خلافت احمدیہ اور ہمارے فرائض

خلافت احمدیہ اور ہمارے فرائض


سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نہایت پُرمعارف ارشادات سے انتخاب

(مرتبہ: محمود احمد ملک ۔ لندن)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن  6 مئی، 13مئی، 20مئی اور 27مئی 2011ء)

سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دورِ خلافت کے آغاز سے ہی خلافت احمدیہ کے موضوع پر مختلف پہلوؤں سے نہایت بیش قیمت ارشادات بیان فرمائے ہیں جو خلافت احمدیہ کے تعارف، خلافت کی اہمیت، برکات اور خلافت سے وابستہ افراد کی ذمہ داریوں وغیرہ امور پر روشنی ڈالتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد فرمودہ خطبات جمعہ میں بیان کئے جانے والے نہایت پُرمعارف ارشادات سے ایک انتخاب قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ یہ تمام مضامین نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور انہیں ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم مقامِ خلافت کا صحیح ادراک کرسکیں اور خلافت سے ہمیشہ اخلاص ووفا اور اطاعت سے تعلق میں آگے بڑھنے والے ہوں۔

نظامِ خلافت کا تقدس
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورِ خلافت کا پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے آیت استخلاف کے حوالہ سے حدیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفاء کے ارشادات کا ذکر فرمایا۔ خطبہ جمعہ کے اختتام پر حضور انور نے افراد جماعت کو ایک بہت اہم نصیحت فرمائی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’یہ جماعت آج پھر بنیان مرصوص کی طرح خلافت کے قیام و استحکام کے لئے کھڑی ہوگئی اور اخلاص اور وفا کے وہ نمونے دکھائے جن کی مثال آج روئے زمین پر ہمیں نظر نہیں آتی۔ اے خدا اے میرے قادر خدا تو ہمیشہ کی طرح اپنی جماعت پر اپنے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق اپنے پیار کی نظر ڈالتا رہ۔ …
آخر میں مَیں پھر دعا کی تحریک کرتا ہوں۔ میرے لئے بھی بہت دعا کریں، بہت دعا کریں، بہت دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ مجھ میں وہ صلاحیتیں اور استعدادیں پیدا فرمائے جن سے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت کی خدمت کرسکوںاور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں۔
کل ایک دوست نے مجھے خط لکھا اوراس میں یہ دعا دی، بڑی اچھی لگی مجھے ،کہ مَیں یہ دعا کرتا ہوں کہ اگر آپ میں خلافت کے منصب کو نبھانے کی صلاحیت نہیں بھی ہے تو اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے ۔یقینا دعائوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی یہ کارواں تمام تر کامیابیوں کے ساتھ آگے انشاء اللہ تعالیٰ رواں دواں رہے گا۔
آپ سے دعا کی درخواست ہے ۔ لیکن اس بارے میں ایک وضاحت میں یہاں کردوں کہ نظام جماعت اور خلافت کا ایک تقدّس ہے جوکبھی آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ لوگوں میں بیٹھ کر یہ باتیں کی جائیں کہ اس خلیفہ میں فلاں کمی ہے یا فلاں کمزوری ہے۔ آپ مجھے میری کمزوریوں کی نشاندہی کریں، حتّی الوسع کوشش کروں گا کہ ان کو دُور کروں لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر باتیں کرنے والے کے خلاف نظام جماعت حرکت میں آئے گا اور اس کے خلاف کارروائی ہوگی ۔اس لئے میری یہی درخواست ہے کہ دعائیں کریں اور دعائوں سے میری مدد کریں اور پھر ہم سب مل کر اسلام کے غلبہ کے دن دیکھیں ۔ انشاء اللہ۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍اپریل2003ء بمقام مسجد فضل لندن )

خلیفۂ وقت اورجماعت مومنین کی ذمہ داریاں
مقامِ خلافت پر فائز ہونے والے بابرکت وجود اور افرادِ جماعت کا باہم جو ایک پاکیزہ رشتہ خدا تعالیٰ کی خاطر قائم ہوتا ہے، یہ پاکیزہ تعلق ہم پر بعض اہم ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ اُنہی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارہ میں جوابدہ ہے۔ امام نگران ہے اوروہ اپنی رعیت کے بارہ میں جوابدہ ہے۔ آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔
(بخاری کتاب الأستقرا ض و اداء الدیون )
اس حدیث میں چار لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک امام کوکہ وہ اپنی رعیت کا خیال رکھے۔ … اور یہ چیز تو ایسی ہے جس سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جوذمہ داری سپرد کی ہے اس کی ادائیگی میں سستی نہ ہو جائے اور یہ ذمہ داری ایسی ہے کہ جو نہ کسی ہوشیاری سے ادا ہو سکتی ہے، نہ صرف علم سے ادا ہو سکتی ہے ، نہ صرف عقل سے ادا ہو سکتی ہے۔ ا گر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو ایک قدم بھی نہیں چلا جا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دعائوں کے ذریعہ ہی جذب کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پس سب سے پہلے تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ دعائوں کے ذریعہ سے میری مدد کریں اور میں ہر وقت آپ کے لئے دعاگو رہوں کیونکہ جماعت اور خلافت لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں اُس طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ جب سب مل کر خلافت احمدیہ اور خلیفۂ وقت کے لئے دعا کر رہے ہوں گے تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو کھینچنے والی ہو گی کیونکہ امام اور جماعت کی دعائیں ایک سمت میں چل رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگ رہی ہوں گی۔ تو جب ایک سمت میں چل رہی ہوں گی تو دعائیں کرنے والوں کی سمتیں بھی ایک طرف چلتی رہیں گی۔ ان کو بھی یہ خیال رہے گا کہ جب ہم دعا کر رہے ہیں تو ہمارے عمل بھی ایسے ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوں، اس سمت میں جا رہے ہوں جہاں خلیفۂ وقت اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں جانا چاہئے یا خلیفۂ وقت اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں لے جانا چاہتا ہے۔ اگر اس احساس کے ساتھ دعاکر رہے ہوں گے تو اپنی اصلاح کی بھی ساتھ ساتھ توفیق ملتی رہے گی اور امام کے لئے نگرانی کا کام بھی آسان ہورہا ہوگا۔
پس اس نکتہ کو ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں امام کی ذمہ داری ہے کہ انصاف قائم کرے اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق جماعت کی تربیت کی طرف توجہ دے، ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرے، ان کے لئے دعائیں کرے وہاں افراد جماعت کو بھی اس احساس کو اپنے اندر قائم کرنا ہو گا کہ اگر ہمیں خلافت سے محبت ہے تو ہم بھی اپنی حالتوں کو دیکھیں اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے کی کوشش کریں جس پر خدا اور رسول کے حکموں کے مطابق ہماری زندگی چلنی چاہئے یا جس طرف ہمیں خلیفۂ وقت چلانا چاہتا ہے۔
دیکھیں جب ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیتے ہیں تو بعض اوقات بچوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتے ہیں اور ان کے اس احساس کو بیدار کرتے ہیں کہ تم ہماری عزت اور ہمارے خاندان کی عزت کی خاطر یہ یہ بُری باتیں چھوڑ دو اور نیک عمل کرو۔ ایسی باتیں نہ کرو جس سے دوسروں کے سامنے ہماری سُبکی ہو۔ نگران کا ان کے ان جذبات کو ابھارنا بھی ان کی اصلاح کاایک حصہ ہے، ایک کام ہے۔ پس ہر فرد جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب ہوتا ہے یہ بات یاد رکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب ہوکر آپؑ کو بدنام نہیں کرنا۔ ا س بات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بھی اظہار فرمایا ہے‘‘۔
( خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍اپریل 2007ء)

خلافت احمدیہ اور تائید الٰہی
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو آپ کے پیروکاروں کے لئے عظیم الشان ترقیات کے وعدے بھی فرمائے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا فرماتے ہوئے ہمیشہ جماعت احمدیہ کی نصرت اور تائید فرمائی اور معاندین کے بدارادوں سے جماعت کو محفوظ رکھا۔ اِس سوسالہ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کی جماعت کے ساتھ جماعتی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے نشانات دکھائے جو افراد جماعت کے ازدیادایمان کا باعث بنے۔ جماعتی طور پر تو ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد مخالفین کو یہ خیال ہو گیا کہ اب یہ جماعت گئی کہ گئی لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ:
’’ سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھلاوے‘‘۔
ہم نے دیکھا کہ یہ با ت کس طرح سچ ثابت ہوئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی رِدا پہنا کر مخالفین کی خوشیوں کو پامال کردیا اور مومنین پھر ایک ہاتھ پر اکٹھے ہوگئے۔
پھر خلافت ثانیہ کے وقت میں ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی کس طرح مدد و نصرت فرمائی۔ اندرونی اور بیرونی مخالفین کی کوششوں اور خواہشوں کو پامال کرکے احمدیت کی کشتی کو اس بالکل نوجوان لیکن اولوالعزم پسرِ موعود کی قیادت میں آگے بڑھاتا چلا گیا اور جماعت کو ترقیات پر ترقیات دیتا چلا گیا۔ اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت کی وجہ سے احمدیت کا جھنڈا خلافت ثانیہ میں لہرایا گیا۔
پھر خلافت ثالثہ میں انتہائی سخت دور آیا اور دشمن نے جماعت کو، افراد جماعت کو مایوس اور مفلوج کرنے کی کوشش کی اور اپنے زُعم میں جماعت کے ہاتھ کاٹ دئیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت و فضل سے جماعت کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ یہ قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا بلکہ ایک دنیا نے دیکھا کہ مخالفین کے نہ صرف ہاتھ کٹے بلکہ گردنیں بھی اڑا دی گئیں اور یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہیں۔
پھر خلافت رابعہ کے دَور میں مخالفین نے خیال کیا کہ اب ہم نے ایسا داؤ استعمال کیا ہے یا مخالفین کے ایک سرغنے نے خیال کیا کہ اب مَیں نے ایسا داؤاستعمال کیا ہے کہ اب جماعت احمدیہ ہر طرف سے بندھ گئی ہے، اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے اور یہ اپنی موت آپ مر جائے گی۔ لیکن جیسا کہ بے شمار الہامات سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ مَیں تیری مدد کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس خلیفۂ راشد کی بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور دشمن اپنی تمام تر تدبیروںاور مکروں کے باوجود نظام خلافت کو مفلوج اور ختم کرنے میں ناکام و نامراد ہوا۔ بلکہ اپنے وعدے کے مطابق کہ’’ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا‘‘، اللہ تعالیٰ نے ایسے راستے کھلوائے اور اس طرح مدد فرمائی کہ دشمن بیچارہ دانت پیستا رہ گیا۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل تبلیغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہے۔
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد مخالفین اس امید پر تھے کہ شاید اب یہ انتہا ہو چکی ہے اس لئے شاید اب جماعت کا زوال شروع ہو جائے لیکن بے وقوفوں کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کیا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس مسیح الزمان کو اپنی تائید و نصرت کے وعدوں کے ساتھ اس زمانے میں بھیجا ہے وہ نصرت نہ مخالفین کی خواہشوں سے ختم ہونی ہے نہ ان کی کوششوں سے ختم ہونی ہے، انشاء اللہ۔ اور نہ کسی وقت یا کسی خاص فرد کے ساتھ یہ نصرت وابستہ ہے۔ یہ نصرت کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیاری جماعت سے وابستہ ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس میں روک نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے وعدے ہر قدم پر، ہر روز ہم دیکھتے ہیں‘‘۔
( خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍ جولائی 2006ء بمقا م مسجد بیت الفتوح ،لندن)
(باقی آئندہ)

(دوسری قسط)

اطاعتِ خلافت اور اس کا فلسفہ
ہم جانتے ہیں کہ خلافت، امامت اور امارت کے ساتھ محبت اور وفا کے تعلق کا دعویٰ کامل اطاعت کے بغیر ایک بے معنی چیز ہے۔ اطاعت کے اِس فلسفہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اور ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ اگر ذرا ڈھیلے کئے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے۔ اس لئے اس حکم کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رَسّی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو۔ کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں ۔ … ایک حدیث میں آتاہے ۔حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : سننا اوراطاعت کرنا ہرمسلمان کا فرض ہے۔ خواہ وہ امراس کو پسند ہویا ناپسند۔ یہاں تک کہ اسے معصیت کاحکم دیاجائے۔ اور اگر معصیت کا حکم دیا جائے توپھر اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔
(صحیح بخاری کتاب الأحکام)
… سوائے اس کے کہ شریعت کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہو ۔ ہرحال میں اطاعت ضرو ری ہے اور اس حدیث میں بھی یہی ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تم گھربیٹھے فیصلہ نہ کرلوکہ یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اوریہ حکم نہیں۔ ہوسکتاہے تم جس بات کو جس طرح سمجھ رہے ہو وہ اس طرح نہ ہو۔ کیونکہ الفاظ یہ ہیں کہ معصیت کاحکم دے، گناہ کا حکم دے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت اتنا پختہ ہو چکاہے کہ کوئی ایسا شخص عہدیدار بن ہی نہیں سکتا جو اس حد تک گر جائے اور ایسے احکام دے ۔تو بات صرف اس حکم کو سمجھنے ، اس کی تشریح کی رہ گئی۔ تو پہلے توخود اس عہدیدار کو توجہ دلاؤ۔ اگر نہیں مانتا تو اس سے بالاجو عہدیدار ہے ، افسر ہے، امیر ہے، اس تک پہنچاؤ۔ اورپھر خلیفۂ وقت کو پہنچاؤ۔ لیکن اگریہ تمہارے نزدیک برائی ہے تو پھر تمہیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ باہر اس کا ذکر کرتے پھرو۔ کیونکہ برائی کو تو وہیں روک دینے کاحکم ہے ۔ اب تمہارا یہ فرض ہے کہ نظام بالا تک پہنچاؤ اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔
حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں: ’’یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہرایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔ کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کرجاتے ہیں۔ مگرباوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔ تو جب رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مَیں بھی غلطی کرسکتاہوں تو پھرخلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کہے مَیں کبھی کسی امرمیں غلطی نہیں کرسکتا ۔ خلیفہ بھی غلطی کرسکتاہے لیکن باوجود اِس کے اُس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے۔ خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضرور ی نہیں۔ ہوسکتاہے کہ فی الواقع ضرور ی نہ ہو لیکن اگر اس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضرور ی ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے۔ جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر ہو وہ اگردوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہئے کہ اپنی رائے کوچھوڑ دیں۔ اسی طرح جہاں انجمن ہو وہاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرناچاہئے۔ جہاں تک ہوسکے سیکرٹری یا امیرکو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسے سمجھاناچاہئے لیکن اگر وہ اپنی رائے پرقائم رہے تودوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہئے۔ کیونکہ رائے کا چھوڑ دینا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضرور ی ہے‘‘۔
’’… حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (صحیح مسلم ٗ کتاب الامارۃ )۔ تو کون ہے ہم میں سے جو یہ پسند کرتاہو کہ ہم آنحضرت ﷺکے دائرہ اطاعت سے باہر نکلیں۔ کوئی احمدی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پس جب یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تو پھر عہدیداران کی ، امراء کی اطاعت خالصتاً للہ اپنے اوپر واجب کرلیں۔ اور اگر نظام جماعت پرحرف آتے ہوئے دیکھیں تو آپ کے لئے راستہ کھلاہے خلیفۂ وقت تک بات پہنچائیں اور مناسب ہے کہ اس عہدیدار کے ذریعہ سے ہی بھجوائیں۔ بغیر نام کے شکایت پر غور نہیں ہوتا۔ اگراصلاح چاہتے ہیں تو کھل کرسامنے آنا چاہئے۔ لیکن یاد رکھیں !آپ کو یہ قطعاً اجازت نہیں ہے کہ کسی بھی عہدیدار کی نافرمانی کریں۔ اگر کوئی ایسی صورت ہے تو پھر حدیث کی روشنی میں آپ عہدیدار سے عدم تعاون کرکے،ان کی نافرمانی کرکے، خلیفہ وقت کی نافرمانی کررہے ہیں ۔ اورپھر یہ سلسلہ اوپر تک بڑھتا چلا جائے گا۔ پس ہر ایک کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہے کہ وہ ہر قربانی کے لئے تیار رہے گا۔‘‘( خطبہ جمعہ فرمودہ 22؍اگست 2003ء بمقام مئی مارکیٹ ،منہائیم، جرمنی)
…ایک اور موقعہ پر حضور انور نے اپنے تربیتی خطبات کے حوالہ سے افراد جماعت کو ایک بیش قیمت نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفۂ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔ اگر اپنی اصلاح کرنی چاہتے ہیں، اگر معاشرہ سے گند ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر خداتعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنا چاہتے ہیں تو یہ تمام برائیاں ایسی ہیں۔ ان کو اپنے دلوں سے نکالیں ۔اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ہمیں توجہ دلائی ہے۔ پس یہ اہم بیماریاں ہیں جو انسان کے اپنے اندر سے بھی روحانیت ختم کرتی ہیں اور پھر شیطانیت کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں اور معاشرے کا امن و سکون بھی برباد کرتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ کتاب میں ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے تاکہ ایک مومن ہر لمحہ پاکیزگی اور روحانیت میں ترقی کرتا چلا جائے۔
… یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے بیعت اور محبت کا دعویٰ ہے اس کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے اور اس کے ہر اشارے اور حکم پر عمل کرنے کے لئے ہر احمدی کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہر حکم کو ماننے کے لئے بلکہ ہر اشارے کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ خلیفۂ وقت کی بیعت میں شامل ہوئے ہیں تو ان باتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو تبھی بیعت کا حق ادا ہو سکتا ہے‘‘۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ 26؍مئی 2006ء بمقا م مسجد بیت الفتوح، لندن)
…حضور انور نے متعدد بار اطاعتِ خلافت کو اطاعتِ نظام سے منسلک کرتے ہوئے ہر احمدی کے لئے نظام جماعت کی اطاعت لازمی قرار دی۔ اِس امر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک موقعہ پر حضور انور نے فرمایا:
’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ کے فضل جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اور جماعت بن کر رہنے کی وجہ سے ہیں، نظام جماعت کے ساتھ منسلک رہنے کی وجہ سے ہیں، اطاعت کے جذبے کے تحت ہر خدمت بجالانے کی وجہ سے ہیں۔ پس اس چیز کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور اطاعت نظام کا جذبہ پہلے سے بڑھ کر اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تعلق کے معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اطاعت نظام کے اعلیٰ نمونے دکھائے ۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ اطاعت خلافت، اطاعت نظام سے منسلک ہے ۔
اگر کسی کا غلط رویہ دیکھیں، نظام جماعت کے کسی پرزے، کسی عہدیدار کی اصلاح چاہتے ہوں تو خلیفۂ وقت کو اطلاع کر سکتے ہیں لیکن اطاعت سے انکار کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔ جماعت احمدیہ پر تو اللہ تعالیٰ کا یہ بھی بہت بڑا فضل ہے اور احسان ہے کہ خلافت کی نعمت سے نوازا ہے اور اس کو اپنے انعاموں میں سے ایک انعام کہا ہے۔ پس یہ انعام بھی اس لئے ہے کہ اس نے حق کا ساتھ دینا ہے۔ خلیفہ وقت کسی کی پارٹی نہیں ہوتا۔ کسی سے ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا کہ یہ اظہار ہو رہا ہو کہ اس کی طرفداری کی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شکایت ہو تو خلیفۂ وقت کو اطلاع دی جا سکتی ہے۔ پس نئے احمدی بھی اور پرانے احمدی بھی یہ نمونے قائم کریں تو جماعتی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ07؍ستمبر 2007ء بمقام Martin Buber Schole Hall گروس گیراؤ ۔جرمنی)

شرطِ اطاعت میں لفظ معروف کی تشریح
اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ کامل ایمان رکھنے والے غیرمشروط اطاعت کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض کمزور طبع لوگ لفظ ’’معروف‘‘ کے حوالہ سے غیرمشروط اطاعت کے لئے خود کو تیار نہیں پاتے۔ اِس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر شرائط بیعت میں درج دسویں شرط میں بیان فرمودہ ’’اطاعت در معروف‘‘ کی لطیف تشریح فرمائی۔ چنانچہ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’دسویں شرط یہ ہے ۔ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو‘۔
اس شرط میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام ہم سے اس بات کا عہد لے رہے ہیں کہ گوکہ اس نظام میں شامل ہوکر ایک بھائی چارے کا رشتہ مجھ سے قائم کر رہے ہو کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے لیکن یہاں جو محبت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم ہو رہا ہے یہ اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں برابری کا تعلق اوررشتہ قائم نہیں ہو رہابلکہ تم اقرار کررہے ہوکہ آنے والے مسیح کو ماننے کا خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس لئے یہ تعلق اللہ تعالیٰ کی خاطر قائم کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اسلام کو اکناف عالم میں پہنچانے کے لئے، پھیلانے کے لئے رشتہ جوڑ رہے ہیں ۔ اس لئے یہ تعلق اس اقرار کے ساتھ کامیاب اور پائیدار ہو سکتا ہے جب معروف باتوں میں اطاعت کا عہد بھی کرو اور پھراس عہد کو مرتے دم تک نبھاؤ۔ اور پھر یہ خیال بھی رکھو کہ یہ تعلق یہیں ٹھہر نہ جائے بلکہ اس میں ہر روز پہلے سے بڑھ کر مضبوطی آنی چاہئے اور اس میں اس قدر مضبوطی ہو اور اس کے معیار اتنے اعلیٰ ہوں کہ ا س کے مقابل پر تمام دنیاوی رشتے، تعلق، دوستیاں ہیچ ثابت ہوں۔ ایسا بے مثال اور مضبوط تعلق ہوکہ اس کے مقابل پر تمام تعلق اور رشتے بے مقصد نظر آئیں ۔ پھر فرمایاکہ : یہ خیال دل میں پیدا ہو سکتاہے کہ رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو ، کبھی مانو اورکبھی منواؤکا اصول بھی چل جاتاہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔ تم نے یہ اطاعت بغیر چون وچرا کئے کرنی ہے۔ کبھی تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہ کہنے لگ جاؤ کہ یہ کام ابھی نہیں ہوسکتا، یا ابھی نہیں کرسکتا۔ جب تم بیعت میں شامل ہو گئے ہو اور حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی جماعت کے نظام میں شامل ہو گئے ہو تو پھر تم نے اپنا سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا اور اب تمہیں صرف ان کے احکامات کی پیروی کرنی ہے، ان کی تعلیم کی پیروی کرنی ہے ۔ اور آپ کے بعد چونکہ نظام خلافت قائم ہے اس لئے خلیفۂ وقت کے احکامات کی ، ہدایات کی پیروی کرنا تمہارا کام ہے۔ لیکن یہاں یہ خیال نہ رہے کہ خادم اور نوکر کاکام تو مجبوری ہے ، خدمت کرنا ہی ہے۔ خادم کبھی کبھی بڑبڑا بھی لیتے ہیں ۔ اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ خادمانہ حالت ہی ہے لیکن ا س سے بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ کی خاطر اخوت کا رشتہ بھی ہے اوراللہ کی خاطر اطاعت کا اقرار بھی ہے اور اس وجہ سے قربانی کا عہد بھی ہے۔ تو قربانی کاثواب بھی اس وقت ملتاہے جب انسان خوشی سے قربانی کر رہا ہوتاہے۔تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس پر آپ جتنا غور کرتے جائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں ڈوبتے چلے جائیں گے اور نظام جماعت کا پابند ہوتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے۔
بعض دفعہ بعض لوگ معروف فیصلہ یا معروف احکامات کی اطاعت کے چکر میں پڑ کر خود بھی نظام سے ہٹ گئے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی خراب کررہے ہوتے ہیں اورماحول میں بعض قباحتیں بھی پیدا کر رہے ہوتے ہیں ۔ ان پر واضح ہو کہ خود بخود معروف اور غیرمعروف فیصلوں کی تعریف میں نہ پڑیں ۔ غیرمعروف وہ ہے جوواضح طورپر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جیساکہ اس حدیث سے ظاہر ہے ۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اوراس پرایک شخص کو حاکم مقرر کیا تاکہ لوگ اس کی بات سنیں اورا س کی اطاعت کریں۔ اس شخص نے آگ جلوائی اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ آگ میں کود جائیں ۔ بعض لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کیلئے مسلمان ہوئے ہیں۔ لیکن کچھ افراد آگ میں کودنے کے لئے تیار ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو ہمیشہ آگ میں ہی رہتے۔ نیز فرمایا : اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے رنگ میں کوئی اطاعت واجب نہیں۔ اطاعت صرف معروف امور میں ضروری ہے۔
(سنن ابو داؤد ۔ کتاب الجہاد)
تو ایک تو اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا کہ نہ ماننے کا فیصلہ بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔ کچھ لوگ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ ہر حالت میں امیر کی اطاعت کا حکم ہے ، انہوں نے سناہواتھااور یہ سمجھے کہ یہی اسلامی تعلیم ہے کہ ہر صورت میں، ہر حالت میں، ہر شکل میں امیر کی اطاعت کرنی ہے لیکن بعض صحابہ جو احکام الٰہی کا زیادہ فہم رکھتے تھے، آنحضرت ﷺ کی صحبت سے زیادہ فیضیاب تھے، انہوں نے انکار کیا ۔نتیجۃً مشورہ کے بعد کسی نے اس پرعمل نہ کیا کیونکہ یہ خودکشی ہے اور خودکشی واضح طور پر اسلام میں حرام ہے۔ ابتدائی زمانہ تھا، بہت سے اموروضاحت طلب تھے اور اس واقعہ کے بعد آنحضرتﷺنے وضاحت فرماکر معروف کا اصول وضع فرما دیا کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے ۔ تو بعض لوگ سمجھتے ہیں، میں بتادوں آج کل بھی اعتراض ہوتے ہیں کہ ایک کارکن اچھا بھلا کام کررہاتھا اس کوہٹا کر دوسرے کے سپرد کا م کردیا گیا ہے۔ خلیفہ ٔوقت یا نظام جماعت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور گویا یہ غیر معروف فیصلہ ہے ۔ وہ اور تو کچھ نہیں کرسکتے اس لئے سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتا ہے، خود ہی تعریف بنا لی انہوں نے۔ اس لئے ہمیں بولنے کا بھی حق ہے، جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں۔ اس بارہ میں پہلے بھی مَیں تفصیل سے روشنی ڈال چکاہوں۔تمہارا کام صر ف اطاعت کرناہے اور اطاعت کا معیار کیاہے مَیں حدیثوں وغیرہ سے اس کی وضاحت کروں گا۔ ایسے لوگوں کو حضرت خالد بن ولید کا یہ واقعہ ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ جب ایک جنگ کے دوران حضر ت عمر ؓ نے جنگ کی کمان حضرت خالدؓ بن ولید سے لے کر حضرت ابوعبیدہ ؓکے سپرد کردی تھی۔ تو حضرت ابوعبیدہ نے اس خیال سے کہ خالدؓ بن ولید بہت عمدگی سے کام کررہے ہیں ان سے چارج نہ لیا ۔تو جب حضرت خالد ؓبن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓکی طرف سے یہ حکم آیا ہے تو آپ حضرت ابوعبیدہؓ کے پا س گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفۂ وقت کا حکم ہے اس لئے آپ فوری طورپر اس کی تعمیل کریں۔ مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ مَیں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں۔ اور مَیں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتارہوں گا جیسے میں بطور کمانڈر ایک کام کررہا ہوتا تھا۔ تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔ کوئی سر پھرا کہہ سکتاہے کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ اس وقت غیرمعروف تھا ، یہ بھی غلط خیال ہے ۔ ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمر ؓنے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے ۔بہرحال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہراًبالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلا ف ہو۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓکے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجو د اس کے کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سو سو دشمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔ ‘‘( ارشاد فرمودہ19؍ستمبر 2003ء بمقام مسجد فضل لندن)
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا مضمون کو اپنے آئندہ خطبہ جمعہ میں بھی جاری رکھا۔ حضور انور نے حضرت مسیح موعودؑ اور دیگر خلفاء کرام کے ارشادات بھی پڑھ کر سنائے اور اِس مضمون کی پوری طرح وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’… اس آیت (الممتحنہ : 13) میں عورتوں سے اس بات پر عہد بیعت لینے کی تاکید ہے کہ شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی ، اولاد کو قتل نہیں کریں گی ، اولاد کی تربیت کا خیال رکھیں گی،جھوٹا الزام کسی پر نہیں لگائیں گی اور معروف امورمیں نافرمانی نہیں کریں گی۔تو یہاں یہ سوال اٹھتاہے کہ کیا نبی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتاہے کیا وہ بھی ایسے احکامات دے سکتاہے جو غیرمعروف ہوں۔ اور اگر نبی کرسکتا ہے تو ظاہر ہے پھر خلفاء کے لئے بھی یہی ہوگا کہ وہ بھی ایسے احکامات دے سکتے ہیں جو غیر معروف ہوں۔ اس بارہ میں واضح ہو کہ نبی کبھی ایسے احکامات دے ہی نہیں سکتا ۔ نبی جو کہے گا معروف ہی کہے گا ۔اس کے علاوہ سوال ہی نہیں کہ کچھ کہے۔ اس لئے قرآن شریف میں کئی مقامات پر یہ حکم ہے کہ اللہ اوررسول کے حکموں کی اطاعت کرنی ہے ، انہیں بجا لانا ہے ۔ کہیں نہیں لکھا کہ جو معروف حکم ہوں اس کی اطاعت کرنی ہے ۔تو پھر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ دو مختلف حکم کیوں ہیں۔ یہ اصل میں دو مختلف حکم نہیں ہیں، سمجھنے میں غلطی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ نبی کا جو بھی حکم ہوگا معروف ہی ہوگا۔ اور نبی کبھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف،شریعت کے احکامات کے خلاف کرہی نہیں سکتا۔ وہ تو اسی کام پر مامور کیا گیا ہے ۔ توجس کام کے لئے مامور کیا گیا ہے، اس کے خلاف کیسے چل سکتاہے۔ یہ تمہارے لئے خوشخبری ہے کہ تم نے نبی کو مان کر، مامور کو مان کر، اس کی جماعت میں شامل ہو کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیاہے، تم محفوظ ہو گئے ہو کہ تمہارے لئے اب کوئی غیرمعروف حکم ہے ہی نہیں۔ جو بھی حکم ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔ یہ لفظ نبی کریم ﷺ کے لئے بھی آیا ہے

وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ (الممتحنۃ:13)

اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنا لی ہے۔ اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔ اس میں ایک سرّ ہے۔ میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔ میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھوکہ نہ لگ جائے‘‘۔
(خطبہ عید الفطر فرمودہ 15 ؍ اکتوبر 1909 ء خطبات نور صفحہ420-421)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام “یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ” کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے۔ اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔ اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ420)
تو جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرتاہے، وہی احکامات دیتاہے جن کو عقل تسلیم کرتی ہے۔ بری باتوں سے روکتا ہے ، نیک باتوں کا حکم دیتاہے اور ان سے پرے ہٹ ہی نہیں سکتا۔ تو خلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کے ذریعہ مقرر کردہ ہوتاہے وہ بھی اس تعلیم کے انہی احکاما ت کو آگے چلاتاہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کے ذریعہ ہم تک پہنچائے ۔ اوراس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وضاحت کرکے ہمیں بتائے تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوچکا ہے اورانشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک قائم رہے گا ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے ہیں ۔ اور انشاء اللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔ اگر کسی وقت خلیفہ ٔوقت کی غلطی سے یا غلط فہمی کی وجہ سے کوئی ایسا فیصلہ ہوجاتاہے جس سے نقصان پہنچنے کااحتمال ہو تواللہ تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ اس کے بدنتائج کبھی بھی نہیں نکلتے اور نہ انشاء اللہ نکلیں گے ۔
اس بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفۂ وقت سے کوئی غلطی ہو جائے۔ لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہو اگر اس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اسے اس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں اسے عِصمت صغریٰ کہا جاتا ہے ۔ گویا انبیاء کو تو عِصمت کبریٰ حاصل ہوتی ہے لیکن خلفاء کو عِصمت صغریٰ حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے کوئی ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کے لئے تباہی کا موجب ہو۔ ان کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ مگر انجامکار نتیجہ یہی ہو گا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا اور اس کے مخالفوں کو شکست ہو گی۔ گویا بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہو گی خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہو گی جو ان کی ہو گی۔ بے شک بولنے والے وہ ہوں گے،زبانیں انہی کی حرکت کریں گی، ہاتھ انہی کے چلیں گے، دماغ انہی کا کام کرے گا مگر ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ کا اپنا ہاتھ ہو گا ۔ان سے جزئیات میں معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ بعض دفعہ ان کے مشیر بھی ان کو غلط مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اور جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنے گی تو وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط ہوگی کہ کوئی طاقت اسے توڑ نہیں سکے گی‘‘۔
(تفسیر کبیر جلد 6صفحہ376-377)
پھر قرآن شریف میں آتا ہے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَئِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجَنَّ۔ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌبِّمَا تَعْمَلُوْنَ (النور:54)۔

اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ تُو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔ دستور کے مطابق (معروف طریق کے مطابق )اطاعت (کرو)۔ یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
تو اس آیت سے پہلی آیتوں میں بھی اطاعت کا مضمون ہی چل رہاہے اورمومن ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور مانا۔ اور اس تقویٰ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھہرتے ہیں اور بامراد ہو جاتے ہیں۔ تو اس آیت میں بھی یہ بتایاہے کہ مومنوں کی طرح ’سنو اوراطاعت کرو‘ کا نمونہ دکھاؤ، قسمیں نہ کھاؤ کہ ہم یہ کر دیں گے ، وہ کردیں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں لکھاہے کہ دعوے تو منافق بھی بہت کرتے ہیں۔ اور اصل چیز تو یہ ہے کہ عملاً اطاعت کی جائے اورمنافقوں کی طرح بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کی جائیں ۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے فرمارہاہے کہ جو معروف طریقہ ہے اطاعت کا ،جو دستورکے مطابق اطاعت ہے، وہ ا طاعت کرو۔ نبی نے تمہیں کو ئی خلاف شریعت اور خلاف عقل حکم تو نہیں دینا جس کے بارہ میں تم سوال کر رہے ہو۔ اس کی مثال مَیں دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری بیعت میں شامل ہوئے ہو اور مجھے مانا ہے تو پنج وقتہ نماز کے عاد ی بن جاؤ،جھوٹ چھوڑ دو، کبر چھوڑ دو، لوگوں کے حق مارنا چھوڑ دو، آپس میں پیار ومحبت سے رہو، تویہ سب طاعت در معروف میں ہی آتاہے۔ یہ کام کوئی کرے نہ اور کہتے پھرو کہ ہم قسم کھاتے ہیں کہ آپ جو حکم ہمیں دیں گے ہم اس کو بجا لائیں گے اور اسے تسلیم کریں گے ۔
اسی طرح خلفاء کی طرف سے مختلف وقتوں میں مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں۔روحانی ترقی کے لئے بھی جیسا کہ مساجد کو آباد کرنے کے بارہ میں ہے، نمازوں کے قیام کے بارہ میں ہے،اولاد کی تربیت کے بارہ میں ہے، اپنے اندر اخلاقی قدریں بلند کرنے کے بارہ میں، وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارہ میں، دعوت الی اللہ کے بارہ میں، یا متفرق مالی تحریکات ہیں ۔ تو یہی باتیں ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے ۔ دوسرے لفظوں میں طاعت در معروف کے زمرے میں یہی باتیں آتی ہیں۔ تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تمہارے سے خلاف احکام الٰہی اور خلاف عقل توکام نہیں کروانے۔ یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جاؤ اور سمند میں چھلانگ لگا دو۔ گزشتہ خطبہ میں ایک حدیث میں مَیں نے بیان کیا تھا کہ امیر نے کہا کہ آگ میں کود جاؤ۔ تواس کی اورروایت ملی ہے جس میں مزید وضاحت ہوتی ہے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عَلْقَمَہ بِنْ مُجَزِّز کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقررہ جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی ۔ چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس السہمی کو امیر مقرر کردیا۔ کہتے ہیں مَیں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔ پس جب کہ ابھی وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبداللہ نے ( جو امیر مقرر ہوئے تھے اور جن کی طبیعت مزاحیہ تھی) کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس پر عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجا لاؤگے؟ انہوں نے کہا۔ ہاں ہم بجا لائیں گے۔ اس پر عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا میں تمہیں تاکیداً کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔ اس پر کچھ لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔ پھر جب عبداللہ بن حذافہؓ نے دیکھا کہ یہ تو سچ مچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا اپنے آپ کو (آگ میں ڈالنے سے) روکو۔ (خود ہی یہ کہہ بھی دیا جب دیکھا کہ لوگ سنجیدہ ہو رہے ہیں)۔ کہتے ہیں پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آگئے تو صحابہ ؓ نے اس واقعہ کا ذکر نبی ﷺ سے کر دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’امراء میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد)
تو واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ وقت کبھی بھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کر سکتا۔ تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم کسی واضح حکم کی خلاف ورزی تم امیر کی طرف سے دیکھو تو پھراللہ اور رسول کی طر ف رجوع کرو۔اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہو چکاہے اور خلیفہ ٔوقت تک پہنچو جس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہوگا انشاء اللہ ۔ اور اللہ اور رسول ﷺکے احکام کے مطابق ہی ہوگا۔ تو جیساکہ مَیں نے پہلے عرض کیا کہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔ کوئی ایسا فیصلہ انشاء اللہ تمہارے لئے نہیں ہے جو غیرمعروف ہو۔
(ارشاد فرمودہ 26؍ستمبر 2003ء بمقام مسجد فضل لندن)
اسی طرح حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 22؍اپریل 2011ء میں فرمایا:
’’خلافتِ احمدیہ کی طرف سے کبھی خلافِ احکامِ الٰہی کوئی بات نہیں کی جاتی۔ اور معروف فیصلے کا مطلب یہی ہے کہ شریعت کے مطابق جو بھی باتیں ہوں گی، اُس کی پابندی کی جائے گی۔ اگرہر احمدی اس یقین پر قائم ہے کہ خلافت کا سلسلہ خلافت علیٰ منہاج نبوت ہے تو اس یقین پر بھی قائم ہونا ہو گا کہ کوئی غیرشرعی حکم خلافت سے ہمیں نہیں مل سکتا۔ اسی طرح سے نظامِ جماعت بھی ہے، جب وہ خلافت کے نظام کے تحت کام کر رہا ہے تو کوئی غیرشرعی حکم نہیں دے گا، اور اگر کسی وجہ سے دے گا یا غلطی سے کوئی ایسا حکم آ جاتا ہے تو خلیفۂ وقت جب اُس تک وہ معاملہ پہنچتا ہے اُس کی درستی کر دے گا۔ پس جب خلافت کے استحکام کے لئے ایک احمدی دعا کرتا ہے تو ساتھ ہی اپنے لئے بھی یہ دعا کرے کہ مَیں اطاعت کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرنے والا بنوں تا کہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ رہوں اور خلافت کے انعام سے جُڑا رہوں۔ جس ہدایت پر قائم ہو گیا ہوں اُس سے خدا تعالیٰ کبھی محروم نہ رکھے‘‘۔
(باقی آئندہ)

(تیسری قسط)

نظام خلافت کا تعلق دیگر نظاموں کے ساتھ
نظام خلافت کا نظام جماعت، نظام شوریٰ اور نظام وصیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے مختلف خطبات جمعہ میں تفصیل سے اِن نظاموں کے باہمی تعلق پر روشنی ڈال چکے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ ہر نظام کی مضبوطی اور اطاعت دراصل نظام خلافت کی بنیاد کو مضبوط بنانے کی طرف ہی ایک قدم ہے۔

نظام خلافت اور نظام شوریٰ
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقعہ پر فرمایا:
’’جب جماعتی معاملے میں خلیفۂ وقت کی طرف سے نظام کی طرف سے بلایا جائے کہ مشورہ دو تو اس میں دیکھیں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے۔ مجلس شوریٰ میں جب بھی مشورے کے لئے بلایا جاتا ہے تو ایک بہت بڑی ذمہ داری مجلس شوریٰ پر ڈالی جاتی ہے، ممبران شوریٰ پر ڈالی جاتی ہے اور ایک مقدس ادارے کا اسے ممبر بنایا جاتا ہے کیونکہ نظام خلافت کے بعد دوسرا اہم اور مقدس ادارہ جماعت میں شورٰی کا ادارہ ہی ہے۔ اور جب خلیفہ وقت اس لئے بلارہا ہو اور احباب جماعت بھی لوگوں کو اپنے میں سے منتخب کرکے اس لئے بھیج رہے ہوں کہ جائو اللہ تعالیٰ کی تعلیم دنیا میں پھیلانے، احباب جماعت کی تربیت اور دوسرے مسائل حل کرنے اور خدمت انسانیت کرنے کے لئے خلیفہ وقت نے مشوروں کے لئے بلایا ہے اس کو مشورے دو تو کس قدر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ تصور لے کر مجلس شوریٰ میں بیٹھیں تو پوری طرح مجلس کی کارروائی سننے اور استغفار کرنے اور درود بھیجنے کے علاوہ کوئی دوسرا خیال ذہن میں آ ہی نہیں سکتا تاکہ جب بھی اس مجلس میں رائے دینے کے لئے کھڑا کیا جائے تو صحیح اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ رائے دے سکیں کیونکہ یہ آراء خلیفہ وقت کے پاس پہنچنی ہیں اور خلیفہ وقت یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ ممبران نے بڑے غور سے سوچ سمجھ کر کسی معاملے میں رائے قائم کی ہو گی اور عموماً مجلس شوریٰ کی رائے کو اس وجہ سے من و عن قبول کر لیا جاتا ہے، اسی صورت میں قبول کر لیا جاتا ہے۔ سوائے بعض ایسے معاملات کے جہاں خلیفہ وقت کو معین علم ہو کہ شوریٰ کایہ فیصلہ ماننے پر جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے یا اس سے ہٹ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اٰل عمران:160) یعنی اور ہر اہم معاملے میں ان سے مشورہ کر (نبی کو یہ حکم ہے) پس جب کوئی تو فیصلہ کر لے تو پھر اللہ پر توکل کر۔یعنی یہاں یہ تو ہے کہ اہم معاملات میں مشورہ ضروری ہے ، ضرور کرنا چاہئے اور اس حکم کے تابع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ کیا کرتے تھے بلکہ اس حد تک مشورہ کیا کرتے تھے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔
تو یہ حکم الٰہی بھی ہے اور سنت بھی ہے اور اس حکم کی وجہ سے جماعت میں بھی شوریٰ کا نظام جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ مشورہ تو لے لو لیکن اس مشورے کے بعد تمام آراء آنے کے بعد جو فیصلہ کر لو تو ہو سکتا ہے کہ بعض دفعہ یہ فیصلہ ان مشوروں سے الٹ بھی ہو۔ تو فرمایا جو فیصلہ کر لوپھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو کیونکہ جب تمام چھان پھٹک کے بعدایک فیصلہ کر لیا ہے پھر معاملہ خداتعالیٰ پر ہی چھوڑنا بہتر ہے۔ اور جب اے نبی! تو نے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کی بات کی لاج رکھے گا۔ اور انشاء اللہ اس کے بہتر نتائج ظاہر ہوں گے۔
جس طرح تاریخ میں ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر قیدیوں سے سلوک کے بارہ میں اکثریت کی رائے ردّ کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت ابوبکرؓ کی رائے مانی تھی، پھر بعض دفعہ دوسری جنگوں کے معاملات میں صحابہ کے مشورہ کو بہت اہمیت دی جنگ احد میں ہی صحابہ کے مشورے سے آپؐ وہاں گئے تھے ورنہ آپؐ پسند نہ کرتے تھے۔ آپ کا تو یہ خیال تھا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے اور جب اس مشورہ کے بعد آپؐ ہتھیار بند ہوکر نکلے تو صحابہ کو خیال آیا کہ آپؐ کی مرضی کے خلاف فیصلہ ہوا ہے، عرض کی یہیں رہ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ تب آپؐ نے فرمایا کہ نہیں نبی جب ایک فیصلہ کرلے تو اس سے پھر پیچھے نہیں ہٹتا، اب اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور چلو۔ پھر یہ بھی صورت حال ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام صحابہ ؓ کی متفقہ رائے تھی کہ معاہدہ پر دستخط نہ کئے جائیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی رائے کے خلاف اس پر دستخط فرما دئیے۔ اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس کے کیسے شاندار نتائج پیدا فرمائے۔ تو مشورہ لینے کا حکم تو ہے تاکہ معاملہ پوری طرح نتھر کر سامنے آ جائے لیکن ضروری نہیں ہے کہ مشورہ مانا بھی جائے تو آپؐ کی سنت کی پیروی میں ہی ہمارا نظام شوریٰ بھی قائم ہے، خلفاء مشورہ لیتے ہیں تاکہ گہرائی میں جا کر معاملات کو دیکھا جا سکے لیکن ضروری نہیں ہے کہ شوریٰ کے تمام فیصلوں کو قبول بھی کیا جائے اس لئے ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ شوریٰ کی کارروائی کے آخر پر معاملات زیر غور کے بارے میں جب رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو اس پر یہ لکھاہوتا ہے کہ شوریٰ یہ سفارش کرتی ہے، یہ لکھنے کا حق نہیں ہے کہ شوریٰ یہ فیصلہ کرتی ہے۔ شوریٰ کو صرف سفارش کا حق ہے۔ فیصلہ کرنے کا حق صرف خلیفہ وقت کو ہے۔ اس پر کسی کے ذہن میں یہ بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پھر شوریٰ بلانے کا یا مشورہ لینے کا فائدہ کیا ہے، آج کل کے پڑھے لکھے ذہنوں میں یہ بھی آ جاتا ہے تو جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں کہ مجلس مشاورت ایک مشورہ دینے والا ادارہ ہے ۔ اس کا کردار پارلیمنٹ کا نہیں ہے جہاں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ آخری فیصلے کے لئے بہرحال معاملہ خلیفہ وقت کے پاس آتا ہے اور خلیفہ وقت کو ہی اختیار ہے کہ فیصلہ کرے، اور یہ اختیار اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ لیکن بہرحال عموماً مشورے مانے بھی جاتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سوائے خاص حالات کے،جن کا علم خلیفہ وقت کو ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ بعض حالات میں بعض وجوہات جن کی وجہ سے وہ مشورہ ردّ کیا گیا ہو ان کو خلیفہ وقت بتانا نہ چاہتا ہو ایسی بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تو بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مشورہ لینے کا فائدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ مختلف ماحول کے، مختلف قوموں کے، مختلف معاشرتی حالات کے لوگ، زیادہ اور کم پڑھے لکھے لوگ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں پھر آج کل جب جماعت پھیل گئی ہے، مختلف ملکوں کے لحاظ سے ان کے حالات کے مطابق مشورے پہنچ رہے ہوتے ہیں تو خلیفہ وقت کو ان ملکوں میں عمومی حالات اور جماعت کے معیار زندگی اور جماعت کے دینی روحانی معیار اور ان کی سوچوں کے بارے میں علم ہو جاتا ہے ان مشوروں کی وجہ سے۔ اور پھر جو بھی سکیم یا لائحہ عمل بنانا ہو اس کو بنانے میں مدد ملتی ہے۔ غرض کہ اگر ملکوں کی شوریٰ کے بعض مشورے ان کی اصلی حالت میں نہ بھی مانے جائیں تب بھی خلیفہ وقت کو دیکھنے اور سننے سے بہرحال ان کو فائدہ ہوتا ہے۔مشورہ دینے والے کا بہرحال یہ فرض بنتا ہے کہ نیک نیتی سے مشورہ دے اور خلیفہ وقت کا یہ حق بھی ہے اور فرض بھی ہے کہ وہ جماعت سے مشورہ لے۔ حضرت عمر ؓ تو فرمایا کرتے تھے کہ لَاخِلَافَۃَ اِلَّا عَنَ مَشْوَرَۃٍ کہ خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں۔ اور یہ بھی کہ خلافت کے نظام کا ایک اہم ستون مشاورت ہی ہے۔
(کنزالعمال کتاب الخلافۃ جلد 3 صفحہ 139)
تو جماعتی ترقی کے لئے اور کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے ایک انتہائی اہم چیز ہے، جیسا کہ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کیونکہ قوم کی مشترکہ کوششیں ہوں تو پھرکامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔
پھر ایک اور روایت ہے جس سے مشورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا امر درپیش ہوا جس کے بارے میں وحی قرآن نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم نے آپ سے کچھ سنا تو ہم کیا کریں گے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے معاملے کو حل کرنے کے لئے مومنوں میں سے علماء کو یا عبادت گزار لوگوں کو جمع کرنا اور اس معاملے کے بارے میں ان سے مشورہ کرنا اور ایسے معاملے کے بارے میں فرد واحد کی رائے پر فیصلہ نہ کرنا۔
(کنزالعمال جلد 2 صفحہ 340)
اس حدیث کی طرف بھی جماعت کو توجہ کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جماعت میں ہمیشہ دینی علوم کے بھی اور دوسرے علوم کے بھی ماہرین پیدا فرماتا رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عبادالرحمن پیدا فرمائے اور ہمیں عبادالرحمن بنائے تاکہ خلیفہ وقت کو مشورہ دینے میں بھی کبھی دقت پیش نہ آئے اور ہمیشہ مشورے سن کر یہ احساس ہو کہ ہاں یہ نیک نیتی سے دیا گیا مشورہ ہے۔ یہ نیک نیتی پر مبنی مشورہ ہے۔ اور اس میں اپنی ذات کی کسی قسم کی کوئی ملونی نہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احباب جماعت سے مشورہ طلب کرنے کے بارہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بعض امور جب پیش آتے تو آپؑ سال میں دو تین چار بار بھی اپنے خدام کو بلا لیتے کہ مشورہ کرنا ہے۔ کسی جلسے کی تجویز ہوتی تو یاد فرما لیتے ، کوئی اشتہار شائع کرنا ہوتا تو مشورہ کیلئے طلب کر لیتے۔
(رپورٹ مجلس مشاورت 1927ء صفحہ 144)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجلس شوریٰ میں خلیفہ ٔوقت کی حیثیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ خلیفہ کا مقام بہرحال دونوں کی سرداری ہے انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجمن احمدیہ کا رہنما ہے اور آئین سازی اور بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوریٰ کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ (الفضل 27؍اپریل 1938ء)
تو اس اصول کے تحت تمام ممالک کی مجالس شوریٰ کی رپورٹس خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوتی ہیں اور خلیفہ وقت جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کیونکہ ہر ملک کی مجلس شوریٰ کی صدارت کرنا تو خلیفہ وقت کے لئے اب ممکن نہیںرہا کہ ہر ملک میں مجلس شوریٰ ہو رہی ہو ،وہاں جائے اور صدارت کرے، خلیفہ وقت کسی کو اپنا نمائندہ مقرر ہ کرتا ہے جو صدارت کر رہا ہوتا ہے۔ تو یہ بات بھی نمائندگان شوریٰ کو یاد رکھنی چاہئے کہ جو بھی شوریٰ کی کارروائی کی صدارت کر رہا ہو وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ پھر حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ:
’’خلیفہ نے اپنے کام کے دو حصے کئے ہوئے ہیں، ایک حصہ انتظامی ہے، اس کے عہدیدار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔ … دوسرا حصہ خلیفہ کا کام اصولی ہے اس کے لئے وہ مجلس شوریٰ کا مشورہ لیتا ہے‘‘، تو فرمایا کہ ’’پس مجلس شوریٰ اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے‘‘۔
(رپورٹ مجلس مشاورت 1930ء صفحہ36)
اس لئے نمائندگان شوریٰ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری شوریٰ کے اجلاس کے بعد ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ایک دفعہ کا منتخب کردہ نمائندہ مجلس شوریٰ پورے سال تک کے لئے نمائندہ ہی رہتا ہے تاکہ اصولی باتوںمیں مدد کرسکے اور شوریٰ کی کارروائی میں جو فیصلے ہوئے ہیں، جو اصولی باتیں ہوئی ہیں ان پر عمل درآمد کرانے میں تعاون بھی کرے اور پوری ذمہ داری سے مقامی انتظامیہ کی مدد بھی کرے۔ گو فیصلہ سے ہٹی ہوئی بات دیکھ کر جو بھی شوریٰ میں ہوئی ہو۔ ممبران شوریٰ براہ راست تو مقامی انتظامیہ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے ورنہ اس طرح تو ایک ٹکر کی صورت پیدا ہو جائے گی لیکن ان کو توجہ ضرور دلا سکتے ہیں کہ یہ یہ فیصلے ہوئے تھے، اس طرح کارروائی ہونی چاہئے تھی، یہ ہماری جماعت میں نہیں ہو رہی۔ اور جیسا کہ میں نے کہا توجہ کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کرانے کے لئے ان سے تعاون بھی کریں اور اگر دیکھیں کہ مقامی انتظامیہ پوری طرح جو شوریٰ کے فیصلے ہوئے ان پر عمل نہیں کررہی تو پھر نظام جماعت قائم ہے وہ مرکز کو توجہ دلا سکتے ہیں، خلیفہ وقت کو اس بارے میں لکھ سکتے ہیں۔ تو یہ اطلاع دینا بھی ممبران شوریٰ کا فرض ہوتا ہے کہ سارا سال جب تک وہ ممبر ہیں ان معاملات پر عملدرآمد کرانے میں مدد کریں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے یعنی خلافت کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں، قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے۔

وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہ۔

مجلس شوریٰ کو قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو، پھر دعا کرو، جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔ …تو خلیفۂ وقت کا یہ کام ہے کہ شوریٰ کے مشوروں کے بعد دعا کرکے فیصلہ کرے۔ اور جب کوئی فیصلہ کر لے پھر اس پر قائم ہو جائے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔ فرمایا کہ… وہ خواہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو تو خداتعالیٰ مدد کرے گا۔ خداتعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکل کرو گو یا ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید و نصرت کرے گا۔ اور یہ لوگ چاہتے ہیں (یعنی جو لوگ چاہتے ہیں خلیفہ ان کی باتوں کے پیچھے چلے کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خداتعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے) مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی رائے پر ہی چلا جائے۔… خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ ان کے خوفوں کو دور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اس کو خوف کیا اور اس میں مؤحد ہونے کی کونسی بات ہے۔ حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اورشرک نہیں کرتے۔ فرمایا کہ اگر نبی کو بھی ایک شخص نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے۔ یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جو حکم اصل کا ہے وہ فرع کا بھی ہے۔خوب یاد رکھو کہ جو شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا ہے تو جھوٹا ہے اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو‘‘۔
(منصب خلافت انوارالعلوم جلد2 صفحہ 53-54)
(ارشاد فرمودہ 12؍مارچ2004؁ء بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن لندن)
خلیفہ وقت کی اطاعت کے حوالہ سے نمائندگان شوریٰ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’نمائندگان یہ بھی یاد رکھیں کہ جب مجلس شوریٰ کسی رائے پر پہنچ جاتی ہے اور خلیفۂ وقت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کو جماعتوں میں عملدرآمد کرنے کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔ تو یہ نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جوطریق وضع کرکے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی ۔ یا بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہدیداران کی سستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔ … پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر باوجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں د یتے اور اپنے دوسرے پروگراموں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور شوریٰ کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوریٰ کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔ اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔ جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے، کسی رنجش کی بنا پر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے ، یا تحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان لمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔ امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات یا سستی دیکھی تو فوراً اطلاع کی جاتی۔ اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اُس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔
…پھر ایک اور بات جس کی طرف نمائندگان شوریٰ اور دوسرے کارکنان کو توجہ دلانی چاہتا ہوں، وہ خلیفۂ وقت کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی بتا آیا ہوں کہ شوریٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانا نمائندگان شوریٰ اور عہدیداران کا کام ہے۔ اور کیونکہ یہ فیصلے خلیفہ ٔوقت سے منظور شدہ ہوتے ہیں اس لئے اگر ان پر عملدرآمد کروانے کی طرف پوری توجہ نہیں دی جا رہی تو غیر محسوس طریقے پر خلیفۂ وقت کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کے دائرے کے اندر نہیں رہ رہے ہوتے جبکہ جن کے سپر د ذمہ داریاں کی گئی ہیں ان کو تو اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھانے چاہئیں جو کہ دوسروں کے لئے باعث تقلید ہوں، نمونہ ہوں۔ … امانت کا حق اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بن کر اس پر عملدرآمد میں جت جائیں، نہ سستیاں دکھائیں اور نہ توجیہیں نکالنے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح کریں گے تو پھر آپ کے فیصلوں میں کبھی برکت نہیں پڑے گی۔ اور عہدیداران کی دوسری باتیں بھی بے برکت ہو جائیں گی‘‘۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍مارچ 2006ء بمقا م مسجد بیت الفتوح، لندن)

نظام خلافت اور نظام وصیت
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نظام وصیت میں شمولیت کے بارہ میں متعدد مواقع پر تلقین فرمائی ہے۔ ایک خطبہ جمعہ میں نظام خلافت کے ساتھ نظام وصیت کے تعلق کا ذکر یوں فرماتے ہیں:
’’نظام خلافت اور نظام وصیت کا بڑا گہرا تعلق ہے اور ضروری نہیں کہ ضروریات کے تحت پہلے خلفاء جس طرح تحریکات کرتے رہے ہیں ، آئندہ بھی اسی طرح مالی تحریکات ہوتی رہیں بلکہ نظام وصیت کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہئے کہ سو سال بعد تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں اور قربانیاں پیدا کرنے والے بھی پید اہوتے رہیں۔ یعنی حقو ق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے پیدا ہوتے رہیں۔
جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔ کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا ایک بہت بڑا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت کی نعمت کا شکر ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور کوئی احمدی بھی ناشکری کرنے والا نہ ہو۔ کبھی دنیاداری میں اتنے محو نہ ہو جائیں کہ دین کو بھلادیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ6؍ اگست2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن، لندن)

نظام خلافت اور نظام جماعت
نظام جماعت اور نظام خلافت دونوں عملاً ایک ہی چیز ہیں اور ایک کی مضبوطی اور استحکام دوسرے کی مضبوطی اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اپنے ایک خطبہ جمعہ میں نظام جماعت کے حوالہ سے عہدیداران کی اہمیت اور اُن کے فرائض و حقوق سے متعلق بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت جماعت میں جاری فرمایا اور اس نظام خلافت کے گرد جماعت کا محلہ کی سطح یا کسی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر شہری اور ملکی سطح تک کا نظام گھومتا ہے۔ یعنی کسی چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے صدر سے لے کر ملکی امیر تک کا بلا واسطہ یا بالواسطہ خلیفہ وقت سے رابطہ ہوتا ہے۔ پھر ہر شخص انفرادی طور پربھی رابطہ کر سکتا ہے۔ ہر فرد جماعت خلیفۂ وقت سے رابطہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر کسی جماعتی عہدیدار سے کوئی شکوہ ہو یا شکایت ہو اور خلیفہ وقت تک پہنچانی ہو تو ہر ایک کے انفرادی رابطے کے باوجود اس کو یہ شکایت امیر کے ذریعے ہی پہنچانی چاہئے اور امیر ملک کا کام ہے کہ چاہے اس کے خلاف ہی شکایت ہو وہ اسے آگے پہنچائے اور اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہے تو وضاحت کر دے تاکہ مزید خط وکتابت میں وقت ضائع نہ ہو۔ لیکن شکایت کرنے والے کا بھی کام ہے کہ اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی عہدیدار کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اسے جماعتی رنگ نہ دے۔ تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ بعض دفعہ بعض کم علم یا جن میں دنیا کی مادیت نے اپنا اثر ڈالا ہوتا ہے ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جماعت کے وقار اور روایات کے خلاف ہوتی ہیں اس لئے ایسے کمزوروں یا کم علم رکھنے والوں کو سمجھانے کے لئے مَیں یہ بتا رہا ہوں کہ ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔… اور بعض دفعہ جماعت میں نئے شامل ہونے والے ایسی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ اوراس کے علاوہ یہ نومبائعین کی اپنی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان کو نظام جماعت کے بارے میں، عہدیداروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا جائے۔ کیونکہ نئے آنے والوں کے ذہنوں میں سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ بہرحال الٰہی وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں یہ نظام ،نظام خلافت کے ساتھ قائم رہنا ہے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔ کوئی مخالف یا کوئی دشمن اب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا انشاء اللہ۔
… امرا ء بھی ، صدران بھی اور عہدیداران بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیدارا ن بھی کہ وہ خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ انتظامی نظام کا ایک حصہ ہیں اور اس لحاظ سے خلیفۂ وقت کے نمائندے ہیں ۔ اس لئے ان کی سوچ اپنے کاموں کو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئے اسی طرح چلنی چاہئے جس طرح خلیفۂ وقت کی۔ اور انہیں ہدایات پر عمل ہونا چاہئے جو مرکزی طور پر دی جاتی ہیں۔ اگر اس طرح نہیں کرتے تو پھر اپنے عہدے کا حق ادانہیں کر رہے۔ جو اس کے انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔ …حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ جس نے حاکم وقت کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی ، اور جو حاکم وقت کا نا فرمان ہے وہ میرا نافرمان ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الامارۃ )
امیرکی اور نظام جماعت کی اطاعت کے بارے میں یہ حکم ہے۔ لوگ تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم خلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں ہیں، مکمل طور پر اطاعت میں ہیں، ہر حکم ماننے کو تیار ہیں۔ لیکن فلاں عہدیدار یا فلاں امیر میں فلاں فلاں نقص ہے اس کی اطاعت ہم نہیں کر سکتے۔ تو خلیفۂ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے۔ اور تب ہی اللہ کے رسول کی اور اللہ کی اطاعت ہے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنگدستی اور خوشحالی، خوشی اور ناخوشی، حق تلفی اور ترجیحی سلوک غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننا اوراس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الامارۃ)
فرمایا کہ جو حالات بھی ہوں تمہاری حق تلفی بھی ہو رہی ہو، تمہارے سے زیادتی بھی ہو رہی ہو تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہ بھی ہواور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک ہو رہا ہو، تب بھی تم نے کہنا ماننا ہے۔ سامنے لڑائی جھگڑے کے لئے کھڑے نہیں ہو جانا۔ کسی بات سے انکار نہیں کر دینا۔ بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔ یہ بہرحال نظام جماعت میں بھی حق ہے کہ اگر کوئی غلط بات دیکھیں تو خلیفہ وقت کو اطلاع کر دیں اور پھر خاموش ہوجائیں، پیچھے نہیں پڑجانا کہ کیا ہوا، کیا نہیں ہوا۔اطلاع کر دی، بس ٹھیک ہے۔‘‘
(ارشادفرمودہ 31؍دسمبر 2004ء بمقام مسجد بیت السلام۔ پیرس۔ فرانس)
اسی موضوع کو حضور انور اپنے ایک خطبہ جمعہ میں یوں بیان فرمایا:
’’پھر عہدیداران جو جماعتی نظام میں عہدیداران ہیں وہ صرف عہدہ کیلئے عہدیدار نہیں ہیں بلکہ خدمت کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔ وہ نظام جماعت، جو نظام خلافت کا ایک حصہ ہے، کی ایک کڑی ہیں۔ ہر عہدیدار اپنے دائرہ میں خلیفۂ وقت کی طرف سے، نظام جماعت کی طرف سے تفویض کئے گئے، ان کے سپرد کئے گئے اس حصہ فرض کو صحیح طور پر سرانجام دینے کا ذمہ دار ہے۔ اس لئے ایک عہدیدار کو بڑی محنت سے، ایمانداری سے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے کام کوسر انجام دینا چاہئے۔ اور اُن عہدیداروں میں اپنے آپ کو شمار کرنا چاہئے جن سے لوگ محبت رکھتے ہوں۔ جس کا ایک حدیث میں یوں ذکرآتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ تم ان کیلئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ (مسلم کتاب الامارۃ)
تو اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے تمام عہدیدار اپنے فرائض نبھائیں اور جب فیصلے کرنے ہوں تو خالی الذہن ہو کر کیا کریں، کسی طرف جھکاؤ کے بغیرکیا کریں۔جیسا کہ پہلے بھی مَیں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تقویٰ یہی ہے کہ اگر اپنے خلاف یا اپنے عزیز کے خلاف بھی گواہی دینی ہو تو دے دیں۔ لیکن انصاف کے تقاضے پورے کریں تو پھر ایسے عہدیدار اللہ کے محبوب بن رہے ہوں گے جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔
حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور ان سے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔ (ترمذی ابواب الاحکام) ۔
یہاں حاکم تو نہیں ہیں لیکن عہدے بہرحال آپ کے سپرد کئے گئے ہیں، ایک ذمہ واری آپ کے سپرد کئی گئی ہے۔ ایک دائرے میں آپ نگران بنائے گئے ہیں۔ پس یہ جو خدمت کے مواقع دئیے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دئیے گئے بلکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں۔ خلیفہ وقت کے فرائض کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ

فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ ( صٓ:27)

یعنی پس تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کر اور اپنی خواہش کی پیروی مت کر۔ وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔
پس جب عہدیداران پر خلیفۂ وقت نے اعتماد کیا ہے اور اُن سے انصاف کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے۔ کیونکہ ہر جگہ تو خلیفۂ وقت کا ہر فیصلہ کے لئے پہنچنا مشکل ہے، ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اگر عہدیداران، جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں، دوسرے عہدیداران بھی ہیں اپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ دوہرے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔ دوہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہ دے کر، دوسرے خلیفۂ وقت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاکر، خلیفۂ وقت کے علم میں صحیح صورت حال نہ لا کر۔ نمائندے کی حیثیت سے جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، عہدیداران کا یہ فرض بنتا ہے کہ خلیفۂ وقت کو ایک ایک بات پہنچائیں۔ بعض دفعہ بیوقوفی میں بعض لوگ یہ کہہ جاتے ہیں، ان میں عہدیداربھی شامل ہیں، کہ ہر بات خلیفۂ وقت تک پہنچا کر اسے تکلیف میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ عام لوگ بھی جس طرح مَیں نے کہا کہہ دیتے ہیں کہ اپنی تکلیفیں زیادہ نہ لکھوجو مسائل ہیں وہ نہ لکھو۔ وہ کہتے یہ ہیں کہ پہلے تھوڑے معاملات ہیں؟ پہلے تھوڑی پریشانیاں ہیں؟ جماعتی مسائل ہیں جو ان کو اور پریشان کیا جائے۔ تو یاد رکھیں، میرے نزدیک یہ سب شیطانی خیال ہیں، غلط خیال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا براہ راست حکم خلیفہ کے لئے ہے اور کیونکہ کام کے پھیل جانے کی وجہ سے، کام بہت وسیع ہو گئے ہیں، پھیل گئے ہیں، خلیفہ وقت نے اپنے نمائندے مقرر کر دئیے ہیں تاکہ کام میں سہولت رہے۔ لیکن بنیادی طور پر ذمہ داری بہرحال خلیفۂ وقت کی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے خلیفۂ وقت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تو پھر اس کی مدد کے لئے وہ تیار رہتا ہے۔ کیونکہ خلیفہ بنایا بھی اُس نے ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ خلیفہ بنائے بھی خود، ذمہ داری بھی اس پر ڈالے اور پھر اپنی مدد اور نصرت کا ہاتھ بھی اس پر نہ رکھے۔ اس لئے یہ تصور ہی غلط ہے کہ خلیفۂ وقت کو تکلیف نہ دو۔ خلیفہ کی جو برداشت ہے اور تکلیف دہ باتیں سننے کا جس قدر حوصلہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہوتا ہے یا خلافت کے انعام کے بعد جس طرح اس کو بڑھاتا جاتا ہے کسی اورکو نہیں دیتا۔ اس لئے یہ ساری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سے ادا کروانی ہوتی ہے۔ بہرحال وہ حوصلہ بڑھا دیتا ہے۔ اس لئے یہ تصور غلط ہے کہ تکلیف نہ دو۔ کوئی تکلیف نہیںہوتی اور تکلیف پہنچانا اس حد تک جائز ہے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے۔ پس اس تصور کو عہدیداران جن کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ خلیفہ وقت کو تکلیف کیا دینی ہے، وہ ذہن سے یہ بات نکال دیں اور مجھے بھی گناہگار ہونے سے بچائیں اور خود بھی گناہگار ہونے سے بچیں۔ اگر اصلاح کی خاطر کسی بڑے آدمی کے خلاف بھی کارروائی کرنی پڑے تو کریں اور اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کریں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اگر فیصلے تقویٰ پر مبنی اور نیک نیتی سے کئے گئے ہیں تو یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیشہ آپ کے شامل حال رہے گی۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم؍جولائی 2005 ء بمقام انٹرنیشنل سنٹر ٹورانٹو۔کینیڈا)
اسی طرح امام کی نگرانی کے ضمن میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ آجکل یا یوں کہنا چاہئے جماعت میں امام یا خلیفۂ وقت کی نمائندگی میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں، عہدیداران متعین ہیں، ان کا بھی فرض ہے کہ حقیقی رنگ میں انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اگر کبھی کسی موقع پر اپنے پر یا اپنے عزیزوں پر بھی زد پڑتی ہو تو اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نمائندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں جو آپ کے سپرد کی گئی ہے تاکہ اس نگرانی میں خلیفۂ وقت کی بھی احسن رنگ میں مدد کر سکیں، تاکہ جزا سزاکے دن اس کو سرخرو کروانے والے بھی ہوں۔ ہر عہدیدار کے عمل جہاں براہ راست اس کو جوابدہ بناتے ہیں اور ہر عہدیدار اپنے دائرے میں جہاں نگران ہے وہ ضرور پوچھا جائے گا۔ یادرکھیں کہ خلیفۂ وقت کی نمائندگی میں آپ اس لحاظ سے بھی ذمہ دار ہیں، اس لئے کبھی یہ نہ سوچیں کہ کسی معاملے میں خلیفۂ وقت کو اندھیرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ٹھیک ہے، رکھ سکتے ہیں آپ، لیکن خدا تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے، اس کو اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پس ہر عہدیدار کی دوہری ذمہ داری ہے، اس کو ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا دعا ہی ہے جو سیدھے راستے پر چلانے والی ہے اور چلا سکتی ہے کہ اپنی ذمہ داری کو دعائوں کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے۔میں جہاں اپنے لئے دعا کرتا ہوں، عہدیداروں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ انصاف پرقائم رکھتے ہوئے، سیدھے راستے پر چلائے۔ کبھی ان سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جس کا اثر پھر آخر کار یا نتیجتاً مجھ پربھی پڑے۔ یہاں جماعت کو بھی یہ توجہ دلا دوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ذمہ داری کا صحیح حق ادا نہیں کر رہے ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ خادم مالک کے مال کا نگران ہے، اگر آپ اس ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اُسے ادا نہیں کر رہے جو خلیفۂ وقت نے آپ کے سپرد کی ہے۔ اس کی صحیح ادائیگی نہ کرکے آپ بھی اس مال کی نگرانی نہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہوں گے ۔ جب خلیفۂ وقت نے آپ سے مشورہ مانگا ہے تو اگر آپ صحیح مشورہ نہیں دیتے تو خیانت کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔ اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو منتخب نہیں کرتے جو اس کام کے اہل ہیں جس کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے ،اگر ذاتی تعلق، رشتہ داریاں اور برادریاں آڑے آ رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نافرمانی کر رہے ہیں کہ

تُؤَدُّوْاالْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا (سورۃ النساء آیت 59:)

یعنی تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپرد کرو جو ہمیشہ عدل پر قائم رہنے والے ہوں۔ اور اس اصول پر چلنے والے ہوں کہ جب بھی فیصلہ کرنا ہے تو اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْل کہ انصاف سے فیصلہ کرو۔جو ذمہ داریاں سپرد کی گئی ہیں ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرو۔ اگرنہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہاں داؤ چل گیا تو آگے بھی اسی طرح چل جائے گا۔ اللہ کا رسول کہتا ہے کہ جزا سزا کے دن تم پوچھے جائوگے۔
پس جماعت کا بھی کام ہے کہ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں اور ذاتی رشتوں اور تعلقات اور برادریوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ اور اسی طرح خلیفۂ وقت کی نمائندگی میں عہدیداروں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان افراد جماعت کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے( جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا) جن پر اعتماد کرتے ہوئے بہترین عہدیدار منتخب کرنے کا کام سپرد کیا گیا ہے اور مالک کے مال کی نگرانی یہی ہے جو ہر فرد جماعت نے، جس کو رائے دینے کا حق دیا گیا ہے کرنی ہے۔ یہ سال جماعتی انتخابات کا سال ہے۔ بعض جگہوں سے بعض شکایات آتی ہیں، ہر جگہ سے تو نہیں ،اس لئے میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسی جگہیں جہاں بھی ہیں ، جو بھی ہیں اور جہاں یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے ان کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہر کام دعا سے کریں اور دعائیں کرتے ہوئے اپنے عہدیدار منتخب کریں اور ہمیشہ دعائوں سے آئندہ بھی اپنے عہدیداروں کی مدد کریں اور میری بھی مدد کریں۔ اللہ مجھے بھی آپ کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق دیتا رہے اور جو کام میرے سپرد ہے اس کو ادا کرنے کی احسن رنگ میں توفیق دیتا رہے۔
دوسری اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ گھر کے سربراہ کی ہے۔ گھر کا سربراہ ہو یا بعض اوقات (جیسا کہ مَیں نے کہا) بعض خاندانوں نے بھی اپنے سربراہ بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے بچوں یا خاندان کی تربیت کی ذمہ داری ان کی ہے۔ ان کے اپنے عمل نیک ہونے چاہئیں۔ ان کی اپنی ترجیحات ایسی ہونی چاہئیں جو دین سے مطابقت رکھتی ہوں، نظام جماعت اور نظام خلافت سے گہری وابستگی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پابندی کی طرف پوری توجہ اور کوشش ہو تبھی صحیح رنگ میں اپنے زیر اثر کی بھی تربیت کر سکیں گے۔ خود نمازوں کی طرف توجہ ہو گی تو بیوی بچوں کو نمازوں کی طرف توجہ دلا سکیں گے۔ خود نظام جماعت کا احترام ہو گا تو اپنے بیوی بچوں کو اور خاندان کو نظام جماعت کا احترام سکھا سکیں گے۔ خود خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہنے والے اور اس کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں گے تو اپنے بیوی بچوں او ر اپنے زیر نگیں کو اس طرف توجہ دلا سکیں گے۔ پس خاندان کے سربراہ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، ورنہ یاد رکھیں کہ جزا سزا کادن سامنے کھڑا ہواہے۔
( خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍اپریل 2007ء)
نظام جماعت اور نظام خلافت دونوں کی اطاعت فرض ہے۔ چنانچہ فرمایا:
’’جماعت احمدیہ میں خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت پر جو اس قدر زور دیا جاتا ہے یہ اس لئے ہے کہ جماعتی نظام کو چلانے کے لئے یک رنگی پیدا ہونی ضروری ہے اور اس زمانے کے لئے جو آنحضرت ﷺ کا اعلان ہے کہ مسیح موعودؑ کے آنے کے بعد جو خلافت قائم ہونی ہے وہ عَلٰی مِنْہَاجِ النُّبُوَّۃ ہونی ہے اور وہ دائمی خلافت ہے۔… پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت سے جُڑے رہنے اور خلافت سے وابستہ رہنے کے لئے اطاعت کے وہ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اعلیٰ درجہ کے ہوں جن سے باہر نکلنے کا کسی احمدی کے دل میں خیال تک پیدا نہ ہو۔ بہت سارے مقام آسکتے ہیں جب نظام جماعت کے خلاف شکوے پیدا ہوں۔ ہر ایک کی اپنی سوچ اور خیال ہوتا ہے اور کسی بھی معاملے میں آراء مختلف ہوسکتی ہیں، کسی کام کرنے کے طریق سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن نظام جماعت اور نظام خلافت کی مضبوطی کے لئے جماعتی نظام کے فیصلہ کو یا امیر کے فیصلہ کو تسلیم کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ خلیفۂ وقت نے اس فیصلے پر صاد کیا ہوتا ہے یا امیر کو اختیار دیا ہوتا ہے کہ تم میری طرف سے فیصلہ کردو۔ اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور اس سے جماعتی مفاد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو خلیفۂ وقت کو اطلاع کرنا کافی ہے۔ پھر خلیفۂ وقت جانے اور اس کا کام جانے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ذمّہ دار اور نگران بنایا ہے اور جب خلیفہ، خلافت کے مقام پر اپنی مرضی سے نہیں آتا بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کو اس مقام پر اس منصب پر فائز کرتی ہے تو پھر خداتعالیٰ اس کے کسی غلط فیصلے کے خود ہی بہتر نتائج پیدا فرمادے گا۔ کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ خلافت کی وجہ سے مومنوں کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔…
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ:’’ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کردینا ضروری ہوتا ہے۔ بدُوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی‘‘۔ اگر یہ نفس کو ذبح نہیں کرتے تواس کے بغیر اطاعت ہی نہیں کرتے ’’اورہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے‘‘۔ بڑے بڑے جو دعویٰ کرنے والے ہیں کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں اور ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ کو ایک جاننے والے ہیں اور اس کا تقویٰ ہمارے دل میں ہے، خوف ہے۔جب اپنے معاملے آتے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا تو پھر یہ سب چیزیں نکل جاتی ہیں۔ پھر نفس بت بن کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ پس دیکھیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے نفس کی اَنا کو دبانا بہت مشکل ہے۔ پس اگر اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے تو صرف زبانی نعروں سے یہ رضا حاصل نہیں ہوگی کہ ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور اس کی عبادت کرنے والے ہیں بلکہ امام الزمان، اس کے خلیفہ اور اس کے نظام کے آگے یوں سرڈالنا ہوگا کہ انانیت کی ذرا سی بھی ملونی نظر نہ آئے، کچھ بھی رمق باقی نہ رہے۔ورنہ تو یہ انانیت کے بُت اس نظام کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پھر یہ خلیفہ وقت کے مقابلے پہ بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کے مقابلے پر بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔وہاں سے بھی اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور وہی شخص جو یہ خیال کررہا ہوتا ہے کہ مَیں سب سے بڑا موحّد ہوں، خدا کی عبادت کرنے والا ہوں، شرک کرنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 09؍جون 2006ء بمقا م مئی مارکیٹ ۔منہائیم ۔جرمنی)
(باقی آئندہ)

(چوتھی و آخری قسط)

صد سالہ خلافت جوبلی منانے کا اصل مقصد اور نعمت عظمیٰ کی قدر کرنے کا بہترین انداز
صدسالہ خلافت جوبلی کا سال(2008ء)پنی شاندار تاریخی سرگرمیوں کے ساتھ مکمل ہوا۔ لیکن یہ سال منانے کا اصل مقصد کیا تھا اور کیا ہماری ذاتی زندگیوں میں ہم وہ مقصد حاصل کرپائے ہیں یا نہیں… اس بارہ میں ہم سب کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس تاریخی سال کو منانے کے مقاصد اپنے کئی خطبات میں بیان فرمائے ہیں۔ ایک موقعہ پر فرمایا:
’’یہ سال جس میں جماعت، خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر جوبلی منا رہی ہے، یہ جو بلی کیا ہے ؟ کیا صرف اس بات پر خوش ہو جانا کہ ہم جوبلی کا جلسہ کر رہے ہیں یا مختلف ذیلی تنظیموں نے اپنے پروگرام بنائے ہیں، یا کچھ سوونیئرزبنا لئے گئے ہیں۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا اظہار ہے۔ اس کا مقصد تو ہم تب حاصل کریں گے، جب ہم یہ عہد کریں کہ اس 100سال پورے ہونے پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس نعمت پر جو خلافت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتاری ہے، ہم شکرانے کے طور پر اپنے خدا سے اور زیادہ قریبی تعلق پید ا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی حفاظت پہلے سے زیادہ بڑھ کرکر یں گے اور یہی شکر انِ نعمت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مزید بڑھانے والا ہو گا۔
قرآن کریم میں جہاں مومنوں سے خلافت کے وعدہ کا ذکر ہے۔ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰـوۃَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْن(النور:57)

اور تم سب نمازوں کو قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اس رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ خلافت کے انعام سے فائدہ اٹھانے کے لئے قیام نماز سب سے پہلی شرط ہے۔ پس مَیں جو یہ اس قدر زور دے رہا ہوں کہ ہر احمدی، مرد، جوان ، بچہ ، عورت اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تو اس لئے کہ انعام جو آپ کو ملا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ آپ فائدہ اٹھاسکیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ وعدہ کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق خلافت کایہ سلسلہ تو ہمیشہ رہنے والا ہے لیکن اس سے فائدہ وہی حاصل کریں گے جو خداتعالیٰ سے اپنی عبادتوں کی وجہ سے زندہ تعلق جوڑیں گے۔ پھر یہ جو آیت مَیں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز قائم کرنے کے ساتھ، عبادت میں اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ساتھ تمہارے پر یہ بھی فرض ہے کہ مالی قربانی بھی کرو۔… نئے شامل ہونے والے نومبائعین بھی اور نوجوان بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ مالی قربانی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے اور خلافت کے انعام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے خاص طور پر بیان فرمایا ہے۔‘‘
(ارشاد فرمودہ 18؍اپریل 2008ء بمقام باغ احمد ۔گھانا)
…اسی طرح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس نعمتِ عظمیٰ یعنی خلافت کی قدر کرنے کے طریق بھی بیان فرمائے ہیں اور قرآن کریم کے حوالہ سے عبادات اور مالی قربانی پر خصوصیت سے روشنی ڈالی ہے جن کا آیت استخلاف سے براہ راست تعلق ہے۔ چنانچہ ایک موقعہ پر فرماتے ہیں:
’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا تعلق ہے۔ اور عبادت کیا ہے؟ نماز ہی ہے۔ جہاں مومنوں سے دلوں کی تسکین اور خلافت کا وعدہ ہے وہاں ساتھ ہی اگلی آیت میں اَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ کا بھی حکم ہے۔ پس تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ عبادت اور نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس انعام کے بعد اگر تم میرے شکر گزار بنتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ نہیں دو گے تو نافرمانوں میں سے ہو گے۔ پھر شکر گزاری نہیں ناشکرگزاری ہو گی اور نافرمانوں کے لئے خلافت کا وعدہ نہیں ہے بلکہ مومنوں کے لئے ہے۔ پس یہ انتباہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اپنی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ نظام خلافت کے فیض تم تک نہیں پہنچیں گے۔ اگر نظام خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرو کہ یَعْبُدُونَنِیْ یعنی میری عبادت کرو۔ اس پر عمل کرنا ہوگا۔ پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا،جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔…ہمیشہ یاد رکھیں کہ افراد جماعت اور خلیفۂ وقت کا دو طرفہ تعلق اُس وقت زیادہ مضبوط ہوگا جب عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی۔
…دوسری بات جیسا کہ مَیں نے پہلے ذکر کیا ہے نمازوں کے ساتھ مالی قربانیوں کی طرف توجہ ہے۔ …۔ مَیں نے نماز کے سلسلے میں ذکر کیا تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ خلافت کے ذریعہ تمکنت عطا کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہاں اسے اپنی عبادت سے مشروط کرتا ہے اور اگلی آیت میں عبادت کی وضاحت کی کہ نماز کو قائم کرنے والے لوگ ہوں گے۔ لیکن جہاں یہ ذکر ہے کہ نماز کو قائم کرنے والے ہوں گے وہ صرف نماز کے بارے میں ہی نہیں فرمایا، بلکہ ساتھ ہی فرمایا کہ

وَاٰ تُواالزَّکوٰۃ

کہ زکوٰۃ ادا کرو۔ زکوٰۃ اور مالی قربانی بھی استحکام خلافت اور تمہارے اس انعام پانے کا ذریعہ ہے۔ اور پھر آگے فرمایا

وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْ حَمُوْن

اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ رسول ا کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے مسیح و مہدی کو مانا جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کی دائمی خوشخبری فرمائی تھی۔
پس خلافت کا نظام بھی اطاعت رسول کی ایک کڑی ہے اور اس دور میں اگر دین کی ضروریات کے لئے مالی تحریکات کی جاتی ہیں جو اگر زکوٰۃ سے پوری نہ ہو سکیں تو یہ عین اللہ اور رسول کی منشاء کے مطابق ہے۔ خود رسول اللہ ا کے زمانے میں زکوٰۃ سے بڑھ کر جو اخراجات ہوتے تھے ان کے لئے چندہ لیا جاتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ زکوٰۃ کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بہت سی ضروریات کے لئے مالی قربانی کا بھی ذکر آتا ہے۔ … زکوٰۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے،اس کی کچھ شرائط ہیں جن کے ساتھ یہ فرض ہے اور دوسرے اس کی شرح اتنی کم ہے کہ آجکل کی ضروریات یہ پوری نہیں کر سکتی ۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی زائد ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ، زکوٰۃ کے علاوہ زائد چندے لئے جاتے تھے۔ زکوٰۃ کی اہمیت اور فرضیت سے کسی کو انکار نہیں۔ اس لئے جن پر زکوٰۃ فرض ہے، ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ زکوٰۃ دینی لازمی ہے وہ ضرور دیا کریں اور خاص طور پر عورتوں پر تو یہ فرض ہے جو زیور بنا کر رکھتی ہیں۔ سونے پر زکوٰۃ فرض ہے۔ دوسرے جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت نبوت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس زمانے میں خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی ہے۔ اس لئے خلفاء کے مقرر کردہ چندے اور تحریکات اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکم کے مطابق ہیں اس لئے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ بعض لوگوں کو شرح پر اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں شرح نہیں تھی ،بعد میں مقرر کی گئی تو ضرورت کے مطابق مقرر کی گئی۔
(خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ 13؍اپریل2007ء )
عبادات کے ذریعے اِس نعمت عظمیٰ یعنی خلافت کے قیام اور اور اس کی برکات کے حصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کینیڈا 2008ء کے موقعہ پر اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے عبادت کرنے والے لوگوں سے ایک بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا ہے یعنی خلافت کا۔ عبادت کرنے والوں سے ہی خلافت کے انعام کا بھی وعدہ ہے۔ پس آج ہر مرد اور عورت کی، ہر جوان اور بوڑھے کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عبادت کے معیار بڑھانے کی طرف توجہ کرے۔ خلافت کی برکات کا فیض انہی کو پہنچے گا جو خود بھی عبادت گزار ہوں گے اور اپنی نسلوں میں بھی یہ روح پھونکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت سے فیض پانے والے وہی لوگ ہوں گے جو خداتعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔
اس آخرین کے دور میں جب شرک کی طرف رغبت دلانے کے لئے نئے نئے طریق ایجاد ہوگئے ہیں۔ جب تجارتوں اور کھیل کود کو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے دور کرنے کی کوشش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب شیطان انسان کو ورغلانے میں پہلے سے زیادہ مستعد ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے، اس کی عبادت کی طرف توجہ کرنے کے لئے ہمیں کوشش بھی پہلے سے بہت بڑھ کر کرنی ہو گی۔ اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ایسے عبادت کرنے والے کبھی ضائع نہیں ہوں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان کی نسلیں بھی شیطان کے شر سے بچی رہیں گی اور خلیفۂ وقت کی دعائیں ان کے حق میں اور ان کی دعائیں خلافت کے حق میں پوری ہوتی رہیں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کو ایسے لوگ عطا فرمائے ہوئے ہیں جو اس کی عبادت کرنے والے ہیں تبھی تو خلافت کے انعام سے بھی ہم فیضیاب ہو رہے ہیں اور انشاء اللہ، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ عبادت گزاروں کے لئے تمکنت دین کے سامان خلافت احمدیہ کے ذریعہ پیدا فرماتا چلا جائے گا۔ لیکن میں پھر اس بات کو دہراؤں گا کہ ہر ایک کو اپنے آپ کو اس گروہ میں شامل کرنے اور شامل رکھنے کے لئے خود بھی کوشش کرنی ہو گی۔
27مئی کو جو خلافت جوبلی منائی گئی۔ لندن میں ایک بڑا فنکشن ہوا اور دنیا بھر میں بھی ہوا۔ دنیا کی جماعتوں نے جہاں اور پروگرام بنائے اور ان پر عمل کیا وہاں دعائوں اور نوافل کا بھی اجتماعی پروگرام رکھا اور دنیا کے ہر ملک کی جماعت نے اس کا بڑا اہتمام کیا۔ کینیڈا سے بھی مجھے کسی نے لکھا کہ ہم گھر سے مسجد کی طرف رات کو اڑھائی بجے نکلے۔ سڑک پر جہاں عموماً مسجد تک پہنچنے میں 45منٹ کا وقت صرف ہوتا ہے 20منٹ میں مسجد کے قریب پہنچ گئے کیونکہ ٹریفک نہیں تھا۔ لیکن مسجد کے قریب پہنچ کر دیکھا تو اتنی لمبی کاروں کی لائنیں تھیں کہ وہ چند سو گز کا فاصلہ طے کرتے ہوئے آدھاگھنٹہ لگ گیا اور مشکل سے نوافل کی آخری رکعتوں میں پہنچے۔
پس یہ معیار جو آپؑ نے قائم کرنے کی کوشش کی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ خلافت احمدیہ سے آپ کی محبت ہے۔ کمزور سے کمزور احمدی کے دل میں بھی اس محبت کی ایک چنگاری ہے جس نے اس دن اپنا اثر دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوئی تاکہ خلافت احمدیہ کے قیام اور استحکام کے لئے دعائیں کریں۔ پس اس چنگاری کو شعلوں میں مستقل بدلنے کی کوشش کریں۔ اس کو کبھی ختم نہ ہونے دیں۔ ان شعلوں کو آسمان تک پہنچانے کی ہر احمدی کو ایک تڑپ کے ساتھ کوشش کرنی چاہئے کہ یہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔یہی اللہ تعالیٰ کے فیض سے فیضیاب ہونے کا ذریعہ ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کے فیض یافتہ گروہ کا حصہ بننے کا ذریعہ ہے۔…۔ ہر ایک اپنے خدا سے اپنے سجدوں میں پھر یہ عہد کرے کہ جو مثال ہم نے 27مئی کو قائم کی تھی، جس طرح دعائوں اور عبادتوں کی طرف ہمیں اللہ تعالیٰ کے احسان سے توجہ پیدا ہوئی تھی اسے ہم اپنی زندگیوں کا دائمی حصہ بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمارا شمار ہمیشہ ان لوگوں میں ہوتا رہے جو خداتعالیٰ کے سچے عابد ہیں اور جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کا خلافت کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ خدا کرے کہ یہ جلسہ ہر ایک میں عبادت کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانے والا ثابت ہو۔
(ارشاد فرمودہ 27؍جون 2008ء بمقام انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر مسی ساگا،انٹاریو، کینیڈا)
2008ء کے انٹرنیشنل جلسہ سالانہ UK کے موقع پر بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خلافت احمدیہ کی برکات کو دائمی بنانے کے لئے احمدیوں کو اپنی عبادات کے معیار کو بلندتر کرتے چلے جانے کے بارہ میں نصائح فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:
’’یہ خلافت جوبلی کا جلسہ ہے اس لئے بہت بڑی تعداد یہاں آئی ہے، مطلب یہ کہ خلافت جوبلی کے سال میں ہونے والا پہلا جلسہ ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہا اس دفعہ اکثریت اس حوالے سے اور اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے جلسہ میں شامل ہو رہی ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت کا ذکر فرمایااور فرمایا کہ وہ مومنین کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا تو اس آیت میں یہ بتایا کہ وہ لوگ میری عبادت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانے کی وجہ سے ان پر یہ انعام ہو گا کہ ان کو خلافت کی وجہ سے تمکنت عطا ہوگی اور پھر یہ بات انہیں مزید عبادت کی طرف توجہ دلانے والی ہوگی۔
اور پھر اگلی آیت جو اس آیت استخلاف کے بعد آتی ہے، اس کے شروع میں ہی فرمایا وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃ (النور:57) کہ عبادت کے لئے بنیادی چیز اور شریک نہ ٹھہرانے کے لئے پہلا قدم ہی نماز کا قیام ہے۔ اور قیام نماز کیا ہے ؟ باجماعت نماز پڑھنا، سنوار کر نماز پڑھنا اور وقت پر نماز پڑھنا۔ نماز کے مقابلے میں ہر دوسری چیز کو ہیچ سمجھنا، کوئی حیثیت نہ دینا۔ پس ان دنوں میں تمام آنے والے مہمان، تمام جلسے میں شامل ہونے والے لوگ اپنی نمازوں کی طرف توجہ دیں اور پھر صرف ان دنوں میں نہیںبلکہ ان دنوںمیں یہ دعا بھی خاص طور پر کریں اور کوشش کریں کہ ان دنوں کی نماز کی عادت ہمیشہ آپ کی زندگیوں کا حصہ بن جائے تااس نعمت سے حصہ لیتے رہیں جو خلافت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ اور جو انفرادی طورپربھی ہر احمدی کے لئے تمکنت کا باعث بنے گی اور جماعتی طور پر بھی تمکنت کا باعث بنے گی اگر ہماری عبادتیں زندہ رہیں ۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت ان دنوں میں خاص طورپر کریں کہ یہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے‘‘۔ فرمایا:’’ ایمان کی جڑ بھی نمازہی ہے‘‘۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَعَدَاﷲُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْامِنْکُم یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لانے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْض کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔ تو ہر احمدی کو اس انعام سے فیض پانے کے لئے ایمان میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے اس جڑکو پکڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بلکہ اس کی جڑیں ہمیں اپنے دل میں اس طرح لگانی ہوں گی کہ جو چاہے گزر جائے لیکن اس جڑ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ کسی بھی حالت میں اس جڑ کو نقصان نہ پہنچے ۔ کیونکہ اس کو نقصان پہنچنا یا نمازوں میں کمزوری دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان میں کمزوری پیدا ہو رہی ہے اور ایمان میں کمزوری جو پیدا ہو گئی تو خلافت سے تعلق بھی کمزور ہو گا۔ پس ان دنوں میں جب آپ خاص دنوں میں جمع ہوئے ہیں تو اپنی نمازوں کی حفاظت کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نمازیں پھر ہماری حفاظت کریں۔ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پاتے ہوئے اس کے نام کے ہمیشہ وارث بنتے رہیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے کیا ہے‘‘۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ25؍جولائی 2008ء بمقام حدیقۃ المہدی آلٹن۔ برطانیہ)

نظام خلافت کی حفاظت کے بارہ میں چند نصائح
نظامِ خلافت کی حفاظت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا اور اِس عظیم الشان نعمت کے وقار کو قائم رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنا ہر احمدی کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ جہاں عہدیداران کے فرائض ہیں وہاں ہر احمدی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اِس خدائی نظام کی حفاظت اور اس کے احترام کے لئے اپنے جذبات کی قربانی دینے اور سچے ہوکر جھوٹوں کی طرح تذلّل اختیار کرنے کی نصیحت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے۔ اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ نے عہدیداران اور دیگر افراد جماعت کو اپنا مقام سمجھنے سے متعلق درج ذیل نصیحت فرمائی:
’’یاد رکھیں جہاں محبت کرنے والے دل ہوتے ہیں وہاں فتنہ پیدا کرنے والے شیطان بھی ہوتے ہیں جو اس تعلق کو توڑنے یا اس تعلق میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ایسے لوگوں سے بھی آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ اپنے ماحول پر نظر رکھنی ہے۔ کہیں سے بھی کوئی ایسی بات سنیں جو جماعتی وقار یا خلافت کے احترام کے خلاف ہو تو فوری طور پر عہدیداران کو بتائیں، امیر صاحب کو بتائیں، مجھے بتائیں۔ کیونکہ بعض دفعہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اندر ہی اندر پکتی رہتی ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ عہدیداران بھی اپنے اندر یہ عادت پیدا کریں کہ جب ایسی باتیں سنیں توسن کر سرسری طور پر دیکھنے کی بجائے اس کی تحقیق کر لیا کریں، یا کم از کم نظر رکھا کریں۔ ایک دفعہ اگر سنی ہے تو ذہن میں رکھیں اور اگر دوبارہ سنیں تو بہرحال اس پر توجہ دینی چاہئے۔ امیر صاحب کو بتائیں پھر مجھے بھی بتائیں اسی واسطے سے، بعض دفعہ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ چھوٹی سی بات لگ رہی ہوتی ہے اس لئے کہ ہر ایک کو اس کے پس منظر کا، بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس کی جڑیں کسی اور جگہ ہوتی ہیں۔ اس لئے کسی فتنے کو کبھی چھوٹا نہ سمجھیں، اگر کوئی ایسی بات ہے جو وقتی ہے، آپ کے نزدیک سطحی سی بات ہے، اور غصے میں کسی نے کہہ دی ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اور اِن وقتی شکایتوں اور شکووں کو دُور کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اور عہدیداروں کی طرف سے بھی کی جانی چاہئے۔
عہدیداروں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور ایسی باتیں سننی چاہئیں تاکہ توجہ نہ دینا فرد جماعت اور عہدیداروں میں دوری پیدا کرنے کا باعث نہ بن جائے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا جب بھی کسی بات کا مجلسوں میں ذکر ہو رہا ہے اور پھر شرارت پھیلانے کی غرض سے ذکر ہو رہا ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ بہرحال ہر صورت میں جب بھی آپ کوئی ایسی بات سنیں جس میں ذرا سی بھی نظام کے خلاف کسی بھی قسم کی بو آتی ہو تو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اس لئے یہاں سمیت تمام دنیا کے عہدیداران بھی اور امراء بھی جہاں جہاں بھی ہیں، ان سے مَیں کہوں گا کہ اپنے آپ کو ایک حصار میں، ایک شیل (Shell) میں بند کرکے یا محصور کرکے نہ رکھیں، جہاں صرف ایسے لوگ آپ کے اردگرد ہوں جو ’سب ٹھیک ہے‘ کی رپورٹ دینے والے ہوں۔ بلکہ ہر ایک احمدی کی ہر متعلقہ امیر اور عہدیدار تک پہنچ ہونی چاہئے تاکہ ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں سے آپ کا براہ راست تعلق ہو۔ بعض دفعہ، بعض نوجوان بھی ایسی معلومات دیتے ہیں اور ایسی عقل کی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑی عمر کے لوگ یا تجربہ کار لوگوں کے ذہن میں نہیں آتی۔ اس لئے کبھی بھی، کسی بھی نوجوان کی یا کم پڑھے لکھے کی بات کو تخفیف یا کم نظر سے نہ دیکھیں۔ وقعت نہ دیتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ہر بات کو توجہ دینی چاہئے۔ پھربعض دفعہ نوجوانوں کے ذہنوں میں بعض سوال اٹھتے ہیں اور اس معاشرے میں اور آج کل کے نواجونوں کے ذہن میں بھی باتیں اٹھتی رہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہے؟۔ اس لئے خدام الاحمدیہ کو بھی، لجنہ اماء اللہ کو بھی اور جماعتی عہدیداران کو بھی ایسے نوجوانوں کی تسلی کرانی چاہئے، ان کو تسلی بخش جواب دینے چاہئیں تاکہ کسی فتنہ پرداز کو ان کو استعمال کرنے کاموقع نہ ملے۔…
اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انعام سے فیض پانے والے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو نیک اعمال بھی بجا لانے والے ہوں۔ پس خلافت سے تعلق مشروط ہے نیک اعمال کے ساتھ۔ خلافت احمدیہ نے تو انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ لیکن نظام خلافت سے تعلق انہیں لوگوں کا ہو گا جو تقویٰ پر چلنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے۔ اگر جائزہ لیں تو آپ کو نظر آ جائے گا کہ جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگی نہیں ہے، ان کا نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ان کا خلافت اور نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔ اور جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگیاں ہیں، جن گھروں میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے میں وہ شدت نہیں ہے، احمدی ہونے کے باوجود نظام جماعت کا ا حترام نہیں ہے،لوگوں کے حقوق صحیح طورپر ادا نہیں کرتے وہی لوگ ہیں جن کے گھروں میں بیٹھ کرخلیفۂ وقت کے بارہ میں بعض منفی تبصرے بھی ہورہے ہوتے ہیں۔تو اپنے آپ کو نظام جماعت اور جماعتی عہدیداران سے بالا بھی وہاں سمجھا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ تبصرے شروع کرتے ہیں عہدیداروں سے اور بات پہنچتی ہے خلیفہ ٔ وقت تک ۔جب نظام جماعت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی فیصلہ آتاہے تواس پر بجائے استغفار کرنے کے اعتراض ہورہے ہوتے ہیں ۔حالانکہ نظام جماعت میں تو خلافت کی وجہ سے یہ سہولت میسّر ہے کہ اگر کسی کو یہ خیال ہوکہ کوئی فیصلہ کسی فریق کی طرفداری میں کیاگیاہے تو خلیفۂ وقت کے پاس معاملہ لایا جاسکتا ہے۔ اگر پھربھی بعض شواہد یا کسی کی چرب زبانی کی وجہ سے فیصلہ کسی کے خلاف ہوتاہے تو اس کو تسلیم کر لینا چاہئے اور بلاوجہ نظام پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ اعتراض تو بڑھتے بڑھتے بہت اوپر تک چلے جاتے ہیں۔ ایسے موقعوںپر اس حدیث کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے، پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے میرے سے فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتا ہے حالانکہ وہ حق پہ نہیں ہوتا تو وہ آگ کا گولہ اپنے پیٹ میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ یعنی اس وجہ سے وہ اپنے پر جہنم واجب کر رہا ہوتا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس فعل کی وجہ سے اس دنیا میں بھی اذیت میں مبتلا رکھے۔ اس کو کئی قسم کے صدمات پہنچ رہے ہوں مختلف طریقوں سے۔ مختلف وجوہات سے وہ مشکلات میں گرفتار ہو جائے۔ تو بہرحال جیسا کہ مَیں پہلے عہدیداران سے بھی کہہ آیا ہوںکہ انہیں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔
لیکن فریقین سے بھی مَیں یہ کہتا ہوں کہ آپ بھی حسن ظنی رکھیں اور اگر فیصلے خلاف ہوجاتے ہیں تو معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اور جیسا کہ حدیث میں آیا ہے دوسرے فریق کو آگ کا گولہ پیٹ میں بھرنے دیں۔ اور لڑائیوں کو طول دینے اور نظام جماعت سے متعلق جگہ جگہ باتیں کرنے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی اس تعلیم پر عمل کریں کہ سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ سب میں یہ حوصلہ پیدا فرمائے اورہر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے۔
( خطبہ جمعہ فرمودہ یکم؍جولائی 2005 ء بمقام انٹرنیشنل سنٹر ٹورانٹو۔کینیڈا)

ایک اہم قرآنی دعا
ایمان کی حفاظت اور خلافت کی برکات سے مستفید ہونے کے لئے دعا اور عمل صالح دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ اِن دونوں امور کی طرف توجہ دلاتے ہو ئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک خطبۂ جمعہ میں ارشاد فرمایا:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ (آل عمران :9)

اے ہمارے ربّ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکاہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔یقیناتُو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والاہے۔
…پس یہ خوبصورت دعا ہمیشہ ہر احمدی کا روزمرہ کا معمول ہونا چاہئے اور اگر حقیقی رنگ میں یہ ہمارا معمول ہو گی تو ہم اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنے میں بھی شعوری کوشش کرنے والے ہوں گے ۔ اپنی عبادتوں کی طرف بھی دیکھنے والے ہوں گے۔ اپنی عبادتوں اور نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور نتیجۃً نمازیں بھی ہماری حفاظت کر رہی ہوں گی۔ ایسے اعمال بجا لانے کی کوشش کرنے والے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ اعمال ہیں کیونکہ یہی اعمال ایمان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، ہدایت پر قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَہْدِیْہِمْ رَبُّہُمْ بِاِیْمَانِہِمْ (یونس:10)

یعنی یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اور مناسب حال عمل کئے انہیں ان کا ربّ ان کے ایمان کی وجہ سے ہدایت دے گا۔ پس جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال ہدایت کا راستہ دکھانے کا باعث بنتے ہیں تو ایک مومن جب رَبَّنَا لَاتُزِغْ قُلُوْبَنَا کی دعا پڑھے گا تو اس کی برکات سے فیض پانے کے لئے، اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے، ہر کجی اور ٹیڑھے پن سے بچنے کے لئے، دعا کے ساتھ اپنے عمل بھی اسی طرح ڈھالنے کی کوشش کرے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اپنے ایمان کو بچانے کے لئے جو دعائیں ہم کرتے ہیں، تبھی قبولیت کا درجہ پائیں گی جب اس کے لئے ہم اپنی عبادتوں میں بھی تسلسل رکھیں گے اور اعمال صالحہ بجا لانے کی بھی کوشش کریں گے۔ نظام جماعت سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ چھوٹی چھوٹی دنیاوی باتوں کو اپنے ایمان پر ترجیح نہیں دیں گے۔ کسی جماعتی کارکن کے ساتھ معمولی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے نظام جماعت کو اعتراض کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ پس جب انسان یہ دُعا کرتا ہے تو ہر وقت ایک کوشش کے ساتھ راستے کی ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش بھی کرنی ہو گی۔ ایک توجہ کے ساتھ یہ کوشش کرنی ہو گی ۔اگر کسی کے خلاف اس کے اپنے خیال میں جماعتی طور پرکوئی غلط فیصلہ بھی ہوا ہے تو جہاں تک اپیل کا حق ہے اسے استعمال کرنے کا ہر ایک کو حق ہے، اسے استعمال کرکے پھر معاملہ خداتعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے بجائے اس کے کہ پورے نظام پر بدظنی کرے۔ دنیاوی نقصان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان سمجھ کر برداشت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ اگر شکوے پیدا ہو نے شروع ہوں تو پھر یہ بڑھتے بڑھتے جماعت سے دُور لے جاتے ہیں، خلافت سے بھی بدظنیاں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ ایک تو کبھی ایسا موقع ہی پیدا نہ ہو کہ ہمارے دل میں کبھی نظام جماعت کے خلاف مَیل آئے۔ ہمارے اعمال ہی ایسے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی منشاء اور حکموں کے مطابق ہوں اور نظام کو ہمارے سے کبھی شکایت پیدا نہ ہو۔ اور اگر کبھی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جو ہماری کسی بشری کمزوری کی وجہ سے کسی امتحان میں ڈال دے تو کبھی ایسا نتیجہ نہ نکلے جس سے ہمارے ایمان کو ٹھوکر لگے اور نظام جماعت یا نظام خلافت کے بارے میں کبھی بدظنیاں پیدا ہوں اور یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ہو۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ21؍نومبر 2008ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن)

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں