خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍نومبر 2006ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ربّ العالمین کے ماننے والے صرف اپنی بھلائی نہیں سوچتے بلکہ دوسرو ں کو بھی نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں
تمام دنیا میں لوگ اپنے خدا کو بھولتے جارہے ہیں۔ مسیح محمدی کے ماننے والوں کا کام ہے کہ اپنے ربّ کی صحیح پہچان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ربّ العالمین کی پہچان کروائیں۔
ہراحمدی کواللہ تعالیٰ کی صفت ربّ پر غور کرتے ہوئے اپنے ربّ سے تعلق مضبوط تر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
(اللہ تعالیٰ کی صفت ربّ کے مختلف پہلوؤں کا پُر معارف تذکرہ)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 17؍نومبر 2006ء (17؍نبوت 1385ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن۔ برطانیہ

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ربّ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس صفت کا اظہار اور اعلان قرآن کریم کی پہلی ہی سورۃ میں فرمایاہے اور

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ

اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

یعنی ہر قسم کی تعریف کا اللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ ربّ کے معنی مفسرین نے اور اہل لغت نے بڑی تفصیل سے بیان کئے ہیں جس میں پیدا کرنے سے لے کر کسی چیز کے درجۂ کمال تک پہنچانے کے درمیان جتنے بھی ادوار ہیں ان سب کو یہ لفظ اپنے اندر سمیٹتاہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر کبیر میں مختلف روایات کے حوالے سے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ مثلاً مفردات کے حوالے سے یہ درج ہے کہ ربّ کے معنی کسی چیز کو پیدا کرکے تدریجی طورپر کمال تک پہنچانے کے ہیں۔ عربی زبان میں بعض دفعہ ربّ کا لفظ انسان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر انسان کی طرف منسوب ہو تو صرف تربیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں یہ لفظ ماں باپ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور یہ دعا سکھائی گئی ہے۔

رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (بنی اسرائیل25:)

کہ اے میرے ربّ ان پر رحم فرما کیونکہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی،میری تربیت کی۔
پھر اقربؔ جو لغت کی ایک کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ ربّ کے معنی مالک کے بھی ہوتے ہیں، سردار اور مُطاع کے بھی ہوتے ہیں اور ربّ کے معنی مُصلح کے بھی ہوتے ہیں۔ بحرمُحیط میں ہے کہ ربّ کے معنے خالق کے بھی ہیں۔ مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ ربّ کا لفظ بغیر اضافت کے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اور اضافت کے ساتھ اللہ اور غیر اللہ دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ مثلاً

رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْا َوَّلِیْن (الشعراء:27)

یہاں ربّ کے لفظ کے ساتھ جو کُمْ کا لفظ لگایا گیا ہے یا اٰبَآءکُمْ کا لفظ لگایا گیا ہے یعنی تمہارا رب یا تمہارے باپ دادا کا ربّ،یہ اضافت ہے، زائد چیز آگے بیان کی گئی ہے۔پس جب اللہ کے علاوہ ربّ کا لفظ کسی کے ساتھ لگتا ہے تو جیسا کہ بتایا اس میں صرف اضافت کے ساتھ لگ سکتا ہے۔ مثلاً رَبُّ الدَّار گھر کا مالک یا رَبُّ الْفَرَسِگھوڑے کا مالک۔ خالی ربّ کا لفظ جہاں بھی استعمال ہو گاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہو گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں ربّ کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔

مَالِک، سَیِّد، مُدَبِّر، مُرَبِّی، قَیِّم، مُنْعِم، مُتَمِّم۔

چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنے خداتعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضۂ تامہ ہو‘‘ یعنی و ہ مالک ہے کہ جو اس کے ماتحت ہے، جو اس کی ملکیت میں ہے اس پر اس کا مکمل قبضہ ہو’’اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو‘‘۔ ایسا قبضہ ہو کہ جس طرح بھی چاہے اس کو استعمال میں لا سکتا ہے۔ ’’اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خداتعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پا سکتا کیونکہ قبضہ تامہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خداتعالیٰ کے اور کسی کے لئے مُسلَّم نہیں ‘‘۔ (منن الرحمن۔ روحانی خزائن جلد 9صفحہ153-152،حاشیہ)
یعنی مکمل قبضہ بھی ہو، مکمل طورپر اس پر اختیار بھی ہو، جس طرح چاہے استعمال کرے اور مکمل طور پر اس پر حق بھی رکھتا ہو۔ تو فرمایا کہ یہ چیز سوائے خداتعالیٰ کی ذات کے کسی کے لئے نہیں۔
مالک کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے الفاظ میں فرمائی ہے۔ ربّ کے معنوں میں جو باقی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کو بھی میں یہاں مختصراً بیان کر دیتا ہوں تاکہ اس لفظ کی وسعت کا مزید علم ہو سکے۔
ایک لفظ اَلسَّیِّد استعمال ہوا ہے۔ سیّد کا لفظ عزت اور شرف کے معنوں میں بطور لقب کے استعمال ہوتا ہے اور ہر نوع میں سے اعلیٰ اور افضل شیٔ کو سیّد کہا جاتا ہے مثلاً

اَلْقُرْآنُ سَیِّدُ الْکَلَام

یعنی قرآن سب کلاموں کا سردار ہے۔ پس سیّد کا مطلب یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اور افضل اور معزز جس کی اطاعت لازم ہو۔
پھر ربّ کے معنوں میں

اَلْمُدَبِّرْ

کا لفظ ہے۔ لغت میں دَبَرَ کا مطلب ہے کہ کسی کے بعد یا پیچھے آیا

دَبَّرَ الْاَمْرَ

کا مطلب ہے کہ کسی چیز کی عاقبت اور نتیجے کے بارے میں سوچا اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کسی کام کو ایسے طور پر چلایا کہ وہ صحیح نتیجہ پیدا کرے۔ پس

اَلْمُدَبِّر

کا مطلب ہے کہ ہر کام کے آخری نتیجہ پر نظر رکھنے والا اور اس کو ایسے طریق پر چلانے والا کہ اس کا صحیح نتیجہ نکلے۔
پھر اس کے ایک معنے قَیِّم کے بھی ہیں۔ یعنی کسی چیز کی نگرانی اور درست کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اَلْقَیِّم ہونے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے کام بناتا،ان کو سہارا دیتا اور صحیح راستے پر قائم رکھتا ہے۔
پھر اس کا ایک مطلب اَلْمُنْعِم بھی ہے۔ لغت میں نَعَمَ کا مطلب ہے کوئی چیز نرم و نازک ہو گئی۔ اسی سے نعمت ہے جس کا مطلب ہے اچھی اور خوشحالی کی حالت۔ انعام کا مطلب ہے کسی کو بھلائی اور خیر پہنچانا، کسی پر احسان کرنا۔ پس اَلْمُنْعِمکا مطلب ہوا وہ ذات جو بھلائی اور خیراور خوشحالی سے نوازے اور دوسرے سے احسان کرے۔
پھرربّ کے معانی میں ایک لفظ مُتِمٌ اور مُتَمِّم استعمال ہواہے۔ یہ تمام سے ہے اور کسی چیز کے تمام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی انتہا اور کمال کو پہنچ جائے یہاں تک کہ کسی بیرونی چیز کا محتاج نہ رہے۔

اَلْمُتَمِّم، اَلْمُتِّمْ

کا مطلب ہے کہ ہر کام کو پورا کرنے والا،ہر حاجت کو پورا کرنے والا اور ہر نقص کو دور کرنے والا، غریبوں کی بھوک ختم کرنے والا۔پس ان سب کو اگر جمع کر لیں تو اس کا یہ مطلب بنے گا کہ وہ ہستی جو سب سے اعلیٰ ہے، افضل ہے، معزز ہے جس کی اطاعت لازم ہے۔ جس کے کام میں کسی غلطی کا امکان ہی نہیں ہے، کسی کام کا آخری نتیجہ بھی اس کے علم میں ہے، اس لئے اس سے راہنمائی کی ضرورت ہے۔ وہی ہے جو اپنی مخلوق کے کام بناتا ہے، ان کو سہارا دیتا ہے اور انہیں صحیح راستے پر رکھتا ہے۔ وہ بندے کی بھلائی اور خوشحالی کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ حاجتیں پوری کرنے والا ہے۔ ہرکام کی طاقت و قدرت کا مالک ہے، ہر کام کی قدرت رکھتا ہے، کسی کا محتاج نہیں ہے، مالک کُل ہے۔ تو یہ ربّ کے لفظ کی وضاحت ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں یہ لفظ بے شمار جگہ استعمال کیا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ابتداء میں پہلی سورۃ میں ہی رب ّکے لفظ کو استعمال کرکے ہمیں اپنی طاقتوں اور قدرتوں کا اعلان فرما کر اپنے حضور جھکنے اور تمام فیض صرف اور صرف ربّ العالمین سے حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اسی طرح قرآن کریم کے آخر میں بھی فرمایا ہے کہ مَیں ربّ ہوں۔ ہر قسم کی برائیوں سے، مشکلوں سے، ابتلاؤں سے، امتحانوں سے جن میں ذاتی بھی ہیں، معاشرتی بھی ہیں، دینی بھی ہیں، دنیاوی بھی ہیں، ان سب سے اگر بچنا ہے تو میری پناہ میں آجاؤ۔ اس کی تفصیل آخر میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں فرمائی۔ پس وہی ذات ہے جو حقیقی ربّ ہے، اس سے دور ہو کر نہ تمہاری دنیا رہ سکتی ہے نہ دین رہ سکتا ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربّ العالمین کی وضاحت کرتے ہوئے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے،اس کا خلاصہ میں پیش کرتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس جہان کا خالق تمام نقصوں سے پاک ہے اور تمام خوبیاں اس کے اندر جمع ہیں۔
دوسرے یہ کہ وہ ہر چیز کی کُنہ اور حقیقت سے واقف ہے۔ گزری ہوئی، موجودہ اور آئندہ آنے والی ہر چیز کی حقیقت اس پر واضح ہے۔ سائنس دان ریسرچ کرتے ہیں، نئی نئی معلومات دیتے ہیں، انکشافات کرتے ہیں تب بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کا علم کامل ہو گیا۔ایک سائنسدان ایک نظریہ پیش کرتا ہے پھرعرصے بعد دوسرا اس کے رد ّمیں مزید دلیلیں نکال دیتا ہے۔ سوائے اسے جسے خداتعالیٰ راہنمائی فرمائے۔ اور وہ بھی ایک حد تک علم حاصل کر سکتا ہے کسی چیز کاکامل احاطہ نہیں کر سکتا۔
تیسری بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کامل حمد کامالک ہے۔ اور کامل حمد کا مالک ہو کر ہی ربّ العالمین کہلا سکتا ہے، اس کے بغیرنہیں۔
چوتھی بات یہ بیان کی کہ انسان کے اندر جو بھی خصوصیات ہیں، لیاقت ہے، جسمانی یا روحانی ترقیات ہیں، یہ سب اس ربّ العالمین کے انعامات ہیں۔ انسان کو اپنے کسی فعل کی خوبی بیان کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حمدکرنی چاہئے کیونکہ حقیقی تعریف کا وہی مستحق ہے۔ لیکن ربّ کی صحیح پہچان نہ رکھنے والے اپنی کامیابی کو، اپنے کسی اچھے کام کو اپنی بڑائی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کہ مومن کا کام نہیں۔
پانچویں بات یہ بیان کی کہ حمد کو ربوبیت اور عالمین سے جوڑ کر یہ بتایا کہ انسان کو حقیقی خوشی اس وقت ہونی چاہئے جب اللہ تعالیٰ کی صفت ربّ العالمین ظاہر ہو اور اس کو ظاہر کرنے کے لئے اس کی خواہش اور کوشش یہ ہو گی کہ صرف اپنے فائدے پرہی خوش نہ ہوتا رہے بلکہ دنیا کے نقصان پر نظر رکھے اور ہر ایک کو آرام پہنچانے کی کوشش ہو۔ پس اپنے رب کا صحیح ادراک رکھنے والا کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچتا۔
چٹھی بات یہ بیان کی کہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک کی ربوبیت قابل غور ہے اور ارتقاء کے قانون کے ماتحت ہے۔ اس میں Evolution ہے۔ یعنی دنیا میں کوئی چیز نہیں جس کی ابتداء اور انتہا یکساں ہو بلکہ ادنیٰ سے ترقی کرکے اعلیٰ کی طرف جاتی ہے اور پھر ایک حد تک پہنچ کر دوبارہ زوال شروع ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات میں اس ارتقاء کا بیان ہوا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس میں کوئی تغیر نہیں۔ اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک تو یہ کہ خدا کے علاوہ تمام چیزیں مخلوق ہیں کیونکہ جو چیز ترقی کرتی ہے یا جس میں تغیر یا تبدیلی واقع ہوتی ہے وہ از خود نہیں ہو سکتی۔ دوسرے یہ بھی ثابت ہوا کہ ارتقاء کا جو مسئلہ ہے یہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ادنیٰ سے اعلیٰ تک لے کر جاتا ہے اور ہر چیز اس دائرے کے اندر ہے۔
اور ساتویں بات یہ ہے کہ ربّ کے معنے کسی چیز کو مختلف وقتوں اور مختلف درجوں میں ترقی دے کر کمال تک پہنچانا ہیں۔اس لئے ارتقاء بھی مختلف درجوں اور وقتوں میں حاصل ہوتا ہے۔
آٹھویں بات یہ ہے کہ ارتقاء اللہ تعالیٰ کے وجود کے منافی نہیں ہے بلکہ اس ترقی کی طرف قدم سے وہ قابل تعریف اور حمد کا مستحق ٹھہرتا ہے اور مومن ہر ترقی پر اَلْحَمْدُ لِلہ پڑھتا ہے۔
نویں بات یہ کہ انسان لامتناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیاہے، اس کا قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ علم میں آگے بڑھو، نیکیوں میں آگے بڑھو، عبادتوں میں آگے بڑھو اور پھر ربّ العالمین کا شکر ادا کرو کہ اس نے اپنی ربوبیت کے تحت ہمیں یہ مواقع عطا فرمائے۔
صوفیاء کی قسم کے بعض نام نہاد بزرگ ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خداتعالیٰ کو پا لیا ہے اس لئے اب عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے، نمازوں کی بھی ضرورت نہیں ہے، جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ جبکہ صفت ربّ جو ہے وہ تو انسان کوانتہا تک کے راستے دکھاتی چلی جا رہی ہے۔
اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کیونکہ ربّ العالمین کی صفت کا کامل مظہرہے اورسب دنیا کی طرف آیاہے،پہلے مذاہب کی طرح صرف ان خاص قوموں کی طرف نہیں آیا جن میں وہ نبی مبعوث ہوئے تھے، لہذا اسلام کے آنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی کا مل حمد شروع ہوگئی ہے۔ یعنی اسلام ہے جو اس ربّ العالمین نے جسمانی عالم میں بھی اور روحانی عالم میں بھی اتحاد کے لئے اب بھیجاہے۔ تمام قوموں کا، تمام ملکوں کا ایک ہی خدا ہے جو ربّ العالمین ہے۔ پس اس ربّ کی طرف اکٹھا ہونے میں ہی آج دنیا کی بقا ہے اور نجات ہے۔
پس ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس ربّ کا جو ربّ العالمین ہے، تمام جہانوں کا ربّ ہے، وہ جو کائنات کی تمام مخلوق کو پیدا کرنے والا اور ان کو نقطۂ انتہاء تک پہنچنے کی طرف لے جانے والا ہے، اس ربّ کا پیغام تمام دنیا کو پہنچا کر تمام دنیاکو اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کریں۔ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے ہم ساری دنیا کو ربّ العالمین کی پہچان کروا سکتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ قرآن کریم کے شروع میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور آخر میں بھی ربوبیت پر قائم رہنے کی دعا سکھائی ہے تاکہ ایک مومن اس کو مالکِ کُل اور معبودِ کُل سمجھتے ہوئے، اس کی طرف جھکتے ہوئے ہر شر سے اس کی پناہ میں رہے۔ اور جیسا کہ مَیں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک تقریباً تمام سورتوں میں ہی مختلف مقامات پر اپنی ربوبیت کا حوالہ دے کر احکامات دئیے ہیں یا دعائیں سکھائی ہیں۔ یہ سب باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہر احمدی سستیوں کو دور پھینکے، اپنے ربّ کے ساتھ مضبوط تعلق جوڑے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ کسی قسم کی تکلیف اور عارضی روکوں سے کسی احمدی کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئے۔ دیکھیں تکلیفوں کا جہاں تک ذکر ہے اس کے بارے میں بھی قرآن کریم نے اصحاب کہف کے بارے میں بتایا۔اور قرآن کریم کے جوسیپارے ہیں اگر ان کی ترتیب دیکھی جائے تو یہ سورۃ قرآن کریم کے تقریباً نصف میں آتی ہے، اس میں انہیں لوگوں کا ذکرہے جنہوں نے اپنے ربّ کی خاطر، واحد و یگانہ ربّ کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں، ظلم سہے، قتل ہوئے لیکن ہمیشہ اپنے ربّ کی پہچان کی، اس کے آگے جھکے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنے۔
تو ایک تو ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں ہمیں اپنے ربّ کے ساتھ تعلق میں بہت مضبوط ہونا چاہئے۔مشکلات کے جو حالات اصحاب کہف پر آئے اس کا تو کچھ بھی حصہ ہمارے حصہ میں نہیں آیا۔ لیکن انہوں نے ان حالات کے باوجود اپنے ربّ کو نہیں چھوڑا۔ ہم تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے دین کامل کیا ہے۔ جہاں احمدیت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے وہاں بھی دَور اتنا مشکل نہیں ہے جو دَور ان پر آئے تھے یا مختلف اوقات میں آتے رہے۔ اکثراحمدی جو ہیں وہ بڑے آسان اور آرام دہ حالات میں گزارا کر رہے ہیں اس لئے ہمیں سب سے زیادہ اپنے ربّ کی پہچان کرتے ہوئے، اس کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اس کی طرف ہمیشہ جھکے رہنا چاہئے۔ ہمیں ہمیشہ اس بات کاخیال رکھنا چاہئے کہ ہم اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے دین کامل کیا۔ ہمیں اُن لوگوں سے زیادہ اپنے ربّ کا فہم و ادراک دیا جتنا اصحاب کہف کوتھا۔ تو اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بڑھ کر ہماری مدد کرنے والا ہے ہر احمدی کو اپنے ربّ سے تعلق میں بڑھتے چلے جانا چاہئے۔عُسر اوریُسر، تنگی اور آسائش ہر حالت میں یہ ربّ ہی ہے جس سے ہماری ترقیات وابستہ ہیں۔ پس ہر احمدی کو اس صفت پر غور کرتے ہوئے اپنے ربّ سے تعلق مضبوط تر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دوسرے ان مغربی ممالک میں، بلکہ اب تمام دنیا میں ہی جو لوگ اپنے خدا کو بھولتے جا رہے ہیں، ایک خدا کو چھوڑ کر، جس کو اختیار کرنے کی وجہ سے ان کو انعام ملا تھا، تین خداؤں کے چکر میں آ گئے اور پھر نتیجۃً مذہبی طورپرعملاً ایک طرح سے دیوالیہ ہو گئے، جو کہ ظاہر ہے اس حالت میں ہونا تھا اور پھر ان میں سے بہت بڑی تعداد خدا کی بھی منکر ہو گئی۔ تو مسیح محمدی کے ماننے والوں کا یہ کام ہے کہ اپنے ربّ کی صحیح پہچان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی یہ بتائیں کہ اُن مضبوط ایمان والوں کے اپنے ربّ کے ساتھ چمٹے رہنے کا نتیجہ تھا کہ آج عیسائیت دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس لئے اپنے خدا کی جو ربّ العالمین ہے پہچان کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے انبیاء کی صحیح تعلیم پر غور کرو، ان پیشگوئیوں پر غور کرو اور اس خاتم الانبیاء کو پہچانو جس کے بارے میں پیشگوئی تھی۔ یہی تمہاری نجات کا ذریعہ ہے، یہی تمہاری بے چینیوں کو دور کرنے کا حل ہے کیونکہ اس کے بغیر تمہاری زندگیوں میں سکون نہیں آ سکتا۔ اور جیسا کہ مَیں پہلے وضاحت کر آیا ہوں کہ ربّ العالمین کے ماننے والے صرف اپنی بھلائی نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کو بھی نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کواس کی توفیق عطا فرمائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :۔
’’ پھر اس کے بعد ربّ العالمین کا لفظ ہے۔ جیسا پہلے بیان کیا گیا ہے اللہ وہ ذات (مستجمع) جمیع صفاتِ کاملہ ہے جو تمام نقائص سے منزّہ ہواور حُسن اور احسان کے اعلیٰ نکتہ پر پہنچا ہوا ہو۔‘‘ یعنی تمام صفات اس میں مکمل طورپر جمع ہیں اور اس کی خوبصورتی انتہائی نقطہ کو پہنچی ہوئی ہے ’’تاکہ اس بے مثل و مانندذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی عبادت کریں۔ اس لئے پہلی خوبی احسان کی صفت ربّ العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے، جس کے ذریعہ سے کل مخلوق فیض ربوبیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے، مگر اس کے بالمقابل باقی سب مذہبوں نے جو اس وقت موجود ہیں اس صفت کا بھی انکار کیا ہے۔ مثلاً آریہ جیسا ابھی بیان کیا ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ مل رہا ہے وہ سب اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور خدا کی ربوبیت سے وہ ہرگز ہر گز بہرہ ور نہیں ہے،کیونکہ جب وہ اپنی روحوں کا خالق ہی خدا کو نہیں مانتے اور ان کو اپنے بقا وقیام میں بالکل غیر محتاج سمجھتے ہیں، تو پھر اس صفت ربوبیت کا بھی انکار کرنا پڑا۔
ایسا ہی عیسائی بھی اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ وہ مسیح کو اپنا رب سمجھتے ہیں اور رَبُّنَا الْمَسِیْح رَبُّنَا الْمَسِیْح کہتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جَمِیْع مَا فِی الْعَالَم کاربّ نہیں مانتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو پوری دنیا، کُل عالم،کُل کائنات کا ربّ نہیں مانتے۔’’ بلکہ مسیح کو اس کے فیض ربوبیت سے باہر قرار دیتے ہیں اور خود ہی اس کو ربّ مانتے ہیں۔ اسی طرح پر عام ہندو بھی اس صداقت سے منکر ہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک چیز اور دوسری چیزوں کو ربّ مانتے ہیں۔
برہم سماج والے بھی ربوبیت تامہ کے منکر ہیں۔ کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ کرناتھا وہ سب یکبار کر دیا اور یہ تمام عالم اور اس کی قوتیں جو ایک دفعہ پیدا ہو چکی ہیں، مستقل طور پر اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا اور نہ کوئی ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ اب معطل محض ہے‘‘۔ اب اللہ تعالیٰ کا کوئی کام ہی نہیں رہا۔ ’’غرض جہاں تک مختلف مذاہب کو دیکھا جاوے اور ان کے اعتقادات کی پڑتال کی جاوے تو صاف طور پر معلوم ہوجاوے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ربّ العالمین ہونے کے قائل نہیں ہیں۔یہ خوبی جو اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے اور جس کا مشاہدہ ہر آن ہو رہاہے، صرف اسلام ہی بتاتا ہے اور اس طرح پر اسی ایک لفظ کے ساتھ ان تمام غلط اور بیہودہ اعتقادات کی بیخ کنی کرتا ہے جو اس صفت کے خلاف دوسرے مذاہب والوں نے خود بنا لئے ہیں۔‘‘
(الحکم 10؍مئی 1903ء صفحہ2۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ36-35۔جدید ایڈیشن)
اللہ تعالیٰ ہر آن ہر احمدی کو ربّ العالمین کے مشاہدہ اورعرفان میں بڑھاتا چلا جائے اور دوسروں کو بھی اس خدا کی پہچان کرانے والا بنائے تاکہ تمام دنیا صرف اور صرف ایک خدا کی عبادت کرنے والی ہو اور اس کی شکر گزار بن جائے جو ہم سب کا رب ّہے اور ربّ العالمین ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/xAgco]

اپنا تبصرہ بھیجیں