سنگاپور ۔تاریخ۔ طرز حکومت۔حکمران

جمہوریہ سنگاپور کا پرانا نام Tumasek یعنی سمندر ہے۔ جبکہ شیروں کا مسکن ہونے کی وجہ سے اسے ملائی زبان میں سنگاپور کہا گیا۔
سنگاپور کی لمبائی 42 کلومیٹر اور چوڑائی 23 کلومیٹر ہے۔ اس کے اردگرد 50 ملحق چھوٹے جزائر بھی ہیں۔ ساحل 193 کلومیٹر ہے جبکہ کُل کا رقبہ 640 مربع کلومیٹر اور آبادی تیس لاکھ سے زائد ہے۔ دارالحکومت سنگاپورسٹی کی آبادی 3 لاکھ ہے۔ یہاں کے مذاہب میں بدھ مت 30 فیصد، عیسائی 19 فیصد، مسلم 16 فیصد ہیں۔ ہندو اور تاؤازم کے پیروکار بھی موجود ہیں۔ آبادی میں چینی 78 فیصد ہیں۔
سنگاپور 9 ؍اگست1965ء کو آزاد ہوا۔یہاں زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ کئی اہم صنعتیں بھی موجود ہیں جن میں جہاز سازی، تیل کی صفائی، الیکٹرانکس کا سامان، کیمیائی اشیائ، کاغذ، ادویات، کپڑاسازی، پلاسٹک، ربڑ کی مصنوعات، سٹیل پائپ، پلائی ووڈ، فوڈپیکنگ، لکڑی کا سامان، سیاحت، کمپیوٹر پارٹس اور ماہی گیری شامل ہیں۔ سنگاپور کی قومی فضائی کمپنی ’سنگاپور ایئرلائنز‘ ہے جبکہ ایشیا کا سب سے بڑا چانگی ایئرپورٹ اور بندرگاہ بھی موجود ہے۔ نیز 26 کلومیٹر لمبی ریلوے اسے ملائشیا سے ملاتی ہے۔
سنگاپور میں سب سے پہلے ملائی نسل کے ماہی گیر آباد ہوئے۔ پھر کئی قریبی ریاستیں حملہ آور ہوئیں اور آخر 14ویں صدی کے آخر میں ملاکا نے اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ پھر کئی صدیوں تک یہ جزیرہ بے آباد رہا اور اس نے ایک ہولناک جنگل کی صورت اختیار کرلی۔ یہ خونخوار درندوں، شیروں اور مگرمچھوں کامسکن بن گیا۔ بعد ازاں بحری ڈاکوؤں اور قزاقوں نے اسے اپنا مسکن بنالیا۔ اس دَور میں یہ ریاست Johor کی ملکیت تھا۔
19 ویں صدی میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس جزیرہ پر قبضہ کرنے کے لئے یہاں تجارتی فیکٹری قائم کرنا چاہی اور ملایا میں کمپنی کے نمائندے سرتھامس سٹام فورڈ ریفلز نے مختلف طریقوں سے سلطان جوہور کے ایک قریبی رشتہ دار کو پھانس لیا جس کی وساطت سے سنگاپور کے سلطان عبدالرحمن کے بھائی حسین والیٔ جوہور نے 6 فروری 1819ء کو ایک معاہدہ کے تحت سنگاپور کو برٹش کمپنی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ 2؍اگست 1824ء کو کمپنی نے رقم ادا کرکے سنگاپور کو حاصل کرلیا اور 1826ء میں پہلے اسے ملاکا اور پنیانگ کے ساتھ شامل کرکے برٹش انڈیا کے کنٹرول میں دیا گیا اور پھر 1851ء میں اس کا براہ راست کنٹرول گورنر جنرل انڈیا کو دیدیا گیا۔ یکم اپریل 1867ء کو یہ آبادیاں برطانوی نوآبادیاتی اختیارات کے تحت کراؤن کالونیاں بن گئیں۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد 1921ء میں برطانیہ نے ایک بڑا بحری اڈہ سنگاپور میں تعمیر کیا اور کئی فوجی چھاؤنیاں قائم کیں جن کا استعمال برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم میں کیا۔ انگریزوں نے سنگاپور کو دنیا کی ایک بڑی بندرگاہ بنادیا، جدید عمارتیں اور رہائشی کالونیاں تعمیر کیں۔
جنوری 1942ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی فوجیں جزیرہ نما ملایا تک پہنچ گئیں تو برطانیہ نے سنگاپور کو بچانے کے لئے اپنے دو جنگی بحری جہاز بھیج دیئے۔ لیکن 8فروری 1942ء کو جاپانیوں نے آبنائے جوہور عبور کرلی تو 15 فروری کو برٹش کمانڈر نے ہتھیار ڈال دیئے۔جاپانیوں نے سنگاپور پر شدید بمباری بھی کی۔ جس جاپانی فوجی نے سب سے پہلے سنگاپور کی سرزمین پر قدم رکھا اس کانام Shonanto تھا۔ چنانچہ جب تک جاپانی قابض رہے ملک کا نام شننتو ہی رہا۔ جاپانیوں نے یہاں ایک لاکھ 38 ہزار اتحادی فوجیوں کو جنگی قیدی بنالیا۔ اگست 1945ء میں جاپان کو شکست ہوئی تو 6 ستمبر 1945ء کو برطانوی فوج نے سنگاپور پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔
یکم اپریل 1946ء کو سنگاپور کو برٹش کراؤن کالونی کا درجہ دیا گیا اور جولائی 1947ء میں علیحدہ انتظامی اور قانون ساز کونسلیں وجود میں آئیں مگر برٹش گورنر نے سنگاپور پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ تاہم آزادی کی طرف بھی سفر رواں دواں رہا۔ آخر 28 مئی 1958ء کو لندن میں ایک آئینی سمجھوتے پر دستخط ہوگئے۔ جس کے بعد 30 مئی 1959ء کو سنگاپور کے پہلے عام انتخابات ہوئے اور 3؍جون 1959ء کو سنگاپور کو مکمل داخلی خود مختاری مل گئی۔ البتہ دفاع اور خارجہ امور برطانیہ کے ہاتھ میں رہے۔
16 ستمبر 1963ء کو سنگاپور ملایا، شمالی بورنیو (صباح) اور سراواک کے ساتھ فیڈریشن آف ملائشیا میں شامل ہوا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد ملائی اور چینی آبادی کے تعلقات کشیدہ ہونے پر 9؍اگست 1965ء کو سنگاپور اس وفاق سے علیحدہ ہو کر ایک خودمختار ملک بن گیا۔ 22 دسمبر 1965ء کو سنگاپور کو جمہوریہ قرار دیدیا گیا۔ 31 ؍اکتوبر 1971ء کو ملک میں 152 سال سے موجود برطانوی فوجیں واپس چلی گئیں۔ تاہم برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ملائشیا نے ایک معاہدہ کے تحت اس کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے۔
اس وقت سنگاپور آزاد جمہوریہ ہے۔ صدر ریاست کا سربراہ اور مسلح افواج کا کمانڈر انچیف ہے جو براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ جبکہ وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہے۔ قانون سازی کا اختیار 83 رکنی منتخب پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔
21 ستمبر 1994ء کو سنگاپور کو ایشیا کا آزاد تجارتی علاقہ قرار دیا گیا تھا اور یکم جنوری 1996ء کی عالمی رپورٹ کے مطابق سنگاپور دنیا کا 9 واں امیر ترین ملک تھا۔ اسے ’ایشیا کا پیرس‘، ’مشرق و مغرب کا دروازہ‘، ’بحرالکاہل کی کنجی‘ اور ’مشرق کا نگینہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ملائشیا اور سنگاپور کے درمیان ایک میل کے سمندر پر انگریزوں کا قائم کردہ پُل انجینئرنگ کا اعلیٰ شاہکار و نمونہ ہے۔ پل کے اختتام پر کچھ حصہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ جب کوئی بحری جہاز گزارنا ہو تو اسے اٹھادیا جاتا ہے۔ دنیا میں تیل صاف کرنے کا تیسرا بڑا کارخانہ بھی سنگاپور میں ہے۔ 1980ء میں یہاں نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور بھی قائم ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/P5w53]

اپنا تبصرہ بھیجیں