خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 8؍ جنوری 2010ء

خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے مال بھی پیش کرتا ہے اور اپنے اعمال بھی پیش کرتاہے اور جب یہ مال اور اعمال خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔
وقف جدید کے 52ویں سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے 35لاکھ 21ہزارپاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کی۔
وقف جدید کے نئے سال کے آغازکااعلان ۔
وقف جدید کے تحت افریقہ کے مختلف ممالک میں ہونے والے تبلیغی و تربیتی کاموں اور مساجد کی تعمیر سے متعلق کوائف کا مختصر تذکرہ ۔
وقف جدید کی مالی قربانی میں پاکستان اوّل، امریکہ دوسرے نمبر پر اور برطانیہ تیسرے نمبر پررہا۔
مختلف ممالک اور جماعتوں کی مالی قربانیوں کے موازنے اور محبت بھری دعائیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب مالی قربانیاں کرنے والوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور ہمیشہ ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کرتا چلا جائے۔
(رچناٹاؤن لاہور کے ایک احمدی پروفیسر (ریٹائرڈ) مکرم محمد یوسف صاحب ابن مکرم امام دین صاحب کی شہادت کا تذکرہ اور نماز جنازہ غائب)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 8؍ جنوری 2010ء بمطابق 8؍ صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً۔ وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (البقرۃ :246)

دنیا میں کسی بھی نظام کو چلانے کے لئے سرمایہ یا روپیہ پیسہ انتہائی ضروری اور بڑا اہم ہے۔ چاہے وہ دنیاوی نظام ہے یا دینی اور مذہبی نظام ہے تاکہ ملکی، معاشرتی، جماعتی ضرورتوں کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہوتی رہے۔
اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو گھر کا تمام مال سامنے رکھ دیا۔ پیغمبر خداا نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہئے اور آپ کی منشاء تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے‘‘۔ فرمایا ’’ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 361 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
پس جماعت میں جو چندوں کا نظام رائج ہے یہ اسی اصول کے تحت ہے کہ جماعتی ضروریات پوری کی جائیں اور اس کے لئے جو افراد جماعت ہیں وہ چند ہ ادا کرتے ہیں۔ جماعت کے چندہ کے نظام میں بعض لازمی چندہ جات ہیں جیسے زکوٰ ۃ ہے۔ وصیت کا چندہ ہے۔ چندہ عام ہے۔ جلسہ سالانہ ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسرے چندے ہیں جولازمی نہیں ہیں۔
زکوٰۃ کا جو نظام ہے یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ آنحضرتﷺ اس کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا اور اس کی وصولی کے لئے آنحضرت اکے وصال کے بعد بھی جب ایک گروہ نے مسلمان کہلانے کے باوجود اس کی ادائیگی سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سختی کرکے بھی زکوٰۃ وصول کی۔
(صحیح بخاری کتاب استتابۃ المرتدین، باب قتل من ابی قبول الفرائض حدیث نمبر 6925)
پس جن پر زکوٰۃ واجب ہے ان کے لئے اس کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اور اسی طرح زکوٰۃ کی فرضیت کے باوجود بھی اور اس کی وصولی کے باوجود بھی بعض اوقات ایسی ضروریات پڑتی تھیں جب آنحضرتﷺ بعض مہمات کے لئے زائد چندہ کی تحریک فرمایا کرتے تھے۔
(السیرۃ الحلبیۃ جلد 3 ’’غزوۃ تبوک ‘‘ صفحہ 183۔ 184 دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
پھر جماعت میں جیسا کہ مَیں نے کہا وصیت کا ایک نظام ہے۔ یہ وصیت کا چندہ ایک ایسا چند ہ ہے جو نظام وصیت کے جاری ہونے کے ساتھ جاری ہوا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 1905ء میں اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو جاری فرمایا اور اس نظام میں شامل ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری قرار دیا کہ وہ 1/10 سے لے کر 1/3 تک اپنی آمد اور جائیداد کی وصیت کر سکتا ہے اور وصیت کرنے کے بعد یہ عہد کرتا ہے کہ مَیں تا زندگی اپنی آمد کا 1/10 سے 1/3 تک (جو بھی کوئی اپنے حالات کے مطابق خوشی سے شرح مقرر کرتا ہے) ادا کروں گا۔ اسی طرح اگر زندگی میں نہ ادا کیا گیا ہو تومرنے کے بعد بھی جائیداد میں سے اسی شرح کے اندر رہتے ہوئے جو پیش کی گئی ہو اپنے عہد کے مطابق اس کی ادائیگی کے لئے اپنے ورثاء کو کہہ کے جاتا ہے۔ اور ہر موصی سے یہی توقع رکھی جاتی ہے اور رکھی جانی چاہئے کہ وہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی حقیقی آمد میں سے چندہ ادا کرے اور اس بارہ میں کسی قسم کا عذر نہ کرے اور عموماً موصی نہیں کرتے۔
پس ہر موصی کو خود بھی ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کہیں تقویٰ سے ہٹ کرمَیں اپنی کسی آمد کو چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو ظاہر نہ کرکے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد میں خیانت تو نہیں کر رہا؟ پس موصیان اور موصیات جماعت میں چندہ دینے والوں کا وہ گروہ ہے جس کے متعلق یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں اور ہر لحاظ سے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہیں جو اپنی آمد اور جائیداد کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی خوشی سے پیش کرتے ہیں۔ نیز اپنے اعمال پر نظر رکھنے والے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند تر کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔ اپنے اخلاق بہترین رنگ میں سنوارنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔ حقیقی مومن بننے کی طرف ہر طرح سے کوشش کرتے ہوئے قدم بڑھانے والے ہیں۔ اللہ کرے کہ ہر موصی اسی جذبہ سے وصیت کرنے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہو۔
زکوٰۃ کے بارہ میں تو کہہ چکا ہوں۔ پھر ایک چندہ عام ہے۔ یہ بھی جماعت میں رائج ہے جو شرح کے لحاظ سے 1/16 ہے اور خلافت ثانیہ میں چندہ عام کا یہ نظام باقاعدہ اس شرح سے جاری ہوا۔ یہ چندہ بھی درحقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہی جاری ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں بڑی سختی سے فرمایا ہے کہ اس کو اپنے اوپر فرض کرو اور ماہوار ادا کرو چاہے ایک پیسہ کرو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ358 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
اسے جو اپنے اوپر مقرر کیا ہے تو اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ پھر 1/16کیوں ؟۔ اس بارہ میں یہ واضح ہو کہ حالات کے مطابق اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پہلے دھیلا تھا۔ پھرپیسہ ہوا۔ 4پیسے ہوئے۔ 6پیسے ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ مالی قربانی کرنے کے لئے باقاعدگی سے دینے کے لئے اگر چارروٹیاں کھاتے ہو تو دین کی خاطر ایک روٹی قربان کرو۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 361 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
آپ نے یہ ایک روٹی کی قربانی جو فرمائی ہے تو یہ تو پھر % 25قربانی ہو گی۔ 1/16 کی شرح تو نہ رہی۔ یہ کم از کم مطالبہ ہے۔ پس یہ کہنا کہ ایک پیسہ یا پھر مرضی پر چھوڑا گیا ہے کہ کتنا چندہ ادا کرنا ہے،یہ غلط ہے۔ مطالبہ کا انحصار جماعتی ضروریات کے مطابق ہے اور اخراجات کے مطابق ہے۔ جس طرح نئے پروگرام بنتے ہیں ان کے مطابق بعض تحریکات بھی ہوتی ہیں۔ پس ان سب چندوں کے باوجود جب بھی اخراجات میں اضافہ ہوا، جماعتی پروگراموں اور ان کی منصوبہ بندی میں وسعت پیدا ہوئی۔ اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے امام کو بھیجا ہے اس کے لئے جب بھی اخراجات کی ضرورت پیدا ہوئی اور ان چندوں سے جو لازمی چندہ جات ہیں اخراجات پورے نہ ہوئے تو خلفاء تحریکات کرتے رہے۔
ایک بہت بڑی تحریک خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کی کی جبکہ دشمن نے قادیان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بڑ ماری تھی۔ آپ نے اُس وقت ایک تبلیغی پروگرام پیش کیا کہ اس طرح جماعت کو اپنی تبلیغ کو وسعت دینی چاہئے کہ ہم ملک سے باہر بھی نکلیں اور باہر نکل کر احمدیت یعنی اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلائیں۔
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہی ایک اور تحریک پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد 1957ء میں وقف جدید کے نام سے جاری فرمائی جس میں کچھ نہ کچھ دینی علم رکھنے والے واقفین کا بھی آپ نے مطالبہ کیا کہ اپنے آپ کو پیش کریں اور براہ راست، کسی دفتر کے تحت نہیں، بلکہ میرے ماتحت ہو کر کام کریں۔ (خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 9 جولائی 1957ء بحوالہ خطبات وقف جدید صفحہ 2۔ 3 ایڈیشن اول 2008 ناشر نظامت ارشاد وقف جدید، مطبوعہ ربوہ)
ان لوگوں کا کام دیہاتی علاقوں میں اور بعض خاص علاقوں میں تبلیغ کرنا تھا۔ پس جس طرح تحریک جدید کے ذریعہ دنیا میں مشن قائم ہوئے وقف جدید کے ذریعہ اندرون ملک بھی اور خاص طورپر سندھ کے علاقے میں کام لیا گیا اُس وقت پاکستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ان معلمین کے ذریعہ سے جن کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے براہ راست اپنے ماتحت رکھا تھا اور عارضی تربیت دی گئی تھی، تبلیغ اور تربیت کا کام کیا گیا۔ وہاں ہندوؤں میں غیرمسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے پوری کوشش کی گئی اور وہاں پہ کافی بڑا کام ہوا۔ بہرحال وقف جدید کی جو تحریک تھی یہ بھی آہستہ آہستہ پھیلتی گئی اور پہلے تو چند ایک عارضی معلمین تھے، پھر ان میں اضافہ ہوتا رہا۔ چند مہینے کا معمولی کورس کروا کر ان کو میدان عمل میں بھیج دیا جاتا تھا۔ پھر ان معلمین کی تربیت کا، تعلیم کا بھی باقاعدہ منظم نظام قائم کیا گیا اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں مدرسۃ الظفرکے نام سے باقاعدہ ایک مدرسہ ہے جہاں معلمین تیار ہوتے ہیں تقریباً تین سال کا کور س ان کو کروایا جاتا ہے اور واقفین نو بچوں کے بعد تو اس مدرسہ میں مزید و سعت پیدا ہوئی ہے اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تو یہ تحریک جیسا کہ مَیں نے کہا عموماً پاکستان کے لئے تھی اور اس تحریک میں چندہ پر زور بھی صرف پاکستان میں ہی دیا جاتا تھا۔ باہر کے ممالک اپنی خوشی سے اگر دے دیتے تھے تو ٹھیک تھا۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا ضروریات بڑھنے پر خلفاء تحریکات کرتے رہے۔ چنانچہ تبلیغ کے جو اخراجات تھے ان کو دیکھتے ہوئے اور خاص طور پر افریقہ اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں کام کو وسعت دینے کے لئے بعد میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے پاکستان سے باہر بھی اس تحریک کو عام کرنے کا اعلان فرمایا اور جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے لگیں۔ (ماخوذ ازخطبہ جمعہ فرمودہ 27 دسمبر 1985ء بحوالہ خطبات وقف جدید صفحہ 297 ایڈیشن اول 2008 ناشر نظامت ارشاد وقف جدید، مطبوعہ ربوہ)
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر سال وقف جدید کے نئے سال کا جنوری میں اعلان ہوتا ہے اور اس موقع پر وقف جدید کی مالی قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جماعت پر یہ احسان ہے کہ احباب میں مالی قربانی میں بڑھنے کی ایک خاص لگن پیدا کر دی گئی ہے، ایک جوت لگا دی گئی ہے۔ اس کام کے لئے جوت جگاتا چلا جاتا ہے۔ احباب جماعت مالی قربانی کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے اور جس کا قرآن شریف میں اور بھی کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ ایک حقیقی مومن پر مالی قربانی کی حقیقت کھول کر واضح کی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھائے اور اللہ (رزق) قبض بھی کر لیتا ہے (اسے روک بھی لیتا ہے) اور کھول بھی دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف لغات سے لفظ

یُقْرِضُ

پر بحث کی ہے اور

مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا

کے معنی اس طرح کئے ہیں کہ کون ہے جو اپنے مال کے ایک حصّے کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے اور دوسرے یہ کہ اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اس صورت میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی جزا کی امید رکھے۔ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 550 مطبوعہ ربوہ)
پس دنیاوی حکومتوں کے کام چلانے کے لئے جو چندہ یا ٹیکس لیا جاتا ہے وہ تو صرف مال تک محدود ہے اوردنیاوی منصوبہ بندی کرکے صر ف قوم اور ملک کی بہتری کے لئے، عوام کی عمومی اخلاقی حالت کے درست کرنے کے لئے انتظام کئے جاتے ہیں۔ ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے اس میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ لیکن مذہبی اور دینی جماعتوں کی ضروریات کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ مالی قربانی کرو،اللہ تعالیٰ کو قرض دوتووہ صرف مال تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے اعمال بھی شامل ہیں جو ایک مومن کی روحانیت کی ترقی کا باعث بھی بنیں۔ یعنی خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے مال بھی پیش کرتا ہے اور اپنے اعمال بھی پیش کرتا ہے اور جب یہ مال اور اعمال خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اِن کو کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔ یہ اس کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ مالی قربانی کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو وہ ایک مومن کو نیک کام پر خرچ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے۔ اعمال ہیں تو اللہ تعالیٰ کی خاطر بجا لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے قرضہ حسنہ دو،مَیں ضرورت مند ہوں۔ فرمایا مجھے دو،میری رضا کی خاطر خرچ کرو تا کہ میں اس کو کئی گنا بڑھاکر تمہیں واپس کر دوں۔ تم جماعتی ضروریات کے لئے قربانی کرو گے تو مَیں تمہیں اس کا اجر دوں گا۔ پس جب خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنا ہے تو خرچ کرنے والے کے دل میں چندوں کی ادائیگی کے وقت کسی قسم کا انقباض نہیں ہونا چاہئے۔ اس یقین پہ قائم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجھے خوشی سے قربانی کرنی چاہئے۔ اور پھر یہ کہ کبھی دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ مَیں نے اتنا چندہ دیا ہے اس وجہ سے جماعتی کارندوں کو میرا شکر گزار ہونا چاہئے۔ یا نظام کو میرا شکر گزار ہونا چاہئے۔ بے شک جماعتی کارکن جو ہیں اس کام کے لئے وہ چندہ دینے والے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ رسید پر بھی جزاکم اللہ لکھا ہوتا ہے لیکن دینے والے کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے کوئی احسان نہیں کیا۔ اُس نے تو خداتعالیٰ سے اپنا مال بڑھانے کا سودا کیا ہے۔ ایسا سودا کیا جو نہ صرف اس کا مال بڑھانے والا ہے بلکہ اس کی نیکیوں میں درج ہو کر مرنے کے بعد بھی اس کے کام آنے والا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ

سورۃ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ

پڑھ رہے تھے۔ آپﷺ نے اس کی تلاوت کے بعد فرمایا: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال! میرامال! اے ابن آدم کیا کوئی تیرا مال ہے بھی؟ سوائے اس مال کے جو تو نے کھایا اور ختم کردیا۔ یا جو توُنے پہنا اور پرانا اور بوسیدہ کر دیا۔ یا جو تو نے صدقہ کیا اور اسے آگے بھیج دیا۔ (مسلم کتاب الزھد والرقائق باب الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر)
پس مال کی تو یہ حقیقت ہے۔ جو کھایا وہ بھی ختم ہو گیا۔ لوگ کپڑوں سوٹوں، پوشاکوں، جوڑوں پر بڑا خرچ کرتے ہیں۔ وہ تو ایک دن پرانا ہو کر ختم ہو جائے گا۔ اگر کچھ عرصہ پہن کر کسی کو دے بھی دیا (دل سے اتر گیا) تو اپنے پاس بہرحال نہ رہا۔ اور اس کے بنانے میں جو مال خرچ ہوا وہ بھی دوسرے کے پاس چلا گیا۔ پھر جو خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کیا ہے و ہی آگے بھیجا ہوا مال ہے جو پھر اگلے جہان میں کام آئے گا اور اس انسان کی جس نے خرچ کیا ہے اس کی نیکیوں میں شمار ہو گا۔
ایک دفعہ آنحضرتﷺ نے بکری ذبح کروائی۔ گھر آئے تو پوچھا کہ کیا کچھ اس میں سے بچا ہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دستی بچ گئی ہے باقی سب اِدھر اُدھرتقسیم کر دیا ہے۔ فرمایا کہ دستی کے سوا سب کچھ بچ گیا ہے۔
(سنن ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق باب 98/33 حدیث 2470)
جو اللہ کی راہ میں دے دیا وہی حقیقت میں کام آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ قبول ہوتا ہے۔ پس جو مال خرچ کرنے والا ہے وہ جو مال بھی خرچ کرے اس کوکبھی یہ خیال دل میں نہیں لانا چاہئے کہ مَیں نے کوئی احسان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی،یہ اس کا وعدہ ہے۔
دنیاوی قرضہ حسنہ لینے والا تو اتنا ہی لوٹاتا ہے جتنا کہ قرض لیا گیا ہو اور اس میں بڑی ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کرواپس لوٹاتا ہے۔ پس جب مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے تو یہ سوچ کر دینا چاہئے کہ مَیں ایک ایسی ہستی کے نام پر دے رہا ہوں جو زمین و آسمان کا خالق و مالک ہے۔ اگر وہ مانگ رہا ہے تو اپنے لئے نہیں مانگ رہا بلکہ میرے فائدے کے لئے مانگ رہا ہے، دینے والے کے فائدے کے لئے مانگ رہا ہے۔ اور جب اس کے نام پر اس کی جماعت کی ترقی کے لئے دینا ہے تو بغیر کسی تردّد کے دوں اور بہترین دوں۔ اس میں کسی بھی قسم کی خیانت نہ ہو۔ بد عہدی نہ ہو۔ جو میرے پہ فرض ہے جو مَیں نے وعدہ کیا ہے اس کو ادا کرنے میں اپنی ذاتی ضرورتوں کو ترجیح نہ دوں۔ اور پھر جیسا کہ اس کے معنی میں ہم نے دیکھا ہے اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے جزا کی امید رکھے۔ مالی قربانی کرکے ایک مومن فارغ نہیں ہو جاتا بلکہ اُن شرائط کے ساتھ مالی قربانی کرکے جن کا مَیں نے ذکر کیا ہے پھر اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے اور اس سوچ کے ساتھ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر خداتعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنی ہے۔ نظام جماعت سے مضبوط تعلق بھی میرے فائدہ کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے کس قدر پیار کا سلوک ہے کہ بندے کو اپنی بھلائی کے لئے اس کی نیکیوں میں اضافے کے لئے احکام دیتا ہے اور پھر جب بندہ ان احکامات کی بجا آوری کرتا ہے تو فرماتا ہے کہ تُو نے یہ نیک کام میری خاطر کئے ہیں گویا کہ مجھے قرضہ حسنہ دیا ہے۔ اب اس قرضے کومَیں تجھے کئی گنا واپس کرکے لوٹاتا ہوں۔ یعنی ہر عمل جو انسان کرتا ہے ہر نیکی جو انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی قرضہ حسنہ کہا ہے اور اس لحاظ سے بندہ کو لوٹاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ ہمارے خدا کی یہ کیا شان ہے کہ اس قدر اپنے بندوں پرمہربانی کرتاہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
‘’ایک نادان کہتا ہے کہ

’’مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرۃ:246)۔

کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے۔ )اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے ‘‘(یہ آپ نادان آدمی کی تشریح فرما رہے ہیں ) فرماتے ہیں کہ ’’احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟‘‘ (اس بات سے یہ کہاں سے نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھوکا ہے اس لئے قرض مانگ رہا ہے) ’’یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے‘‘۔ (یہ مفہوم ہے اس کا کہ ایسی چیز ہے جس کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے۔ نادان اپنی طرف سے ہی) ’’ان کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہاں قرض سے مراد ہے کہ کون ہے جو خداتعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کرکے دیتا ہے۔ یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے۔ اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خداتعالیٰ بدوں کسی نیکی، دعا اور التجا اور بدوں تفرقۂ کافر و مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے‘‘۔ (فرمایا کہ اس کا صرف ایک ہی مطلب نظر آرہا ہے کہ اس کی خاطرجو کام کیا جائے اللہ تعالیٰ جزا کے طور پر اس کو کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے۔ اب یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ بندے کا اور خدا تعالیٰ کا جو تعلق ہے اس پر غور کرو تو صاف یہی سمجھ آتا ہے کہ نیکی دعا اورالتجا کے بغیربھی اور کافر و مومن کے کسی فرق کے بغیر اللہ تعالیٰ ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے۔ بغیر مانگے لوگوں کو دے رہا ہے۔ ) فرمایا کہ ’’اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔ پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا؟ (جب عمومی فیض ہر جگہ جاری ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ نیکی کرنے والے کی نیکی کو ضائع کر دے۔ ) ’’اس کی شان تو یہ ہے کہ

مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (الزلزال:8)

جو ذرّہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرّہ بدی کرے گا۔ اس کی پاداش بھی ملے گی۔ یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جواس آیت سے پایا جاتا ہے۔ چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا۔ اس لئے یہی کہہ دیا

مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرۃ:246)

اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے

مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہ(الزلزال:8)۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ 147۔ 148 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
پس اللہ تعالیٰ جب چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی بغیر جزا کے نہیں چھوڑتا تو اس کی خاطر کی گئی قربانیوں کو جو بڑی قربانیاں ہیں ان کو کس طرح بغیر جزا کے چھوڑے گا اور مال کی فراخی بھی اور عمل صالح کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس کے آگے جھکے رہنا چاہئے۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ

وہ روک بھی لیتا ہے اور فراخی بھی دیتا ہے۔ تو پھر ایک مومن کو ہمیشہ خدا پر نظر رکھنی چاہئے اور نیک اعمال سے اُسے راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ مالی فراخی بھی ملتی رہے اور اس دنیا میں بھلائیاں بھی نصیب ہوں۔ اور مرنے کے بعد بھی اس کی رضا حاصل ہو۔ یہ وہ اصل ہے جسے ایک مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اس کو اپنے سامنے رکھتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ جذبہ ہمیشہ ہمارے اندر قائم رہے اور جب تک یہ قائم رہے گا ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے۔
جیسا کہ مَیں نے کہا کہ لندن ہجرت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے محسوس کیا کہ جماعت کے منصوبوں میں وسعت کی ضرورت ہے اور خاص طور پر افریقہ کے ممالک اور ہندوستان میں تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں کے اخراجات کے لئے، مال کی ضرورت ہے، روپے پیسے کی ضرورت ہے اور جماعت کے عمومی بجٹ سے یہ کام نہیں ہو رہا، اخراجات پورے نہیں ہو رہے تو آپ نے تمام دنیا کے لئے وقف جدید کے چندے کو پھیلا دیا۔ یعنی تمام جماعتوں خاص طور پر امیر جماعتوں پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ اس تحریک میں چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جماعت نے لبیک کہا اور ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کی ادائیگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے اعداد و شمار تو مَیں آخر میں پیش کروں گا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید میں بھرپور شمولیت سے تبلیغی پروگراموں میں بھی بڑی وسعت پیدا ہوئی ہے۔ تحریک جدید تو اپنا کام کر رہی ہے، پہلے بھی کر رہی تھی۔ وقف جدید کی وجہ سے یورپ اور امریکہ کے ملکوں کے وقف جدید کے جوچندے ہیں یہ افریقہ وغیرہ میں خاص طور پر اور ہندوستان میں کاموں کو آگے بڑھانے میں بڑا کردار ادا کررہے ہیں۔
کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ ان ملکوں میں رہنے والے جو احمدی ہیں شاید وہ اس مد میں قربانیاں نہیں دے رہے۔ افریقہ کے ممالک میں بھی جماعت کے اندر باقی اَور ملکوں کی طرح قربانیوں کی روح پیدا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ لوگ اپنے خرچ پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کی جماعتیں ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ ایک دو سال میں مالی قربانیوں کی طرف ان میں بڑی تیزی سے توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قربانیوں کے معیار بھی بڑھاتا چلا جائے۔
اس وقت مَیں آپ کے سامنے افریقہ کے بعض واقعات رکھوں گا کہ ہمارے جو پروگرام ہیں، منصوبے ہیں ان کی وجہ سے کس طرح وہاں کام ہو رہے ہیں اور کس طرح لوگوں کی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔
گھانا سے جبرئیل سعید صاحب کی ایک رپورٹ ہے کہ نومبائعین کے علاقوں اور نئی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 9مساجد زیر تعمیر ہیں۔ دو مساجد مکمل ہو چکی ہیں۔ ان نئے علاقوں میں مزید 25مساجد کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ اس وقت احمدیت میں نئے داخل ہونے والے 30 اماموں کو تربیت دی جا رہی ہے اور ان کا ٹریننگ کورس ہو رہا ہے۔ 48 نوجوانوں کا ان کے دیہات سے انتخاب کرکے ان کو امام بنانے کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ ٹریننگ کے بعد ان کو علاقوں میں امام بنا کر بھجوایا جائے گا۔ وقف جدید کے اصول کے تحت جس طرح پہلے معلمین کو عارضی ٹریننگ دی جاتی تھی اسی طرح معلمین کو وہاں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ وہاں امام کہتے ہیں اور کچھ معلم کہتے ہیں۔ یہ پچھلے مہینہ کی رپورٹ تھی۔
پھر سیرالیون کے امیر صاحب لکھتے ہیں۔ مکینی (Makini)جو کہ ناردرن صوبہ کاریجنل ہیڈ کوارٹر ہے اس میں ایک لمبے عرصے تک چونکہ مسجد نہیں تھی اس لئے مشن ہاؤس کے برآمدے میں نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔ بعض احمدی بھی غیر احمدیوں کی مساجد میں جاتے تھے اور گنتی کے چند احباب نمازوں اور جمعوں پر آیا کرتے تھے۔ مسجد نہ ہونے کی وجہ سے احمدی بھی ادھر چلے جاتے تھے۔ لیکن جب مکینی کی مسجد بنی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف احمدی واپس آئے ہیں بلکہ بہت ساری نئی بیعتیں ہوئی ہیں اور اب جمعہ کے رو ز یہ مسجد کم پڑ جاتی ہے اور اس سے چندوں میں بھی غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ مسجد کی وجہ سے ایک جگہ ان کو مل گئی۔ ایمان میں مضبوطی پیدا ہوئی۔ پہلے تو اِدھر اُدھر چلے جاتے تھے۔ اس کی وجہ سے جہاں دوسری نیکیاں بجا لانے کی طرف توجہ پیدا ہوئی وہاں چندوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی۔ اور کہتے ہیں کہ اسی طرح اس مسجد کی تعمیر کی وجہ سے مکینی شہر میں ہی دوسرے محلے میں تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور مضبوط جماعت قائم ہوئی ہے اور ایک بنی بنائی مسجد بھی ملی ہے اور یہ لوگ بھی باقاعدہ چندہ ادا کرتے ہیں اور روزانہ وہاں لوکل مشنری جومعلم ہے ان کی تربیتی کلاس بھی لیتے ہیں۔ تو ایک مسجد بنائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اضافہ کیا۔ دوسری خود عطا فرما دی۔
یوگنڈا کے امیر صاحب کو مَیں نے کہا تھا کہ2010۔ 2009ء میں 25مساجد بنائیں۔ اس میں سے10 مساجد جماعت یوگنڈا اپنے خرچ پہ بنائے گی اور 15مساجد کے لئے مرکز30 ملین شلنگ مہیا کرے گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس طرح 25مقامات پر مساجد کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے اور ان جگہوں پر نومبائعین میں ایک نئی روح پیدا ہوئی ہے اور بڑے جوش و خروش سے اپنی اپنی مساجد کے لئے وقار عمل کر رہے ہیں اور پختہ بلاک وغیرہ جو ہیں وہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بعض جگہیں ہیں۔ دوسری جگہوں میں کمولی زون میں 4 مساجد کی اجازت ملی تھی۔ اس میں بھی لوگ مالی قربانیاں کر رہے ہیں۔ اسی طرح اور جگہوں پر بھی۔ امبالے زون میں ایک مخیراحمدی دوست مکرم سلیمان مفابی صاحب نے 15ہزار امریکن ڈالر خرچ کرکے ایک بہت خوبصورت مسجد بناکے جماعت کو دی ہے اور لاؤڈ سپیکر کا انتظام بھی کروایا ہے۔ وہاں کے لوگ بھی جو احمدی ہو رہے ہیں قربانیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ صرف یہاں کی قربانیوں پر انحصار ہے۔ یہی دوست امبالے ہی میں ایک اور جگہ پر ایک بڑی مسجد بنا رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہر سال مساجد بنوانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ یہی قربانی کی روح ہے جو ان لوگوں میں بڑھ رہی ہے۔ پھرمکونوزون میں خدا کے فضل سے پانچ مقامی احمدیوں کی ایک ٹیم بن گئی ہے۔ جو مخیر حضرات ہیں وہ اپنے طور پر ہر سال 3نئی مساجد اپنے ذمہ لے لیتے ہیں اور سارا سال ان کی تعمیر کرواتے ہیں۔ ان کے مکمل ہونے پر مزید جماعتوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ تو یہ جو مسجدیں بنانے کی جاگ لگی تھی پہلے تو مرکزپر انحصار تھا اب ان میں خود بھی روح پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے، انہوں نے بھی چندے دینے شروع کر دئیے ہیں۔
بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن داسا (Dasa)میں مخالفت آج کل ز وروں پر ہے اور مخالفین نے جماعتوں میں جا کر احمدیت کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا کام تیز کر دیا ہوا ہے اور جماعت احمدیہ نے جہاں ابھی مسجد نہیں بنائی ان کو مساجد کا وعدہ دے کر جماعت کو چھوڑنے پر اکساتے ہیں۔ بعض عرب ملکوں سے یہ لوگ پیسہ لیتے ہیں۔ وہاں جماعت کے خلاف بڑی مہم چل رہی ہے۔ مثلاً حال ہی میں داسا ؔسے 20کلو میٹر کے فاصلے پر ایک جماعتIgangba میں مولویوں کا وفد پہنچا اور جماعت کی مخالفت شروع کر دی تو اس جماعت کے لوگوں نے انہیں روک دیا اور کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہم مسلمان ہیں۔ آپ تو کبھی ہماری تربیت یا ہمیں نماز روزہ سکھانے نہیں ائے۔ اب احمدیوں نے یہ کام شروع کیا ہے تو تم مسجد بنانے آ گئے ہو۔ یہاں سے چلے جاؤ۔ اگر مسجد بنے گی تو جماعت احمدیہ کی بنے گی۔
پھر کونگو برازاویل سے مربی سلسلہ کی رپورٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 2009ء میں 51نئے دیہات میں پہلی دفعہ جماعت کا پودا لگانے کی توفیق ملی اور 22جماعتیں قائم ہوئیں۔ تبلیغ کی جو مہم شروع کی گئی تھی اس میں یہ قائم ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے پہلی مسجد تعمیر کی تھی اور اسی سال دوسری مسجدKiossi کے مقام پر تعمیر کر رہے ہیں جو ایک مہینہ تک مکمل ہوجائے گی۔ اسی طرح اور جگہوں پر مسجدیں بنتی چلی جائیں گی۔
ان ملکوں میں تبلیغ کے کام میں یہ بڑا کام ہو رہا ہے اور یہاں مرکز سے ان کو مالی امداد کی جاتی ہے اپنے ذرائع فی الحال ان کے پاس ایسے نہیں۔
غانا میں تبلیغ اور تربیت کا کام ملک کے شمالی اور جنوبی دونوں علاقوں میں جاری ہے۔ جبرئیل سعید صاحب کی رپورٹ ہے کہ اس وقت جنوبی غانا میں آچم(Akyim) اور ایک اور علاقہ ہے آکویاپم(Akuapim) کے علاقوں میں تبلیغ کا کام جاری ہے۔ شمالی علاقے میں بھیYendi کے علاقے میں ایک ہی ٹیم تبلیغ اور تربیت دونوں کام کر رہی ہے اور اس کے علاوہ والے والے (Walewale)میں ایک ان کا علاقہ ہے اوورسیز (Over Seas) ان علاقوں میں 15معلمین تربیت کام سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ نام اوورسیز عجیب لگتا ہے لیکن آگے اس کی وضاحت آئے گی۔ اسی طرح دریائے وولٹا کے کنارے کام ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دس جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ وہاں بھی تربیتی ٹیم بھجوانے کا پروگرام ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوورسیز کا جو ذکر کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ بہت وسیع ہے اور بڑے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں بہت سے گاؤں شامل ہیں اورسہولیات بالکل نہیں ہیں۔ بہت کمی ہے۔ سفر کی دقت اور راستے کی دُوری کی وجہ سے یہ علاقہ اوورسیز کے نام سے مشہور ہے۔ جب سفر کرکے وہاں جاؤ تب یہ احساس ہوتا ہے کہ چل کے تو پیدل ہی آئے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ کالے پانی آ گئے، سات سمندر پار کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ واقعی اسم بامسمیٰ ہے۔ اس جگہ پر پہلی مرتبہ کوکوا (Kukua) کے مقام پر تقریباً 50لوگوں نے بیعت کی اور دو مسلمان گھرانوں کے علاوہ باقی لوگ غیر مسلم ہیں اور اکثر احمدی مسلمان بن گئے ہیں اور ان علاقوں میں بھی جماعت کے پروگراموں کے دوران جمعہ کا دن بھی آیا لیکن پورے علاقے میں کہیں کوئی مسجد نہیں تھی۔ یہاں کبھی کسی نے جمعہ نہ پڑھا اور نہ ہی پڑھایا تھا۔ اس موقعہ پر کہتے ہیں مَیں نے پہلی دفعہ درخت کے نیچے جمعہ کی نماز پڑھائی اور یوں اس دور دراز علاقے میں پہلی مرتبہ احمدیت کی برکت سے جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔ اب اس علاقہ میں ایک مسجد کی تعمیر کا پروگرام ہے او ر انشاء اللہ جلدی شروع ہو جائے گی۔
کانگو برازیل سے(ہمارے مبلغ) لکھتے ہیں کہ ہمارے ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ، مجالس سوال و جواب جاری ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ایک پروگرم میں ایک دہریہ نے کہا کہ مجھے’ خدا ہے‘ کی سمجھ نہیں آتی، آپ مجھے خدا ہے کا مسئلہ سمجھا دیں تو مَیں مسلمان ہو جاؤں گا۔ تو کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ آدھے گھنٹے میں اس کو خدا ہے کا مسئلہ سمجھ آ گیا اور بہت بڑے مجمع میں اس نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آج تک کوئی پادری مجھے یہ مسئلہ نہیں سمجھا سکا۔ لیکن مسلمانوں کے مشنری نے میری تسلی کرا دی ہے اور آج مَیں مسلمان ہوتا ہوں۔
اسی طرح ہمارے ایک معلم، جو وہیں سے ٹریننگ لے کر کام کر رہے ہیں تبلیغ کی غرض سے ایک گھر میں چلے گئے اور گھر کے مالک کو بتایا کہ اسلام کا پیغام لے کرآیا ہوں۔ جونہی اس نے اسلام کا نام سنا آگ بگولا ہو گیا اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ ہمارے معلم نے کہا ٹھیک ہے آپ جو مرضی سمجھتے رہیں۔ لیکن ایک د فعہ میری بات سن لیں۔ لوگوں نے کہا کہ چلو سن لو کیا کہتا ہے؟ معلم نے پہلے تو ان کے غلط عیسائی عقائد کا رد ّبائبل کی رو سے کیا۔ پھر اسلام کی حسین تعلیم پیش کی جس کا لوگوں پر خاص اثر ہوا۔ اس وقت تو وہ شخص نہیں بولا۔ لیکن دوسرے دن معلم کے پاس آیا اور معافی مانگی کہ کل جو کچھ مَیں نے کیا تھا اچھا نہیں کیا اب مجھے سمجھ آ گئی ہے۔
اسی طرح نائیجیریا میں تبلیغ کا بڑا کام ہو رہا ہے۔ بہت سارے امام کام کرر ہے ہیں۔ معلمین اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ کنشاسا میں بہت کام ہو رہاہے اور بڑے بڑے دُور دراز علاقوں میں اسلا م کا تبلیغی پیغام بھی پہنچ رہا ہے۔ تبلیغ بھی ہو رہی ہے اور مساجد بنانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔
بورکینیا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ریڈیو کے سلسلے میں ایک اور واقعہ درج ہے کہ ماہ دسمبر میں ایک بزرگ جن کا نام تارورے تموگو ہے ان کی عمر85سال ہے، احمدیہ مشن آئے اور بتایا کہ وہ بیعت کرنے آئے ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے ریڈیو احمدیہ سن رہے ہیں اور اب زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے بیعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 10دسمبر2009ء کو انہوں نے بیعت کرلی۔ دوران ماہ بوبوجلاسو مشن میں 40افراد آئے اور بیعت کرکے احمدیت میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیو کے ذریعہ پیغام پہنچا۔
ریجن وایوگیا کے مشنری لکھتے ہیں کہ وہ ایک گاؤں پوبے منگاؤ(Pobe Mengao) میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز تقسیم کر رہے تھے جس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر تھی۔ جب انہوں نے یہ رسالہ ایک شخص ساوادوگو آدم (Sawadogu Adam) نامی کو دیا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر دیکھتے ہی کہا کہ یہ بزرگ تو کئی بار مجھے خواب میں مل چکے ہیں۔ اس پر ہمارے مشنری صاحب نے بتایا کہ یہ بانی جماعت احمدیہ اور مسیح موعود ہیں اس پر وہ شخص بیعت کرکے جماعت میں داخل ہو گیا۔
بہرحال اس طرح کے کافی واقعات ہیں۔ لیکن وقت تھوڑا ہے۔ وقف جدید کی جو رپورٹ پیش کی جاتی ہے وہ سامنے رکھتا ہوں۔ یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے نئے سال کا اعلان بھی کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سال کو بے انتہا برکات کا حامل بنائے اور پہلے سے بڑھ کر جماعت کو قربانی کی توفیق ملے۔ وقف جدید کا یہ جو 52 واں سال تھا اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے 35لاکھ 21ہزار پاؤنڈ کی قربانی پیش کی۔ الحمدللہ۔ یہ گزشتہ سال سے 3 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔
پاکستان حسب سابق نمبرایک پہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ لوگ۔ باوجود غربت کے حالات کے قربانیاں کر رہے ہیں اور اس دفعہ وقف جدید میں 8ہزار نئے افراد شامل ہوئے ہیں۔
امریکہ دوسرے نمبر پر ہے انہوں نے بھی 62 ہزار ڈالر کا اضافہ کیا ہے اور برطانیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ برطانیہ نے بھی اس سال پچھلے سال سے ایک لاکھ آٹھ ہزار پاؤنڈ زائد اضافہ کیا ہے اور 2ہزار افراد شامل ہوئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ ہیں تو 2اور 3۔ برطانیہ میں بھی مساجد کی طرف توجہ ہے امریکہ میں بھی توجہ ہے لیکن مَیں سمجھتا ہوں ایک چیز کے لحاظ سے UK کا دوسرا نمبر ہے۔ امریکہ میں چند ایک لوگوں نے آخر میں غیر معمولی چندہ دے کرجو کمی تھی اسے پورا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ چند ہزار ڈالر یا پاؤنڈ اوپر چلے گئے ہیں۔ لیکن عمومی لحاظ سے رپورٹ دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ شاملین کی طرف توجہ اور محنت جو ہے وہ UK جماعت نے زیادہ کی ہے اور ان کی جو کوشش ہے وہ کافی قابل ستائش ہے۔ تو اس لحاظ سے ان چار پانچ چھ آدمیوں کو نکال دیا جائے جنہوں نے امریکہ میں غیر معمولی قربانی دی ہے تو برطانیہ دوسرے نمبر پر ہی ہے۔ ان پانچ چھ آدمیوں کی قربانیوں کا بھی فائدہ ہے لیکن مجموعی طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں جو نظام ہے اس نے اس طرح توجہ نہیں دی اور محنت نہیں کی جس طرح UK میں کی گئی ہے۔ اس لئے میرا خیال ہے انشاء اللہ تعالیٰ اگلے سال اس لحاظ سے بھی برطانیہ آگے نکل جائے گا۔ اور دوسری پوزیشن پہ آ جائے گا۔
چوتھے نمبر پرجرمنی ہے۔ انہوں نے پچھلے سال اپنی چوتھی پوزیشن کھو دی تھی اس سال ایک لاکھ 9 ہزار یورو کا انہوں نے اضافہ کیا ہے۔ کینیڈا پانچویں نمبر پہ ہے۔ دفتر اطفال میں بچوں کو شامل کرنے میں کینیڈا بہت محنت سے کام کرر ہا ہے۔ پھر انڈیا ہے، انڈیا بھی چھٹے نمبر پر ہے انہوں نے بھی اپنی مقامی کرنسی میں 29لاکھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔ یہ بھی جیسا کہ مَیں نے کہا قربانیوں میں بڑھ رہے ہیں۔ کہیں نام نہیں ہوتا تھا اب آہستہ آہستہ اوپر آ رہے ہیں۔ پھر ساتویں نمبر پر انڈونیشیا ہے، آٹھویں نمبر پر آسٹریلیا ہے، دسویں سے آٹھویں پوزیشن پہ آ گئے ہیں۔ پھر نویں پربلجیم ہے، دسویں پر فرانس اور سوئٹزر لینڈ ہیں۔
کرنسی کے لحاظ سے لوکل کرنسی میں اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سال کے مقابل پر پانچ ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے زیادہ وصولی کی ہے۔ آسٹریلیا نے 48 فیصد اضافہ کیاہے اور انڈیا 47.05 فیصد اضافہ کرکے نمبر 2پرہے۔ جرمنی نے 26.6 فیصد اضافہ کیا ہے۔ برطانیہ نے 20.18 فیصد اضافہ کیا ہے۔ بلجیم نے 12.05 فیصد اضافہ کیا۔
فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا وہاں چند ایک امیر لوگ ہیں جو زائد رقم دے کر یہ کمی پوری کر دیتے ہیں۔ فرانس دوسرے نمبر پر43 پاؤنڈ اور برطانیہ تیسرے نمبر پر 38پاؤنڈ یا 39 سمجھ لیں، سوئٹزرلینڈ چوتھے نمبر پر اور کینیڈا پانچویں نمبر پر ہے۔
افریقہ میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے پہلی پانچ جماعتیں یہ ہیں۔ نمبر ایک پہ گھانا ہے، نمبر 2 پہ نائیجیریا ہے نمبر3 پہ ماریشس ہے، نمبر4پہ بورکینا فاسو ہے۔ بورکینا فاسو اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اپنے شاملین کی تعداد میں 43 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا ہے اور یہی مَیں نے کہا تھا کہ اصل چیز یہ ہے کہ نئے آنے والوں میں بھی اور بچوں میں بھی قربانیوں کی روح پیدا کی جائے۔ جس کے لئے بورکینا فاسو میں خاص کوشش کی گئی ہے۔ پانچویں نمبر پر بینن ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے ملک ہیں جو کافی کوشش کررہے ہیں۔
وقف جد ید میں چندہ ادا کرنے والوں کی تعدا د جو ہے اللہ کے فضل سے 5 لاکھ 73ہزار سے تجاویز کر گئی ہے۔ 36ہزار 323 اس دفعہ نئے شامل ہوئے ہیں۔
پاکستان میں چندے کے لحاظ سے اطفال اوربالغان کا علیحدہ علیحدہ بھی حساب رکھا جاتا ہے۔ کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اس لئے ان کے لئے یہ رپورٹ بھی دینی ضروری ہے۔ بالغان جو ہیں ان میں پہلی تین جماعتیں یہ ہیں۔ پہلے نمبر پر لاہور، دوسرے پر کراچی اور تیسرے پر ربوہ۔
اور بالغان میں پہلے دس اضلاع جو ہیں۔ وہ ہیں سیالکوٹ، دوسرے پر راولپنڈی، تیسرا اسلام آباد، چوتھا فیصل آباد، پانچواں شیخوپورہ، چھٹا گوجرانوالہ، ساتواں ملتان، آٹھواں سرگودھا،نواں گجرات اور دسواں عمر کوٹ۔
اور اطفال میں پہلی تین جماعتیں ہیں اوّل کراچی، دوم لاہور اور سوم ربوہ۔ اور اس میں بھی پہلے دس اضلاع ہیں۔ نمبر ایک سیالکوٹ، دوم اسلام آباد، تین راولپنڈی، چار شیخوپورہ، پانچ گوجرانوالہ، چھ فیصل آباد، سات نارووال، آٹھ سرگودھا، نو گجرات اور دس بہاولنگر۔
مجموعی وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی پہلی پانچ جماعتیں۔ نمبر ایک پر سیلیکان ویلی، دو۔ لاس اینجلس ایسٹ، تین۔ ڈیٹر ائٹ، چار۔ لاس اینجلس ویسٹ، اور پانچ۔ لاس اینجلس ایسٹ ان لینڈ امپائر۔
اور برطانیہ کی پہلی دس جماعتیں ہیں۔ یہ ان سے رعایت کی ہے باقیوں کو پانچ پانچ رکھا ہے، آپ کو دس رکھ دیا ہے۔ نمبر ایک مسجد بیت الفضل، ووسٹر پارک، تین سٹن، چار نیو مولڈن، پانچ ویسٹ ہل، چھ ٹوٹنگ، سات انرپارک، آٹھ بیت الفتوح، نوسربٹن اور دس ساؤتھ ایسٹ لندن۔ ریجن کے لحاظ سے لندن ریجن اوّل ہے، مڈلینڈ دوم اور نارتھ ایسٹ ریجن سوم۔
یہ موازنے یہ بتانے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ یہ یہ قربانیاں آپ نے کی ہیں۔ اصل قربانیاں تو مومن اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے۔
جرمنی کی پانچ نمایاں لوکل امارتیں یہ ہیں ہمبرگ، گروس گراؤ، فرینکفرٹ، مائنز۔ ویز بادن اور ڈارمشٹڈ۔
کینیڈا میں جیسا کہ مَیں نے کہا اطفال اور بالغان کا انہوں نے علیحدہ علیحدہ حساب رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں بالغان جو بڑے لوگ ہیں ان کی چندے کے لحاظ سے پانچ جماعتیں جو ہیں ان میں مارکھم، بریمپٹن سپرنگ ڈیل، آٹوا، ٹورانٹو سنٹرل اور کیلگری ساؤتھ ویسٹ۔ اور اطفال کے لحاظ سے بیری،مارکھم، ویسٹن آئی لنگٹن(Weston Islington)، ویسٹن ساؤتھ(Weston South)،ویسٹن نارتھ ایسٹ (Weston North East)۔
اللہ تعالیٰ سب قربانیاں کرنے والوں کی ان قربانیوں کو قبول فرمائے۔ ان کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور ہمیشہ ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کرتا چلا جائے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ’’یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پُر خطر اور پُر فتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اس کے بندے میں ہونا چاہئے بڑے زورو شور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے اپنے اپنے حسن خاتمہ کی فکر کریں ‘‘ (اپنے اپنے اچھے خاتمہ کی فکر کریں ) ’’اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کے فدا کرنے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں اور خداتعالیٰ کے اس غیر متبدّل اور مستحکم قانون سے ڈریں جو وہ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے۔

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران:93)

یعنی تم حقیقی نیکی کوجو نجات تک پہنچاتی ہے ہرگز پا نہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خداتعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں ‘‘۔
(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 38۔ 37)
اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق دیتا رہے۔ قربانیوں کے لئے خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہم ہمیشہ تیار رہیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام جس مشن کو لے کر آئے تھے اس کو ہمیشہ آگے بڑھانے والے ہوں۔
آج ایک افسوسناک خبر بھی ہے۔ ہمارے لاہور کے ایک احمدی مکرم پروفیسر (ریٹائرڈ) محمد یوسف صاحب (ابن مکرم امام دین صاحب رچنا ٹاؤن) 5جنوری کی صبح اپنی رہائش سے ملحقہ بیٹے کے جنرل سٹور پر بیٹھے ہوئے تھے کہ سواآٹھ بجے کے قریب موٹر سائیکل پرسواردو نقاب پوش آئے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کی آواز سن کے ان کا بیٹا باہر نکلا لیکن دیکھا تو ان کو زخمی حالت میں پایا اور ہسپتال لے جایا گیا لیکن راستے میں ہی وفات پا گئے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

شہید مرحوم کی عمر 65سال تھی۔ اس علاقہ میں بڑے عرصے سے مخالفت جاری تھی اور مولوی مختلف بینر لگا لگا کے اور اشتہار لگا کے احمدیوں کے خلاف اکسا رہے تھے۔ بحیثیت صدر آپ جماعت میں 20سال سے کام کر رہے تھے۔ تین سال سے زعیم اعلیٰ انصاراللہ تھے۔ آپ کو دو دفعہ اسیرراہ مولیٰ رہنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ بڑی سلجھی ہوئی شخصیت تھے۔ ایم اے پنجابی اور ایم ایڈ کیا ہوا تھا اور گورنمنٹ ملازم کے طور پر ٹیچنگ کرتے رہے۔ گو رنمنٹ ہائی سکول شاہدرہ میں سینئر سائنس ٹیچر تھے۔ سینئر ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مرید کے میں پرنسپل رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ایک سکول بھی کھولا۔ بڑے ملنسار، فدائی احمدی تھے۔ خاندان میں اکیلے ہونے کے باوجود ہر لحاظ سے ہمیشہ استقامت دکھائی۔ آپ نہ صرف خود خلیفہ وقت کے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے بلکہ اپنی اولاد کی بھی اس رنگ میں تربیت کی کہ ساری اولاد کا احمدیت اور خلافت سے پختہ تعلق ہے۔ موصی تھے اور آپ کی ساری اولاد بھی نظام وصیت میں شامل ہے۔ آپ کے پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اورچار بیٹے ہیں۔ ابھی انشاء اللہ تعالیٰ نماز وں کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اور اپنی جنتوں میں ان کو اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X