قبول احمدیت کی بنیاد

مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے سہ ماہی رسالہ ’’مجاہد‘‘ برائے بہار 2010ء میں چند نواحمدیوں کی تصاویر کے ساتھ اُن کی قبولِ احمدیت کی داستان میں سے ایک منتخب فقرہ تحریر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کے ذہن کو احمدیت کی کس ادا نے خاص طور پر متحرّک کیا۔
٭ مکرم اسراء نورالحق صدیق صاحب کہتے ہیں کہ اُن کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ساری زندگی ایک دھندلی تصویر دیکھتے رہے ہوں اور مسیح موعودؑ نے اس تصویر کو واضح کرکے دکھادیا ہو۔
٭ مکرم داؤد احمد صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے یہ احساس شدّت سے ہوا کہ مجھے آپؑ کی پیروی کرتے ہوئے آپؑ کی جماعت کا حصہ بننا ہے۔
٭ مکرم Michael Morris صاحب کہتے ہیں کہ کسی کے دل سے اٹھنے والی صدا سیدھی دلوں پر ہی اثر کرتی ہے۔
٭ مکرم Alex Navarro صاحب کہتے ہیں کہ اچانک یہ احساس ہوا کہ خداتعالیٰ کے ساتھ میرا تعلق پہلے سے کہیں زیادہ ہوچکا ہے۔
٭ مکرم ہاشم ممتاز صاحب کہتے ہیں قبل ازیں مجھے کبھی اس قدر ذہنی اطمینان میسر نہیں آیا تھا اور منطقی دلائل سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔
٭ مکرم رشید Reno صاحب کہتے ہیں کہ پہلی بار مجھے علم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی اور معجزات کے حوالہ سے سائنسی اور عقلی دلائل استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X