حیاتیاتی ہتھیار اور اُن کا استعمال

لاٹھیوں، تلواروں اور نیزوں سے شروع ہونے والی انسانی جنگیں ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں تک پہنچ کر ہی ختم نہیں ہوگئیں بلکہ اب جانداروں کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے جنہیں حیاتیاتی ہتھیاروں کا نام دیا گیا ہے۔ ان ہتھیاروں کے زہریلے مادے انسانی، حیوانی یا نباتاتی زندگی کا خاتمہ یا اُن کو بیمار اور مفلوج کرسکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بارہ میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍ستمبر 1999ء میں مکرم آصف اقبال ڈار صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حیاتیاتی ہتھیاروں کا باقاعدہ استعمال 1347ء میں تاتاریوں نے اپنے دشمن کے جانوروں میں گلٹی دار طاعون پھیلاکرکیا تھا اور اس طرح دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا۔ بہت عرصہ بعد برطانوی حکومت نے امریکہ میں بسنے والے ریڈ انڈینز کو ایسے کمبل تحفہ میں دیئے جن میں چیچک پیدا کرنے والے جراثیم موجود تھے۔ جاپانیوں نے بھی ہزاروں چینی جنگی قیدیوں کو جراثیمی ہتھیاروںکے اثرات جاننے کے لئے تجربات میں استعمال کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے پاس تقریباً پچاس ہزار خشک چارے کی گانٹھیں تھیں جن میں ایسے جراثیم رکھے گئے تھے جن کے کھانے سے جانوروں میں ایک بیماری Anthrax پیدا ہو سکتی تھی۔ 1944ء میں برطانیہ نے یہ جراثیم سکاٹ لینڈ کے ایک قریبی جزیرے Gruinard میں گرائے جن کے اثرات ابھی تک علاقہ میں موجود ہیں۔
موجودہ دور میں عسکری مقاصد کیلئے جراثیم پر تحقیقات کا آغاز برطانیہ میں 1970ء میں ہوا۔ پھر اس دوڑ میں نیٹو کے ممالک بھی شامل ہوگئے اور امریکہ نے اس مقصد کیلئے پانچ کروڑ ڈالر فراہم کئے۔ روس نے امریکہ کی جانب سے حیاتیاتی حملہ کے امکان کے پیش نظر پیشگی اطلاع دینے والے طریقے وضع کرنے کا پروگرام شروع کیا اور اس مقصد کیلئے ایک لیبارٹری کی بنیاد رکھی جس کیلئے پانچ سو کروڑ امریکی ڈالر کی رقم مختص کی۔ اس لیبارٹری میں خفیہ طور پر مہلک وبائی بیماریوں کے جراثیم پر بھی کام ہوتا رہا۔
وہ حیاتیاتی عناصر جو بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پیتھوجنز کہلاتے ہیں۔ مثلاً بیکٹیریا، وائرس، پھپھوندی وغیرہ اور کئی صورتوں میں پروٹوزون۔ ان عناصر کو دفاع اور جارحیت، دونوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دفاعی مقصد کیلئے جرثوموں کی ویکسین بناکر ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔
جو جراثیم انسانوں میں بیماریاں پھیلانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُن میں مختلف قسم کے بخار، چیچک، راج پھوڑا، طاعون، ہیضہ، پیچش اور دماغ اور حرام مغز کی سوزش وغیرہ کے جراثیم شامل ہیں۔ ان بیماریوں کے جراثیم جانوروں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں اور اُن میں لمبا عرصہ تک موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح پودوں اور جانوروں کے خلاف بھی متعدد اقسام کے جراثیمی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار مختلف ذرائع سے دشمن کے علاقہ میں ہوا میں معلّق کئے جاتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم میں داخل ہوکر بیماری پیدا کرتے ہیں۔
1925ء میں لیگ آف نیشنز کے تحت ایک معاہدہ ہوا جس میں چالیس ممالک شامل ہوئے۔ معاہدہ کی رو سے ایسے زہریلے مادے اور گیسیں جو غشی، سکتہ یا دم گھٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں کسی بھی جنگی مقصد کے حصول کے لئے جراثیم کا استعمال روک دیا گیا۔ 1972ء میں اس معاہدہ کو مزید بہتر بناتے ہوئے کہا گیا کہ حیاتیاتی مادوں کو کسی بھی صورت میں جنگی مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/diinP]

اپنا تبصرہ بھیجیں