محترم قاضی عبد السلام بھٹی صاحب

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ مارچ؍ 2004ء میں مکرمہ ثریا قادر صاحبہ نے اپنے مضمون میں محترم قاضی عبدالسلام بھٹی صاحب کا ذکر خیر کیا ہے۔
محترم قاضی صاحب 1998ء میں 98سال کی عمر میں لندن میں وفات پاگئے تھے۔ مضمون نگار بیان کرتی ہیں کہ بے شک آپ میرے حقیقی والد تو نہ تھے مگر جس طرح آپ نے میری پرورش کی اور میرا بے پناہ خیال رکھا، اس لحاظ سے آپ میرے والد صاحب سے کم نہ تھے۔ میں ملازمہ کے طور پر آئی تھی مگر مجھے اس گھر میں جو حیثیت، توجہ اور پیار دیا گیا وہ ایک فیملی ممبر سے کم نہ تھا۔ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ میری سات نہیں بلکہ آٹھ بیٹیاں ہیں۔ آپ کے کہنے پر مَیں آپ کو ابّا جان اور آپ کی بیگم صاحبہ کو امی جان کہتی۔ آپ نے مجھے نماز کا عادی بنایا اور تہجد کی عادت ڈالی اور چھوٹی عمر میں ہی باترجمہ قرآن مجید پڑھایا۔
اپنی پہلی بیگم کی وفات کے بعد جب مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ دوسری شادی کے خیال سے استخارہ کر رہے ہیں، تو میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی شادی ہورہی ہے۔ اگلے روز آپ نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے کوئی خواب آئی ہے؟ تو مَیں نے کہا کہ نہیں۔ اس لئے نہیں بتایا کہ آپ کیا سوچیں گے کہ اس نے میرے متعلق کیسی خواب دیکھی ہے۔
جب میں بڑی ہوئی تو اباجان نے اپنی دعاؤں سے مجھے رخصت کیا۔ شادی کے بعد مَیں سیالکوٹ چلی گئی۔ وہاں تقریباً چھ برس رہنے کے بعد میں نے اباجان سے کہا کہ اب میں ربوہ آجاؤں تاکہ بچے پڑھ لکھ جائیں۔ اس پر آپ نے اپنے گھر کے صحن میں دو کمرے ڈال دئیے تھے جس میں مَیں خاوند اور بچوں کے ساتھ شفٹ ہوگئی۔ میراخیال تھا کہ اگر آپ اپنے گھر میں جگہ دے رہے ہیں تو یقینا گھر کا کام کاج بھی کروائیں گے۔ لیکن اباجان نے اس خیال سے کہ میرے کام کرنے سے میرے میاں برانہ منائیں اپنی بیگم سے کہا کہ جب میرے میاں گھر پر ہوں تو مجھے آواز نہ دیں اور ویسے بھی زیادہ کام نہ کہیں۔
آپ ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ کسی مہمان کو اس گھر میں کوئی کمرہ دینا ہوتا تو پہلے مجھ سے پچھواتے کہ کوئی اعتراض تو نہیں۔ ایک حصہ میں کرایہ دار رہتے تھے۔ جب آپ لندن جاتے تو مجھے کہتے کہ تم ان سے کرایہ لے کر خرچ کرلیا کرو۔ لندن سے بھی رقم بھجواتے اور واپس آکر سارے بل اور دیگر اخراجات کا حساب کرکے بھی ساری رقم دیدیتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں