محترم عطاء الرحمن غنی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍نومبر 2006ء میں مکرمہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ بیگم حضرت میاں عبدالرحیم احمد صاحب مرحوم کے قلم سے محترم عطاء الرحمن غنی صاحب المعروف اٹو میاں کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم عطاء الرحمن غنی صاحب 1913ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم ڈاکٹراقبال علی غنی صاحبؓ اور والدہ محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ تھیں جو حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی نواسی تھیں۔ والد یوپی کے گورنر سر میلکم ہیلی کے ذاتی معالج تھے، اس وجہ سے یونیورسٹی تک آپ کی تمام تعلیم لکھنؤ میں ہی ہوئی۔ لیکن اس دنیاوی شان کے باوجود آپ بہت سادہ اور منکسرالمزاج تھے۔
لکھنؤ یونیورسٹی سے1936ء میں فزکس میں M.Sc. کی۔ پھر PUSA ریسرچ انسٹیٹیوٹ دہلی میں ملازم ہوئے۔ جب فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم ہوا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثا نیؓ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے زندگی وقف کردی اور بطور لائبریرین اور ریسرچ سکالر انسٹیٹیوٹ میں کام کرتے رہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ بند ہوجانے کے بعد پھر حضورؓ کی اجازت سے کراچی میں ملازمت کرلی جہاں سے 1972ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ تقسیم ہند سے قبل آپ کو تعلیم الاسلام کالج قادیان میں فزکس کے لیکچرار کے طور پر بھی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ 1965ء میں ایک سال کیلئے سائنسی تحقیق کے کام پر یونیسکو کے فیلوشپ پر لندن بھی تشریف لے گئے۔ 1982ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشاد پر ایک سال کیلئے لندن تشریف لے گئے اور وہاں کی بڑی بڑی لائبریریوں سے جماعت کے لئے اہم مواد اکٹھا کرکے 1983ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ مر حوم نے عمر بھر سائنسی تحقیق کا کام کیا اور برصغیر میں ببلیوگرافی میں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ تین کتب بھی تصنیف کیں جو مختلف قومی اداروں نے شائع کیں۔ خلا فت لائبریری ربوہ کی انتظامی کمیٹی کے لمبا عرصہ رُکن بھی رہے۔
آپ کی وفات 9-10جون 2000ء کی درمیانی شب لاہور میں بعمر 87سال ہوئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پسماندگان میں چھوڑیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4CNT5]

اپنا تبصرہ بھیجیں