رہتاس ضلع جہلم کے صحابہؓ

تاریخی قلعہ روہتاس جہلم شہر سے 18کلو میٹر فاصلے پر واقع ہے، اسے 1542-43ء میں فرید خان المعروف شیر شاہ سوری نے مغلوں کی دوبارہ آمد روکنے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ یہاں کے بعض صحابہؓ کا مختصر تعارف روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2008ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت مولوی غلام علی صاحب ؓ
قلعۂ رہتاس کے سب سے پہلے احمدی حضرت مولوی غلام علی صاحبؓ تھے۔ آپ محکمہ بندوبست مظفرگڑھ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے جب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی طباعت کے دَور میں حضورعلیہ السلام سے آگاہی ہوئی۔ براہین احمدیہ کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ جو اعلان شائع ہوا ہے اس میں آپ کا نام بھی اس طرح شامل ہے: (15) مولوی غلام علی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تحصیل مظفر گڑھ۔۔۔ ساتھ ہی آپ کے پانچ روپے چندہ بشرح صدر کا بھی ذکر ہے۔ آپؓ نے ابتداء ہی میں بیعت کی توفیق پائی لیکن سن بیعت معلوم نہیں۔ آپ ملازمت کے سلسلہ میں ضلع گورداسپور میں بھی متعین رہے جس کی وجہ سے حضرت اقدسؑ کے دیوان خانے میں رہنے کا موقع بھی پایا۔ 1897ء میں حضور نے اپنی تصنیف ’’ انجام آتھم ‘‘ میں اپنے 313 کبار صحابہ کی فہرست شائع فرمائی آپ کا نام بھی سولہویں نمبر پر درج ہے۔
آپؓ کی وفات اور تدفین کا علم نہیں ہوسکا۔
حضرت مولوی گلاب دین صاحبؓ اور حضرت گوہراں بی بی صاحبہؓ
آپ شیعہ مسلک کے چوٹی کے عالم تھے۔ مطالعہ کے شوق میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھیں اور 8؍ستمبر 1892ء کو احمدیت قبول کرلی۔ آپ چودھری شرف الدین صاحب کے بیٹے تھے۔ اپنی قوم میں سب سے پہلے آپ نے مڈل اور نارمل کے امتحان پاس کرکے محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔ آپ کو تعلیم نسواں سے خاص دلچسپی تھی اس لئے مدرسہ کی تعلیم کے علاوہ اپنے مکان پر مستورات کو قرآن شریف اور دیگر کتب دینی اردو فارسی پڑھاتے تھے۔ مطالعہ کا بہت شوق تھا، شاعری و ادب، احادیث و تفاسیر اور تصوف کی کتب اکثر مطالعہ میں رہتی تھیں۔ گرنتھ کے اشلوک اور ہندی کے مقولے کثرت سے یاد تھے۔ ہر مذہب کے جلسوں وعظوں میں جاتے اور سنتے تھے، علماء و اتقیاء کی صحبت کو پسند کرتے تھے۔ چنانچہ بغرض استفادہ حضرت مولانا نورالدینؓ (خلیفۃ المسیح اول) کے پاس جموں حاضر ہوئے، آپ نے عربی کی تعلیم کچھ خود شوق سے کچھ حضرت مولانا برہان الدین مرحوم جہلمیؓ سے حاصل کی تھی، دین کی خدمت بلا معاوضہ ہمیشہ کرتے تھے۔ رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کا نام 352نمبر پر درج ہے۔جس میں آپؓ نے 2؍ ماہواری چندہ بھی مقرر کیا ہے۔ جلسہ سالانہ 1892ء میں شامل ہونے والوں کے اسماء ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں حضورؑ نے درج فرمائے جس میں آپ کانام 42ویں نمبر پر موجود ہے۔
حضورؑ نے اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں اپنے 313کبار صحابہ میں 34ویں نمبر پر آپ کو شامل فرمایا ہے۔ اسی طرح حضور نے اپنی کتاب ’’آریہ دھرم‘‘ اور ’’کتاب البریہ‘‘ میں اپنی پُر امن جماعت کے ضمن میں درج دو مختلف فہرستوں میں بھی آپ کا نام رقم فرمایا ہے۔آپ کی ایک نظم بھی حضور اقدس کی کتاب سراج منیر کے آخر میں درج ہے جس کے کچھ اشعار حسب ذیل ہیں: ؎

اللہ اللہ صدی چودھویں کا جاہ و جلال
رحمت حق سے ملا ہے اسے کیا فضل و کمال
جس کے آنے کی خبر مخبر صادق نے تھی دی
آسماں پر سے اُتر آیا وہ صاحب اقبال
خضر کے پیچھے چلے جاؤ عقیدت سے گلاب
خیر و خوبی سے اگر چاہتے ہو تم حال و قال

آپؓ خلافت احمدیہ کے ساتھ وابستہ رہے۔نظام وصیت میں شامل ہوئے۔ جون 1920ء میں بعارضہ چنبل بیمار ہوکر 23نومبر 1920ء کو وفات پائی۔ قلعہ رہتاس کے دروازہ خواص خانی کے باہر تدفین ہوئی، آپ کی قبر آج تک محفوظ ہے۔ قبل ازیں آپؓ کا ذکرخیر 11؍اکتوبر 2002ء کے شمارہ میں الفضل ڈائجسٹ میں کیا جاچکا ہے۔
آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت گوہراں بی بی صاحبہؓ بھی خواندہ عورت تھیں جنہوں نے 21فروری 1935ء کو بعمر 70سال وفات پائی۔ موصیہ تھیں چنانچہ یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔
حضرت ملک غلام حسین صاحب اور حضرت حسن بی بی صاحبہؓ
حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ رہتاسی نے ابتدائی زمانہ میں بیعت کی اور جلد ہی ہجرت کرکے قادیان آگئے اور پھر لمبا عرصہ لنگر خانہ میں بطور نان پز کام کرتے رہے۔ آپؓ کو حضورعلیہ السلام نے اپنے 313؍صحابہ میں شامل فرمایا ہے۔ آپؓ کا نام 181ویں نمبر پر ’’میاں غلام حسین مع اہلیہ رہتاس‘‘ درج ہے۔
آپ شیعہ تھے اور رہتاس میں حضرت مولوی گلاب دین صاحب سے مرثیہ اور دیگر نظمیں وغیرہ سناکرتے تھے۔ اتفاقًا ’’توضیح مرام‘‘ اور ’’فتح اسلام‘‘ وہاں پہنچے جو سنانے کے بعد مولوی صاحب نے کہا کہ یہ تحریر شیخ عطار اور امام غزالی وغیرہ سے بہت بڑھ کر ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی منشی گلاب الدین صاحب اور میاں اللہ دتہ صاحب کے ہمراہ اسی وقت بیعت کا خط لکھ دیا۔ اور پھر یہ تینوں 1892ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہوئے اور دستی بیعت بھی کرلی۔ رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت کااندراج 9؍ اکتوبر 1892ء کے دن درج ہے۔ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں شرکاء جلسہ سالانہ 1892ء کے اسماء میں بھی آپ کا نام درج ہے۔ آپؓ نے ساری زندگی قادیان میں گزاری اور آخری عمر میں اپنے بیٹے کے پاس نیروبی (کینیا) چلے گئے جہاں 6؍جنوری 1954ء کو وفات پا کر احمدیہ قبرستان نیروبی میںدفن ہوئے ۔
آپؓ کی اہلیہ حضرت حسن بی بی صاحبہؓ کو حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کو کچھ عرصہ دودھ پلانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ وہ حضورؑ کے گھر میں خادمہ کے طور پر لمبا عرصہ مامور رہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں بھینسوں کا دودھ بلو کر مکھن وغیرہ نکالا کرتی تھی اور پھر مکھن کو گرم کرکے گھی بنایا کرتی تھی ۔ ایک دن چار پانچ سیر مکھن برتن میں ڈال کر آگ پر رکھا ہوا تھا اور آگ زیادہ تیز ہو گئی ۔ گھی ابل کر ضائع ہو گیا ایک عورت نے جاکر اماں جانؓ سے شکایت کی کہ حسن بی بی نے گھی گرادیا ہے۔ آپؓ نے نہ اس کو کچھ جواب دیا اور نہ مجھے کچھ کہا کہ تم نے کیوں نقصان کر دیا ۔ حضرت حسن بی بی صاحبہ نے 31اکتوبر 1950ء کو نیروبی میں وفات پائی اور وہیں احمدیہ قبرستان میں دفن ہوئیں ۔ آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں سے نوازا۔
حضرت میاں اللہ دتہ صاحب
حضرت میاں اللہ دتہ صاحبؓ بھی ابتدائی بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ ناخواندہ مگر ذہین انسان تھے اور نور فراست دل میں تھا لہٰذاجب حضرت منشی گلاب دین صاحب نے رسالے پڑھ کر سنائے تو آپ نے کہا کہ یہ جو مرزا صاحب نے کہا ہے کہ مسیح مر گیا ہے اور میں آنے والا مسیح ہوں یہ معمولی بات نہیں ہے اور نہ ایسا کہنے والا معمولی انسان ہے جو تیرہ سو سال کی اتنی بڑی غلطی نکالے۔ جب یہ بات حضورؓ نے سنی تو مسکراکر فرمایا کہ جس کو خدا سمجھ دیتا ہے اس کی فراست بڑھ جاتی ہے۔
رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپؓ کی بیعت کا اندراج بھی 8؍اکتوبر 1892ء کے تحت درج ہے۔ جلسہ سالانہ قادیان 1892ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست (مندرجہ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘) میں 43ویں نمبر پر آپؓ کا نام درج ہے۔
حضرت میاں وزیر محمد صاحبؓ
حضرت میاں وزیر محمد صاحب ولد میاں فضل الٰہی صاحب آف رہتاس شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ 1893ء میں بیعت کی توفیق پائی تو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپؓ نے مخالفت کا ذکر حضورؑ سے کیا تو فرمایا ’’تم صداقت پر پختگی سے قائم رہنا۔ کامیابی کا راز اسی میں ہے۔ لیکن اگر تم صداقت سے ہٹ گئے تو ہرگز کامیاب نہ ہوگے‘‘ اور یہی جواب حضرت مسیح موعودؑ نے میاں علی بخش صاحب رہتاسی اور ان کی اہلیہ رانی بیگم صاحبہ کو دیا۔
حضرت میاں صاحبؓ نہایت نیک اور پاک سیرت بزرگ تھے۔ جماعت کے کاموں میں بڑی لگن کے ساتھ حصہ لیتے اور خلیفۂ وقت کی آواز پر بلاتأمل عمل کرتے، آپ رہتاس جماعت کے سیکرٹری مال بھی تھے اس ذمہ داری کو نہایت محنت سے نبھاتے۔ آخری عمر میں کچھ عرصہ قادیان میں رہے۔7؍ اپریل 1939ء کو رہتاس میں بعمر 95 سال وفات پائی۔ جنازہ قادیان لایا گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔
مکرم عبدالسلام بھٹی صاحب آپؓ کے متعلق تحریر کرتے ہیں: حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ عشق رکھتے تھے اور آپ کی محبت میں گداز تھے۔ حضورؑ کے ذکر پر چشم پُر آب ہوجاتے اور بات کرتے وقت سرور کے نشہ میں سر ہلاہلا کر جھومتے اور آنکھوں میں چمک آجاتی۔ تلاوتِ قرآن اور تبلیغ کا بے حد شوق تھا مگر افسوس کہ قریبی عزیزوں میں سے کسی کو احمدیت نصیب نہ ہوئی۔
حضرت بابوفیروز علی صاحبؓ
حضرت بابو فیروز علی صاحب ولد مکرم پیر بخش صاحب پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے مریدوں میں سے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام پہنچا تو احمدیت قبول کرلی۔ یہ قریباً 1896ء کا واقعہ ہے جب آپ سٹیشن گولڑہ پر تعینات تھے۔ پھر آپؓ کی تبلیغ سے آپؓ کے چھوٹے بھائی حضرت بابو فرمان علی صاحب نے بھی بیعت کرلی۔ انہوں نے 1939ء میں اپنی روایات قلم بند کروائیں جس میں آپؓ کے نام کے ساتھ مرحوم لکھا ہے جس کا مطلب ہے حضرت بابو فیروز علی صاحب اس وقت تک وفات پا چکے تھے۔
حضرت بابو فرمان علی صاحبؓ
حضرت بابو فرمان علی صاحب ولد پیر بخش صاحب قریباً 1867ء میں پیدا ہوئے، 1900ء میں حضرت اقدسؑ کی بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ آپؓ بیان کرتے ہیں کہ تحریری بیعت کے دو تین ماہ بعد دستی بیعت کے لئے قادیان روانہ ہوا تو شیطان نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ مَیں پہلے حضورؑ سے یہ تین سوال کروں گا، اگر جواب ملا تو بیعت کروں گا ورنہ نہیں۔ لیکن کچھ دیر بعد مَیں سوگیا تو جاگنے پر کوئی سوال یاد نہیں رہا حتیّٰ کہ قادیان پہنچ کر بھی کچھ یاد نہیں آیا۔ اس پر مَیں نے استغفار کرکے بیعت کرلی۔ بعد اس کے میں ملازم تھا تو حضور کی خدمت میں خط دعا کے لئے لکھتا رہا۔ 1902ء میں حضورؑ کی دعا سے 4 سال کی ملازمت کے بعد ترقی ہوکر ہیڈ کانسٹیبل ہوگیا۔ دو تین دفعہ حضورؑ کی زیارت کے لئے قادیان بھی آیا۔
ریٹائر منٹ کے بعد آپ ہجرت کرکے قادیان چلے آئے جہاں یکم جنوری 1940ء کو بعمر قریباً 73سال وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔
حضرت میاں علی بخش صاحب رہتاسی اور حضرت رانی بی بی صاحبہؓ
1903ء میں جب حضرت مسیح موعودؑ مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے تو حضرت میاں علی بخش صاحب ولدمیاں غلام محمد صاحب بھی اپنی اہلیہ حضرت رانی بی بی صاحبہ کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے اور بیعت کی۔ البدر میں بیعت کنندگان کی فہرست میں دونوں کے نام درج ہیں۔
حضرت میاں علی بخش صاحبؓ کی چند روایات:
٭ حضور نے جہلم میں فرمایا کہ حدیث کے مطابق مَیں حَکم و عدل ہوں۔ ہر فرقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسیح کو ہمارے اندر آنا چاہئے۔ اگر میں سنی ہوتا تو شیعہ نہ مانتے۔ اگر شیعوں کا مذہب اختیار کرتا تو سنی اور دوسرے فرقے نہ مانتے۔ اس صورت میں مَیں حکم کیسے ہوسکتا تھا! لوگوں کو چاہئے کہ مجھے حَکم مانیں، خود حَکَم نہ بنیں۔
٭ ایک دفعہ قادیان میں سیر سے واپس آتے ہوئے فرمایا کہ ایک وقت وہ تھا کہ نہ مجھے کوئی جانتا تھا نہ قادیان کے نام سے کوئی واقف تھا جب مجھے الہام ہوا کہ وَسِّعْ مَکَانَک تو حیران تھا کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ مگر اب دیکھو جب میں سیر کے لیے نکلتا ہوں تو چالیس پچاس آدمی ساتھ ہوتے ہیں۔
٭ قریباً 1905ء میں رہتاس کے لوگوں نے ہمیں بہت تنگ کیا حتیٰ کہ پانی نہ لینے دیتے تھے۔ ہم میاں بیوی قادیان آگئے۔ میری بیوی نے حضورؑ کی خدمت میں سارا حال عرض کرکے کہا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دل میں بے شک احمدی رہیں مگر میرا خاوند یہ بات نہیں مانتا، حضور ان کو اجازت دیدیں کہ نماز ان کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔ فرمایا: یہ تو منافقت ہے، آپ فکر نہ کریں استقامت اختیار کریں اللہ تعالیٰ آپ کو غیر احمدیوں کا محتاج نہیں بنائے گا۔ چنانچہ ہم واپس چلے گئے اور آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی طرح عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
حضرت میاں علی بخش صاحبؓ نے یکم جنوری 1942ء کو وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔
آپؓ کی زوجہ حضرت رانی بی بی صاحبہؓ بنت مکرم نورالدین صاحب بھی رہتاس کی رہنے والی تھیں۔ تقریباً 1872ء میں پیدا ہوئیں، ناخواندہ خاتون تھیں لیکن نیک اور پارسا طبیعت کی مالک تھیں اور مبشر رؤیا کے درجے سے مشرف تھیں۔ بیعت سے قبل ہی آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کی صداقت کے متعلق رؤیا دکھادی تھیں۔ چنانچہ آپؓ نے حضورؑ کے سفر جہلم سے قبل ہی حضورؑ کی جہلم آمد اور انبوہ خلائق کا نقشہ بیان کردیا تھا جیسا کہ بعد میں وقوع میں آیا۔
آپؓ نے 20جنوری 1928ء کو بعمر 56سال وفات پائی۔ آپ موصیہ تھیں۔ دفن رہتاس میں ہوئیں اور یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگایا گیا۔
حضرت ملک محمد حسین صاحبؓ
آپ حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ رہتاسی کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ قریباً 1887ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جب ہجرت کرکے قادیان آئے تو آپ بھی ساتھ ہی تھے۔ بچپن ہی سے حضرت اقدس مسیح موعود کے گھر میں تربیت پائی اور نیک طبیعت کے مالک بنے۔ حضرت مصلح موعودؓکے ہم مکتب تھے۔ 1913ء میں افریقہ چلے گئے۔ آپ بیرسٹری کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن بھی گئے۔ محترم مولوی مبارک علی صاحب بی اے بی ٹی لندن سے لکھتے ہیں: ’’ملک محمد حسین صاحب کا پیرس میں لیکچر ہوا اور انہوں نے وہاں احمدیہ لٹریچر بھی تقسیم کیا ہے … اب وہ فرانسیسی زبان سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ فرینچ میں تبلیغ کی جاوے۔ ملک صاحب موصوف پیرس سے لندن واپس آگئے اور مجھے کام میں مدد دیتے ہیں۔‘‘
بیرسٹری کاامتحان پاس کرنے کے بعد کینیا آگئے۔ آپ کا شمار نیروبی کے ممتاز ترین بیرسٹروں میں ہوتا تھا۔ 1923ء میں Legislative Council کے ممبر نامزد ہوئے اور میونسپل کمشنر کی حیثیت سے قوم و ملت کی شاندار خدمات انجام دیں۔
آپ کے والد حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ رہتاسی کی ایمان افروز روایت ہے کہ ’’حضرت صاحب شام کی نماز پڑھ کر مسجد میں لیٹ جایا کرتے تھے اور بچے حضور کو دبایا کرتے تھے۔ میرا بچہ محمد حسین بھی دبا رہا تھا۔ حضرت اقدس کی آنکھیں بند تھیں۔ ایک اَور لڑکا جلال جو ’’پٹی‘‘ کا تھا اور مغل تھا وہ بھی دبا رہا تھا۔ یکدم حضرت صاحب نے جو آنکھ کھولی تو فرمایا کہ: محمد حسین ڈپٹی کمشنر بنے گا اور جلال اس کے گھوڑے کو چارہ ڈالے گا۔ چنانچہ آخری عمر میں جبکہ وہ افریقہ میں تھے نیروبی کا ڈپٹی کمشنر چار ماہ کی رخصت پر گیا تو اس کا قائمقام محمد حسین کو مقرر کیا گیا۔ آپؓ نے 4اپریل 1935ء کو کینیا میں وفات پائی۔
حضرت ماسٹر بقا محمد صاحبؓ
حضرت ماسٹر بقا محمد صاحب ولد میاں امام بخش صاحب قوم کھوکھر سکول میں مدرس تھے۔ 1907ء میں آپ بوچھال کلاں ضلع چکوال میں متعین تھے جب احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ کرکے بیعت کا خط لکھ دیا۔ آپ کی بیعت کا اعلان جب اخبار ’’البدر‘‘ میں ہوا تو مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی ایڈیٹر رسالہ ’’الہادی‘‘ نے آپ کو بذریعہ خط لکھا کہ:بعد سلام مسنون واضح آنکہ اخبار بدر … میں زیر عنوان ’’سلسلہ حقہ کے نئے ممبر‘‘آپ کا نام بھی درج شدہ دیکھا، حیران ہوا کہ … قادیانی کی مریدی کا خیال کس طرح ہوسکتا ہے؟ … اول تو مجھے اس خبر کی صحت میں شک ہے، دوم اگر سچی بھی ہے تو آپ گرمیوں کی رخصتوں میں سیالکوٹ میں آکر مجھ سے ملاقات کر جاویں۔ آپ کا خیر خواہ ۔ خاکپائے محمد ابراہیم ایڈیٹر رسالہ ’’الہادی‘‘
آپؓ نے ’’بدر‘‘ میں اس خط کا بڑا پُرمعارف جواب شائع کرادیا جو آپؓ کے قوی ایمان کا مظہر ہے۔
آپؓ بطور مدرس مختلف جگہوں پر متعین رہے۔ آپؓ نے مارچ 1923ء میں وفات پائی ۔ موصی تھے، رہتاس میں دفن ہوئے اور یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔
حضرت منشی حسن دین صاحبؓ رہتاسی
مشہور شاعر حضرت حسن رہتاسی صاحبؓ ابن حضرت منشی گلاب الدین صاحبؓ رہتاسی نے 1896ء میں بیعت کی ۔ آپ ایک پُرجوش فطرتی شاعر تھے اور عرصہ دراز تک احمدیت اور اردو ادب کی خدمت کرتے رہے۔ آپ کے اشعار کا مجموعہ ’’کلام حسن‘‘ کے نام سے شائع شدہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ جہلم تشریف لے آئے۔ وفات سے دو ماہ قبل فیصل آباد میں فروکش ہوئے جہاں بیمار ہوگئے اور جماعت احمدیہ فیصل آباد نے علاج معالجہ اور تیمارداری کی پوری کوشش کی مگر بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور آپؓ 10مارچ 1951ء کو انتقال کرگئے اور فیصل آباد کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
متفرق
٭ حضرت ملک غریب اللہ صاحبؓ کے متعلق معلومات نہیں مل سکیں۔ اُن کی زوجہ حضرت کرم بی بی صاحبہؓ 1886ء میں پیدا ہوئیں، 1905ء میں بیعت کی اور 4اکتوبر 1962ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں دفن ہوئیں۔ ان کے ایک بیٹے ملک عبدالواحد صاحب تھے۔
٭ حضرت میاں صاحب دین صاحبؓ رہتاسی ولد نورالدین صاحب نے 18اگست 1921ء کو بعمر 55 سال وفات پائی۔ آپؓ موصی تھے۔ یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔ آپکی اہلیہ محترمہ فتح بی بی صاحبہ نے 23فروری 1923ء کو وفات پائی اور بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں جگہ پائی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/TYNyq]

اپنا تبصرہ بھیجیں