خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍ جنوری 2010ء

پس اگر اندھیروں سے نکلناہے اور نور حاصل کرنا ہے اور زمانہ کے امام کی بیعت کا صحیح حق ادا کرنا ہے تو دنیا داری کی باتوں کو چھوڑنا ہو گا۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔
خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔
مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اوربڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔ شادیوں پربے جا اسراف اور دکھاوا اور اپنی شان اور پیسے کا جو اظہار ہے وہ نہیں ہونا چاہئے ۔ بعض لوگ ضرورت سے زیادہ اب ان رسموں میں پڑنے لگ گئے ہیں۔ اب مَیں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بےہودہ رسم ورواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کردیں۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 15؍ جنوری 2010ء بمطابق 15؍ صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں۔ چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیٓ اَنْزَلْنَا۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (التغابن:9)

اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ احسان عظیم ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر ایسا دماغ عطا فرمایا جس کے استعمال سے وہ خداتعالیٰ کی پیدا کردہ باقی مخلوق اور ہر چیز کو نہ صرف اپنے زیر نگیں کر لیتا ہے بلکہ اس سے بہترین فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر نیا دن انسانی دماغ کی اس صلاحیت سے نئی نئی ایجادات سامنے لا رہا ہے۔ جو دنیاوی ترقی آج ہے وہ آج سے دس سال پہلے نہیں تھی اور جو دنیاوی ترقی آج سے دس سال پہلے تھی وہ 20 سال پہلے نہیں تھی۔ اسی طرح اگر پیچھے جاتے جائیں تو آج کی نئی نئی ایجادات کی اہمیت اور انسانی دماغ کی صلاحیت کا اندازہ ہو تا ہے۔ لیکن کیا یہ ترقی جو مادی رنگ میں انسان کی ہے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے؟ ہر زمانے کا دنیا دار انسان یہی سمجھتا رہا کہ میری یہ ترقی اور میری یہ طاقت، میری یہ جاہ و حشمت، میرا دنیاوی لہو و لعب میں ڈوبنا، میرا اپنی دولت سے اپنے سے کم ترپر اپنی برتری ظاہر کرنا، اپنی دولت کو اپنی جسمانی تسکین کا ذریعہ بنانا، اپنی طاقت سے دوسروں کو زیر نگیں کرنا ہی مقصد حیات ہے۔ یا ایک عام آدمی بھی جو ایک دنیا دار ہے جس کے پاس دولت نہیں وہ بھی یہی سمجھتا ہے بلکہ آج کل کے نوجوان جن کو دین سے رغبت نہیں دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو نئی ایجادات جوہیں، ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے، یہی چیزیں اصل میں ہماری ترقی کا باعث بننے والی ہیں اور بہت سے ان چیزوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ پس یہ انتہائی غلط تصور ہے۔ اس تصور نے بڑے بڑے غاصب پیدا کئے۔ اس تصور نے بڑے بڑے ظالم پیدا کئے۔ اس تصور نے عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے انسان پیدا کئے۔ اس تصور نے ہر زمانہ میں فرعون پیدا کئے کہ ہمارے پاس طاقت ہے، ہمارے پاس دولت ہے، ہمارے پاس جاہ و حشمت ہے۔ لیکن اس تصور کی خداتعالیٰ نے جوربّ العالمین ہے، جو عالمین کا خالق ہے بڑے زور سے نفی فرمائی ہے۔ فرمایا کہ جن باتوں کو تم اپنا مقصد حیات سمجھتے ہو یہ تمہارا مقصد حیات نہیں ہیں۔ تمہیں اس لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ ان دنیاوی مادی چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ اور دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔ نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 57)

اور مَیں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔
اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
‘’اصل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ

مَیں نے جن اور انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دنیا میں اتے ہیں بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مدنظر رکھیں وہ خداتعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں۔ وہ دنیا ہی میں منہمک اور فنا ہو جاتے ہیں۔ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 134جدید ایڈیشن)
اس بات کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے کہ اپنے مقصد پیدائش کو کس طرح پہچاننا ہے اور اس کی عبادت کے طریق کس طرح بجا لانے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا میں انبیاء بھیجتا رہا ہے جو اپنی قوموں کو اس عبادت کے طریق اور مقصد پیدائش کے حصول کے لئے راہنمائی کرتے رہے اور پھر جب انسان ہر قسم کے پیغام کو سمجھنے کے قابل ہو گیا اس کی ذہنی جلااس معیار تک پہنچ گئی جب وہ عبادات کے بھی اعلیٰ معیاروں کو سمجھنے لگا اور اس نے دنیاوی عقل و فراست میں بھی ترقی کی نئی راہیں طے کرنی شروع کر دیں۔ آپس کے میل جول اور معاشرت میں بھی وسعت پیدا ہونی شروع ہو گئی تو انسان کامل اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ کو اس آخری شریعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھیجا جس نے پھر اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر یہ اعلان کیا کہ

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔ (المائدہ:4)

کہ آج مَیں نے تمہارے فائدے کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتوں اور احسان کو تم پر پورا کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔ اور اس قرآن میں جس کے لئے دین کو مکمل کیا اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے طریقے بتائے۔ عبادتوں کے اعلیٰ معیاروں کو چھونے کے طریق بھی بیان فرمائے۔ معاشرتی تعلقات نبھانے کے طریق بھی بیان فرمائے۔ دشمنوں سے سلوک کے طریق بھی بیان فرمائے۔ معاشرہ کے کمزور طبقے کے حقوق کی ادائیگی کے طریق بھی بیان فرمائے۔ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کے طریق بھی بیان فرمائے۔ آئندہ آنے والی نئی ایجادات کے آنے اور ان سے انسان کے فائدہ اٹھانے کے بارہ میں بھی بیان فرما دیا۔ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہے اس کے بارہ میں انسانی عقل و فراست کی حدود تک جتنی بھی، جہاں تک پہنچ ہوسکتی تھی اس کے سمجھنے کے بارہ میں بھی راہنمائی فرمائی۔ ہر وہ چیز بیان فرما دی جن تک آج انسان کی عقل کی رسائی ہو رہی ہے بلکہ آئندہ پیش آمدہ باتوں کے بارہ میں بھی بیان فرما دیاجس کے بارہ میں آج سے 1400 سال پہلے کا انسان سمجھ نہیں سکتا تھا اور اس سے پہلے کا انسان تو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتا تھا گو کہ اُس وقت جب یہ باتیں قرآن کریم میں بیان ہوئیں ایک عام مسلمان مومن سمجھ نہیں سکتا تھا۔ لیکن ان سب باتوں کو انسان کامل اور حضرت خاتم الانبیاءﷺ کی فراست جو تھی اس وقت بھی سمجھتی تھی۔ پس وہ ایک ایسا نور کامل تھے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور تھا اور جنہوں نے اپنے صحابہ میں ان کی استعدادوں کے مطابق بھی وہ نور بھر دیا۔ انہیں عبادتوں کے طریق بھی سکھائے۔ انہیں عبادتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کو اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اور پھر آپﷺ سے وہ نور پا کر صحابہؓ نے اپنی استعدادوں کے مطابق پھر وہ نور آگے پھیلانا شروع کر دیا اور چراغ سے پھر چراغ روشن ہوتے چلے گے اور جن باتوں کا فہم اس وقت کا عام انسان نہیں کر سکتا تھا اس کے بارہ میں بھی بتا دیا کہ اس کامل کتاب سے تاقیامت اب چراغ روشن ہوتے چلے جائیں گے اور آئندہ زمانہ کے مومنین اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں کو دیکھ لیں گے۔ ایک دنیا دار تو صرف دنیا کی نظر سے دیکھے گا لیکن ایک حقیقی مومن اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرتے ہوئے اُن کو اس نظر سے دیکھے گا کہ خداتعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آج ہی یہ چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔ مومن کی نظر صرف ان ایجادات سے اور ان دنیاوی چیزوں سے دنیاوی فائدوں تک ہی محدود نہیں ہو گی بلکہ وہ اپنے مقصد پیدائش کو سمجھتے ہوئے اس حقیقی نور سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے نبی اور افضل الرسلﷺ لے کر آئے تھے۔ جس طرح ضلالت اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے لوگ آج سے 14سو سال پہلے اس نبی کے نور سے فیضیاب ہوئے تھے اور ہر میدان میں اعلیٰ معیاروں کو چھونے لگے۔ اسی طرح اب تاقیامت جو بھی اس رسول اور اس کامل شریعت سے حقیقی تعلق جوڑے گا، ظلمتوں سے نور کی طرف نکلتا چلا جائے گا اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جنتوں کاو ارث بنتا چلا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ اس کا ذکر سورۃ طلاق کی آیت 12میں یوں فرمایا ہے

رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صٰلِحًا یُّدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا۔ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَہٗ رِزْقًا۔ (الطلاق:12)

کہ ایک رسول کے طور پر جو تم پر اللہ کی روشن کر دینے والی آیات تلاوت کرتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے۔ اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اسے (ایسی) جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ (ہر) اس (شخص) کے لئے (جو نیک اعمال بجا لاتا ہے) اللہ نے بہت اچھا رزق بنایا ہے۔
پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو پھر آنحضرتﷺ کے اُسوہ اور آپؐ پر اتری ہوئی تعلیم کی پابندی کرنا بھی لازمی ہے۔ اس تعلیم پر پابندی اور آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش ہی اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔ اس نور سے حصہ پانے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی بھی شرط رکھی ہے۔ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں ہے۔ ایک مومن کو اعمال صالحہ کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فسق و فجور سے بچنے کی ضرورت ہے۔ جو آیت مَیں نے پہلے شروع میں تلاوت کی تھی اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اللہ پر ایمان، اس کے رسول پر ایمان اور قرآن کریم پر ایمان ہی نور سے حصہ دلانے والا بنے گا، جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ اس کے علم میں ہے کہ انسان کون سے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بجا لا رہا ہے۔ اُسوۂ رسول اور تعلیم پر کس حد تک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایمان کا دعویٰ دل سے ہے یا صرف زبانی باتیں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو انسانوں پر احسان کیا کہ ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دنیا و آخرت میں انسان کی بقا ہے تو ان لوگوں کا جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کس قدر یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اوپر اس تعلیم کو لاگو کریں جو کامل اور مکمل تعلیم ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کا جاری احسان دیکھیں کہ

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ (الجمعۃ:4)

کی خبر دے کر یہ تسلی بھی کروائی کہ آنحضرتﷺ اور قرآن کریم کا فیضان جوفیضان نور ہے یہ جاری ہے۔ اندھیرے زمانہ کے بعد آنحضرتﷺ کے عاشق صادق اور آپﷺ کے نور سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے جس امام اور مسیح و مہدی نے آنا ہے اس کے ذریعہ پھر اندھیروں سے نور کی طرف راہنمائی ہو گی۔ آنے والے مسیح موعود اور مہدی موعود نے پھراُمّت کو بھی اور باقی دنیا کو بھی اعتقادی اور عملی اندھیروں سے نکالنا ہے اور جو اس کے ساتھ جڑ جائے گا، جو اسے قبول کرے گا، جو اس سے سچا تعلق رکھے گا، جو دنیا کی لغویات سے بچتے ہوئے اس سے کئے گئے عہد کی پابندی کرے گا وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے جنتوں کی خوشخبری سنے گا۔
پس ایک احمدی کوجہاں اس بات سے تسلی ہوتی ہے وہاں فکر بھی ہے۔ اپنے جائزے لینے کی ضرورت بھی ہے۔ اس نور سے فائدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے

یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا (التغابن:10)

کی شرط رکھی ہے کہ اللہ پرایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔ پس ہمیشہ اپنے مدنظر یہ بات رکھنی چاہئے کہ کون سا عمل صالح ہے اور کون سا غیر صالح ہے۔ بعض بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً خوشیاں ہیں۔ یہ دیکھنے والی بات ہے کہ خوشیاں منانے کے لئے ہماری کیا حدود ہیں اور غموں میں ہماری کیا حدود ہیں۔ خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔
آ ج کل دیکھیں، مسلمانوں میں خوشیوں کے موقعوں پر بھی زمانے کے زیر اثر طرح طرح کی بدعات اور لغویات راہ پاگئی ہیں اور غموں کے موقعوں پر بھی طرح طرح کی بدعات اور رسومات نے لے لی ہے۔ لیکن ایک احمدی کو ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کام بھی وہ کر رہا ہے اس کا کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ نظر آنا چاہئے۔ اور ہر عمل اس لئے ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے جو حدود قائم کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے ہر کام کرنا ہے۔
مَیں نے خوشی اور غمی کاجو ذکر کیا ہے تو خوشیوں میں ایک خوشی جو بہت بڑی خوشی سمجھی جاتی ہے وہ شادی کی خوشی ہے اور یہ فرض ہے۔ جب بعض صحابہ نے یہ کہا کہ ہم خداتعالیٰ کی عبادت کی خاطر اپنی زندگیاں تجرد میں گزاریں گے، شادی نہیں کریں گے تو آنحضرتﷺ نے اسے بُرا منایا اور فرمایا کہ نیکی وہی ہے جو میری سنت پرعمل کرتے ہوئے اور تعلیم کے مطابق کی جائے۔ اور مَیں نے تو شادیاں بھی کی ہیں۔ رو زے بھی رکھتا ہوں۔ عبادات بھی کرتا ہوں۔ (بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح حدیث نمبر 5063)۔ اور آپؐ کی عبادات کا جو معیار ہے وہ تو تصور سے بھی باہر ہے۔ پس یہ مسلمانوں کے لئے ایک فرض ہے کہ اگر کوئی روک نہ ہو، کوئی امر مانع نہ ہو تو ضرور شادی کرے۔ لیکن ان میں بعض رسمیں خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی معاشرہ میں راہ پا گئی ہیں جن کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔
اب بعض رسوم کو ادا کرنے کے لئے اس حد تک خرچ کئے جاتے ہیں کہ جس معاشرہ میں ان رسوم کی ادائیگی بڑی دھوم دھام سے کی جاتی ہے وہاں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ شاید یہ بھی شادی کے فرائض میں داخل ہے اور اس کے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔
مہندی کی ایک رسم ہے۔ اس کو بھی شادی جتنی اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اس پر دعوتیں ہوتی ہیں۔ کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔ سٹیج سجائے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی دن دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور شادی سے پہلے ہی جاری ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ کئی ہفتہ پہلے جاری ہو جاتا ہے۔ اور ہر دن نیا سٹیج بھی سج رہا ہوتا ہے اورپھر اس بات پر بھی تبصرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے کھانے پکے اور آج اتنے کھانے پکے۔ یہ سب رسومات ہیں جنہوں نے وسعت نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اورایسے لوگ پھر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ غیراحمدی تو یہ کرتے ہی تھے اب بعض احمدی گھرانوں میں بھی بہت بڑھ بڑھ کر ان لغو اور بیہودہ رسومات پر عمل ہو رہا ہے یا بعض خاندان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ بجائے اس کے کہ زمانہ کے امام کی بات مان کر رسومات سے بچتے۔ معاشرہ کے پیچھے چل کر ان رسومات میں جکڑتے چلے جا رہے ہیں۔
چند ماہ پہلے مَیں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور بڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔ تو اس دن یہاں لندن میں بھی ایک احمدی گھر میں مہندی کی دعوت تھی۔ جب انہوں نے میرا خطبہ سنا تو انہوں نے دعوت کینسل (Cancel) کر دی اور لڑکی کی چند سہیلیوں کو بلا کرکھانا کھلا دیا اور باقی جو کھانا پکا ہوا تھا وہ یہاں بیت الفتوح میں ایک فنکشن (Function) تھا اس میں بھیج دیا۔ تو یہ ہیں وہ احمدی جو توجہ دلانے پر فوری ردّ عمل دکھاتے ہیں اور پھر معذرت کے خط بھی لکھتے ہیں۔
لیکن مجھے بعض شکایات پاکستان سے اور ربوہ سے بھی ملی ہیں۔ بعض لوگ ضرورت سے زیادہ اب ان رسموں میں پڑنے لگ گئے ہیں اور ربوہ کیونکہ چھوٹا سا شہر ہے اس لئے ساری باتیں فوری طور پر وہاں نظر بھی آ جاتی ہیں۔ اس لئے اب مَیں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم و رواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ: ’’ہماری قوم میں یہ بھی ایک بدرسم ہے کہ شادیوں میں صد ہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 70)
آج سے سو سال پہلے یا اس سے زیادہ پہلے اس زمانے میں تو صدہا روپیہ کا خرچ بھی بہت بڑا خرچ تھا۔ لیکن آج کل تو صد ہا کیا لاکھوں کا خرچ ہوتا ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ ہوتا ہے۔ جو شاید اس زمانے کے صدہا روپوں سے بھی اب زیادہ ہونے لگ گیا ہے۔ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ آتش بازی وغیرہ بھی حرام ہے۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 49جدید ایڈیشن)
شادیوں پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ اب لوگ اپنے گھروں میں چراغاں بھی شادیوں پر کرتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ کر لیتے ہیں۔ ایک طرف تو پاکستان میں ہر طرف یہ شور پڑا ہوا ہے ہر آنے والا یہی بتاتا ہے، اخباروں میں بھی یہی آ رہا ہے کہ بجلی کی کمی ہے۔ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔ اور دوسری طرف بعض گھر ضرورت سے زیادہ اسراف کرکے نہ صرف ملک کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ گناہ بھی مول لے رہے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں عموماً احمدی اس بات کی احتیاط کریں کہ فضول خرچی نہ ہو اور ربوہ میں خاص طور پر اس بات کا لحاظ رکھا جائے۔ اور ربوہ میں یہ صدر عمومی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں کہ شادیوں پر بے جا اسراف اور دکھاوا اور اپنی شان اور پیسے کا جواظہار ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔ جماعت پراللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ غمی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ ساتواں دسواں،چالیسواں،یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔ جو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ یہ رسمیں گھر والوں پربوجھ بن رہی ہوتی ہیں۔ لیکن اگرمعاشرے کے زیر اثر ایک قسم کی بدرسومات میں مبتلا ہوئے تو دوسری قسم کی رسومات بھی راہ پا سکتی ہیں اور پھر اس قسم کی باتیں یہاں بھی شروع ہو جائیں گی۔
پس ہر احمدی کو اپنے مقام کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اب یہ فرض ہے کہ صحیح اسلامی تعلیم پر عمل ہو۔ شادی بیاہ کے لئے اسلامی تعلیم میں جو فرائض ہیں وہ شادی کا ایک فرض ہے اس کے لئے ایک فنکشن کیا جاسکتا ہے۔ اگر توفیق ہو تو کھانا وغیرہ بھی کھلایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی فرض نہیں کہ ہر بارات جو آئے اس میں مہمان بلا کے کھانا کھلایا جائے اگر دُور سے بارات آ رہی ہے تو صرف باراتیوں کو ہی کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگرملکی قانون روکتا ہے تو کھانے وغیرہ سے رکنا چاہئے اور ایک محدود پیمانے پر صرف اپنے گھر والے یا جوچند باراتی ہیں وہ کھانا کھائیں۔ کیونکہ پاکستان میں ایک وقت میں ملکی قانون نے پابندی لگائی ہوئی تھی۔ اب کیا صورت حال ہے مجھے علم نہیں لیکن کچھ حد تک پابندی تواب بھی ہے۔
دوسرے ولیمہ ہے جو اصل حکم ہے کہ اپنے قریبیوں کو بلا کر ان کی دعوت کی جائے۔ اگر دیکھا جائے تو اسلام میں شادی کی دعوت کا یہی ایک حکم ہے۔ لیکن وہ بھی ضروری نہیں کہ بڑے وسیع پیمانے پر ہو۔ حسب توفیق جس کی جتنی توفیق ہے بلا کر کھانا کھلاسکتا ہے۔
پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا مقصد پیدائش بتایا ہے۔ ہر وہ عمل جو نیک عمل ہے جو خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے وہ عبادت بن جاتا ہے۔ اگر یہ مدّ نظر رہے تو اسی چیز میں ہماری بقا ہے اور اسی بات سے پھر رسومات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔ بدعات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔ فضول خرچیوں سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔ لغویات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں اور ظلموں سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔ یہ ظلم ایک تو ظاہری ظلم ہیں جو جابر لوگ کرتے ہی ہیں۔ ایک بعض دفعہ لاشعوری طور پر اس قسم کی رسم و رواج میں مبتلا ہو کراپنی جان پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر معاشرے میں اس کو رواج دے کر ان غریبوں پر بھی ظلم کر رہے ہوتے ہیں جو کہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز شاید فرائض میں داخل ہو چکی ہے۔ اور جس معاشرے میں ظلم اور لغویات اور بدعات وغیرہ کی یہ باتیں ہوں، وہ معاشرہ پھر ایک دوسرے کا حق مارنے والا ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ مَیں نے کہا ایک دوسرے پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم ان چیزوں سے بچیں گے تو ہم حق مارنے سے بھی بچ رہے ہوں گے۔ ظلموں سے بھی بچ رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بن رہے ہوں گے۔ اور آج احمدی سے بڑھ کر کون ایسے معاشرہ کا نعرہ لگاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسروں کے حقوق قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہوں۔ آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ اتباع رسم اور متابعتِ ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔ آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سرپر قبول کرے گا۔ آ ج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل بنائے گا۔
پس جب احمدی ہی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کے نورسے فیض پانے کے لئے زمانہ کے امام کے ہاتھ پر یہ عہد کیا ہے جو شرائط بیعت میں داخل ہے تو پھر اپنے عہد کا پاس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عہد کی پابندی کرکے ہم اپنے آپ کو جکڑ نہیں رہے بلکہ شیطان کے پنجے سے چھڑا رہے ہیں۔ خدا اور اس کے رسول کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے تحفظ کے سامان کر رہے ہیں۔ اپنی فہم و فراست کو جلا بخش رہے ہیں۔ اپنی عفت و پاکیزگی کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اپنی حیا کے معیار بلند کر رہے ہیں۔ صبر اور قناعت کی طاقت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے اندر زہد و تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کر رہے ہیں۔ اپنی امانت کے حق کی ادائیگی کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت، اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنے کے معیار حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر سکیں۔ پس اگر اندھیروں سے نکلناہے اور نور حاصل کرنا ہے اور زمانہ کے امام کی بیعت کا صحیح حق ادا کرنا ہے تو دنیا داری کی باتوں کو چھوڑنا ہو گا۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔ اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جانے کے لئے جدوجہد کرنی ہو گی۔
حیا کا معیار بلند کرنے کا مَیں نے ذکر کیا ہے۔ حیا بھی ایک ایسی چیز ہے جو ایما ن کا حصہ ہے۔ آج کل کی دنیاوی ایجادات جیسا کہ مَیں نے شروع میں بھی ذکر کیا تھا، ٹی وی ہے، انٹرنیٹ وغیرہ ہے اس نے حیا کے معیار کی تاریخ ہی بدل دی ہے۔ کھلی کھلی بے حیائی دکھانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بے حیائی نہیں ہے۔ پس ایک احمدی کے حیا کا یہ معیار نہیں ہونا چاہئے جو ٹی وی اور انٹرنیٹ پرکوئی دیکھتا ہے۔ یہ حیا نہیں ہے بلکہ ہوا وہوس میں گرفتاری ہے۔ بے حجابیوں اور بے پردگی نے بعض بظاہر شریف احمدی گھرانوں میں بھی حیاکے جو معیار ہیں الٹا کر رکھ دئیے ہیں۔ زمانہ کی ترقی کے نام پر بعض ایسی باتیں کی جاتی ہیں،بعض ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو کوئی شریف آدمی دیکھ نہیں سکتا چاہے میاں بیوی ہوں۔ بعض حرکتیں ایسی ہیں جب دوسروں کے سامنے کی جاتی ہیں تو وہ نہ صرف ناجائز ہوتی ہیں بلکہ گناہ بن جاتی ہیں۔ اگر احمدی گھرانوں نے اپنے گھروں کو ان بیہودگیوں سے پاک نہ رکھا تو پھر اُس عہد کا بھی پاس نہ کیا اور اپنا ایمان بھی ضائع کیا جس عہد کی تجدید انہوں نے اس زمانہ میں زمانے کے امام کے ہاتھ پہ کی ہے۔
آنحضرتﷺ نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ

اَلْحَیَآءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ

کہ حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
(مسلم کتاب الایمان باب شعب الایمان وافضلھا… حدیث نمبر 59)
پس ہر احمدی نوجوان کو خاص طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آج کل کی برائیوں کو میڈیا پر دیکھ کر اس کے جال میں نہ پھنس جائیں ورنہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہی بیہودگیوں کا اثر ہے کہ پھر بعض لوگ جو اس میں ملوث ہوتے ہیں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے پھر بعضوں کو اخراج از جماعت کی تعزیر بھی کرنی پڑتی ہے۔ ہمیشہ یہ بات ذہن میں ہو کہ میرا ہر کام خداتعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا :بے حیائی ہر مرتکب کو بدنما بنا دیتی ہے اور شرم و حیا ہر حیادار کو حسن و سیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنا دیتا ہے۔ (ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الفحش والتفحش۔ حدیث نمبر 1974)
پس یہ خوبصورتی ہے جو انسان کے اندر نیک اعمال کو بجا لانے اور اس کی تحریک سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک حدیث میں اتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی شرم دل میں ہو جیسا کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں شرم بخشی ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: یوں نہیں۔ بلکہ جو شخص شرم رکھتا ہے وہ اپنے سر اور اس میں سمائے ہوئے خیالات کی حفاظت کرے۔ (یہ شرم ہے کہ اپنے دماغ میں آنے والے خیالات کی حفاظت کرو)۔ پیٹ اورجو اس میں خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔ موت اور ابتلا کو یاد رکھنا چاہئے۔ جو شخص آخرت پر نظر رکھتا ہے وہ دنیوی زندگی کی زینت کے خیالات کو چھوڑ دیتا ہے۔ پس جس نے یہ طرز زندگی اختیار کیا اس نے واقعی خدا کی شرم رکھی۔
(ترمذی کتا ب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع باب 89/24 حدیث نمبر 2458)
آنحضرتﷺ کا یہ فرمان ہے۔
پس ذہن میں آنے والے ہر خیال کو اللہ تعالیٰ کی شرم لئے ہوئے آنا چاہئے۔ اگر کوئی بدخیال آتا بھی ہے تو اسے فوری طور پر جھٹکا جانا چاہئے۔ استغفار کے ذریعہ سے اس کو جھٹکنا چاہئے۔ جب خیالات پاکیزہ ہوں گے تو عمل بھی پاک ہوں گے۔ پھر لغویات ایسے انسانوں پر کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گی۔ اسی طرح انسان اپنی روزی کے بھی حلال ذرائع استعمال کرے۔ محنت کرے۔ محنت سے کمائے۔ بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیسے پر نظر رکھ کر چھیننے کی کوشش کرے یا غلط طریق سے پیسے کمائے۔ پاکستان وغیرہ میں رشوت وغیرہ بھی بڑی عام ہے یہ سب حلال کی کمائیاں نہیں ہیں۔ آپ نے یہی فرمایا کہ اپنے پیٹ اور اس میں جوخوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔ پس جائز کمائی سے اپنا بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی پیٹ پالے اور ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر اللہ اور اس کے رسول پرصحیح ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک د عا ہے۔ اللہ کو پانے کے لئے یہ دعا لکھی ہوئی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ:
’’اے میرے قادر خدا! اے میرے پیارے راہنما! تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مدعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا‘‘۔ (پیغام صلح۔ روحانی خزائن جلد 23۔ مطبوعہ ربوہ)
پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے، اپنی بیعت کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے حقیقی ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جنہوں نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا۔ ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی۔ اگر اس کے بعد پھر ہم دنیاداری میں پڑ کر رسم و رواج یا لغویات کے طوق اپنی گردنوں میں ڈالے رہیں گے تو ہم نہ عبادتوں کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ نور سے حصہ لے سکتے ہیں۔
قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے بارے میں یہ فرمایا۔ کہ

یَأْمُرُہُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ۔ (الأعراف:158)

کہ جو اس پر ایمان لانے والے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور ان سے ان کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے۔
گردنوں میں جو پھندے پڑے ہوئے ہیں وہ اتار دیتا ہے۔ جو پھندے پہلی قوموں میں پڑے ہوئے تھے، پہلی نسلوں میں پڑے ہوئے تھے، اپنے دین کو بھول کر رسم و رواج میں پڑ کر یہودیوں اور عیسائیوں نے گلوں میں جو پھندے ڈالے ہوئے تھے اب وہی باتیں بعض مسلمانوں میں پیدا ہو رہی ہیں۔ اگر ہم میں بھی پیدا ہو گئیں تو پھر ہم یہ کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم اس وقت آنحضرتﷺ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ پس یہ طوق ہمیں اتارنے ہوں گے۔
پس اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ ہم اس نبی پر بھی ایمان لائے ہیں جس نے ہمارے لئے حلال و حرام کا فرق بتا کر دین کے بارہ میں غلط نظریات کے طوق ہماری گردنوں سے اتارے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ باوجود ان واضح ہدایات کے پھر بھی بعض طوق اپنی گردنوں پر ڈال لئے ہیں۔
لیکن ہم احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عہد بیعت کے بعد اس حقیقت کو دوبارہ سمجھے ہیں کہ یہ طوق اپنی گردنوں سے کس طرح اتارنے ہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ قبروں پر سجدے سے ہم بچے ہوئے ہیں۔ پیر پرستی سے عموماً بچے ہوئے ہیں۔ بعض جگہ اِکّا دُکّا شکایات آتی بھی ہیں۔ عمومی طور پر بعض غلط قسم کے رسم و رواج سے ہم بچے ہوئے ہیں لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا بعض چیزیں راہ پا رہی ہیں۔ اگر ہم بے احتیاطیوں میں بڑھتے رہے تو یہ طوق پھر ہمارے گلوں میں پڑ جائیں گے جوآنحضرتﷺ نے ہمارے گلوں سے اتارے ہیں اور جن کو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اتار نے کی پھر نصیحت فرمائی ہے۔ اور پھر ہم دین سے دور ہٹتے چلے جائیں گے۔ اب ظاہر ہے جب ایسی صورت ہو گی تو پھر جماعت سے بھی باہر ہو جائیں گے۔ کیونکہ جماعت سے تو وہی جڑ کر رہ سکتے ہیں جو نو ر سے حصہ لینے والے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور کتاب سے حصہ لے رہے ہیں۔ جو اللہ اور رسول اور اس کی کتاب سے حصہ نہیں لے رہے وہ نور سے بھی حصہ نہیں لے رہے۔ جو نور سے حصہ لینے کی کوشش نہیں کر رہے وہ ایمان سے بھی دور جا رہے ہیں۔ تو یہ تو ایک چکر ہے جو چلتا چلا جاتا ہے۔ پس ہر وقت اپنی حالتوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آنحضرتﷺ جو خود بھی نور تھے اور آسمان سے کامل نور آپؐ پر اترا تھا یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میرے دل اور میرے دیگر اعضاء میں نور رکھ دے۔
(بخاری کتاب ا لدعوات باب الدعا ء اذانتبہ من اللیل حدیث نمبر6316)
یہ دعا اصل میں تو ہمیں سکھائی گئی ہے کہ ہر وقت اپنی سوچوں اور اپنے اعضاء کو، اپنے خیالات کو، اپنے دماغوں کو، اپنے جسم کے ہر حصہ کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق استعمال میں لانے کی کوشش کرو اور اس کے لئے دعا کرو کہ ذہن بھی پاکیزہ خیال رکھنے والے ہوں اور عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والے ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کے قول پر عمل کرنے والے ہوں۔ رسم و رواج سے بچنے والے ہوں۔ دنیاوی ہو او ہوس اور ظلموں سے دور رہنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ہم ہمیشہ حصّہ پاتے چلے جائیں۔ کبھی ہماری کوئی بدبختی ہمیں اس نور سے محروم نہ کرے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X