غریبوں کے خلیفہ

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ کے خلافت نمبر میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی سیرت کے جس پہلو پر مکرم لطف الرحمن محمود صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے وہ حضورؒ کی دنیا بھر کے غرباء اور مظلوموں کے لئے زبانی اور عملی امداد کی چند جھلکیاں ہیں۔
آپ لکھتے ہیں کہ 1958ء میں جب ہمارے محلہ کے خدام کا تعارف ربوہ کے نئے قائد سے کروایا گیا تو قائد صاحب ہر خادم سے صرف ایک ہی سوال کا جواب جاننے کے خواہاں تھے کہ اُس خادم کو مسجد میں کتنی نمازیں باجماعت ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ … یہ قائد حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ تھے جن سے بعد میں تعارف کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے تمام خلفاء نے غرباء اور مساکین کی بہبود کیلئے بے شمار عملی اقدامات اور تحریکات فرمائیں اور یہ سلسلہ خلافت رابعہ کے بابرکت دَور میں بھی انتہائی وسعت کے ساتھ جاری رہا اور حضورؒ نے نہ صرف جماعتی طور پر بلکہ ذاتی طور پر بھی ایسا نمونہ پیش فرمایا جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
٭ حضورؒ کے عہد خلافت کی پہلی اہم تحریک ’’بیوت الحمد‘‘ تھی جو 11؍نومبر 1982ء کو کی گئی اور جس کا تعلق سپین میں کئی صدیوں کے بعد قائم کی جانے والی مسجد کے شکرانے کے طور پر غرباء کے گھروں کی تعمیر سے تھا۔ حضورؒ نے غرباء کے لئے ایک سو گھروں کی تعمیر کے لئے ایک کروڑ روپے کی تحریک فرمائی۔ اب تک اس تحریک کی طرف سے 106 مکانات پر مشتمل بیوت الحمد کالونی بسائی جاچکی ہے اور ساڑھے چھ سو خاندانوں کو اُن کے مکانات کی تعمیر کے لئے امداد مہیا کی جاچکی ہے۔ اہم بات اس حوالے سے قائم کی جانے والی کالونی کا نام ہے جسے دارالیتامیٰ، دارالمساکین، شیلٹر ہوم یا ایدھی سینٹر نہیں کہا گیا بلکہ خدا تعالیٰ کے اِس انعام پر کہ اُس نے جماعت احمدیہ کو اپنا گھر بنانے کی توفیق بخشی، اُسی کی حمد کا ایک ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
٭ 12؍جولائی 1983ء کو حضورؒ نے عید کی خوشیوں میں غرباء کو شامل کرنے کی غیرمعمولی برکات کی حامل تحریک فرمائی۔ چنانچہ نئی روایات کا آغاز ہوا اور لاکھوں احمدیوں نے اپنے غریب بھائیوں کی عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خوشیوں کو بھی دوبالا کرنے کا نظارہ دیکھا۔ حضورؒ نے 19؍جون 1999ء کو ایک بار پھر اس تحریک کو منظم رنگ دینے کی تحریک بھی فرمائی۔ اسی طرح 28؍مارچ 1999ء کو احباب جماعت کو یہ تحریک بھی فرمائی کہ وہ عیدالاضحیہ کے موقع پر غریب ممالک میں جانوروں کی قربانی پیش کریں۔
٭ حضورؒ کی زندگی جناب امیر مینائی کے اِس شعر کے مصداق تھی۔

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

چنانچہ حضورؒ نے افریقہ کے قحط زدگان کے لئے، بوزنیا اور عراق کے مظلومین کے لئے نیز مختلف ممالک میں غربت و افلاس دُور کرنے کے لئے بھی خصوصی تحریکات فرمائیں۔
٭ 9؍نومبر 1984ء کو افریقہ کے لئے مالی امداد کی تحریک فرمائی۔
٭ 17؍اکتوبر 1986ء کو السلواڈور میں زلزلہ آنے پر متأثرین خصوصاً یتامیٰ کی امداد اور کفالت کی تحریک فرمائی۔
٭ 12؍اگست 1989ء کے جلسہ سالانہ پر افریقہ اور ہندوستان کیلئے پانچ کروڑ روپے کی تحریک فرمائی۔
٭ جون 1990ء میں ایران میں زلزلہ کے متأثرین کی امداد کی تحریک فرمائی۔
٭ 18؍جنوری 1991ء کو افریقہ کے فاقہ زدہ علاقوں میں مدد فراہم کرنے کی پھر سے تحریک فرمائی۔
٭ جنوری 1991ء میں کفالتِ یتامیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ’’کفالتِ یکصد یتامیٰ‘‘ کمیٹی کا قیام عمل میں لائے۔
٭ لائبیریا کی خانہ جنگی سے متأثر مہاجرین کے لئے اپریل 1991ء کو امداد کی تحریک فرمائی۔
٭ 30؍اکتوبر 1992ء کو خانہ جنگی کے شکار صومالیہ اور سرب دہشت گردی کے شکار بوزنیا کے مظلومین کے لئے امداد کی تحریک فرمائی۔
٭ 4؍مئی 1994ء کو بنگلہ دیش کے طوفان کے متأثرین کی امداد کی پُرجوش تحریک فرمائی۔
٭ افریقہ کے ایک ملک روانڈا میں جب دو قبائل کے درمیان نسلی فسادات پھوٹ پڑے تو بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا اور لاکھوں افراد قتل کردیئے گئے۔ حضورؒ نے روانڈا کے مظلومین کے لئے امدادی تحریک کا اعلان 22؍جولائی 1994ء کو فرمایا۔
٭ 1995ء میں جاپان میں زلزلہ آنے پر وہاں امدادی کام کی تلقین فرمائی۔
٭ 16؍جولائی 1996ء کو دوبارہ بوزنیا اور البانیہ کے مظلومین کے لئے خاص دعاؤں اور عملی اقدامات کی تلقین فرمائی۔
٭ 5؍فروری1999ء کو سیرالیون کے مسلمان یتامیٰ اور بیوگان کی خدمت کی تحریک فرمائی۔
٭ عراق کی صورتحال پر حضورؒ سالہاسال بے قرار رہے۔ اپنی وفات سے دو ہفتے قبل حضورؒ نے عراق کے عوام کی مالی مدد کرنے کی تحریک فرمائی۔
٭ افریقہ کے غرباء اور مجبورین کی امداد کے لئے حضورؒ نے بار بار دعاؤں اور امداد کی تحریکات فرمائیں۔
مجھے سیرالیون میں تیس سال رہنے کا موقع ملا ہے اور کئی لوگوں سے یہ فقرہ مجھے سننے کو ملا کہ “I am a Muslim by birth but Christian by education”۔ یعنی میں پیدا تو مسلمان ہوا لیکن مشن سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد عیسائی ہوگیا۔ اسی طرح سینکڑوں مسلمان لڑکیاں عیسائیوں سے شادیاں کرکے عیسائی نسلوں کی مائیں بن گئیں۔ اس صورتحال کو تعلیمی پسماندگی کے علاوہ غربت سے بھی فروغ ملا۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ کے دور سے ہی تعلیمی اور طبّی اداروں کے قیام کا آغاز ہوچکا تھا جو بعد میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے عہد میں نصرت جہاں سکیم کے تحت غیرمعمولی رفتار سے جاری رہا۔
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے 1988ء میں افریقہ کا دورہ فرمایا تو 22؍جنوری 1988ء کو نصرت جہاں سکیم کی تنظیم نو کا حکم دیا۔ اس تنظیم نو کے تحت تعلیمی اداروں میں یکسانیت پیدا کرتے ہوئے انہیں سائنسی آلات اور دیگر امداد فراہم کی گئی۔ حضورؒ نے مستحق طلبہ کے لئے وظائف کی خطیر رقوم عطا فرمائی۔
٭ نومبر 2001ء میں حضورؒ نے ایک رؤیا کی بنا پر تمام ممالک میں ’’ایجوکیشن بورڈ‘‘ قائم کرنے کا حکم دیا۔
٭ سیرالیون اور لائبیریا میں خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد نہ صرف قتل کئے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے بلکہ ہزاروں کے اعضاء بھی کاٹ دیئے گئے۔ حضورؒ کے ارشاد پر جماعت برطانیہ نے معذوروں کے لئے مصنوعی اعضاء بھجوائے اور ماہرین نے اِن اعضاء کو نصب کیا۔ کئی متأثرین کو منہدم مکانات کی تعمیر نو میں مدد دی گئی، بعض کی تجارتوں کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، خوراک اور کپڑوں کے کنٹینرز بھجوائے گئے، ڈاکٹروں نے طبّی کیمپ لگائے اور ادویات تقسیم کیں۔ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے گیمبیا، نائیجیریا اور سیرالیون کو پرنٹنگ مشینری بھجوائی گئی، گھریلو صنعت کے فروغ کی بھی کوشش کی گئی۔ حضورؒ نے افریقہ ٹریڈکے نام سے ادارہ بھی قائم فرمایا اور بعض سروے بھی کروائے۔ سیرالیون میں ایک جوس فیکٹری لگانے کا منصوبہ بھی زیرغور آیا۔ جب حضورؒ کو علم ہوا کہ اگر ایسی فیکٹری قائم کی گئی تو سارے ملک کا Citrus Fruit بھی اس کی ضرورت بمشکل پوری کرسکے گا، تو حضورؒ نے یہ منصوبہ اس بنا پر ترک کرنے کا فیصلہ فرمایا کہ یہی پھل تو سیرالیون کے غریب عوام تک وٹامن سی کی رسائی کا آسان اور بڑا ذریعہ ہے، اگر سارا فروٹ فیکٹری میں کھپ گیا تو غریب عوام محروم رہ جائیں گے۔
٭ حضورؒ کی غریب نوازی کا ایک پہلو ہومیوپیتھی طریق علاج کے فروغ کی کوشش بھی ہے۔ اس مقصد کے لئے حضورؒ نے اپنے لیکچرز، کتب اور ادویات کی امداد کے ذریعے نہایت درجہ کوشش فرمائی تاکہ غرباء کو سستا اور بہتر علاج میسر آسکے۔
٭ 28؍اگست 1992ء کو حضورؒ نے ہیومینیٹی فرسٹ کا قیام فرمایا۔ یہ ادارہ غیرمعمولی ترقیات کی طرف گامزن ہے اور دنیا بھر میں بہت مشکل حالات کے باوجود خدمت کے نئے باب رقم کر رہا ہے۔
٭ حضورؒ نے خوشحال ممالک میں غذا کے ضیاع پر بھی اظہار تأسف فرماتے ہوئے، امیر ممالک میں ضائع کی جانے والی غذا کو غریب ممالک کے غرباء کے پیٹ بھرنے کے لئے بھجوائے جانے کی تحریک فرمائی۔
٭ اگرچہ کئی مواقع پر حضورؒ نے جماعت کے عائلی اور ازدواجی مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی تحریکات کا اعلان فرمایا تھا لیکن غریب بچیوں کی شادیوں کے موقع پر پیش آنے والی مالی مجبوریوں کا درد محسوس کرتے ہوئے ’’مریم شادی فنڈ‘‘ کے اجراء کا اعلان 2؍مارچ 2003ء کو فرمایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/z270L]

اپنا تبصرہ بھیجیں