خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 7؍نومبر 2008ء

ہمیں اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کرنا چاہئے کہ دنیائے احمدیت میں مسجدوں کی تعمیر کی طرف جو توجہ ہو رہی ہے اس میں UK والے بھی حصہ دار بن رہے ہیں۔
ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آکر اپنوں کو بھی اور غیروں کو بھی اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کرنے کے لئے مسجدیں بنانے والے ہیں۔
مساجد بنانا ان کا کام نہیں جو مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے ہوں۔ پس آج ہم میں سے ہر احمدی کے ہر قول اور عمل سے اس بات کا اظہار ہونا چاہئے کہ وہ محبتوں کا علمبردار ہے۔ وہ دلوں کو جوڑنے والا ہے۔ وہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے والا ہے۔
مسجد کی تعمیر کے ساتھ عموماً تعارف بڑھتا ہے اور تبلیغ کے نئے راستے کھلتے ہیں تو اس کے لئے بھی اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خداتعالیٰ کے فضلوں کی بارش پہلے سے بڑھ کر ہو۔
آج ہم جو مسجدیں بنا رہے ہیں یا مشن ہاؤسز کھول رہے ہیں یا سینٹر زلے رہے ہیں اور جماعتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یہ تحریک جدید کا ہی ثمرہ ہے۔
(مسجد المہدی بریڈفورڈ (UK) کے افتتاح کے موقع پر خطبہ جمعہ میں مسجد المہدی بریڈفورڈ، شیفیلڈ کی مسجد اور لیمنگٹن سپا اور ہڈرزفیلڈ میں نئے سینٹرز کا تذکرہ)
تحریک جدید کے 74 ویں سال کے اختتام اور 75ویں سال کے آغاز کا اعلان۔
اس سال جماعت کو تحریک جدید میں 41لاکھ 2ہزار 792پاؤنڈز کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔
اس سال بھی پاکستان دنیا بھر کی جماعتوں میں مجموعی لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا۔ دوسرے نمبر پر امریکہ اور تیسرے نمبر پر برطانیہ۔
افریقن ممالک میں نائیجیریا کی جماعت تحریک جدید میں نمایاں طورپر آگے آئی ہے اور پہلی دس جماعتوں میں شامل ہو کر ایک مثال قائم کر دی ہے۔
تحریک جدید کا چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر جماعتیں کوشش کریں تو ایک سال میں یہ تعداد تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 7؍نومبر 2008ء بمطابق7؍نبوت 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد المہدی۔ بریڈفورڈ۔ (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْایُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْامِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّاوَّعَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌفِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ۔ (ابراہیم :32)

الحمدللہ کہ آج بریڈفورڈ کی جماعت کو بھی یہ مسجد بنانے کی توفیق ملی۔ مسجد کے طور پر استعمال ہونے والا ایک سینٹر تو یہاں موجود تھا اور میرے خیال میں اس کے جو ہال تھے ان کی گنجائش کافی حد تک بریڈ فورڈ جماعت کی ضرورت پوری کرر ہی تھی، لیکن اس کو مسجد نہیں کہا جا سکتا تھا۔ خاص مسجد کی عمارت جسے انگریزی میں Purpose Built کہتے ہیں اس لحاظ سے یہ جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ہے جو اس علاقے میں تعمیر ہوئی ہے۔ ابھی مَیں نے دیکھا تو نہیں لیکن تصویریں مَیں نے دیکھی تھیں، بتانے والے بتاتے ہیں کہ مین (main) سڑک سے بڑا خوبصورت نظارہ اس مسجد کا نظر آتا ہے اور اس کے ٹیرس (Terrace) پہ کھڑے ہوکر سارا شہر بھی نظر آتا ہے اور لگتا ہے کہ تمام شہر اس مسجد کو دیکھتا ہوگا۔ اور غیر از جماعت مختلف فرقوں کی دوسری مساجد بھی یہاں ہیں وہ بھی سامنے دور دور نظر آتی ہیں۔
لیکن بہرحال اس جگہ پر، اللہ تعالیٰ نے یہ جگہ تعمیر کے لئے دی ہے جو شہر کی کافی اونچائی پہ ہے اور یہاں سے سارا شہر بھی نظر آتا ہے اور سارے شہر سے یہ مسجد نظر آتی ہے اور اس لحاظ سے اس مسجد کی ایک نمایاں حیثیت ہو گئی ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں اور آپ لوگوں کو بھی جو بریڈ فورڈ کے رہنے والے ہیں یہ احساس ہو گیا ہوگا کہ جب ارادہ پکا اور مصمم ہو تو اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے۔ جب آپ نے فیصلہ کر لیا کہ مسجد بنانی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی مدد فرمائی۔
پھر اس علاقہ میں کچھ اور مساجد بھی بن رہی ہیں یا بنی ہیں اور اس جمعہ کے ساتھ مَیں ان کے بارہ میں بھی مختصراً بتا دوں کہ شیفیلڈ میں بھی ایک مسجد بنی ہے۔ ابھی کل انشاء اللہ تعالیٰ اس کا بھی افتتاح ہو گا لیکن چونکہ جمعہ کا موقع نہیں اس لئے اس کے بارہ میں بھی آج ہی بتا رہا ہوں۔ اسی طرح دو سینٹرز خریدنے کی بھی آپ کو توفیق ملی۔ دنیا کے احمدیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس مسجد کے مختصراً کوائف بھی ان کو پتہ لگیں۔ آپ جو یہاں انگلستان کے رہنے والے ہیں، ان میں سے بھی بہت سوں کوپتہ نہیں ہو گا اس لئے بتا دیتا ہوں۔
یہاں جماعت کی تاریخ توبہت پرانی ہے۔ 1962ء سے یہاں جماعت قائم ہے۔ 1968ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ یہاں تشریف لائے تھے، پھر 1973ء میں دوبارہ تشریف لائے تھے اور 1979ء میں جو اس وقت آپ کاسینٹر استعمال ہو رہا ہے اس کو خریدا گیا تھا۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ 1982ء میں یہاں تشریف لائے تھے اور پھر 1989ء اور 1992ء میں بھی آپؒ یہاں تشریف لائے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے کہنے پر یہاں مسجد کے لئے جگہ تلاش کی گئی اور پھر 2001ء میں اس کی پلاننگ Permission مل گئی تھی اور 2004ء میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر پر اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 2.3 ملین پاؤنڈ یعنی 23لاکھ پاؤنڈز خرچ ہوئے ہیں اور اس کی گنجائش 600افراد کے لئے ہے۔ ایک مردوں کا ہال ہے۔ اتنا ہی عورتوں کا ہال ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ہال ہے۔ اور اس کی تعمیر میں کمپنی کے کام کے علاوہ ہمارے والینٹیئرز (Volunteers)نے بھی کافی کام کیا۔ رشید صاحب ہیں، شاہد صاحب ہیں اوربعض دوسرے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔
اس مسجد کے فنڈ کے لئے صرف بریڈ فورڈ جماعت نے ہی فنڈز اکٹھے نہیں کئے بلکہ لجنہ اماء اللہ UK کو مَیں نے کہا تھا کہ وہ اس میں بڑا حصہ ڈالیں اور اسی طرح خدام الاحمدیہ کو بھی کیونکہ ہارٹلے پول کی مسجد انصاراللہ کی رقم کے بہت بڑے حصے سے تعمیر ہوئی تھی۔ تو بہرحال لجنہ اماء اللہ نے اس میں بڑھ چڑھ کر چندے دئیے اور اسی طرح خدام الاحمدیہ نے بھی اور پھر لوکل بریڈ فورڈ کی جماعت نے بھی کافی قربانی کی ہے- اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔
UK جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ پہلے تو کئی سالوں کے بعد ایک مسجد کی تعمیر ہوتی تھی یا سینٹرز خریدے جاتے تھے لیکن اب ان کو بھیPurpose built مسجدیں بنانے کاخیال آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جاری رکھے اور فی الحال جو انہوں نے 25مساجد کا اپنا ٹارگٹ مقرر کیا ہے اس کو جلد سے جلد حاصل کرنے والے ہوں۔
یورپ میں جہاں ایک طبقہ مخالفت میں بڑھ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک طبقہ خاص طور پر نوجوانوں میں ایسا بھی ہے جن کا اسلام کی طرف رجحان پیدا ہو رہاہے۔ تعلیم تو وہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں، تاریخ پڑھتے ہیں، واقعات دیکھتے ہیں۔ UK میں جو اسلام کا عروج ہوا اس کو دیکھتے ہیں۔ پھرجو ترقیات اسلام کے ذریعہ سے اس وقت ملیں اس سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر کیونکہ جماعت احمدیہ بعض علاقوں میں بہت مختصر تعداد میں ہے، اتنا تعارف بعض جگہ پر نہیں ہے، لوگ جانتے نہیں ہیں، تو جن مسلمان گروہوں کے پاس جاتے ہیں ان کے ذریعہ سے جب مسلمان ہوتے ہیں تو بعض دفعہ غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ اس لئے مَیں نے پہلے بھی بتایاتھا کہ فرانس کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایک جرمن ڈپلومیٹ آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ جرمنی کے نوجوانوں کا اسلام کی طرف بڑا رجحان ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ اگر ہم نے مسلمان ہی ہونا ہے تو پھر احمدی مسلمان ہوں تاکہ صحیح راستے پر چلنے والے ہوں۔ تو یہ جو رجحان پیدا ہو رہا ہے اس کو سنبھالنا ہے اور جب ہم مسجد بناتے ہیں تو ایک نیا تعارف جماعت کا ہوتا ہے۔ نئے نئے تعارف کے راستے کھلتے ہیں۔
امیر صاحب نے جو رپورٹ دی تھی اس میں لجنہ کی تعریف کی گئی تھی کہ فنڈز کی وصولیوں میں لجنہ اماء اللہ UK نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے لیکن خدام الاحمدیہ پہ ان کو کچھ شکوہ تھا۔ تو جہاں تک خدام الاحمدیہ کا سوال ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنا وعدہ پورا کر دیا لیکن بہرحال اگر نہیں کیا تو وہ اس شکوہ کو دُور کریں۔
دوسری مسجد کا جو مَیں نے کہا کہ شیفیلڈ میں مسجد بن رہی ہے یہاں بھی 1985ء سے جماعت قائم ہے اور اب جہاں موجودہ جائیداد(پراپرٹی) خریدی گئی ہے اور مسجد بنائی ہے یہ 2006ء میں خریدی گئی تھی اور وہاں بھی 5لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے مسجد تیار ہوئی ہے۔ 2006ء میں وہاں چند ایک لوگ تھے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے 200 کی جماعت ہے۔ اس مسجد کی گنجائش بھی 300 نمازیوں کی ہے۔
اسی طرح کچھ سینٹرز خریدے گئے ہیں۔ لیمنگٹن سپا(Liamington Spa) میں اورہڈرز فیلڈ میں ایک نئی جگہ خریدی گئی ہے۔ یہ ڈیڑھ ایکڑ کی جگہ ہے جہاں انشاء اللہ کسی وقت آئندہ جلد امید ہے مسجد تعمیر ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ وہاں بھی جلد تعمیر کرنے کی توفیق دے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کرنا چاہئے کہ دنیائے احمدیت میں مسجدوں کی تعمیر کی طرف جو توجہ ہو رہی ہے اس میں UK والے بھی حصہ دار بن رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو جلد جو ٹارگٹ مَیں نے بیان کیا ہے اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کیا عمارت بنا دینا اور ایک خوبصورت عمارت بنا دینا کافی ہے۔ کیا یہی بات ہمیں اس حدیث میں بتائے گئے انعام کا وارث بنائے گی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں اللہ کا گھر بنایا اس نے اگلے جہان میں اپنا گھر بنایا۔ یقینا مسجد بنانا ایک نیک کام ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے تبھی تو اگلے جہان میں بھی اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنانے کی خوشخبری دی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے وہ مقصد پورا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اپنی نیتوں کو خالص کرتے ہوئے وہ جذبہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کا حال جانتا ہے، جس کے علم میں ہے کہ بندے کے دل میں کسی کام کے کرنے کی نیت کیا ہے اُس خدا کے لئے وہ خالص دل پیدا کرنا ضروری ہے جس میں اس کی رضا کے حصول کا مقصد کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔ جس میں خالصتاً للہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ بھی موجزن ہو۔ پس مَیں امید کرتا ہوں کہ مسیح محمدی کے غلام ہونے کے ناطے یقینا یہ جذبہ ہر احمدی کے دل میں ہے اور یہاں بھی ہر احمدی کے دل میں یہ مسجد تعمیر کرتے وقت پیدا ہواہو گا۔ کیونکہ اگر یہ جذبہ نہیں تو ایسی مسجد کے بدلے اگلے جہان میں مسجد بنانے یا گھر بنانے کا کیا سوال ہے، اس دنیا میں ہی ایسی مسجد کو زمین بوس کرنے کا حکم دیاہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو۔ چنانچہ جب مخالفین اور منافقین نے اللہ کے نام پر دُنیا کو دھو کہ دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے گرانے کا حکم دیا۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ

وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًا بَیْْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی۔ وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُونَ۔ لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا۔ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہ۔ فِیْہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا۔ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ۔ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلَی تَقْوٰی مِنَ اللہِ وَرِضْوَانٍ خَیْْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ۔ وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْن(التوبۃ:109-107)

اور وہ لوگ جنہوں نے تکلیف پہنچانے اور کفر پھیلانے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایسے شخص کو کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے جواللہ اور اس کے رسول سے پہلے ہی سے لڑائی کر رہا ہے ایک مسجد بنائی، ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے۔ جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ جھوٹے ہیں۔ تُواس میں کبھی کھڑا نہ ہو یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہو زیادہ حقدار ہے کہ تو اس میں نماز کے لئے قیام کرے۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ وہ پاک ہو جائیں اور اللہ پاک بننے والوں سے محبت کرتا ہے۔
فرمایا: پس جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر رکھی ہو کیا وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھوکھلے ڈھے جانے والے کنارے پر رکھی ہو۔ پس وہ اسے جہنم کی آگ میں ساتھ لے گرے اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسیحؑمحمدی کے غلاموں میں سے ہیں جن کو خداتعالیٰ نے دنیا میں اس زمانے میں اپنی پہچان کرانے کے لئے بھیجا تھا۔ جن کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے کہ بندے کو خدا کے قریب کرنا اور مخلوق خدا کا حق ادا کرنا۔ مخلوق کو مخلوق کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانا۔ ہم سے تو کبھی یہ توقع کی نہیں جا سکتی کہ ہماری مسجدیں کبھی بھی ایسی مسجدیں ہوں جن کا مقصد تکلیف پہنچانا ہو۔ یا جس میں اللہ معاف کرے کبھی کفر کی تعلیم دی جائے یا مومنوں میں پھوٹ ڈالنے کا ذریعہ بنے یا اللہ اور رسول کے مخالفین کو کبھی ہم پناہ دینے والے ہوں۔ پس جب ہم کبھی ان برائیوں کے کرنے والے نہیں ہو سکتے تو پھر ہمیں اپنے ماحول میں اس بات کو پھیلانا ہو گا۔ اس مسجد کی تعمیر کے بعد پہلے سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام پہنچانا ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں جس مسیح و مہدی نے آنا تھا اور دنیا کی تکلیفیں دُور کرنے کے لئے آنا تھا وہ آچکا اور ہم اس کی جماعت کے فرد ہیں۔ ہم اُس کو ماننے والے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو تکلیف کا تو سوال نہیں محبت اور پیار کی شمعیں دلوں میں جلانے والے ہیں۔ ہم اُس مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں جس نے اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ’’سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے صلح کی بنیاد ڈالوں‘‘۔
(لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 180)
پس ہماری مساجد اس تعلیم کا پرچار کرنے والی ہوں جو پیار محبت اور حلم کی بنیاد ڈالنے والی ہے۔ ہم تو ہر حال میں صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے دنیا کو امن دینے کے خواہش مند ہیں۔ ہم نے تو دنیا کی تکلیفیں دُور کرنے کے لئے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ قربانیاں دیتے چلے جائیں گے۔ آج دنیا میں جماعت احمدیہ کا تعارف ہی دنیا کی تکلیفوں کو دُور کرنے میں صف اوّل میں رہنے والوں کے حوالے سے ہے۔ جو لوگ بھی ہمیں جانتے ہیں، وہ اسی لئے جانتے ہیں کہ یہ ایک امن پسند جماعت ہے۔ بلکہ مَیں تو یہ کہوں گا کہ ہم سب سے آگے ہیں کیونکہ ہماری خدمات بے لوث ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے بغیر امتیاز کے ہرجگہ پر ہیں۔
افریقہ میں ہیومینیٹی فرسٹ کے ذریعہ سے خدمت کر رہے ہیں۔ جزائر میں خدمت کر رہے ہیں۔ ساؤتھ امریکہ میں خدمت کر رہے ہیں۔ پھر احمدیوں کی انجینئرز ایسوسی ایشن ہے۔ UK والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں افریقہ میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی بہت کام کر رہے ہیں۔ تو ہر جگہ ہمارا کام تو خدمت کرنا ہے تاکہ لوگوں کی تکلیفیں دور ہوں۔ پینے کے لئے جہاں پانی مہیا نہیں وہاں پینے کے لئے پانی مہیا کرتے ہیں۔ غرض بےشمار طرح کی خدمتیں ہیں جو جماعت احمدیہ انجام دے رہی ہے۔
پھرجو مَیں نے آیات پڑھی تھیں ان میں ایک برائی اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی جو خداتعالیٰ کی خاطر نہ بنائی جائے یہ بیان فرمائی کہ کفر پھیلانے والی ہے۔ جبکہ ہماری مساجد تو خدائے واحد کی عبادت کا حق ادا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ ہماری مساجد تو اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں اور وہ مقصد ہے ایک خدا کی عبادت کرنا۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کی بھی کافی آبادی ہے۔ مَیں نے جیسے ذکر کیاان کی بہت ساری مساجد بھی ہیں ان میں سے ایک طبقہ کو تو ہماری مسجد کا بننا پسند نہیں آیا اس لئے تعمیر کے دوران بعض لوگوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ بعض غیرمسلموں نے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے یہ فعل اور عمل ہمیں اپنے خدا کی عبادت کا پہلے سے بڑھ کر حق ادا کرنے والا بنانے والے ہونے چاہئیں۔ اپنے خدا سے تعلق میں پہلے سے بڑھ کر ہماری کوشش ہونی چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے بننا چاہئے۔ اس ارشاد میں اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:
’’وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہرایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں ‘‘۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 180)
تو یہ آپؑ کا کام تھا کہ وہ خالص توحید جو دنیا سے ختم ہو گئی ہے اس کو نہ صرف قائم کرنا بلکہ اس کا ایسا پودا لگانا جو کبھی سوکھنے والا نہ ہو، ہمیشہ ہرا بھرا رہے۔ اور ہم وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آپ کی جماعت میں شامل ہوئے۔ ہم اس پودے کی شاخیں ہیں۔ جب تک ہم سرسبز شاخیں رہیں گی اس کا حق ادا کرتی رہیں گی توحید کا حق ادا کرتے رہیں گے ہم اس پودے سے جڑے رہیں گے۔ ورنہ سوکھے پتوں کی طرح اور سوکھی ٹہنیوں کی طرح علیحدہ ہو جائیں گے۔
پس ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آکر اپنوں کو بھی اور غیروں کو بھی اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کروانا ہے کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کرنے کے لئے مسجدیں بنانے والے ہیں۔ اور شرک کے خاتمے کے لئے ہر قربانی کرنے والے ہیں تاکہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے کفر و الحاد ختم ہو جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مساجد بنانا ان کا کام نہیں جو مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے ہوں۔ پس آج ہم میں سے ہر احمدی کا یہ نعرہ ہونا چاہئے اور صرف نعرہ نہیں اس کے ہر قول اور عمل سے اس بات کا اظہار ہونا چاہئے کہ وہ محبتوں کا علمبردار ہے۔ وہ دلوں کو جوڑنے والا ہے۔ وہ فتنہ و فساد کودنیا سے عمومی طور پر ختم کرنے والا ہے اور خاص طور پر اپنے معاشرے سے اپنے اندر سے ختم کرنے والا ہے اور وہ

رُحَمَآءبَیْنَھُمْ

کا عملی اظہار کرنے والا ہے۔ تبھی یہ مسجد ہمارے اس مقصد کو پورا کرنے والی ہو گی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ تبھی ہماری تبلیغ دوسروں کے دلوں پر اثر کرنے والی ہو گی۔ تبھی ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بھی دل جیتنے والے ہوں گے جن کو ان کی لاعلمی اور غلط راہنمائی نے شکوک و شبہات میں ڈالا ہوا ہے۔ کیونکہ اب اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آپؐ کے عاشق صادق اور مسیح محمدی نے ہی تمام مسلمانوں کو امت واحدہ بنانے کا کردار ادا کرنا ہے۔ اب اس مسیح محمدی کی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ مومنوں کا حقیقی کردار ادا کریں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی تعلیم کو اپنے پر لاگو کریں۔ تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں اور اِس مسجد کو اُس مسجد کے نمونے پر قائم کر دیں جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر رکھی گئی تھی۔ ورنہ جو مسجد بغیر تقویٰ کے اور تقویٰ کے مقاصد پورا نہ کرتے ہوئے تعمیر کی جائے وہ آگ کے کنارے پر بننے والی مسجد ہے۔ ایسی عمارت ہے جو آگ کے کنارے پر بنائی گئی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ اس کی اس طرح وضاحت فرمائی کہ دریا کا کنارہ تو پانی میں گرتا ہے۔ اب دریا چوڑا ہو جاتا ہے۔ اس سے مزید لوگو ں کو فائدہ ہی ہوتا ہے لیکن نفاق کا کنارہ آگ میں گرتا ہے۔ جو مسجدیں خالص اللہ کی رضا کے لئے نہ ہوں وہ اِس مسجد کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ وہ آگ میں گرنے والی مسجد تھی۔ ہم تو نفاق سے پاک اور خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرنے والے لوگ ہیں۔ ہماری مسجدیں تو انشاء اللہ ان مسجدوں کا کردار ادا کرنے والی ہیں جو ہر قربانی کرنے والے کے لئے جنت میں گھر بنانے کی ضمانت دینے والی ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ مثال دے کر منافقین اور مخالفین کی ایسی حرکتوں کا ذکر کیاہے جن سے مومنوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو یا یہ ارادہ ہو کہ ہمیں نقصان پہنچانا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ تسلی بھی دلائی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ کوشش ناکام ہو ئی۔ تو آئندہ بھی اگر مومن، خالص مومن، ایمان کا مظاہرہ کرتے رہیں گے اور تقویٰ پر قائم رہیں گے تو خداتعالیٰ مومنوں کی جماعت کو ہر شر اور تکلیف سے بچانے کے سامان پیدا فرماتا رہے گا۔
لیکن یہاں مومنوں پر بھی ذمہ داری ڈالی ہے کہ اس مسجد کی مثال تمہارے سامنے ہے جس کی بنیادیں تقویٰ پر اٹھائی گئیں۔ اس سے مراد مسجد نبوی ہے جس کی بنیادیں عاجزی اور دعاؤں سے اٹھائی گئیں جو تقویٰ کے قیام کے لئے بنائی گئی۔ پس آئندہ بھی مومن ہمیشہ اپنے سامنے وہ نمونے رکھیں جو آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ ؓ نے اس مسجد کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے قائم کئے تھے۔ ورنہ کوئی ضمانت نہیں کہ تمہاری مساجدتمہیں خدا کا قرب دلانے والی بنیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے اپنے دلوں کو پاک کرنے کی خواہش رکھنا اور اس کے لئے تقویٰ پر قدم مارنا انتہائی ضروری چیز ہے۔
پس ہر احمدی جب بھی مسجد بنائے اسے ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کی تعمیر کا مقصد ایک خدا کی عبادت کرنا اور تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔
تقویٰ کیا ہے یا متقی کون ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ کے خو ف سے اور اس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتا رہے اس کو متقی کہتے ہیں ‘‘۔
ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ’’قرآن شریف تقویٰ ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے۔ ‘‘ یعنی تقویٰ ہی اس کا بنیادی مقصد ہے۔ فرمایا کہ ’’اگر انسان تقویٰ اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں ‘‘۔
(تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جلد اوّل صفحہ 411۔ الحکم جلد 11نمبر 28مورخہ 10؍اگست 1907ء صفحہ 14)
اللہ ہر احمدی کو اس سے محفوظ رکھے کہ نمازیں صرف بے فائدہ ہی نہیں ہیں بلکہ دوزخ کی طرف لے جانے والی ہیں۔ ہم مسجد کی باتیں کر رہے ہیں کہ اس کا مقصد تقویٰ کا قیام ہونا چاہئے اور اس تقویٰ کے حصول کے لئے ایک مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے بنانے سے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر دیتا ہے۔ یہاں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ ولسلام نے انذار فرمایا ہے۔
تو ہر وہ شخص جو مسجد کے لئے قربانی دینے والاہے اُسے پہلی بات ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مسجد بناتے ہوئے نیت صاف ہو، ہر قسم کے فتنہ و فساد سے پاک ہو۔ اب جو نمازیں پڑھنے والے ہیں ان کے بارہ میں فرمایا کہ اگر تقویٰ نہیں تو بے شک ظاہری نمازیں تم لوگ پڑھ رہے ہو یہ بے فائدہ ہے۔ انسان اگر غور کرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ’’جہاں تقویٰ نہیں وہاں حسنہ حسنہ نہیں اور کوئی نیکی نیکی نہیں ہے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جلد اوّل صفحہ 410۔ الحکم جلد 5نمبر 32 مورخہ 31؍اگست 1901ء صفحہ3)
پس ہمیں اس بات پر ہی خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے ایک بہت خوبصورت مسجد بنا لی جو دُور سے نظر آتی ہے اور اس شہر میں بڑی نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اصل خوبصورتی اس کی اس وقت ظاہر ہو گی جب ہم تقویٰ پر چلتے ہوئے اس مسجد کی تعمیرکے مقاصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے ان مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔
پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس مسجدکی تعمیر کے ساتھ خالص اللہ کا ہو کر اپنی نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرے۔ اور پہلے سے بڑھ کر آپس میں پیار محبت اور بھائی چارے کے تعلقات پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے کی غلطیوں سے صرف نظر کرنے والا ہو، ان کو معاف کرنے والا ہو۔ اپنے دلوں کو ہر قسم کے کینوں اور بغضوں سے پاک کرنے والا ہو۔ اپنوں اور غیروں ہر ایک کے حقوق ادا کرنے والے ہوں۔ عاجزی اور انکسار دلوں میں پیدا کرنے والے ہوں۔ تبھی اس مسجد کی تعمیر سے فیض پاتے ہوئے جنت میں خداتعالیٰ کے بنائے ہوئے گھرمیں ہم جگہ پانے والے ہوں گے۔ تبھی ہماری نمازیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ مقام حاصل کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جو آیت مَیں نے شروع میں تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے دو اہم حکم عطا فرمائے ہیں جو قرآن کریم کی ابتداء سے لے کر آخر تک مختلف حوالوں اور مختلف طریق پر مسلسل بیان ہوئے ہیں اور ان میں سے پہلا حکم نمازوں کا قیام ہے۔ جس کے بارہ میں بھی مَیں نے تھوڑی سی توجہ دلائی ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی نمازوں کی حفاظت ہر مومن پر فرض ہے اور یہی بات پھر مزید تقویٰ میں بڑھائے گی۔
نماز کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح، تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو جب تم نماز پڑھوتو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسولؐ کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کرلیا کرو تاکہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔‘‘ (کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ69-68)
اور جب اثر ہو گا تو پھر تقویٰ کے معیار بھی بڑھیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرب نماز کو سمجھ کر پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اب جبکہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد آپ کی ذمہ داری بڑھے گی کیونکہ مَیں نے یہی دیکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے ساتھ عموماً تعارف بڑھتا ہے اور نئے راستے تبلیغ کے کھلتے ہیں تو اس کے لئے بھی اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خداتعالیٰ کے فضلوں کی بارش پہلے سے بڑھ کر ہو۔ اور ان نمازوں کی وجہ سے آپ کو اپنی اصلاح کے ساتھ احمدیت کا پیغام پہنچانے کے بہتر مواقع بھی حاصل ہوں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بہتر نتائج بھی نکلیں گے۔
اب اس آیت میں بیان کردہ دوسرے حکموں کی طرف آتا ہوں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ بریڈ فورڈ کی مسجد اورہارٹلے پول کی مسجد کی بنیادمَیں نے ایک دن کے وقفہ سے رکھی تھی۔ پہلے بریڈ فورڈ کی، اس سے اگلے دن ہارٹلے پول کی مسجد۔ لیکن ہارٹلے پول کی مسجد آج سے دو سال پہلے مکمل ہو گئی کیونکہ چھوٹی تھی اس لئے جلدی مکمل ہو گئی۔ لیکن بریڈ فورڈ کی مسجد کوکچھ عرصہ لگ گیا۔ بہر حال جو بات مَیں کہنی چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہارٹلے پول کی مسجد کا جب افتتاح ہوا تو اس وقت بھی یہ اتفاق تھا یا اللہ تعالیٰ کا خاص تصرف تھا کہ تحریک جدید کے سال کا وہاں مَیں نے اعلان کیا اور لندن سے باہر تحریک جدید کے نئے سال کا جو پہلا اعلان میری طرف سے ہوا تھا وہ وہیں تھا۔ اور آج آپ کی مسجد کے افتتاح پر بھی اتفاق سے وہ دن ہے جب تحریک جدید کا پرانا سال ختم ہوا اور نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے۔
تحریک جدید کے قیام کی وجہ دشمنان احمدیت کی بڑھتی ہوئی دشمنی تھی جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اجراء فرمایا تو اس وقت دشمن کے احمدیت کو ختم کرنے کے بڑے شدیدمنصوبے تھے۔ لیکن آپؓ نے جب جماعت کے سامنے یہ تحریک رکھی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس منصوبے سے احمدیت کی تبلیغ پہلے سے زیادہ بڑھ کر اور شان سے ہندوستان سے باہر کے ممالک میں پھیلی۔ آج ہم جو مسجدیں بنا رہے ہیں یا مشن ہاؤسز کھو ل رہے ہیں، سینٹرز لے رہے ہیں اور جماعتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یہ اصل میں اسی تحریک کا ثمرہ ہے۔ پس آج آپ کو ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی دعاؤں کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح انعامات سے نواز رہا ہے۔ ایک جوش کے ساتھ تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک جوش کے ساتھ مالی قربانی کی ضرورت ہے اور یہی حقیقی شکرانہ ہے اور یہی دشمنوں کی کوششوں کا جواب ہے۔
اس آیت میں جو دوسری بات بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ مال خرچ کرو۔ ہر عقلمند جانتا ہے کہ یہاں مال خرچ کرنے سے مراد خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ جس سے لٹریچر وغیرہ کی اشاعت کی تبلیغی ضروریات پوری ہوں۔ مساجد کی تعمیر ہو سکے۔ نئے مشن کھل سکیں۔ مبلغین تیار ہو سکیں۔ پہلے تو قادیان میں ایک جامعہ احمدیہ تھا اور ایک ربوہ میں۔ دو جامعہ تھے۔ اب مبلغین کی نئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور مبلغین کو تیار کرنے کے لئے کئی جگہ جامعات کھل چکے ہیں تاکہ جو نئی ضروریات آئندہ پیش آنے والی ہیں ان کو پورا کیا جا سکے۔ برطانیہ بھی ان خوش قسمت ملکوں میں سے ہے جہاں جامعہ احمدیہ قائم ہے۔ تو بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مال خرچ کرو تو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صرف ایک کام کرکے بیٹھ نہ جاؤ بلکہ جس طرح تمہارے لئے نمازوں کی طرف مستقل توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، خالص ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مالی قربانیوں کی بھی ضرورت ہے۔ ایک دفعہ کی مالی قربانی سے تمہارا فرض پورا نہیں ہو جاتا۔ ایک مسجد بنانے سے مالی قربانیوں میں کمی نہیں آنی چاہئے۔ تھوڑا سا لٹریچر شائع کرنے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بہت ہو گیا۔
اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے نئے راستے بھی اللہ تعالیٰ خود بخود کھول رہا ہے اور اس کے لئے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ ان نئے راستوں میں جیسے ہم دیکھتے ہیں ایم ٹی اے بھی ہے۔ آج پہلی دفعہ یہاں اس شہر سے براہ راست دنیا خطبہ بھی سن رہی ہے۔ ایم ٹی اے کا تبلیغ کے میدان میں بہت بڑا کردار ہے۔ دنیا میں اس کی وجہ سے نہ صرف احمدیت کا تعارف ہو رہا ہے بلکہ اکثر ممالک کی اکثر جگہوں پر احمدیت اور اسلام کا پیغام اس کے ذریعہ سے سے پہنچ چکا ہے۔ اب صرف ملکوں یا چند شہروں میں پیغام پہنچا دینا ہی کافی نہیں ہم نے دنیا کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہرقصبے اور ہر گلی میں اس کا پیغام پہنچانا ہے اور بہرحال اس کے لئے قربانیاں دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اسی لئے آپ لوگ اپنے عہدوں میں یہ عہد کرتے ہیں کہ جان و مال، وقت اور عزت قربان کروں گا۔ کس لئے؟ بغیر کسی مقصد کے لئے تو نہیں کرنا؟ اللہ تعالیٰ کے دین کا پیغام پہنچانے کے لئے کرنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کے لئے کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ احباب جماعت کے دل میں وہ خود جوش ڈالتا ہے کہ وہ مالی قربانی کریں۔ آج دنیا جب مالی بحران میں گرفتار ہے احمدی کو اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ تمہاری عبادتیں اور تمہاری مالی قربانیاں تمہیں اس کے بداثرات سے محفوظ رکھیں گی۔ کیونکہ مومن کی نظر اپنی آخری منزل کی طرف ہوتی ہے اور ہونی چاہئے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ دنیاوی تجارتیں اور روپیہ پیسہ کام آئے گا۔ نہ تمہاری دوستیاں کام آئیں گی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کی گئی عبادتیں اور مالی قربانیاں کام آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بڑا احسان ہے کہ احمدیوں نے اس پیغام کو سمجھا ہے۔ مالی قربانیوں کے بوجھ بعض دفعہ اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ احساس ہوتا ہے کہ بہت بڑھ گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی ایک بہت بڑی تعداد جن کو قربانی کی عادت پڑچکی ہے و ہ قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ مسجد بنائی تو بعض نے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایک شخص کو مَیں جانتا ہوں جوعارضی طور پر یہاں آیا ہوا تھا، اس کے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے دے دیا اور مجھے اس سے کہنا پڑا کہ نفس کا بھی حق ہے، اس کو بھی ادا کرنا چاہئے۔
پھر تحریک جدید کا سال جن کو پتہ ہے کہ 31؍ اکتوبر کو ختم ہو تا ہے تو اس دن سے تیار ہو کر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کب خطبہ آئے اورمَیں نئے سال کا اعلان کروں تو ہم اپنا چندہ دیں یا وعدہ لکھوائیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ ایسے بھی ہیں جو رقم جمع کرکے بیٹھے ہوتے ہیں کہ جب اعلان ہو تو فوری طور پر اپنے وعدے کے ساتھ ادائیگی بھی کر دیں۔ خداتعالیٰ سے ادھار نہیں رکھتے۔ ایسے بھی ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اگر قرض لے کر اپنی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں تو تحریک جدید کا وعدہ اور دوسرے چندے کیوں ادا نہیں کئے جا سکتے۔ حالانکہ نفس کا حق ادا کرنا بھی بڑا ضروری ہے۔ لیکن ہر ایک کا اپنے خدا کے ساتھ علیحدہ معاملہ ہے۔ اس لئے باوجود بہت سے لوگوں کے علم ہونے کے کہ ان کی ایسی حالت نہیں ہے، میں ان کو یہ نہیں کہتا کہ چندہ واپس لے لو۔ ان کو توجہ ضرور دلاتا ہوں کہ اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا حق بھی ادا کرو۔ تو جواب ان کا یہی ہوتا ہے کہ یہی تو ہم خداتعالیٰ سے سودا کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کی بیویاں بھی بڑھ چڑھ کر قربانی کر رہی ہوتی ہیں اور احمدی عورتیں تو مَیں نے دیکھا ہے کہ ماشاء اللہ مردوں سے مالی قربانی میں زیادہ آگے بڑھی ہوئی ہیں۔ ابھی آپ نے سنا مَیں نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ امیر صاحب نے مجھے رپورٹ دی کہ لجنہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
اسی طرح جرمنی میں جو برلن کی مسجد ہے لجنہ تعمیر کر رہی ہے وہاں بھی لجنہUKنے تقریباً پونے دو لاکھ پاؤنڈ ادا کئے ہیں۔ برطانیہ میں جو نئی مسجدیں بنانے اور سینٹرز خریدنے کی رَو چلی ہے اس میں بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ احمدی عورتوں کا بڑا ہاتھ اور کردار ہے۔ اس کا اظہار کئی میٹنگز میں اور شوریٰ میں احمدی عورتوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ میرے سامنے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ ملاقاتوں میں بھی اظہار کرتی ہیں کہ فوری طور پر مسجد بننی چاہئے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کی تربیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ پس یہ ہے احمدیت کی خوبصورتی۔ یہ ہے وہ انقلاب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم میں پیدا کیا ہے، ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں میں بھی پیدا کیا ہے اور جب تک کہ یہ روح ان میں قائم رہے گی، ان کی نسلوں میں عبادتوں میں ترقی کرنے والے اور مالی قربانی کرنے والے پیدا ہو تے چلے جائیں گے۔ ان کی نسلیں بڑھ چڑھ کر مالی قربانی کرنے والی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کو ہمیشہ ایسی قربانی کرنے والی عورتیں، ایسی قربانی کرنے والے مرد، بچے اور بوڑھے عطافرماتا چلا جائے، جو دنیا کی دوستیوں اور دنیا کی تجارتوں کی طرف دیکھنے کی بجائے آخرت پر نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوں اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں۔
اب مَیں آخر میں وہ اعداد وشمار پیش کر دیتا ہوں جن میں تحریک جدید کا موازنہ ہوتا ہے کیونکہ اس کا بھی دنیاکو انتظارہوتا ہے۔ تحریک جدید کا 74واں مالی سال ختم ہوا ہے اور نیا 75 واں سال شروع ہو گیا ہے۔ اورجو رپورٹس آئی ہیں اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر جماعت کو تحریک جدید میں 41 لاکھ 2ہزار 792 پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی اور یہ وصولی گزشتہ سال کی وصولی کے مقابلے پر 5لاکھ پاؤنڈ ز یادہ ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت بڑا مالی کرائسز(Crises) آیا ہوا ہے اور عموماً احمدیوں کا مزاج ہر جگہ یہی ہے کہ آخری مہینہ بلکہ آخری دن میں اپنے وعدے پورے کرتے ہیں، سارا سال انتظار کرتے ہیں یاتقسیم کیا ہوتا ہے۔
بہرحال پاکستان دنیا بھر کی جماعتوں میں اس دفعہ بھی مجموعی لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔
مجموعی وصولی کے لحاظ سے جو پہلی دس جماعتیں ہیں، ان کے بارہ میں بتا دیتا ہوں کہ پاکستان نمبر1، پھر امریکہ، پھر برطانیہ۔ لیکن امریکہ نمبر2 تو آگیا ہے، اس وجہ سے کہ آخر میں جب ہم نے Calculate کیا تو ڈالر کا ریٹ کچھ بہتر ہو گیا تھا لیکن ٹوٹل وصولی ان کی گزشتہ سال سے کم ہے اس لئے امریکہ کو توجہ کرنی چاہئے اور نمبر تین برطانیہ ہے۔ اس سال برطانیہ نے وصولی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے 74 ہزار پاؤنڈ زائد وصولی کی ہے۔ اور پھر نمبر4جرمنی ہے، پھر کینیڈا، انڈونیشیا، انڈیا، بیلجیم اور آسٹریلیا آٹھویں نمبر پر ہے۔ نویں نمبرپر سوئٹزر لینڈ (پہلے نکل گیا تھا دوبارہ آگیا ہے) اور دسویں نمبر پر نائیجیریا اور ماریشس۔
نائیجیریا کی جماعت تحریک جدید میں نمایاں طور پر آگے آئی ہے اور مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے پہلی دس جماعتوں میں شامل ہو گئی اور اس طرح افریقن ممالک میں نائیجیریا وہ پہلا ملک ہے جو پہلی دس جماعتوں میں آگیا اور اس نے ایک اچھی مثال قائم کر دی ہے۔ گزشتہ سال سوئٹزر لینڈ جیسا کہ مَیں نے بتایاتھا نکل گیا تھا اب دوبارہ اپنی پوزیشن پہ آگیا ہے۔ گھانا، ناروے، فرانس، ہالینڈ اور مڈل ایسٹ کی بعض جماعتیں بھی ادائیگی کے لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔ Figure تو نہیں بتاتا لیکن بہرحال انہوں نے ترقی کی ہے۔ مقامی کرنسی میں جن ملکوں نے وصولی کے لحاظ سے نمایاں طور پر آگے قدم بڑھایا ہے، اس میں پاکستان، برطانیہ، کینیڈا، انڈونیشیا، گھانا، سیرالیون، ٹرینیڈاڈ اور سنگاپور شامل ہیں۔
اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد بھی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور گو کہ میرا جو اندازہ تھا اور جو ٹارگٹ میرے ذہن میں ہے اس سے یہ تھوڑی ہے اگر یہ چاہیں اور جماعتیں اگر پوری طرح کوشش کریں خاص طور پر افریقہ کی جماعتیں تو ایک سال میں ہی یہ تعداد تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے اور پھر آگے جمپ (Jump)کرتی چلی جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور اس میں تعداد کے لحاظ سے بھی جو اضافہ کرنا ہے، جیسا کہ مَیں نے کہا افریقہ میں نائیجیریا نے سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے اور توجہ کی ہے، پھر گھانا نے اضافہ کیا ہے، کینیڈا ہے، ہندوستان ہے، جرمنی ہے، برطانیہ ہے، انڈونیشیا ہے، بینن ہے، نائیجریا ہے اور آئیوری کوسٹ ہے تو پانچ ممالک افریقہ کے شامل ہوئے ہیں اور مزید اگر توجہ دیں تو یہ تعداد بہت بڑھ سکتی ہے۔ جو سب سے پہلا دفتر شروع ہوا تھا جب حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ نے تحریک کا اجراء فرمایا تھا وہ دفتر اوّل کہلاتا ہے جس کے 19سال تھے، اور اس میں جو مرحومین ہیں ان کے کھاتے زندہ کرنے کے لئے بھی کہا گیا تھا تو یہ تقریباً تمام کھاتے 3ہزار 851 زندہ کر دئیے گئے ہیں۔ کچھ تو انہوں نے خود ہی ان کے ورثاء نے، عزیزوں نے جاری کئے تھے، باقی جو تھے وہ مرکزی طور پر بعض نے یہاں یورپ سے رقوم بھیجیں ان سے 272کھاتے پور ے کر دئیے گئے۔
پاکستان کی رپورٹ بھی پیش کی جاتی ہے اس میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے 3بڑی جماعتوں میں اوّل لاہور، دوم ربوہ اور سوم کراچی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ کے رہنے والوں نے اپنی مجموعی وصولی کے لحاظ سے جو فیصد اضافہ ہے وہ بہت زیادہ کیا ہے۔ اگر وصولی کے لحاظ سے دیکھا جائے نمبر1پہ ربوہ، نمبر2 پہ کراچی اور نمبر3پہ لاہور چلا گیا ہے۔
وصولی کے لحاظ سے پاکستان کی جو باقی پہلے دس نمبر کی جماعتیں ہیں، وہ ہیں راولپنڈی، اسلام آباد، سیالکوٹ، ملتان، کوئٹہ، شیخوپورہ، اوکاڑہ، حیدر آباد، بہاولپور، ساہیوال۔
اور ضلعوں میں پہلے دس اضلاع ہیں، سیالکوٹ، میرپور خاص، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، گجرات، بہاولنگر، نارووال، میرپور آزادکشمیر، پشاور اور بدین۔
پھر جنہوں نے اپنی وصولیوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے ان میں سانگھڑ، واہ کینٹ، کنری، کھوکھر غربی(یہ چھوٹی جماعتیں ہیں) 166 مراد، ندیم آباد، بشیر آباد، گھٹیالیاں خورد، صابن دستی۔
انگلستان کی جو پہلی بڑی دس مجالس ہیں انہوں نے اس دفعہ یہ کیا ہے کہ بڑی اور چھوٹی علیحدہ کر دی ہیں۔ کیونکہ چھوٹی جو تھیں وہ بڑی سے آگے نکل جاتی تھیں۔ شاید شکوے کو دور کرنے کے لئے لیکن وصولی کے لحاظ سے بہرحال چاہے اس کو چھوٹی کہیں یا بڑی سکنتھورپ آگے ہی ہے۔ حلقہ مسجد فضل نمبر 1پہ ہے، ووسٹر پارک نمبر2پہ، ویسٹ ہل 3پہ، ٹوٹنگ4پہ، سٹن 5پہ، نیو مالڈن 6پہ، بریڈ فورڈ نارتھ اینڈ ساؤتھ ساتویں نمبرپہ۔ (شکر ہے کچھ آگے پوزیشن آرہی ہے)۔ مانچسٹر آٹھ پہ، جلنگھم 9 پہ اور 10نمبر پہ انرزپارک۔ اور چھوٹی جماعتیں جو انہوں نے لی ہیں ان میں سکنتھورپ نمبر1پہ، وولورہیمپٹن نمبر2پہ، برسٹل3، سپین ویلی 4، لمنگٹن سپا 5، بورن متھ 6، نارتھ ویلز7، ووکنگ 8، کیتھلے 9، ڈیون اور کارنوال 10نمبر پہ۔
امریکہ میں سیلیکون ویلی نمبر1پہ، شکاگو ویسٹ نمبر2پہ، ناردرن ورجینیا نمبر3پہ، ڈیٹرائیٹ نمبر4پہ اور کینیڈا کی جو تین جماعتیں ہیں کیلگری نارتھ ایسٹ پہلے نمبر پہ، کیلگری نارتھ ویسٹ 2پہ، اور پیس ویلج نمبر3پہ۔ میرا تو خیال تھا کہ پیس ویلج نمبر 1پہ آئے گا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ ان سب مالی قربانی کرنے والوں کو جزا دے، ان کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور آئندہ بھی یہ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے مالی قربانی کی روح کو قائم کرتے ہوئے قربانیاں کرتے چلے جانے والے ہوں اور اپنی عبادتوں کے معیار بڑھاتے چلے جانے والے ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں