدصورت حصہ کو نہیں اپنایا۔
* آنحضرت ﷺ سے آپؓ کو بے حد عشق تھا۔ ہزاروں حدیثیں ازبر یاد تھیں۔ آپؓ نے شمائل ترمذی کا انگریزی ترجمہ کیا جو “Prophet At Home” کے نام سے شائع ہوا۔ آپؓ نے قریباً دو ہزار احادیث کا ترجمہ بھی کیا جو “The Wisdom Of the Holy Prophet” کے نام سے شائع ہوا۔ آنحضرتﷺ کی سوانح پر آپ نے انگریزی میں “Seal of The Prophets”کے نام سے ایک معرکۃالآراء کتاب لکھی جو ایک مشہور اشاعتی ادارہ نے شائع کی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔
* مشہور مستشرق کینتھ کریگ اسلام پر ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ ایک دن اُن کی کتاب “Event of The Quran” حضرت چوہدری صاحبؓ کے ہاتھ میں تھی اور آپؓ کی آنکھیں پُرنم تھیں۔ فرمایا کہ اس شخص نے باوجود عیسائی اور معاند اسلام ہونے کے اس کتاب میں قرآن کریم کو جو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور آنحضرتﷺ کا جس پیارے انداز میں ذکر کیا ہے اسے پڑھ کر میں اپنی طبیعت پر قابو نہ پا سکا۔ آنحضورﷺ کے اخلاق فاضلہ کا یہ کمال ہے کہ دوست تو دوست بیگانے بھی آپ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پھر فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو مسٹر کریگ سے میری ملاقات کا انتظام کرو۔ چنانچہ خاکسار نے اُن کو کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت چوہدری صاحبؓ نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ انہوں نے باوجود عیسائی ہونے کے آنحضرتﷺ کو گلہائے عقیدت پیش کئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ مسٹر کریگ نے عرض کیا کہ میں محمدؐ کو ایک سچا اور پاک انسان سمجھتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کیلئے عظیم کام کیا ہے۔ اگرچہ عقیدۃً مجھے اُنکی بعض تعلیمات سے اختلاف ہے لیکن میں اُن کی بڑائی کا دل سے قائل ہوں۔
* ایک مرتبہ لندن مشن میں جلسہ سیرت النبی ﷺ کی صدارت کے لئے مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کو دعوت دی گئی اور وہ ایڈنبرا سے خاص اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے لندن تشریف لائے۔ حضرت چوہدری صاحبؓ نے منٹگمری واٹ سے کہا کہ آپ کی کتاب ’’محمد ایٹ مکہ‘‘ پڑھ کر مجھے افسوس ہوا کہ آپ نے حضورﷺ کی ذات پر ناروا اور غلط اعتراضات کئے تھے اور مَیں نے یہ عہد کیا کہ آئندہ آپ کی کوئی کتاب نہیں پڑھوں گا کیونکہ آپ کا انداز دیانتدارانہ نہیں تھا۔ لیکن جب ایک دوست کے اصرار پر مَیں نے آپ کی کتاب ’’محمد ایٹ مدینہ‘‘ پڑھی تو مَیں نے محسوس کیا کہ آپ کا انداز وہاں مؤدبانہ تھا اور اپنی ناسمجھی کے نتیجہ میں جو غلط باتیں لکھی ہیں وہ اس لئے نظر انداز کرنے کے قابل ہیں کہ آپ کا مطالعہ آنحضور ﷺ کے اُسوہ کے بارے میں اتنا وسیع نہیں جتنا ایک مسلمان عالم کا ہو سکتا ہے۔ مسٹر واٹ نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح فرمایا ہے۔ پہلے میری معلومات کا دائرہ اتنا وسیع نہ تھا جتنا بعدمیں ہوا۔ اس لئے دونوں کتب میں یہ نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
* نمازوں کی ادائیگی اور نماز تہجد میں التزام آپؓ کے خاص وصف تھے۔ جب بھی ہم سفر پر جاتے اور کہیں قیام ہوتا تو شام کو کھانے کے بعد بیڈ روم میں جانے سے قبل آپ عموماً یہ پوچھا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کا کیا وقت ہوگا اور نماز میرے کمرہ میں آکر پڑھیں گے یا مَیں آپ کے کمرہ میں آجائوں؟
* ایک دفعہ ایک نوجوان نے دوران گفتگو کہا کہ فجر کی نماز یورپ میں اپنے وقت پر ادا کرنی بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر چہ مجھے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے سخت حجاب ہوتا ہے لیکن آپ کی تربیت کیلئے یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً نصف صدی کا زمانہ یورپ میں گزارنے کے باوجود فجر تو فجر میں نے کبھی نماز تہجد بھی قضا نہیں کی۔ یہی حال پانچ نمازوں کا ہے۔
ژ حضرت چوہدری صاحبؓسے ایک دفعہ ماریشس کی ایک خاتون ملنے آئیں اور یہ دیکھ کر کہ آپؓ اکیلے زندگی بسر کر رہے ہیں ، خط کے ذریعہ آپ کی خدمت کے جذبہ کے پیش نظر آپ سے شادی کی پیشکش کی۔ آپؓ نے اس خاتون کو جوابی مکتوب میں لکھوایا: ’’آپ کی تجویز میرے لئے باعث عز ّو شرف ہے۔ لیکن میری بہت سی کمزوریاں اسے قبول کرنے میں مانع ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں میری زندگی نے ایسا رُخ اختیار کیا ہے جسے بدلنا باوجود خواہش کے میرے لئے ممکن نہیں کیونکہ یہ رُخ میں نے خود ہی اختیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اپنی اس زندگی سے کاملاًمطمئن اور خوش ہوں۔ چند باتیں قابل غور ہیں: پہلی یہ کہ میرے پاس کوئی زائد وقت نہیں۔ مَیں صبح چار بجے اْٹھتا ہوں۔ سوا چھ بجے کے قریب اپنے گھر سے سوا دو میل کی چہل قدمی کرتا ہوا Peace Palace میں واقع اپنے چیمبر میں پہنچ جاتا ہوں۔ ساڑھے چھ بجے شام اپنے گھر واپس آتا ہوںاور کھانے و نمازوں سے فراغت کے بعد نو بجے شب سونے کیلئے تیار ہو جاتا ہوں۔ اپنے احباب اور ملاقاتیوں سے بھی اپنے چیمبر میں ہی ملتا ہوںجیسا کہ آپ سے ملاقات کا موقع بھی وہیں ملا۔ زندگی کے اس تسلسل سے میں شاذ ہی اِدھر اُدھر ہوتا ہوں اور وہ بھی کسی انتہائی مجبوری کے پیش نظر۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں اپنے ذاتی اخراجات کیلئے اس سے زیادہ علیحدہ نہیں کرتا جس سے بمشکل میری ضروریات پوری ہو سکیں۔ بقیہ آمد رفاہِ عامہ کے ایسے کاموں کیلئے لئے وقف ہے جو مَیں نے اپنے اوپر واجب کر رکھے ہیں۔ اس رقم میں سے مَیں اپنی کسی ضرورت کیلئے کچھ نہیں لیتا۔
تیسری بات یہ کہ جہاں تک ذاتی محبت اور پیار کا تعلق ہے یہ مجھے بفضلہ تعالیٰ اپنی بیٹی اور نواسے نواسیوں سے مل جاتا ہے۔ مجھے اُن سے اور اُنہیں مجھ سے دِلی محبت ہے۔ وہ میرے لئے حقیقی اور دائمی مسرت و انبساط کا باعث ہیں۔
چوتھی یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وفادار، مخلص اور پیار کرنے والے احباب کا ایک وسیع حلقہ میسر ہے جو مجھ سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔ میری کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور بوقت ضرورت میری رہنمائی کیلئے مجھے تنبیہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ بھلا 78 برس کی عمر میں مجھے اَور کیا چاہئے؟ کیا مناسب ہوگا کہ میں اپنی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرلوں؟ اگر مَیں نے ایسا کیا تو میں مسلسل بدمزگی کا شکار ہو جائوں گا۔ میرے خیال میں مجھے اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضلوں اور بیشمار رحمتوں کا شکر گزار ہونا چاہئے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے جس سے یہ اندازہ ہو کہ گویا کسی چیز کی کمی تھی ، جسے پورا کیا گیا ہے۔ ‘‘
* حضرت چوہدری صاحبؓ اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتے ہی تھے، اُن کے بچوں سے بھی محبت کا سلوک فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ہم بروک وُوڈ کے قبرستان میں گئے۔ یہاں حضرت میر عبد السلام صاحبؓ بھی دفن ہیں جو سیالکوٹ کے پہلے امیر جماعت مقرر ہوئے تھے۔ یہ انگلستان میں دفن ہونے والے واحد صحابی ہیں۔ احمدیوں کی قبروںپر دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضرت چوہدری صاحبؓ نے فرمایا کہ اسی قبرستان میں سر فضل حسین کے بیٹے کی بھی قبر ہے جو دورانِ تعلیم انگلستان میں فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ ہم نے اُن کی قبر تلاش کی۔ دیکھا تو قبر کا کتبہ نہایت خستہ حالت میں تھا اور قبر کی حالت بھی خراب تھی۔ آپؓ نے فرمایا: سر فضل حسین صاحب میرے محسن تھے۔ وہ مجھ سے بے حد پیار اور محبت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔ پھر آپؓ نے قبرستان کی انتظامیہ سے کہا کہ اس قبر کو درست کرنے اور اس پر نیا کتبہ لگانے پر جو خرچ آئے گا وہ مَیں دوں گا۔
* حضرت چودھری صاحبؓ کا دل غریبوں، مسکینوں، بیوائوں اور نادار طلباء کی امداد کیلئے ہر وقت بے چین رہتاتھا۔ ایک دفعہ جلنگھم میں ایک احمدی کی وفات ہو گئی۔ ہم دونوں وہاں گئے اور مرحوم کی بیوہ اور بچوں سے ملے۔ انہیں تسلی دی اور مرحوم کی تجہیز و تکفین کے مناسب انتظامات کرنے کے بعد واپس لندن روانہ ہو گئے۔ راستہ میں آپؓ نے فرمایا کہ کیا آپ نے بیوہ سے اس کے مالی حالات کے بارہ میں دریافت کیا ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ یہاں بیوگان کو گورنمنٹ کی طرف سے بیوگی الائونس اور بچوں کی نگہداشت کے لئے مناسب پنشن ملتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا : ’گورنمنٹ تو قواعد کے مطابق جو امداد کر سکے گی وہ ضرور کرے گی۔ لیکن مرحوم جماعت احمدیہ کے فرد تھے۔ تمہارا بحیثیت مبلغ سلسلہ یہ فرض بنتا ہے کہ تم بیوہ سے ان کے حالات دریافت کرواور اگر گورنمنٹ کی امداد کے بعد بھی انہیں کسی مدد کی ضرورت ہو تو اس کا انتظام کرو‘۔ میں نے اگلے دن اس خاتون سے فون پر بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں اور اپنے مالی حالات بتائے۔ مَیں نے یہ سارا ماجرا حضرت چوہدری صاحبؓ کی خدمت میں عرض کر دیا۔ آپؓ نے فوراً اپنے قائم کردہ ٹرسٹ سے بیوہ کے لئے مناسب امداد کا انتظام کردیا۔
* نماز سے اپنی محبت کے حوالہ سے حضرت چوہدری صاحبؓ نے یہ واقعہ خود سنایا کہ ایک بار لندن آنے پر بادشاہ کی والدہ ملکہ میری (Mary)نے مجھے بطور شاہی مہمان قصر بیڈ منٹن (گلاسٹر شائر) میں دعوت دی۔ یہ ایک ہندوستانی کیلئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ محل میں پہنچنے پر لارڈ کلاڈ ہملٹن نے مجھے ملکہ کی خدمت میں حاضری کے آداب پر لیکچر دیا اور یہ بھی کہا کہ ملکہ کی حاضری کے وقت اپنی گھڑی کو نہ دیکھوں، ایسا کرنا بے ادبی میں شامل ہے۔ جب ملکہ تشریف لائیں اور گفتگو شروع ہوئی تو یہ ملاقات خلاف معمول لمبی ہو گئی۔ دورانِ ملاقات مجھے خیال آیا کہ میری عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے یہ کہیں ضائع نہ ہو جائے۔ اس پریشانی میں مَیں نے ملکہ کی نظر بچا کر اپنی گھڑی کو دیکھا۔ ملکہ بے حد زیرک تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تمہیں کسی اَور سے بھی ملنا ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ ملکہ معظمہ کی ملاقات سے بڑھ کر اور کونسی ملاقات ہو سکتی ہے۔ لیکن میں نے گھڑی کو دیکھنے کی گستاخی اس لئے کی ہے کہ مجھے مالکِ کُل جہان کے دربار میں بھی حاضری دینی ہے اور عصر کی نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ ملکہ نے فرمایا: ’’بے شک اپنے خالق کی عبادت اور اس کے احکامات کی تعمیل ہم سب پر فرض ہے‘‘۔ ملکہ معظمہ فوراً اُٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنی سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ظفر اللہ خان سے اس کی نمازوں کے اوقات دریافت کر کے مجھے اس کی اطلاع دو۔ نیز اگر میں کسی وقت ظفر اللہ خان سے محو گفتگو ہوں اور ان کی نماز کا وقت ہو جائے تو مجھے بتا دیا جائے۔ … اس کے بعد جب بھی میں ملکہ کی خدمت میں حاضر ہوتا وہ بار بار پوچھتی تھیں کہ آپ کی نماز کا وقت تو نہیں ہو گیا۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ کی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے ریٹائرمنٹ کا قصہ بھی بہت ایمان افروز ہے۔ 1972ء میں آپؓ کا نام بطور جج دوبارہ انتخاب کیلئے بھجوایا گیا۔ آپ کو یقین تھا کہ آپ مزید 9 سال کے لئے منتخب ہو جائیں گے لیکن ایک رات آپؓ نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا۔ انہوں نے کمال شفقت سے فرمایا: ظفر اللہ! اب دنیا کے ان جھمیلوں کو چھوڑ کر بقیہ زندگی کلیۃً خدمت دین کیلئے وقف کرد و۔ چنانچہ صبح اٹھ کر آپؓ نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنا نام واپس لے لیااور فوراً لندن چلے آئے کہ مبادا دیگر جج صاحبان آپؓ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ چاہتے تو خواب کی تعبیر کسی اَور رنگ میں کرسکتے تھے۔ لیکن آپ نے کسی دنیوی عہدہ یا ذرائع آمدن کی پرواہ نہیں کی۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ کو پاکستان سے بہت محبت تھی۔ فرمایا کرتے کہ1947ء میں تقسیم ملک کے وقت مَیں نے فیصلہ کر لیا کہ مَیں فیڈرل کورٹ آف انڈیا سے علیحدہ ہو جائوں گا اور لاہور جا کر وکالت کے پیشہ سے منسلک ہو جائوںگا۔ پنڈت نہرو صاحب نے مجھے ہندوستان میں رہنے کیلئے اعلیٰ عہدوں کی پیشکش کی لیکن مَیں آمادہ نہ ہوا۔ انہی دنوں نواب سر حمید اللہ خان والیٔ بھوپال دہلی تشریف لائے ۔ انہوں نے مجھے دعوت دی کہ کچھ عرصہ کے لئے بطور مشیر اُن کے پاس بھوپال آجائوں۔ مَیں نے اس وجہ سے کہ نواب صاحب ہمیشہ میرے ساتھ بہت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے، اُن کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ بھوپال پہنچا تو کھانے کی میز پر نواب صاحب نے فرمایا : ظفر اللہ خان! آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے کہ بھوپال میری مدد کیلئے تشریف لائے ہیں لیکن ہم نے آپس میں بات نہیں کی ہے کہ آپ کی خدمات کا معاوضہ کیا ہوگا؟ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں کسی معاوضہ کی لالچ میں آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا۔ آپ سے تعلقِ اخوّت و محبت کی وجہ سے میں نے آپ کی پیشکش کو قبول کیا ہے۔ نواب صاحب نے فرمایا کہ آپ کی ماہوار تنخواہ چالیس ہزار روپے ہوگی۔ اس پر کوئی ٹیکس بھی نہیں ہوگا۔ نیز ہم نے آپ کی رہائش کے لئے اپنے محل کا ایک آرام دہ حصہ مخصوص کر لیا ہے۔ آپ اور آپ کی فیملی کا کھانا شاہی مطبخ (باورچی خانہ) میں بلامعاوضہ تیار ہوا کرے گا۔
پھر نواب صاحب نے چھ نہایت خوبصورت بڑی موٹریں معہ ڈرائیورز دیں۔ مَیں نے عرض کیا مجھے تو صرف ایک گاڑی کی ضرورت ہوگی۔ وہ فرمانے لگے ایک گاڑی سے تو دل اکتا جاتا ہے اس لئے یہ سب گاڑیاں آپ کے لئے ہیں۔ غرض نواب صاحب نے کمال حسن سلوک کیا اور میری کوئی ایسی ضرورت نہ تھی جس کا انہوں نے خیال نہ رکھا ہو۔
کچھ عرصہ بعد قائد اعظم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمانے لگے کہ تم اب بھوپال سے اپنا تعلق ختم کر کے فوراً پاکستان آ جائو، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کر دیا۔ تنخواہ چار ہزار روپے ماہوار ملنے لگی جس پر ٹیکس بھی دینا پڑتا تھا۔ شروع میں لمبے عرصہ تک کراچی کے ایک ہوٹل میں دو کمروں میں رہائش رہی۔ ایک موٹر ملی۔ باوجود ان نامساعد حالات کے، مَیں نے پاکستان کی خدمت کا عزم کیااور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ مالی یا رہائشی پریشانی سے کیونکر نپٹا جائے گا۔
(یہ تھی چوہدری صاحب کی وطن سے محبت کی کیفیت!)۔
* سر خضر حیات خان صاحب ٹوانہ تقسیم ملک سے قبل متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے۔ ایک بار وہ لندن تشریف لائے اور پکاڈلی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت چوہدری صاحبؓ کا وہ بیحد احترام کرتے تھے۔ آپؓ اُن کو ملنے گئے۔ سر خضر حیات کے پرائیویٹ سیکرٹری نے استقبال کیا اور ہمیں اوپر کی منزل پر لے گئے۔ یہ ساری منزل سر خضر حیات صاحب کیلئے بُک کرائی گئی تھی۔ لفٹ پر بھی ان کے ملازم مامور تھے۔ خان صاحب ایک وسیع ڈرائنگ روم میں تشریف فرما تھے۔ ارد گرد ان کے خدام باادب ایستادہ تھے۔ انہوں نے نہایت پُر تپاک انداز میں حضرت چودھری صاحبؓ کااستقبال کیا اور بتایاکہ وہ جب بھی لندن آتے ہیں توہوٹل کا یہ پوراوِنگ ان کیلئے ریزرو ہوتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ اپنے کچن کاسٹاف، نوکر چاکر وغیرہ بھی لاتے ہیں۔ پھر بتایا کہ اس سال میری بیوی بچے میرے ساتھ نہ آسکے، تاہم یہ ساراونگ میرے لئے ریزرو ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ نے فرمایا: جب آپ کے اہل و عیال آپ کے ساتھ نہیں آئے تو پھر اتنی بڑی جگہ ریزرو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو رقم کا ضیاع ہے۔ اس پر سر خضر حیات صاحب نے کہا: ’’چوہدری صاحب ! میری ساری زندگی اسی طرح گزری ہے۔ ہمیں خدا نے بہت دولت دی ہے اور دولت تو ہوتی ہی انسان کے آرام کیلئے ہے‘‘۔ پھر اُن کے پوچھنے پر آپؓ نے فرمایا کہ ’’ مَیں احمدیہ مشن ہائوس میں اِن کے ساتھ والے فلیٹ میں رہتا ہوں اور کھانا بھی ان کے ساتھ کھاتا ہوں‘‘۔ سر خضر حیات صاحب نے کہا: ’’ چوہدری صاحب ! آپ کو بھی اللہ نے بہت دولت دی ہے۔ … آپ بڑے سے بڑے مکان میں رہائش اختیارکر سکتے ہیں۔ پھر یوں فقیری اختیار کرنے کی کیاضرورت ہے؟‘‘ آپؓ نے جواب دیا: ’’خضر! اس طرح فقیری میں زندگی گزارکرغریبوں، محتاجوں، بیوائوں اورناداروں کی خدمت کرنے میں جو لطف، سکون و اطمینان ہے، کاش وہ مَیں بیان کرسکتا!…‘‘۔
* ایک بار آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان جانے کے لئے کسی سستی ایئر لائن کاٹکٹ خرید لائو۔ مَیں نے اپنی بے وقوفی سے کئی بار عرض کیا کہ آپ کو فرسٹ کلاس میں سفرکرنا چاہئے لیکن آپؓ یہ سن کر خاموش رہے۔ بہرحال بُکنگ کروالی۔ اُسی شام مجھے اس ائیر لائن کے جنرل منیجر کافون آیا کہ تم نے جو ٹکٹ سر ظفر اللہ خان کیلئے خریدا ہے ،کیا یہ وہی ہیں جو پاکستان کے وزیر خارجہ اور انٹرنیشنل کورٹ کے صدر تھے۔ مَیں نے کہا: ہاں یہ وہی ہیں۔ اس نے کہا کہ اگرممکن ہو تووہ آپؓ سے ملناچاہیں گے۔ میں نے اگلے دن انہیں چائے پر بلایا۔ وہ تشریف لائے اور حضرت چوہدری صاحبؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ہماری ایئر لائن سے آپؓ سفرکرنے والے ہیں تو مَیں نے فوراً اپنے ہیڈ آفس سے رابطہ کرکے انہیں بتایا۔ اس پر مجھے ہیڈآفس سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ اُن کے ٹکٹ کو فرسٹ کلاس میں بدل دیا جائے اور انہیں VIP کی تمام سہولیات میسرکی جائیں اور فلائٹ کے دوران انکی خدمت کیلئے ائرہوسٹس مخصوص کی جائیں اور ان سے اکانومی اور فرسٹ کلاس کے درمیان کے کرایہ کا فرق قبول نہ کیا جائے۔
جب وہ صاحب چلے گئے تو حضرت چوہدری صاحبؓ نے میراہاتھ پکڑ کر نہایت جذباتی اندازمیں فرمایا: ’’آپ بار بارمجھے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کو کہہ رہے تھے اور مَیں اس بات پر مُصر تھا کہ مَیں اکانومی سے ہی سفر کروں گا اور رقم بچاکرغریبوں پرخرچ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس بحث ومباحثہ کو آسمان سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی محبت کااظہار یوں کیا کہ اس نے ایئر لائن کے جنرل منیجر کو تحریک کی کہ ظفراللہ خان جو ہماراایک عاجز بندہ ہے اور ہمیں پیارا ہے، اسے فرسٹ کلاس میں سفر کرائو۔ خواہ اس کے پاس اکانومی کاٹکٹ ہی کیوں نہ ہو!‘‘۔ مَیں نے دیکھا کہ یہ بات کرتے ہوئے آپ کی آنکھیں پُرنم تھیں۔
* حضرت چوہدری صاحبؓ صحیح معنوں میں ایک عارف باللہ وجود تھے۔ عبادت آپ کی روح کی غذا تھی۔ اعلیٰ ترین سطحوں کے اجتماعات ، میٹنگز ملاقاتوں میں کبھی آپ نے نماز قضا نہیں ہونے دی۔ دیکھنے اور جاننے والوں نے ہمیشہ آپ کو تہجد کا پابند پایا۔ آپ کا قیام لندن مشن کی تیسری منزل پر واقع ایک فلیٹ میں تھا۔ آپ ہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور باوجود پیرانہ سالی اور کمزوری کے اتنی ساری سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے۔ نماز جمعہ کے لئے اوّل وقت تشریف لاتے اور ہمیشہ پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…٭…
* حضرت چودھری صاحبؓ کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرمہ سلیمہ ناہید رفیق صاحبہ (اہلیہ محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب) لکھتی ہیں کہ حضرت چوہدری صاحبؓ
کو سالہاسال مَیں نے بہت قریب سے دیکھا اور مَیں علیٰ وجہ البصیرت کہہ سکتی ہوں کہ خلفائِ احمدیت کے بعد مَیں نے ان کو بہت عظیم پایا ہے۔
* آپؓ کھانے کے معاملہ میں نہایت سادگی پسند تھے۔ دس سالوں میں ایک دفعہ بھی کبھی کھانے میں نقص نہیں نکالا۔ بس جو بھی کھانا ان کے آگے رکھ دیا،کھا لیا۔ مَیں اکثر باصرار پوچھتی کہ اپنی من پسند کوئی چیز بتائیں تو اُن کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ اس بات کا دھیان رکھ کر کہ مَیں ذیابیطس کا مریض ہوں،آپ جو بھی پکائیں گے مَیں شوق سے کھالیا کروں گا۔ دہی اور شہدآپ کو بہت پسند تھے۔ آئس کریم بھی شام کے کھانے میں پسند فرماتے تھے۔ غذا کی مقدار بہت تھوڑی تھی۔
* آپ عمر کے لحاظ سے میرے والد صاحب سے بھی زیادہ عمر کے تھے۔ اگر میرے خاوند مصروفیت کی وجہ سے کھانے کے وقت پر گھر نہ پہنچ سکتے تو حضرت چوہدری صاحبؓ مقررہ وقت پر ڈائیننگ ٹیبل پر تشریف لاتے۔ مَیں کھانا پیش کرتی۔ آ پ سارا وقت نظریں نیچی رکھتے۔ بات بھی کرتے تو نظر ہرگز اُوپر نہ اٹھاتے۔ یہی حال میری بچیوں کے ساتھ تھا۔ ان سے بعض اوقات گھنٹوں باتیں کرتے رہتے تھے لیکن مجال ہے جو دورانِ گفتگو نظر اُونچی کی ہو۔ مجھے عام طور پر ’’خانم‘‘ کے لفظ سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔
* ٹیلی ویژن گھر میں رکھنا آپ کو پسند نہ تھا۔ بچوں کو بھی اس سے دُور رہنے کی تلقین فرماتے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ ٹیلی ویژن آنے سے لوگوں میں اعلیٰ ادبی ذوق ختم ہوتاجارہا ہے اور وقت ضائع ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایک دفعہ میرے بیٹے نے عرض کیا کہ اگر ٹی وی کا استعمال صرف خبروں کیلئے ہو تو پھر بھی آپ کو اعتراض ہوگا؟ فرمانے لگے: مَیں تم سے زیادہ باخبر رہتا ہوں اور مجھے دنیابھر کی خبریں اخبارات سے معلوم ہو جاتی ہیں۔ اخبار کو پڑھنے سے نہ صرف خبریں معلوم ہوتی ہیں بلکہ انگریزی زبان پر بھی قدرت پیدا ہوتی ہے۔
* اگرچہ حضرت چودھری صاحبؓ کو بوجہ ذیابیطس، وقت پر کھانا کھانے کی عادت تھی لیکن جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ تشریف لاتے تو مجھے فرمایا کرتے کہ آپ ساری توجہ حضورؒ کے آرام پر دیں۔ میرے پاس بسکٹ وغیرہ ہیں۔ وقت پر کھانانہ مل سکا تو بسکٹ کھالیا کروں گا۔ لیکن حضورؒ کو بھی حضرت چوہدری صاحبؓ کے آرام کا بیحد خیال رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضورؒ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اس بات پر سختی سے کاربند رہو کہ حضرت چوہدری صاحبؓ کو ہم سے پہلے کھانا بھجوایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں