قدرتِ ثانیہ کے مظہر ثالثؒ – قبولیت دعا

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی سیرۃ پر ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ یکم اکتوبر 1998ء میں مکرم نور الٰہی ملک صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- وہ بیان کرتے ہیں کہ آپؒ خود بھی اچھی صحت کے مالک تھے اور کالج میں بطور پرنسپل مختلف کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے- کھلاڑیوں کے انتخاب کا عموماً طریق یہ تھا کہ آپؒ اپنا ہاتھ بطور مصافحہ کھلاڑی کے ہاتھ میں دے دیتے اور اس کو زور سے دبانے کو کہتے- بڑے بڑے صحتمند کھلاڑی اپنا پورا زور لگاتے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپؒ کو ہاتھ پیچھے کھینچنے کی ضرورت ہوئی ہو- ایک بار نیزہ پھینکنے کا افتتاح آپؒ نے خود نیزہ پھینک کر کیا اور پھر مختلف طلباء نے پورا زور لگایا لیکن کوئی بھی آپؒ سے آگے نیزہ نہ پھینک سکا-
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسارپر حضورؒ کی ذاتی شفقت اس طرح ہوئی کہ میرے ہاں پہلے دو لڑکے پیدا ہوکر فوت ہوگئے پھر یکے بعد دیگر نو بیٹیاں ہوئیں- بعض محرکات کی بنا پر خاکسار نے دوسری شادی کا ارادہ کیا اور تفاصیل لکھ کر آپؒ سے رہنمائی اور اجازت چاہی- آپؒ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا، میں دعا کروں گا ، اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا- چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک لڑکا عطا فرمایا جو اب جوانی میں قدم رکھ رہا ہے-

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں